ضرور اس کی نظر مجھ پہ ہی گڑی ہوئی ہے

عامر امیر

ضرور اس کی نظر مجھ پہ ہی گڑی ہوئی ہے

عامر امیر

MORE BYعامر امیر

    ضرور اس کی نظر مجھ پہ ہی گڑی ہوئی ہے

    میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے

    مجھے ذرا سا برا کہہ دیا تو اس سے کیا

    وہ اتنی بات پہ ماں باپ سے لڑی ہوئی ہے

    اسے ضرورت پردہ ذرا زیادہ ہے

    یہ وہ بھی جانتی ہے جب سے وہ بڑی ہوئی ہے

    وہ میری دی ہوئی نتھنی پہن کے گھومتی ہے

    تبھی وہ ان دنوں کچھ اور نک چڑھی ہوئی ہے

    معاہدوں میں لچک بھی ضروری ہوتی ہے

    پر اس کی سوئی وہیں کی وہیں اڑی ہوئی ہے

    وہ ٹائی باندھتی ہے اور کھینچ لیتی ہے

    یہ کیسے وقت اسے پیار کی پڑی ہوئی ہے

    خدا کے واسطے لکھتے رہو کہ اس نے امیرؔ

    ہر اک غزل تری سو سو دفعہ پڑھی ہوئی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عامر امیر

    عامر امیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY