ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم

حبیب جالب

ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم

حبیب جالب

MORE BYحبیب جالب

    ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم

    دل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم

    اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپنا

    روداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم

    کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا

    لو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم

    جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر

    دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم

    کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ یاراں

    رہتا جو یونہی راز اسے پا تو گئے ہم

    اب سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے

    پھر ان سے نہ ملنے کی قسم کھا تو گئے ہم

    اٹھیں کہ نہ اٹھیں یہ رضا ان کی ہے جالبؔ

    لوگوں کو سر دار نظر آ تو گئے ہم

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-habib jaalib (Pg. 267)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے