ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

محسن نقوی

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا

    رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

    اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو

    مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

    مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص

    حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

    وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا

    ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

    سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں

    شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

    تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید

    سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

    محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل

    درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

    مآخذ :
    • کتاب : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 192)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY