غزلیں

سراج اورنگ آبادی کے ممتاز ہم عصر اور حریف

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

1831 -1905

گلبرگہ کے اہم شاعروں میں شامل، اردو کے فروغ کے لیے کوشاں رہے

پاکستان کے ممتاز ترین نوجوان شاعر، بہت کم عمر میں ایک مہلک بیماری کا شکار ہو کر وفات پائی

1980

معاصر افسانہ نگاروں میں شامل

1962

عربی، فارسی اور سنسکرت کے ممتاز اسکالر

1866 -1955

تصوف اور مذہبی رواداری کے جذبے سے سرشار شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں، اہم مذہبی و روحانی شخصیات پر طویل نظمیں بھی لکھیں

1921 -1989

بیسوی صدی کے نامور ہندی شاعراور فکشن نویس، اپنی مقبول عام نظموں کے ساتھ ہندی میں غزل گوئی کے لیے جانے جاتے ہیں

1933 -1975

ٹونک کے معروف شاعر، اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

1929

معروف شاعر، امیر مینائی کے شاگرد۔ ’درددل‘ کے نام سے ایک ناول بھی تحریر کیا

1875 -1959

نوجوان پاکستانی شاعروں میں نمایاں

1984

بھوپا ل کے شاعر۔ ’گمنام گوشے‘ اور ’بھوپال میں غزل‘ کے نام سے دو شعری انتخاب بھی مرتب کیے

معروف شاعر، مقبول عام شعر ’اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں - جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں‘ کے خالق

رومانی شاعروں میں شامل، ’رومانیات‘ کے نام سے اردو کی رومانی شاعری کا ایک انتخاب بھی شائع

1930

معروف شاعر۔ غزل گوئی کے ساتھ اپنے ماہیوں اور گیتوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ ’آج شکارے میں‘ کے نام سے کشمیر کی منظوم تاریخ بھی لکھی

1924

شاعر،نغمہ مگار،فلم پنجر کے نغمہ 'چرخہ چلاتی ماں'کے لیے مشہور

1958