ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

آلوک مشرا

ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

    تنا رہے گا اداسی کا شامیانہ کیا

    میں چاہتا ہوں تکلف بھی ترک کر دو تم

    نہیں ہیں اب وہ مراسم تو آنا جانا کیا

    تمام تیر و تبر کیا مرے لئے ہی ہیں

    مجھی پہ لگنا ہے دنیا کا ہر نشانہ کیا

    انہیں کو چیر کے بڑھنا ہے اب کنارے پر

    اتر گئے ہیں تو لہروں سے خوف کھانا کیا

    یوں اپنی ذات کے در پر کھڑے ہو کب سے تم

    کہ اپنے گھر بھی ہے آواز دے کے جانا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY