ذکر ہم سے بے طلب کا کیا طلب گاری کے دن

عبد الاحد ساز

ذکر ہم سے بے طلب کا کیا طلب گاری کے دن

عبد الاحد ساز

MORE BY عبد الاحد ساز

    ذکر ہم سے بے طلب کا کیا طلب گاری کے دن

    تم ہمیں سوچو گے اک دن خود سے بے زاری کے دن

    منہمک مصروف ایک اک کام نمٹاتے ہوئے

    صاف سے روشن سے یہ چلنے کی تیاری کے دن

    روز اک بجھتی ہوئی سیلن بھرے کمرے کی شام

    کھڑکیوں میں روز مرجھاتے یہ بیماری کے دن

    نم نشیلی ساعتوں کی سرد زہریلی سی رات

    خواب ہوتے جا رہے ہوں جیسے بے داری کے دن

    حافظے کی سست رو لہروں میں ہلچل کیا ہوئی

    جاگ اٹھے دھڑکنوں کی تیز رفتاری کے دن

    ذہن کے صحرا میں اٹھتا اک بگولہ سا کبھی

    گاہے گاہے کار آمد سے یہ بیکاری کے دن

    دم بہ دم تحلیل سا ہوتا ہوا منظر کا بوجھ

    سہل سے ہوتے ہوئے پلکوں پہ دشواری کے دن

    عمر کے بازار کی حد پر نوادر کی دکاں

    کچھ پرکھتے دیکھتے چنتے خریداری کے دن

    رہ گئی کاغذ پہ کھنچ کر لفظ سے عاری لکیر

    سازؔ شاید بھر گئے ہیں اب مرے قاری کے دن

    مآخذ:

    • کتاب : sargoshiyan zamanon ki (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY