زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں

اشک الماس

زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں

اشک الماس

MORE BY اشک الماس

    زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں

    بن کے دشت لا مکاں لاہوت ہو جاتا ہوں میں

    میرے بننے کا تماشہ دیکھیے کہ کس طرح

    ٹوٹتا ہوں ٹوٹ کر مضبوط ہو جاتا ہوں میں

    جانے کیا پڑھ کر وہ مجھ پر پھونکتا ہے زور سے

    دیکھتے ہی دیکھتے یاقوت ہو جاتا ہوں میں

    آسماں سے جب اترتا ہوں میں بن کے دیوتا

    پھر گناہوں کے تلے ہاروت ہو جاتا ہوں میں

    لاکھ چاہوں توڑ ڈالوں ہاتھ ہی اٹھتے نہیں

    کچھ بتوں کو دیکھ کر مبہوت ہو جاتا ہوں میں

    مرگ مبرم ساتھ لے آتی ہے جب جب زندگی

    پھر کفن لوبان اور تابوت ہو جاتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites