زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں

پیرزادہ قاسم

زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں

    بے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میں

    راہ رو گزرے چلے جاتے تھے راہ زیست پر

    اک ہجوم جسم و جاں کو کارواں سمجھا تھا میں

    اتنی نزدیکی کہ جیسے چھو رہا ہوں خود کو میں

    حرز جاں ہے وہ جسے وہم و گماں سمجھا تھا میں

    تھا بہت سفاک تنسیخ تعلق کا فریب

    اس کا عالم ہے جسے اپنا جہاں سمجھا تھا میں

    بے طلب آسودہ کب ہوتی ہے کشت آرزو

    بے گماں دل ہو رہے گا گلستاں سمجھا تھا میں

    اک توقع تھی کہ یہ لہجہ بھی سمجھے گا کوئی

    چشم خوں افشاں کو انداز بیاں سمجھا تھا میں

    ربط باہم تھا فقط لفظ و بیاں کا ارتباط

    ہے کوئی رسم وفا بھی درمیاں سمجھا تھا میں

    اس قدر مانوس تھا فطرت کے لہجے کا جمال

    سو اسے اپنا سخن اپنی زباں سمجھا تھا میں

    یہ تو ہیں آئندگاں کی روشنی کے دائرے

    ان کو اب تک اپنے قدموں کے نشاں سمجھا تھا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY