زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

شکیل شمسی

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

شکیل شمسی

MORE BY شکیل شمسی

    زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

    موت نے چھو کر جو دیکھا ایک مٹھی خاک تھی

    جاگتی آنکھوں کے سپنے دل نشیں تو تھے مگر

    میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیبت ناک تھی

    آج کانٹے بھی چھپائے ہیں لبادوں میں بدن

    اک زمانے میں تو فصل گل بھی دامن چاک تھی

    تھا ہمیں بھی ہر قدم پہ ناک کٹ جانے کا ڈر

    ان دنوں کی بات ہے جب اپنے منہ پر ناک تھی

    تھا لڑکپن کا زمانہ سرفروشی سے بھرا

    ہم اسی تلوار پر مرتے تھے جو سفاک تھی

    دوستوں کے درمیاں سچ بولتے ڈرتا ہے وہ

    دشمنوں کی بھیڑ میں جس کی زباں بے باک تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY