کہیں پہ دھوپ کی چادر بچھا کے بیٹھ گئے

دشینت کمار

کہیں پہ دھوپ کی چادر بچھا کے بیٹھ گئے

دشینت کمار

MORE BYدشینت کمار

    کہیں پہ دھوپ کی چادر بچھا کے بیٹھ گئے

    کہیں پہ شام سرہانے لگا کے بیٹھ گئے

    جلے جو ریت میں تلوے تو ہم نے یہ دیکھا

    بہت سے لوگ وہیں چھٹ پٹا کے بیٹھ گئے

    کھڑے ہوئے تھے الاؤں کی آنچ لینے کو

    سب اپنی اپنی ہتھیلی جلا کے بیٹھ گئے

    لہو لہان نظاروں کا ذکر آیا تو

    شریف لوگ اٹھے دور جا کے بیٹھ گئے

    یہ سوچ کر کہ درختوں میں چھاؤں ہوتی ہے

    یہاں ببول کے سائے میں آ کے بیٹھ گئے

    مأخذ :
    • کتاب : saaye mein dhoop (Pg. 23)
    • Author : Dushyant Kumar
    • مطبع : Radha krishna private limited (1975,1995)
    • اشاعت : 1975,1995

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY