زندگی جس پر ہنسے ایسی کوئی خواہش نہ کی

مظفر وارثی

زندگی جس پر ہنسے ایسی کوئی خواہش نہ کی

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    زندگی جس پر ہنسے ایسی کوئی خواہش نہ کی

    گھاؤ سینے میں سجائے گھر کی آرائش نہ کی

    نکتہ چینی پر مری تم اتنے برگشتہ نہ ہو

    کہہ دیا جو کچھ بھی دل میں تھا مگر سازش نہ کی

    ایک سے حالات آئے ہیں نظر ہر دور میں

    رک گئے میرے قدم یا وقت نے گردش نہ کی

    جھک گیا قدموں پہ تیرے پھر بھی سر اونچا رہا

    آنکھ پتھر ہو گئی جلووں کی فرمائش نہ کی

    لاکھ نظروں کو اچھالا تو نہ آیا بام پر

    سائے سر پٹخا کیے دیوار نے جنبش نہ کی

    میں نے جن آنکھوں کو سینے میں اتارا پھر گئیں

    خود کو اپنانے کی اس ڈر سے کبھی کوشش نہ کی

    رہ کے محدود وسائل کی مظفرؔ نے بسر

    پاؤں پھیلا کر کبھی چادر کی پیمائش نہ کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY