غزلیں

-1744

سراج اورنگ آبادی کے ممتاز ہم عصر اور حریف

1932 -1963

ترقی پسند نظریات سے متأثر شاعر، کم عمری میں خودکشی کی

1831 -1905

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

گلبرگہ کے اہم شاعروں میں شامل، اردو کے فروغ کے لیے کوشاں رہے

1980

پاکستان کے ممتاز ترین نوجوان شاعر، بہت کم عمر میں ایک مہلک بیماری کا شکار ہو کر وفات پائی

1962

معاصر افسانہ نگاروں میں شامل

1866 -1955

عربی، فارسی اور سنسکرت کے ممتاز اسکالر

1921 -1989

تصوف اور مذہبی رواداری کے جذبے سے سرشار شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں، اہم مذہبی و روحانی شخصیات پر طویل نظمیں بھی لکھیں

1933 -1975

بیسوی صدی کے نامور ہندی شاعراور فکشن نویس، اپنی مقبول عام نظموں کے ساتھ ہندی میں غزل گوئی کے لیے جانے جاتے ہیں

1929

ٹونک کے معروف شاعر، اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

1875 -1959

معروف شاعر، امیر مینائی کے شاگرد۔ ’درددل‘ کے نام سے ایک ناول بھی تحریر کیا

1984

نوجوان پاکستانی شاعروں میں نمایاں

بھوپا ل کے شاعر۔ ’گمنام گوشے‘ اور ’بھوپال میں غزل‘ کے نام سے دو شعری انتخاب بھی مرتب کیے

معروف شاعر، مقبول عام شعر ’اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں - جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں‘ کے خالق

1930 -1992

رومانی شاعروں میں شامل، ’رومانیات‘ کے نام سے اردو کی رومانی شاعری کا ایک انتخاب بھی شائع

-1961

دولت رام صابرؔ مغربی پنجاب سیالکوٹ کے رہنے والے تھے، جو کہ 1947 میں تقسیم وطن کے بعد وہاں سے ہجرت کر کے مع اپنے کنبے کے پانی پت میں آکر بس گئے۔ آپ ہومیوپیتھی کے ایک معروف ڈاکٹر تھے۔ یہاں آپ نے ہومیوپیتھی کی ایک ڈسپنسری قائم کی، جس میں مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا تھا۔ بدیں وجہ آپ شہر پانی پت اور آس پاس کے قصبہ جات میں کافی مشہور ہوگئے۔