زیست کی آگہی کا حاصل ہے

نثار ترابی

زیست کی آگہی کا حاصل ہے

نثار ترابی

MORE BYنثار ترابی

    زیست کی آگہی کا حاصل ہے

    درد ہی شاعری کا حاصل ہے

    ہے خرد بھی خرد کے نرغے میں

    عشق خود گمرہی کا حاصل ہے

    زندگی کا ثبات ہے اس میں

    یہ جو آنسو ہنسی کا حاصل ہے

    یوں ترا پاس سے گزر جانا

    عمر کی بے رخی کا حاصل ہے

    پوچھتی ہے صبا گلستاں سے

    پھول کیوں تازگی کا حاصل ہے

    لوٹ لیتی ہے قافلے کیسے

    رات جب بندگی کا حاصل ہے

    کب یہ جانے گا آدمی جانے

    آدمی آدمی کا حاصل ہے

    ہے ترنم صدا کے پردوں میں

    نغمگی بانسری کا حاصل ہے

    سوچ کا سمت رہ نہیں سکتی

    شعر آوارگی کا حاصل ہے

    اس قدر پاس آ کے مت بیٹھو

    قرب بیگانگی کا حاصل ہے

    تو مرے رت جگوں کی منزل ہے

    دن کی دیوانگی کا حاصل ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY