زعم کا ہی تو عارضہ ہے مجھے

ڈاکٹر اعظم

زعم کا ہی تو عارضہ ہے مجھے

ڈاکٹر اعظم

MORE BYڈاکٹر اعظم

    زعم کا ہی تو عارضہ ہے مجھے

    میرا میں ہی تو کھا گیا ہے مجھے

    آتش زیر پا ٹھہرنے نہ دے

    اب تو منزل بھی راستہ ہے مجھے

    درد تو کم نہیں مگر اس نے

    خوگر ضبط کر دیا ہے مجھے

    خود غرض بے وفا حقیر و فقیر

    اس نے کیا کیا نہیں کہا ہے مجھے

    میں طلب گار تھا مسرت کا

    دفتر رنج و غم ملا ہے مجھے

    میں نے اشعار کب لکھے اعظمؔ

    میرے اشعار نے لکھا ہے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY