ہم اپنے آپ سے غافل رہے ہیں

الہڑبیکانیری

ہم اپنے آپ سے غافل رہے ہیں

الہڑبیکانیری

MORE BYالہڑبیکانیری

    ہم اپنے آپ سے غافل رہے ہیں

    بچھڑتے وقت خود سے مل رہے ہیں

    نہ بخشے گی ہماری روح ہم کو

    ہم اپنے جسم کے قاتل رہے ہیں

    وہ گل ہیں ہم کہ جس ٹہنی سے ٹوٹے

    اسی ٹہنی پہ پھر سے کھل رہے ہیں

    ہم اس کشتی کو کیسے ڈوبنے دیں

    کہ جس کشتی کے ہم ساحل رہے ہیں

    ہیں پڑھنے میں بہت آساں ہم الھڑ

    سمجھنے میں ذرا مشکل رہے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Gazal Dushyant Ke Bad

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے