زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

نسیم صدیقی

زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

نسیم صدیقی

MORE BY نسیم صدیقی

    زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

    صورت تصویر میں بھی آئنہ خانے میں ہوں

    یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا

    یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں

    ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام

    دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں

    ہے خسارہ ہی خسارہ ساری ہستی سب وجود

    میں بھی شامل ہوں اسی میں اور ہرجانے میں ہوں

    ہوں کبھی میں ساغر سیرابیٔ کون و مکاں

    تشنگی بن کر کبھی ہستی کے پیمانے میں ہوں

    نامرادانہ ہی سرگرم عمل ہوں دہر میں

    میں نہ پانے کے تقاضے میں نہ کھو جانے میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY