ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں

زبیر امروہوی

ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں

زبیر امروہوی

MORE BYزبیر امروہوی

    ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں

    تازہ ہو جاتی ہیں چوٹیں سب جیسے پروائی میں

    اس کو تو جانا تھا لیکن میرا کیوں یہ حال ہوا

    انگنائی سے کمرے میں اور کمرے سے انگنائی میں

    اس کے دل کا بھید اسی کی آنکھوں سے مل سکتا تھا

    کس میں ہمت ہے جو اترے جھیلوں کی گہرائی میں

    ایک ہی گھر کے رہنے والے ایک ہی آنگن ایک ہی دوار

    جانے کیوں بڑھتی جاتی ہے نفرت بھائی بھائی میں

    نور بصیرت کا بخشا کل تک میں نے جن کو زبیرؔ

    فرق نظر آتا ہے ان کو اب میری بینائی میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY