زندگی یوں بھی کبھی مجھ کو سزا دیتی ہے

ذاکر خان ذاکر

زندگی یوں بھی کبھی مجھ کو سزا دیتی ہے

ذاکر خان ذاکر

MORE BYذاکر خان ذاکر

    زندگی یوں بھی کبھی مجھ کو سزا دیتی ہے

    ایک تصویر کتابوں سے گرا دیتی ہے

    آپ اچھے ہیں برے ہیں کہ فقط بار حیات

    فیصلہ خلق خدا خود ہی سنا دیتی ہے

    کتنے نادیدہ مناظر سے اٹھاتی ہے نقاب

    رات آتی ہے تو خوابوں کو جگا دیتی ہے

    اب بھی محراب تمنا میں کسک ماضی کی

    شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا دیتی ہے

    عشق ہے روگ ہی ایسا کہ نہیں اس کا علاج

    آتش دل کو دوا اور بڑھا دیتی ہے

    سینۂ سنگ میں پوشیدہ صدائے فرہاد

    ایک اک ضرب پہ شیریں کا پتہ دیتی ہے

    جس کی آغوش میں ہم روز ملا کرتے تھے

    اب وہی شام ہر ایک شام صدا دیتی ہے

    میں کہاں اور کہاں شعر و سخن ہے ذاکرؔ

    کوئی طاقت ہے جو لفظوں کو جلا دیتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY