زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی

جاوید منظر

زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی

جاوید منظر

MORE BYجاوید منظر

    زندگی جیسے بھی گزرے گی گزر جائے گی

    یہ خبر دیکھنا اب اور کدھر جائے گی

    کیا مری ذات تری فکر کو دے گی مہمیز

    کیا مری بات ترے دل میں اتر جائے گی

    لفظ بدلے ہیں تو معنی بھی بدلنا ہوں گے

    ورنہ تعمیر کسی اور کے سر جائے گی

    روح اک دن تو بدن سے مرے ہوں گی آزاد

    چاہتا ہوں کہ نہ جائے وہ مگر جائے گی

    علم کے ساتھ ہے لازم کہ عمل ہو منظرؔ

    بات صحرا کی صدا ہو تو کدھر جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY