ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

افتخار عارف

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

    پھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود

    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    جنہیں متاع دل و جاں سمجھ رہے تھے ہم

    وہ آئنے بھی ہوئے بے حجاب آنکھوں میں

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے

    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    مرے غزال تری وحشتوں کی خیر کہ ہے

    بہت دنوں سے بہت اضطراب آنکھوں میں

    نہ جانے کیسی قیامت کا پیش خیمہ ہے

    یہ الجھنیں تری بے انتساب آنکھوں میں

    جواز کیا ہے مرے کم سخن بتا تو سہی

    بہ نام خوش نگہی ہر جواب آنکھوں میں

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں افتخار عارف

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY