یہ سارا جسم جھک کر بوجھ سے دہرا ہوا ہوگا

دشینت کمار

یہ سارا جسم جھک کر بوجھ سے دہرا ہوا ہوگا

دشینت کمار

MORE BY دشینت کمار

    یہ سارا جسم جھک کر بوجھ سے دہرا ہوا ہوگا

    میں سجدے میں نہیں تھا آپ کو دھوکا ہوا ہوگا

    یہاں تک آتے آتے سوکھ جاتی ہے کئی ندیاں

    مجھے معلوم ہے پانی کہاں ٹھہرا ہوا ہوگا

    غضب یہ ہے کی اپنی موت کی آہٹ نہیں سنتے

    وہ سب کے سب پریشاں ہیں وہاں پر کیا ہوا ہوگا

    تمہارے شہر میں یہ شور سن سن کر تو لگتا ہے

    کہ انسانوں کے جنگل میں کوئی ہانکا ہوا ہوگا

    کئی فاقے بتا کر مر گیا جو اس کے بارے میں

    وہ سب کہتے ہیں اب ایسا نہیں ایسا ہوا ہوگا

    یہاں تو صرف گونگے اور بہرے لوگ بستے ہیں

    خدا جانے یہاں پر کس طرح جلسہ ہوا ہوگا

    چلو اب یادگاروں کی اندھیری کوٹھری کھولیں

    کم از کم ایک وہ چہرا تو پہچانا ہوا ہوگا

    مآخذ:

    • کتاب : saaye mein dhoop (Pg. 15)
    • Author : Dushyant Kumar
    • مطبع : Radha krishna private limited (1975,1995)
    • اشاعت : 1975,1995

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY