محمد حسن عسکری، کل اور آج: ایک گفتگو

شمس الرحمن فاروقی

محمد حسن عسکری، کل اور آج: ایک گفتگو

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

     

    یہ گفتگو کراچی سے شائع ہونے والے رسالے مکالمہ (مدیر: مبین مرزا) میں شائع ہوئی تھی۔ نیز ’’شب خون‘‘ ۲۶۱ میں اس کا اضافہ شدہ اور ترمیم شدہ روپ شائع ہوا۔ موجودہ گفتگو وہی ہے جو شب خون میں شائع ہوئی۔ 

    سوال: محمد حسن عسکری سے آپ کی ملاقاتیں رہی ہیں؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: اپنی زندگی میں اس کمی کا مجھے ہمیشہ رنج رہے گا کہ عسکری صاحب کو میں نے کبھی نہیں دیکھا، ان سے ذاتی ملاقاتوں اور مراسم کی تمنا ہی مجھے رہ گئی۔ میری ان کی مراسلت بہت رہی، خاص کر ۱۹۷۱ء کی ہند پاک جنگ کے پہلے کے زمانے میں۔ میں نے انہیں اور انہوں نے مجھے کئی کئی صفحوں کے خط لکھے ہیں۔ ۱۹۷۱ء کے واقعات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ڈاک کی ترسیل بند ہوگئی۔ پھر انہوں نے لندن کا ایک پتہ مجھے لکھا کہ اس کی معرفت خط کتابت کا سلسلہ رکھا جاسکتا ہے۔ کچھ خط ہم لوگوں نے اس طرح آپس میں ردوبدل کیے، لیکن وہ بات نہ رہی کہ کم و بیش ہر ہفتے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے۔ آہستہ آہستہ لندن کا پتہ ترک ہوگیا۔ جب مدتوں بعد ڈاک کھلی تو پھر مراسلت شروع ہوئی، لیکن اس بار میں پہلے جیسی باقاعدگی قائم نہ رکھ سکا۔ اس کا بھی افسوس رہے گا۔ 

    سوال: آپ کے نام عسکری صاحب کے خطوط ہندوستان پاکستان دونوں جگہ چھپ گئے ہیں، کیا ان کے نام آپ نے جو خط لکھے ان کے چھپنے کا کوئی امکان ہے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: میں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کے کاغذات کا وارث کون ہوا اور انہوں نے اپنے نام خطوں کے بارے میں کیا ہدایت چھوڑی۔ ممکن ہے انہوں نے میرے خط محفوظ بھی نہ کیے ہوں۔ اپنے خطوں کے بارے میں اکثر وہ مجھے لکھتے تھے کہ انہیں آپ کسی کو دکھائیں نہیں۔ عسکری صاحب کے انتقال کے بعد کئی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ یہ خط چھپ جائیں تو اچھا ہو۔ لیکن میں ان کی ہدایت کا لحاظ کرکے بات کو ٹال جاتا تھا۔ پھر کراچی میں مرحوم سلیم احمد نے بھی مجھ سے کہا کہ وہ خطوط چھپوا کیوں نہیں دیتے ہو، بجا کہ عسکری صاحب نے تم سے کہا تھا کہ میرے خط کسی کو نہ دکھائیے گا، لیکن وہ ان کی زندگی کی بات تھی۔ اب یہ خط قوم کا سرمایہ ہیں، انہیں عام ہونا چاہیے۔ تب میں نے وہ مکتوبات ’’شب خون‘‘ میں چھپوادیے۔ پھر وہ ’’روایت‘‘ لاہور میں شائع ہوئے۔ 

    سوال: عسکری صاحب نے ایک خط میں آپ کو لکھا تھا کہ ’’لوگ آپ کا نام اب حالی کے ساتھ لینے لگے ہیں۔‘‘ اور بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ محمد حسن عسکری نے جہاں اپنا سفر ختم کیا، آپ نے اپنا سفر وہاں سے شروع کیا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محمد حسن عسکری کی بعض تحریروں میں بعض نکات صرف اشاروں کی شکل میں ہیں، آپ نے ان اشاروں کو مشرح بیان کیا اور ان کے لیے نظری دلائل بھی فراہم کیے۔ اس سلسلے میں آپ کچھ کہنا پسند کریں گے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: وہ جملہ جس میں حالی کے نام کے ساتھ میرا نام جڑ گیا، وہ تو میرے خیال میں رواروی کی بات تھی۔ لیکن سب سے پہلے تو میں پوری وضاحت اور قوت سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں ہرگز یہ نہیں سمجھتا کہ عسکری صاحب نے اپنا کام جہاں ختم کیا، میں نے وہاں سے شروع کیا ہے۔ عسکری صاحب نے تنقید کو جن بلندیوں پر پہنچادیا ان پر اس کو قائم رکھنا ہی بڑا کارنامہ ہوگا، چہ جائے کہ ہم اس کے آگے جاسکیں۔ آج تو یوں ہی تنقید کا حال دگرگوں ہے۔ کچے پکے ادھورے خیالات فیشن کے طور پر اختیار کیے جارہے ہیں۔ اس بات پر کوئی دھیان نہیں ہے کہ یہ خیالات ہمارے ادب اور ہماری ادبی تہذیب کو سمجھنے، یا اس کی تعبیر نو کے لیے کچھ کارآمد ہیں بھی کہ نہیں۔ اب تنقید نہیں لکھی جارہی ہے، طرح طرح کے ڈھول اور ڈنکے پیٹے جارہے ہیں۔ 

    ہاں یہ بات ہے کہ بہت سی باتیں عسکری صاحب نے صفائی سے بیان کی تھیں، اور بہت سی باتوں کے لیے صرف اشارے کیے تھے۔ تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو باتیں مضمر رہیں، اور جن باتوں کی طرف انہوں نے صرف اشارے کیے تھے، ان میں سے کچھ کو لے کر میں نے وضاحت سے بیان کیا۔ مثلاً یہ کہ ۱۹۴۶ کا ان کا خط ہے عبادت بریلوی کے نام، اس میں کہتے ہیں کہ بھائی اگر آپ کو جدید یورپین شاعری کو سمجھنا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے اپنی کلاسیکی شاعری کو سمجھیے۔ اس بات کو انہوں نے واضح نہیں کیا کہ ایسا کیوں ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ خط لکھ رہے تھے، تنقیدی مضمون نہیں۔ لیکن بعد میں بھی انہوں نے کبھی اس معاملے کو کسی مضمون یا گفتگو میں مفصل نہیں بیان کیا۔ لیکن اس میں جو نکتہ، جو بصیرت پنہاں ہے، اس سے میں نے یقیناً فائدہ اٹھایا۔ 

    اسی طرح، عسکری صاحب کا یہ قول بھی ہے کہ ہر تہذیب کو حق ہے کہ اپنے ادبی اصول اور معیار خود متعین کرے، اور یہ نامناسب ہے کہ کسی ادبی تہذیب پر کسی غیر تہذیب کے معیارات مسلط کیے جائیں۔ یہ نکتہ میں نے صرف ان کے یہاں دیکھا۔ مغرب والا تو ایسی بات کبھی کہتا نہ تھا حالانکہ وہ اس سے واقف یقیناً تھا۔ لیکن اگر وہ اسے کہتا تو پھر تیسری دنیا پر، یا پہلے زمانے میں اپنی محکوم اقوام پر یہ دھونس کیوں کر رکھتا کہ ادبی تنقید اور تخلیق کے سارے اصول تو سارے ہمارے پاس ہیں؟ بہرحال، عسکری صاحب کی اس بات سے مجھے بڑی تقویت ملی۔ بہت ساری میری گرہیں کھل گئیں، راستے کھل گئے۔ کیونکہ مجھے بھی یہ بہت پریشانی تھی کہ اگر غزل کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ English Poem کی طرح سے نہیں ہے۔ یا Western Lyric کی طرح نہیں ہے، کمزور بلکہ نیم وحشی صنف سخن ہے، تو اس کا جواب کیا دیا جاسکتا ہے؟ یا ہمارے وہ اصناف سخن یا وہ اسالیب تحریر جو مغربی تحریر کے اسالیب و اصناف سے ہم آہنگ نہیں ہیں، کوئی انہیں غیرترقی یافتہ، یا ادبی حسن سے عاری سمجھے، تو اس کے خلاف دلیل کیا لائی جائے؟ 

    یہ درست ہے کہ دلیل لانے کی کوششیں بہت ہوئیں۔ کلیم الدین احمد کے زمانے سے لے کر آل احمد سرور، خواجہ منظور حسین، فراق صاحب، اور بہت لوگوں نے کوشش کی۔ لیکن کوئی مسکت دلیل اس وقت تک کسی کی سمجھ میں ٹھیک سے آنہیں رہی تھی۔ عسکری صاحب کا یہ کہنا کہ ہر تہذیب کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے ادبی معیار خود متعین کرے، میرے لیے ایک بڑی بصیرت اور طاقت کا سبب بن گیا۔ میں نے سوچا کہ ہم سانیٹ(Sonnet) کے معیار پر غزل کو، رزمیہ کے معیار پر مرثیے کو، اوڈ کے معیار پر قصیدے کو پرکھیں ہیں کیوں؟ عسکری صاحب کے نکتے کی روشنی میں اپنے خیالات پر نظرثانی کرتے ہوئے میں نے اپنے ادب کی ایک نئی طرح کی ادبی معیار بندی کے بارے میں سوچا۔ یعنی میں نے کہا کہ جس طرح مغرب کو حق ہے کہ وہ سانیٹ کے لیے قاعدے مقرر کرے، اسی طرح ہمیں بھی حق ہے کہ غزل کے لیے قاعدے مقرر کریں۔ میں نے ایک بار لکھا کہ اگر کسی کو غالب سے شکوہ ہو کہ انہوں نے سانیٹ کیوں نہ لکھی تو ہمیں ورڈزورتھ سے شکوہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے غزل کیوں نہ لکھی؟ 

    سوال: محمد حسن عسکری کا خیال تھا کہ یورپ کی تہذیب اپنی صنعتی اور مالی کامیابی اور سیاسی چمک دمک کے باوجود اپنے مرکز سے ہٹتی چلی گئی۔ حالی اور محمد حسین آزاد کی نظم جدید کی تحریک کو بھی عسکری صاحب اسی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ تو زوال آمادہ یا گم کردہ راہ مغربی تہذیب کے لوازم ہیں۔ اردو کے لیے ان کی کوئی معنویت نہیں۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے۔ عسکری صاحب نے ادب کو تہذیبی اظہار مانا اور یہ کہا کہ دراصل کسی بھی قوم کی جو ادبی تہذیب ہوتی ہے، وہ عطر ہوتی ہے اور خلاصہ ہوتی ہے اس کے تمام تہذیبی تصورات کا۔ اور یہی تصورات ادبی پیداوار پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تو اگر کوئی تہذیب ایسی ہے جو اپنے بنیادی تصورات سے ہٹ گئی ہے اور جن بنیادوں پر وہ قائم ہوئی تھی، وہ بنیادیں چھوڑ دی گئی ہیں، یا انہیں کھود کر پھینک دیا گیا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس کے ادب میں زوال آئے گا۔ یا پھر اس کے ادب میں اس تہذیب کی جو اچھی چیزیں ہیں ان کے بھی عناصر کم نظر آئیں گے۔ 

    عسکری صاحب کا کہنا تھا کہ مغرب اپنی تہذیبی روایت کو کھوچکا۔ اس بات کو پوری طرح صحیح یا غلط کہنا میرے لیے مشکل ہے، لیکن بڑی حد تک اس بات میں صداقت یقیناً تھی اور ہے کہ مغرب اپنی ا صل ادبی تہذیب، اپنی حقیقی روایت کو کھوچکا ہے، اور اگر کھو نہیں چکا ہے تو اسے بڑی حدتک مسترد ضرور کرچکا ہے۔ جو تہذیب اپنی بنیادی روایت کو مسترد کردے یا اسے ضائع کردے، وہ ادب کے میدان میں، ظاہر ہے ایک طرح سے گم کردہ راہ نظر آئے گی۔ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو افراتفری، جواتھل پتھل، جو توڑ پھوڑ ہمیں مغرب میں نظر آتی ہے، وسط انیسویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک، اس کے پیچھے صرف مادی یا سیاسی زوال نہیں، بلکہ روحانی زوال بھی ہے۔ لیکن ہم ہندوستانیوں کو تو یہ خیالات گویا ماں کے دودھ کے ساتھ بچپن سے ہضم کرادیے گئے تھے کہ Wordsworth یا شبلی کی ایک نظم پورے دیوان غالب سے بہتر ہے۔ میکالی تو بہت پہلے ہی کہہ گیا تھا کہ مشرق کے تمام علوم ایک طرف اور کسی یورپین کی لائبریری کا ایک شیلف ایک طرف۔ ہم کو پڑھایا گیا کہ مغرب کے معمولی سے معمولی ناول نگار ہماری داستانوں سے بہتر اور برتر ہیں۔ پریم چند کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے مقابلے میں Howard Fast کتنا اچھا ناول نگار ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور ہاورڈ فاسٹ تو درجۂ دوم کا آدمی تھا، بڑے ناول نگاروں کا تو پوچھنا ہی کیا تھا۔ کس کی ہمت تھی جو پریم چند کے ساتھ دوستوئفسکی (Dostoevsky) یا ڈکنس (Dickens) کا نام تو لے لے۔ تو اس ماحول میں یہ کہنا کہ یہ لوگ بڑے ادیب ہوں یا نہ ہوں، یہ الگ بات ہے، لیکن دوستوئفسکی، ڈکنس، بالزاک (Balzac) کوئی بھی ہو، یہ جس تہذیب کے نمائندے ہیں وہ اپنی بنیادی شناخت کو کھوچکی ہے، لہٰذا ان کے یہاں ایک طرح کی روحانی افراتفری نظر آتی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس کو کہنے کے لیے ہمت چاہیے تھی اور اس بات کو دیکھ لینے کے لیے بھی ہمت چاہیے تھی اور علم اور بصیرت چاہیے تھی۔ عسکری کے سوا کون تھا جو ایسی باتیں کہہ سکتاتھا؟ 

    میں یہ نہیں کہتا کہ میں عسکری صاحب کی اس بات سے پورے طور پر متفق ہوں کہ مغرب کا سارا جدید ادب، اور اس کی ساری جدید تہذیب، روحانی بحران کا شکار ہے، یا اس وقت تھی جب عسکری نے یہ بات کہی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ مغربیت کی تہذیبی تاریخ بہت پیچیدہ ہے اور اس میں کئی اچھی بری چیزیں شامل ہیں اور اس میں تبدیلیاں بہت کثرت سے آئیں۔ ان کی وجہ سے اس کی پیچیدگی اور بھی بڑھتی چلی گئی۔ یہ کہنا کہ ہم اس کے بارے میں کوئی ایک عمومی حکم لگاسکتے ہیں کہ وہ اپنی بنیادی اقدار کو یا اپنی بنیادوں کو سراسر کھوچکی تھی، اتنا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کے یہاں بہرحال بنیادی اقدار کو دوبارہ دریافت کرنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ اب وہ کہاں تک اس میں کامیاب ہوئے، یہ الگ بات ہے۔ پھر یہ بھی ایک سوال ہے کہ ان کی بنیادی اقدار تھیں کیا؟ 

    ممکن ہے ان کے یہاں نئے سیاسی فلسفوں اور صنعتی ترقی کی بنا پر جو سماجی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، اور سائنس کی ترقی کی بنا پر جو ذہنی بحران پیدا ہوا، اس کا احساس ہم لوگوں کو نہ ہو۔ لیکن وہاں تو یہ عالم تھا کہ لوگوں کے ذہنوں میں اور ضمیر میں انقلاب سا آگیا، زلزلہ پڑگیا۔ مثال کے طور پر الفرڈ نوائز Alfred Noyes جوایک زمانے میں بڑا مشہور تھا اور انگلستان کا مالک الشعرا تھا، وہ لکھتا ہے کہ میری جوانی کے دن تھے جب میں نے ڈارون کی کتابیں پڑھیں The Origin of Species اور The Descent of Man، تو دنیا میری نظر میں تاریک ہوگئی۔ ان کتابوں نے مجے یہ بتایا کہ انسان کچھ نہیں ہے، محض اتفاقات اور ایک اندھے ارتقائی عمل، یعنی Chance اور Natural Selection کا بندہ ہے۔ نہ اس میں کوئی اعلیٰ صفات ہیں، انسانی یا روحانی، اور نہ اس کے پاس کوئی لائحہ عمل اور ضابطۂ اخلاق ہے۔ محض فطرت کی اندھی طاقتوں کی توڑپھوڑ کی بناپر کئی کروڑ برسوں میں انسان کی نوع یعنی Species نے جنم لیا ہے۔ تو یہ جب میں نے پڑھا تو دنیا میری نگاہ میں تاریک ہوگئی۔ میں نے کہا کہ ہائے افسوس ہم لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ! ہم اپنے بارے میں گمان کرتے تھے کہ اشرف المخلوقات ہیں، وجہ تخلیق حیات و کائنات ہیں۔ اور آج صرف یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ہم اندھی قوتوں کے پیدا کیے ہوئے blind ذی حیات ہیں۔ اور ذی روح ہیں کہ نہیں، اس کے بارے میں شک ہے۔ 

    اب ظاہر ہے کہ جس قوم نے، جس تہذیب نے، اتنا بڑا دھکا سہا ہو ذہنی طور پر، اس کے احساس گم کردہ راہی کا کیا عالم ہوگا؟ پھر یہ کہ انیسویں صدی کے آخر تک لوگوں کا یہ خیال تھا، بلکہ اکثروں کو تو یقین بھی تھا کہ سائنس کی دریافتوں اور نظریات کے ذریعہ ہم اسرار فطرت کو حل کرسکتے ہیں، کائنات کو جان سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بالآخر کائنات ایک بہت بڑا فارمولا یا Equation ثابت ہو، اور اس مساوات کی شکل بن کر ہمارے سامنے واضح ہوجائے۔ لیکن جب صدی ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ۱۸۹۶ میں ایٹم کی دریافت ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ قلیل ترین ذرہ بھی اپنے اندر ایک کائنات، ایک قوت، ایک توانائی، ایک نظام رکھتا ہے۔ جوہر(Atom) جامد نہیں ہے، بلکہ متحرک اجزا کا مجموعہ ہے، لایتجزیٰ نہیں ہے۔ (اور بعد میں عبدالسلام وغیرہ نے ثابت کیا کہ وہ ننھے اجزا، ایٹم جن کا مجموعہ ہے، وہ بھی لاتیجزیٰ نہیں ہیں اور ان میں توانائی کا خزانہ ہے۔) ایسا کیوں ہے، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن جوہر کے ایسا ہونے کی وجہ سے کائنات کس طرح کی ہے، یا ہوگی، اس کے بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے۔ 

    پھر ۱۹۰۵ میں آئن سٹائن نے نظریۂ اضافت پیش کیا، جس کی رو سے کائنات کی ہر چیز روشنی کی رفتار کی تابع ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار وہ حد ہے جسے کائنات نہیں توڑ سکتی۔ اگر توڑ دے تو زمان و مکان بے معنی ہوجائیں گے۔ کچھ برس بعد نیل بور (Neils Bohr) نے دریافت کیا کہ روشنی ذروں کی صورت میں اپنے مخرج سے نکلتی ہے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد دابرالئیی (de Broglie) نے ثابت کیا کہ روشنی بیک وقت ذروں اور لہروں پر مشتمل ہے۔ یعنی ایک طرح سے دیکھیں تو روشنی مجموعہ ہے جوہروں atoms کا، اور ایک طرح سے دیکھیں تو رشنی مجموعہ ہے لہروں کا۔ 

    اس کے بعد جرمن سائنس داں ہائسن برگ (Heisenberg) کے مشہور زمانہ اصول غیر قطعیت uncertainty principle نے تو ستیاناس ہی کردیا۔ گزشتہ صدی کے وسط میں ڈارون نے کہا تھا کہ کائنات میں حیات کا وجود صرف اتفاق ہے۔ اب ہائسن برگ نے کہا کہ جب پانی اوپر سے گرتا ہے تو ہم یہ پیشین گوئی تو کرسکتے ہیں کہ عمومی طور پر پانی کہاں گرے گا۔ لیکن ہر ہر قطرے کے بارے میں پیشین گوئی غیر ممکن ہے کہ وہ کہاں، کس طرح اور کس رفتار سے گرے گا۔ اتنا ہی نہیں، ہائسن برگ نے ثابت کیا کہ جوہر (Atom) کے بارے میں مقام اور رفتار دونوں کا تعین بیک وقت نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم ایٹم کی رفتار بتائیں تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ ہے کہاں۔ اور اگر اس کی جگہ کا تعین کریں تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی رفتار کیا ہے؟ اس طرح وہ Uncertainty Principle جو حیاتیات میں تھا، اب طبیعیات میں بھی کارفرما نظر آیا۔ یہ کائنات بہت ہی غیر یقینی ہے، بہ نسبت Newton کے Laws کے، جن کے ذریعہ ہمیں ایک مشینی کائنات Mechanistic Universe کے امکان کی بشارت ملی تھی۔ تو جس تہذیب نے اتنے بڑے دھکے اٹھائے ہوں اور جس نے اس طرح مجبور ہوکر اپنے پرانے مذہبی اور سائنسی عقیدوں کو ترک کیا ہو تو اس میں ظاہر بات ہے کہ وہ سکون اور اطمینان اور وہ ٹھہراؤ، بصیرت کا وہ اتحاد قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ 

    سوال: یعنی محمد حسن عسکری نے سولہویں صدی کے بعد کے یورپین ادب اور فکر کو کھنگالا اور اس کے عطر کو ہمارے سامنے پیش کیا۔ لیکن پھر یورپ کے ہی افکار سے متاثر ہوکر انہوں نے یورپ کو رد کیا۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: اس میں دو باتیں سمجھنے کی ہیں، بلکہ تین۔ ایک تو یہ کہ محمد حسن عسکری کو اپنی تہذیب اور روایت کے زندہ وجود کا شعور ہم سب سے زیادہ تھا۔ یعنی کیا کلیم الدین، کیا مجنوں گورکھپوری، کیا احتشام حسین، کیا آل احمد سرور، جتنے بڑے نام ہیں ہمارے یہاں، ان میں اور بھی ناموں کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ یا کلاسیکی استادوں میں حالی، شبلی، آزاد، نظم طباطبائی، امداد امام اثر، ان سب کے مقابلے میں زیادہ احساس محمد حسن عسکری کو تھا اپنی تہذیب کا، اپنی ادبی روایت کا۔ ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ یہ زندہ ہے اور متحرک ہے اور ختم نہیں ہوگی، جیسا کہ آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ختم ہوچکی ہے۔ 

    آزاد نے ’’آب حیات‘‘ کے آخر میں کہا تھا کہ پرانی شاعری تو ختم ہوگئی۔ اب ہم کر ہی کیا سکتے ہیں، اس کو دوبارہ زندہ تو نہیں کرسکتے۔ یہ شاعری بڑی اچھی تھی، شہد جیسی میٹھی تھی۔ لیکن عشق تک محدود تھی، زبان کے چٹخارے تک محدود تھی۔ اب وہ ختم ہوچکی ہے۔ ’’آب حیات‘‘ کے آخری صفحات کو پڑھیں تو لطف یا رنج کی بات یہ نظر آتی ہے کہ محمد حسین آزاد کو اس سانحے پر بظاہر کوئی غم بھی نہیں ہے۔ سچ پوچھیں تو وہ کچھ بغلیں بجاتے ہوئے سے نظر آتے ہیں کہ بقول غنی کاشمیری،

    بلبل برداشت آشیاں را
    گل گفت کہ خس کم و جہاں پاک

    یا حالی نے ’’یادگار غالب‘‘ کے آخر میں لکھا ہے کہ جس شاعری کے، جس شعریات کے نمائندہ غالب تھے، ہر چند کہ اب اس ملک میں اس شاعری اور شعریات کا کوئی مستقبل نہیں رہ گیا ہے، لیکن پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ غالب کی چیزیں محفوظ کرلی جائیں، کہ اب ان جیسا پیدا بھی نہ ہو گا۔ یعنی ایک طرح سے یہ دفاعی کارروائی تھی کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے، چلو غالب کو ہی بچاکر رکھیں، اگرچہ ان کا اب کوئی مصرف رہ نہیں گیا، صرف تاریخی یادگار ہے۔ اور یہ تو سوال ہی نہیں تھا کہ غالب کے سوا کسی اور کو بچالے جانے کی امید بھی کی جائے۔ 

    ان سب کے علیٰ الرغم، محمد حسن عسکری کے یہاں یہ احساس بہت پختہ تھا کہ میری تہذیب مکمل طور پر زندہ ہے، کم سے کم میرے اور مجھ جیسے اور لوگوں کے ذہن اور حافظے اور روح میں زندہ ہے۔ اب ان پر crisis یہ آئی (جو بعد میں ہم لوگوں پر بھی آئی)، کہ جب انہوں نے انگریزی اور انگریزی کے بعد فرانسیسی زبان پڑھی، اور پھر ان زبانوں کے توسط سے انہوں نے مغرب کا بہت سارا ادب پڑھا، بہت سارے افکار کا مطالعہ کیا، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ جس طرح کے ذہنی پیچ و تاب اور اضطراب سے گزر رہے ہیں، اور ان کی جو تصورات کی تاریخ ہے یعنی جو History of Ideas ہے، اس میں نئے سے نئے تصورات چلے آرہے ہیں، اور کائنات کے نقشے میں تبدیلیاں، اور کائناتی نظر میں تبدیلیاں آتی چلی گئی ہیں، سائنس کی بنا پر، عالمی جنگوں کی بناپر، کمیونزم کی بناپر، فرائڈ کی بناپر، ان کی وجہ سے زندگی کا جو نقشہ اور ڈھرا یکسر بدلا ہے، تو وہاں سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ ادیب کیسے معاملہ کرے؟ 

    How to come to terms with it, with all this change and discontinuity?

    جب عسکری نے دیکھا کہ مغربی ادب میں، انگریزی ادب میں، یہ کوشش جاری ہے، اور ہمارے یہاں انہوں نے یہ کام نہیں دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ ان سے پوچھیں کہ تم کس طرح یہ کام انجام دے رہے ہو؟ وہی کام ہم کرکے دیکھیں۔ مثلاً عسکری صاحب نے سوچا کہ بودلیئر نے کائناتی تصورات کو اپنے شعر میں حل کیا اور انسان کے اندرون میں، بطون میں جو خوف و ہراس ہے، جو پیچیدگیاں ہیں، جو تشکیک اور شکوک ہیں، ان سے جس طرح اس نے اور اس کے معاصروں نے معاملہ کیا، ان کی چھان بین کی، بھلے اور برے دونوں کو جانچ اور تجربے کے عمل سے گزارا، ویسا ہم لوگ کیوں نہیں کرتے؟ یہ انہوں نے بار بار کہا اور اس سلسلے میں ان کی نگاہ خاص کر کے فرانس کے Symbolist شعرا پر پڑی۔ ان شعرا نے ایک حد تک مغرب کی پرانی روایتوں سے انحراف بھی کیا تھا اور ایک حد تک ان سے سلسلہ جوڑا بھی تھا، یعنی نوافلاطونی تصورات سے۔ 

    ادھر بیسویں صدی کے وسط میں ہم لوگ بھی بہت سی تبدیلیوں سے دوچار ہو رہے تھے۔ آزادی کی لڑائی، اور پھر اس کے نتیجے میں ملک کی تقسیم، اس نے مسلمانوں کے لیے کچھ ایسے مسائل پیدا کیے جن کا تجربہ کسی کو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اوراکثریتی طبقہ تو ان مسائل کو سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ 

    دوسری طرف وسط صدی آتے آتے یہ بھی ہوا کہ دنیا چھوٹی ہوگئی تھی، ایک کا مسئلہ، دوسرے کا مسئلہ بن گیا تھا۔ اب مغرب کی ٹکنالوجی سے زیادہ مغرب کے تہذیبی اور فلسفیانہ تصورات اور اقتصادی نظام سے اثرپذیر ہونے کی بات تھی۔ لہٰذا عسکری نے کہا کہ مغرب کے اثر میں آجانے کے بعد آپ کے پاس دو راہیں ہیں۔ یا تو مغربی تصورات اور تہذیبی بحران کو پورا پورا اختیار کرلیجیے۔ آپ کے یہاں ٹھہراؤ آگیا ہے، جمود آگیا ہے۔ آپ کے یہاں اس طرح کا تحرک نہیں۔ آپ کے یہاں اس طرح کے سوال نہیں اٹھائے جارہے ہیں جیسے کہ ہم فرانس میں دیکھتے ہیں، یا اٹلی میں دیکھتے ہیں، یا انگلینڈ میں دیکھتے ہیں۔ انسانی وجود کا کیا مقام کائنات میں ہے؟ اس کا کوئی نیا تصور آپ کے یہاں نہیں ہے، اور نہ پرانے تصور پر آپ کوئی سوالیہ نشان لگانا چاہتے ہیں۔ اور وہاں اس طرح کا سوال روزانہ اٹھ رہا ہے، انیسویں صدی کے اواخر سے اٹھ رہا ہے۔ دستوئفسکی (Dostoevsky) اور نطشے (Neitzsche) کے وقت سے اٹھ رہا ہے۔ دستوئفسکی (Dostoevsky) اپنے ناول میں پوچھتا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی کسی اخلاقی جواز کے بغیر کسی کا قتل کردے؟ یا اگر کوئی فوق الانسان ہے، Superman ہے تو اس بناپر کیا اسے یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ اپنے سے کم تر لوگوں کا بے وجہ قتل کردے؟ جیسا کہ وہ پوچھتا ہے Crime & Punishment میں۔ تو یہ سب آپ کے یہاں ہے نہیں۔ اب اگر آپ کو جدید بننا ہے تو آپ یہ سب وہاں سے لے آئیے۔ لیکن جب وہاں سے آپ یہ تصورات لے آئیں گے تو پھر آپ کو اپنی تہذیبی روایت، اپنی علمی روایت، اپنی تاریخ، سے تعلق قطع کرنا پڑے گا۔ اچھا آپ نہیں لاتے اس کو، تو پھر اپنی تاریخ و تہذیب کو زندہ کیجیے۔ 

    عسکری نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ ہم اپنی ادبی تہذیب و تاریخ کو زندہ کریں۔ توایسا نہیں ہے کہ ان کے یہاں کوئی تضاد ہے۔ تضاد ان کے یہاں بالکل نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ان کے یہاں تین منازل ہیں۔ پہلی منزل میں وہ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ادب میں تصورات کے بدلنے کی وجہ سے، یا سائنس کے اثرات کی بناپر اور اس کے نقصانات کی وجہ سے، انقلاب اور عدمیت (Nihilism) کے تصورات کی وجہ سے، کمیونزم، فرائڈ، اور عالمی جنگوں، پھر سرد جنگ کی وجہ سے، ان باتوں کی وجہ سے زندگی میں ایک برا ہلچل کا ماحول ان کے یہاں محسوس ہو رہا ہے۔ تو اگر ہمیں جدید ہونا ہے تو ہم بھی اس طرز فکر کو اختیار کریں، اس میں اپنا حصہ لیں، ہم بھی جدید دنیا میں داخل ہوں، اس کی برکتوں اور بحرانات، دونوں سے بہرہ اندوز ہوں۔ 

    دوسری منزل ان کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ دیکھا کہ اس طرح کی چیز ہمارے یہاں بن نہیں پارہی ہے، یعنی ہمارے یہاں وہ ہلچل نہیں ہے، وہ تحرک نہیں ہے۔ کائنات، اور انسان کی تقدیر، اور خدا کے بارے میں وہ سوال جواب نہیں ہو رہا ہے جو ہم یورپ میں دیکھتے ہیں۔ چونکہ وہ تہذیب الگ ہے اورہماری تہذیب الگ ہے، تو ان تصورات اور رجحانات کو اپنے یہاں درآمد کرنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوگی ہمیں۔ ابھی ہمیں اپنی تہذیب کو، اپنی روایت کو، اپنی ہی خرد کی روشنی میں دریافت کرنا چاہیے۔ 

    سوال: لیکن روایت کا تصور مختلف لوگوں نے مختلف انداز سے پیش کیا ہے۔ محمد حسن عسکری سے پہلے بھی روایت کا تصور رہا ہے۔ محمد حسن عسکری جب اردو کی اپنی ادبی روایت کی بات کہتے ہیں تو اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ وہ کس ادبی روایت کی بات کرتے ہیں، وہ روایت جو ان کے پیش روؤں کی تھی یا کوئی روایت جسے وہ خود تشکیل دیں گے؟ وہ کون سی ادبی روایت کو قائم کرنا چاہتے ہیں؟ اور انہوں نے اپنے تصور روایت سے کیا کام لیا؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: میری نظر میں عسکری کا عظیم ترین کارنامہ، جو آج بھی اہم ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی اسی طرح اہم رہے گا، یہ ہے کہ انہوں نے روایت کے معنی بدل دیے۔ جس چیز کو ہم لوگ روایت سمجھ رہے تھے اس کی جگہ انہوں نے بالکل ایک نئی تعریف متعین کی جو ان کے خیال میں سوفیصدی اور میرے خیال میں بڑی حدتک صحیح تعریف تھی۔ مثلاً ہم لوگ سمجھ رہے تھے کہ روایت بدلتی رہتی ہے، پرانی ہوتی رہتی ہے۔ سرور صاحب کے یہاں، احتشام صاحب کے یہاں، سب کے یہاں یہ خیال مل جائے گا کہ روایت ایک پرانی سی چیز ہے جو کبھی پیدا ہوئی ہوگی کسی زمانے میں۔ اسے لوگوں نے اختیار کیا، یا وہ لوگوں پر اثرانداز ہوئی۔ لیکن زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ وہ بدلی نہیں، جامد ہوکر رہ گئی۔ اس کی ذات میں ہی کچھ عیب موجود تھا، اس میں کچھ فساد بھی تھا۔ کچھ صالح اور کچھ غیرصالح عناصر سے مل کر روایت بنی۔ اور عسکری کے پہلے لوگ یا توروایت کو مسترد کرتے تھے، مثلاً اختر حسین رائے پوری، یا ترقی پسند مفکرین اور کچھ دوسرے لوگ یہ کہتے تھے کہ روایت کے صالح حصے کو تو ہم لیں اور غیر صالح حصے کو ہم چھوڑدیں۔ جو کچھ اس میں فاسد ہے، مفسدہ ہے، اس کو ہم چھوڑدیں اور جو اس میں اصلاح پذیر ہے اس کو ہم قبول کرلیں۔ 

    لیکن انہوں نے رسمی باتیں کہنے کے سوا کبھی واضح نہیں کیا کہ ’’فاسد/غیرفاسد‘‘، ’’صالح/غیر صالح‘‘ جیسی اصطلاحوں سے ان کی کیا مراد ہے؟ مثلاً اگر غزل ساری کی ساری فاسد نہیں ہے تو اس کے خراب اجزا کو کس طرح الگ کریں کہ غزل بھی باقی رہے اور اس کا عیب بھی دور ہوجائے؟ اور یہ انہوں نے کبھی منطقی یا تاریخی طور پر ثابت نہیں کیا کہ روایت کوئی پرانی چیز ہے جو ایک جگہ جامد ہو کر رہ جاتی ہے۔ بس دعویٰ ہی کرتے رہ گئے۔ 

    عام رائے کے خلاف عسکری نے کہا کہ روایت ایک زندہ اور متحرک چیز ہے۔ اور ہمیشہ ادب کے اندر قائم رہتی ہے، اور یہ ایک seamless whole ہے۔ اسے پورا پورا قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہیں کہ کسی ادبی روایت کا دوتہائی حصہ تو ہم نے لے لیا اور فلاں روایت کا چوتھائی حصہ وہاں سے لے لیا۔ یا کبھی کہہ دیا کہ یہ روایت آج سے بند اور نئی روایت آج سے شروع۔ تو یہ نہیں ہوسکتا ہے۔ روایت تو ایک نامیاتی کل ہے جو کہ ادب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ چلتی چلتی ہے۔ بے شک، ادب اس پر اثرانداز ہوتا ہے اور بے شک، ادب پر وہ اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے منطقوں، یا تاریخی خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ آپ اس پر کاٹ جھانٹ نہیں کرسکتے کہ یہ لے لیا، وہ چھوڑدیا۔ تو اس میں کوئی تصور فرسودگی کا نہیں ہے۔ پرانے لوگوں کا تصور روایت کا تھا تو یہی تھا کہ یہ ایک انسانی چیز ہے۔ کل تھی اور آج نہیں ہے۔ کل یوں تھی اور آج بدل کر یوں ہو گئی۔ کل کچھ چیزیں ہم نے اس میں سے چھوڑدیں تھیں تو آج کچھ نئی چیزیں اس میں ڈال بھی دیں۔ 

    اس کے برخلاف عسکری کے یہاں یہ تھا کہ روایت Synchronic چیز ہے۔ یہ ہمیشہ قائم رہتی ہے، ہرزمانے میں موجود رہتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عسکری نے کہا روایت کی اصل جو ہے وہ زبانی بیانات میں ہے، تحریر میں نہیں آتی۔ جو چیز کہ زبان پر رواں رہتی ہے، جاری ہوتی ہے، اس سے روایت بنتی ہے، کیونکہ اس میں تحریر کی سی غلطی ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ اور اگر کسی نے غلط تقریر کی بھی تو اس کو درست کرلیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہم جو سمجھتے ہیں اس سے یہ الٹی بات ہے۔ لیکن اس کے پیچھے افلاطون کا تصور پنہاں ہے۔ افلاطون نے کہا تھا، ’’لکھا ہوا متن اگر غلط ہے تو اسے اپنی اصلاح کرنے کی قوت نہیں۔‘‘ مثلاً ہم نے کہیں یہ لکھ دیا کہ الٰہ آباد پنجاب کا ایک شہر ہے۔ فرض کریں دو ہزار برس بعد اگر پنجاب اور الہ آباد نہیں رہ گئے اور یہ تحریر رہ گئی تو کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ یہ بیان غلط ہے، کیونکہ جو لکھ دیا گیا، وہ لکھ دیا گیا۔ لیکن زبانی معاملہ ہو تو اس میں اصلاح یا تنسیخ ہوسکتی ہے۔ اگر میں یہ بات آپ سے کہوں کہ صاحب، الٰہ آباد پنجاب کا شہر ہے، تو آپ فوراً اس کی تصحیح کریں گے کہ نہیں جناب ایسا نہیں ہے۔ یا اگر یہی بات آپ مجھ سے منسوب کرکے کہیں کہ فاروقی کہتے ہیں، الٰہ آباد پنجاب کا ایک شہر ہے تو کوئی نہ کوئی اس کی تصحیح کردے گا۔ 

    ناسخ کا شعر یاد آگیا،

    تین تربینی ہیں دو آنکھیں مری
    اب الٰہ آباد بھی پنجاب ہے 

    یہاں ہم الٰہ آباد کو پنجاب میں ڈالنے میں حق بجانب ہیں، کیونکہ ہم شعر کہہ یا پڑھ رہے ہیں، اور شعر کی بنیاد فرضی مقدمات پر ہوتی ہے۔ اگر پرانے زمانے کی جغرافیہ کی کتاب میں لکھا مل جائے کہ الٰہ آباد ایک شہر ہے پنجاب کا، اور الٰہ آباد یا پنجاب اس وقت موجود نہ ہوں، تو اس کی تردید تقریباً ناممکن ہوگی۔ 

    مطلب یہ کہ روایت میں اپنے اندر قوت ہوتی ہے اپنی اصلاح کرلینے کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت ایک سے دوسرے تک فوری طور پر، بالمشافہ پہنچتی ہے۔ جب تک روایت چلتی ہے سینہ بہ سینہ ایک دوسرے تک آتی رہتی ہے۔ مجھے آپ سے ملی۔ مجھ سے کسی اور تک پہنچی، اور پھر وہاں سے کسی اور تک پہنچی۔ تو اگر روایت چلتی رہتی ہے تو اس میں کھوٹ کا، فساد کا امکان بہت کم ہوتا ہے، بلکہ نہیں ہوتا۔ لیکن تحریر میں اگر غلطی ہوگئی تو ہوگئی۔ 

    ایک مثال آپ کے سامنے ہے کہ مشہور غزل غالب کی ہے، 

    آہ کو چاہیے ایک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    اب پتہ نہیں کس وجہ سے ایک بار دیوان میں چھپ گیا، ’’ہونے تک‘‘، بجائے ’’ہوتے تک‘‘۔ اس وقت وہ دیوان سامنے نہیں، لیکن شاید نظامی پریس کے کسی پرانے ایڈیشن میں ’’ہونے تک‘‘ لکھ گیا ہے۔ وہی چل گیا۔ اب پچاس ہزار بار غالب کہتے رہیں کہ میں نے ’’ہوتے تک‘‘ لکھا تھا، اور مالک رام اور مولانا عرشی اور کالی داس گپتا رضا سب کے مدون کردہ کلیات میں ’’ہوتے تک‘‘ ہی ہے۔ لیکن آج تک کوئی اسے نہیں مانتا۔ کوئی سننے کو تیار نہیں۔ ۱۹۵۳ میں سہراب مودی نے اپنی لاجواب فلم بنائی، ’’مرزا غالب‘‘ کہانی منٹو کی، مکالمے بیدی کے، موسیقی غلام محمد کی۔ اور غالب کی غزلیں گانے والے ثریا، محمد رفیع، اور طلعت محمود۔ اس فلم میں ثریا نے ’’آہ کو چاہیے اک عمر۔۔۔‘‘ گاکر خود کو امر کرلیا۔ اور ’’ہوتے تک‘‘ کی جگہ ’’ہونے تک‘‘ گایا، اور اس طرح گایا کہ سننے والے کا دل آج بھی خون ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہم یہ بھی کہیں گے کہ ’’ہوتے تک‘‘ بہتر لگتا ہے، لیکن کہتے پھر بھی وہی ہیں، ’’ہونے تک۔‘‘ 

    تو یہ بات عسکری نے سجھائی کہ دیکھو تحریری روایت بظاہر تگڑی معلوم ہوتی ہے لیکن اس میں اپنی اصلاح کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اصل روایت وہ ہے جو زبانی طور پر مروج ہو اورایک سے دوسرے تک مسلسل پہنچے۔ تو ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پورا تصور ہی بدل دیا روایت کا۔ 

    اب رہا یہ معاملہ کہ انہوں نے روایت کے اس تصور سے کام لیا؟ یہاں پر مجھے ان سے اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے یہ کہا کہ اردو کی حدتک ہماری جو روایت ہے وہ اسلامی روایت ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ یہ روایت ہند+مسلم روایت ہے۔ اس میں ہندوؤں کا بھی اتنا حصہ ہے جتنا مسلمانوں کا۔ آپ اسے ہندو +مسلم نہ کہیے، ہند +ایرانی کہیے، ہند +عرب +ایرانی کہیے۔ ممکن ہے آپ شاعر گننے بیٹھیں تو دس مسلمان ہوں تو پانچ ہندو، یاvice versa۔ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تصورات اس میں جو داخل ہوئے ہیں، اس روایت میں، وہ ہندو اور مسلمان دونوں طرف سے لائے گئے ہیں۔ اور اس پر عسکری کا یہ کہنا ہے کہ جہاں تک توحید کا سوال ہے، توحید کا تصور تو یقیناً مشترک ہے ہندو اور مسلمان میں، کہ التوحید واحد۔ جو ویدانت میں ہے وہ ہمارے یہاں بھی ہے۔ لیکن اس کے آگے عسکری صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ادبی روایت کی تشکیل میں یا ترقی میں جو تصورات کارآمد رہے ہیں اور بہ روے کار آئے ہیں، وہ دراصل خالص اسلامی تصورات ہیں اور اسلامی تصورات میں بھی وہ تصورات جن کا رشتہ براہ راست رشتہ جڑ جاتا ہے عقلیت کوش اور ماورائی تصوف، یا Intellectual Sufism سے، یعنی تصوف کی اس شکل سے، جو عملی نہیں ہے، صرف فکری ہے۔ یعنی شیخ اکبر محی الدین ابن العربی، شیخ عبدالکریم الجیلی، بابا داتا گنج بخش، شاہ محب اللہ الٰہ آبادی، شاہ وجیہ الدین علوی وغیرہ نے تصوف کے جن مسائل سے سروکار رکھا ہے، ان ہی کو عسکری ہماری ادبی روایت کا اصل الاصول قرار دیتے ہیں۔ آپ دیکھیے کہ ان لوگوں کا ذکر ان کے یہاں خوب ملتا ہے۔ آج کل کے زمانے کے رنے گینوں (Rene Guenon)، مارٹن لنگس (Martin Lings)، ٹائٹس بورک ہارٹ (Titus Burckhart) فرتیاف شوآن (Frithjof Schuon) وغیرہ لوگوں کا ذکر وہ بہت کرتے ہیں۔ لیکن ان کے یہاں بہت کم ذکر ملے گا چشتیوں کا۔ چشتی جو کہ عمل کرتا ہے۔ دنیا میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے دیکھو اللہ یہ کہہ رہا ہے۔ اللہ کا بندے سے یوں تعلق ہے، انسان کو یوں رہناچاہیے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ تبلیغ کر رہا ہے، یا ماورائی تعلقاتی سرگرمی میں مصروف ہے۔ بلکہ وہ اپنی گفتگو سے، اپنے عمل سے، لوگوں کو بتا رہا ہے کہ یوں ہونا چاہیے۔ 

    یعنی برخلاف عسکری کے یہاں ذکر ہے تصوف کی اس روایت کا جو تعقل کی روایت ہے، جو Intellect کی روایت ہے، جو سراسر نوافلاطونی ہے لیکن جس کی بنیاد گہری مذہبیت پر ہے۔ عسکری صاحب وحدت الوجود اور شیخ اکبر ابن العربیؒ، یا بہت آگے جاتے ہیں تو مجدد الف ثانیؒ تک پہنچ جاتے ہیں اور عملی دنیا میں آتے ہیں تو مولانا تھانویؒ تک پہنچتے ہیں۔ مولانا تھانوی خود ایک بہت بڑے مفسر تھے وحدت الوجود کے۔ لیکن حضرت تھانوی کا ایک عملی روپ بھی تھا، وہ ’’التکشف عن مسائل اتصوف‘‘ کے ہی مصنف نہ تھے۔ وہ تفسیر قرآن، مواعظ، ’’بہشتی زیور‘‘، اور ’’البدائع‘‘ کے بھی اشرف علی تھانوی تھے۔ عسکری صاحب کوان اشرف علی تھانوی سے بہت کم سروکار ہے جو حکیم الامت تھے، جو قوم کے اخلاقی اورشرعی عیوب کے معالج تھے۔ اپنے حوالے سے حضرت تھانوی صاحب نے ’’علاج‘‘ اور ’’معالج‘‘ لفظ اکثر استعمال کیے ہیں۔ جو تصوف عملی دنیا میں کارآمد ہے، اس پر عسکری صاحب کم گفتگو کرتے ہیں۔ 

    لہٰذا انہوں نے اردوکی ادبی روایت کو دو طرح سے محدود کردیا۔ ایک تو انہوں نے اسے محدود کیا محض اسلامی روایت تک، اسلامی تصورات تک۔ اور دوئم اس کو پھر محدود کیا اسلامی روایت اور اسلامی تصورات کے اس پہلو تک جس کا تعلق ذہنی اور تعلقاتی تصوف سے ہے۔ لہٰذا وہ ایک مخصوص قسم کی Elitist روایت بن کر رہ گئی۔ چنانچہ ہندوستان کی جو مختلف تہذیب ہے، جو مخلوط تاریخی شعور ہے اور اردو ادب جس کا کہ گل سرسبد ہے، اس کا بہت بڑا حصہ اس روایت میں سے چھٹ گیا۔ اور جو حصہ بچا بھی اس میں انہوں نے تاویلیں شروع کردیں۔ مثلاً وہ کہنے لگے کہ داغ کا یہ شعر،

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں 
    صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں 

    دراصل روایت باری تعالیٰ کے مسئلے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے سامنے جلوہ گر ہوگا، کبھی نہ کبھی، قیامت میں، یا قیامت کے بعد۔ دنیا میں اس کے جلوے آشکار نہیں، لیکن بالکل پوشیدہ بھی نہیں۔ لیکن جسے لقاے ربانی کہتے ہیں وہ یہاں نصیب نہیں۔ عسکری کے خیال میں یہ شعر اسی مسئلے پر مبنی ہے۔ 

    تو اس طرح کے interpretation کو غلط تو نہیں کہہ سکتے، کہ یہ interpretation بھی ممکن ہے۔ اور شعر کی ہر وہ تعبیر درست ہے شعر کے الفاظ جس کے متحمل ہوسکیں۔ میں عسکری صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ اس طرح کہ اشعار کی تعبیر یقیناً صوفیانہ رنگ میں ہوسکتی ہے، جیسا کہ یہاں یہ معنی نکلتے ہیں کہ اللہ میاں سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ آپ سامنے آتے ہیں نہ چھپتے ہیں۔ اس کو بہت زیادہ واضح لہجے میں اور صاف صوفیانہ رنگ میں حضرت عبدالعلیم آسی سکندرپوری نے کہا،

    بے حجابی یہ کہ ہر شے میں ہے جلوہ آشکار
    اس پہ گھونگھٹ یہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے 

    تو داغ کے اس شعر کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ میاں نظرآتے بھی ہیں اور نہیں بھی نظر آتے ہیں۔ کب صاف صاف دکھائی دیں گے؟ کب انسانوں کو جلوہ دکھائیں گے اپنا؟ یہ ایک Interpretation داغ کے شعر کا ہے۔ لیکن عسکری صاحب کہتے تھے کہ اور کوئی تعبیر ممکن ہی نہیں ہے اس شعر کی۔ تو میرا ان کا اختلاف اسی بات پر ہے۔ حضرت آسی کے شعر کا غیر صوفیانہ مطلب نکالا جاسکتا ہے، اور داغ کے بھی شعر کا۔ 

    میں یہ کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے ایک بڑا کام کیا۔ روایت کے معنی نئے سرے سے سمجھائے اور قائم کیے۔ روایت کی اہمیت اور مرکزیت ہم پر واضح کی۔ روایت کی قوت سے ہمیں ہمکنار کیا۔ لیکن انہوں نے ہماری ادبی روایت کو محدود کردیا صرف اسلامی روایت تک اور اسلامی روایت میں بھی محدود کردیا ان پہلوؤں تک جن کا تعلق تفکراتی اور تعقلاتی تصوف سے ہے۔ تو اس طرح سے بہت تنگ تصویر اس روایت کی بنی۔ اس کے نتیجے میں انہیں تعبیر کی قلابازیاں بھی کھانی پڑیں، جیسا کہ ہم داغ کے شعر میں دیکھتے ہیں۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جہاں خود میں پہنچا ہوں ان کی تعلیمات بغیر وہاں میرے لیے پہنچنا ممکن نہ تھا۔ 

    سوال: گویا عسکری صاحب اسلامی ادب پر زور دیتے تھے اور بے شک آخری زمانے میں تو ان کا واضح اور پرزور اصرار اسی طرف تھا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد حسن عسکری نے علامہ اقبال کو بہت زیادہ اہمیت کیوں نہیں دی، جب کہ سب یہ کہتے ہیں کہ اقبال اسلامی شاعر تھے؟ اسلامی ادب کا جو نظریہ محمد حسن عسکری کا ہے، اس میں اور علامہ اقبال کے خیالات میں کم و بیش مطابقت بھی دکھائی جاسکتی ہے۔ خواجہ منظور حسین کی علامہ اقبال پر تنقید کا انہوں نے بڑا اچھا جواب دیا تھا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اگرچہ ادب کی اسلامی روایت کے تصور پر وہ اٹل تھے، لیکن انہوں نے علامہ اقبال کو فو قیت نہیں دی؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: پہلے تو یہ واضح کردوں کہ اسلامی ادب کی تبلیغ، یا مضبوطی، یا اس کے پھیلاؤ کے لیے عسکری صاحب نے کم سے کم اپنے آخری زمانے میں کوئی خاص بات نہیں کہی۔ اور نہ ان کے بارے میں یہ حکم لگایا جاسکتا ہے کہ وہ جماعت اسلامی والے ’’اسلامی ادب‘‘، یا مولانا تھانوی کی نظر میں جو ادب اسلامی ادب ٹھہرتا، اس کے وہ مبلغ و مقلد تھے۔ نہ یہی بات ٹھیک ہے کہ ان کے نظریۂ ادب اور اقبال کے نظریۂ ادب میں کوئی خاص نکات مشترک کہے جاسکتے ہیں۔ 

    اسلامی ادب کے بارے میں بھی ان کے تصورات تین طرح کے تھے جو بدلتے رہے۔ پہلا تصور ان کا یہ تھا جو شروع شروع کی ان کی تحریروں میں ملتا ہے کہ ہر وہ ادب، اور فنون لطیفہ کا ہر وہ کارنامہ جو کسی مسلمان تہذیب نے پیدا کیا ہے وہ اسلامی فن لطیف یا ادب کا نمونہ کہلائے گا۔ مثلاً تاج محل ہے۔ کیا اس کو اسلامی عمارت نہ مانا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ ماننا پڑے گا کہ تاج محل یا قطب مینار اسلامی عمارات ہیں، اگرچہ ان کے بنانے والوں میں غیرمسلم بھی تھے، اور ان کی طرز تعمیر وہ نہیں جو اولین اسلامی عمارتوں کی ہے۔ اس حساب سے میر کا شعر بھی اسلامی شعر ہوا۔ 

    اس موقف پر وہ زیادہ دن تک قائم نہیں رہے، جب کہ میرے خیال میں یہی صحیح رویہ تھا کہ اگر کوئی مسلمان تہذیب ہے تو اس تہذیب کا نام لیوا اسلامی کہلائے گا، چاہے وہ مسلمان ہو یا ہندو یا پارسی یا عیسائی۔ اس میں پریشانی یہی ہے کہ جو لوگ مسلمان نہیں ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ ان کو ’’اسلامی‘‘ کس طرح کہا جائے؟ حالانکہ اگر اسلامی طرز کی عمارت کو بنانے والا کوئی ہندو معمار یا مہندس ہوسکتا ہے، تو اسلامی طرز تہذیب کا شعر بھی کہنے والا ہندو بھی ہوسکتا ہے۔ بہرحال، اس موقف سے بہت جلد انہوں نے تعلق قطع کرلیا۔ لیکن اسلامی ادب کی جو تعریف جماعت اسلامی نے متعین کی تھی اور جس پر وہ اب بھی بڑی حدتک قائم ہے، اس سے عسکری صاحب کو کبھی بھی اتفاق نہیں رہا۔ جماعت اسلامی والے کہتے ہیں کہ صرف وہ ادب اسلامی ادب ہے جس میں اسلامی اقدار کو پوری طرح سے پیش کیا جائے، اخلاقی بھی، اور سیاسی بھی جذباتی بھی۔ اور جس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اسلامی نظام اخلاق یا ضابطے، یا قوانین کی روسے نامناسب ثابت ہو۔ وہ اس ادب کو اسلامی ادب کہتے تھے جو اسلام کا استحکام کرے، یا اسلامی تہذیب اور شرع کے دائرے کے اندر رہ کر لکھا گیا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ اسلام کی بھی وہی تعریف ان کی نظر میں مستند ہے جس پر ان کی مہر لگی ہوئی ہو۔ تو صاحب میر کے دوچار ہزار اشعار چن لیجیے جو آپ کے خیال میں فحش نہ ہوں، مخرب الاخلاق نہ ہوں، عشق مجازی پر مبنی نہ ہوں یا جو عشق حقیقی کی طرف لے جاتے ہوں، یا جن میں مایوسی اور ہمت شکستگی وغیرہ کی بات نہ ہو، شیخ اور محتسب اور واعظ پر تنقید نہ ہو، وغیرہ۔ ان کو ہم قبول کرلیں گے، لیکن میر کی ہم پوری شاعری کو قبول نہیں کریں گے۔ غالب کا حال اس سے بھی برا۔ داغ تو شاید سارے کے سارے نکال دیے جاتے۔ وقس علیٰ ہذا۔ اس تعریف کو عسکری صاحب نے کبھی قبول نہیں کیا۔ لیکن عسکری صاحب نے اسلامی ادب کی کوئی جامع تعریف خود متعین نہیں کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اردو کی اصل روایت اسلامی روایت ہے۔ 

    لیکن اس میں جو گول مول معاملہ ہے کہ دیا شنکر نسیم کی مثنوی، اور نہال چند لاہوری کی ’’مذہب عشق‘‘، اور ان سے بہت پہلے افضل کی ’’بکٹ کہانی‘‘، جعفر زٹلی کی ہجویں اور شہر آشوب، اور ان کے بعد داستان امیر حمزہ، اور ’’امراؤجان ادا‘‘، اور نذیر احمد کی اکثر تحریریں، اور ان کے پہلے غواصی کی غزل، اور رنگین و انشا و جان صاحب کی ریختی، اور سودا کی ہجویں، اور چکبست کی ’’رامائن کا ایک سین‘‘، پریم چند کا ’’گئودان‘‘، اور طوطا رام شایاں کی طویل مثنویاں ’’مہابھارت‘‘، اور ’’طلسم شایاں‘‘، اسلامی روایت میں ہیں کہ نہیں؟ 

    میں تو کہتا ہوں کہ ’’اسلامی روایت‘‘ کی بحث ان تحریروں، اور ان جیسی ہزاروں تحریروں کے لیے بے معنی ہے۔ یہ جس روایت میں ہیں اس کا میں نام رکھتا ہوں ہند+ اسلامی روایت، یا ہند+مسلم روایت۔ اگر وہ Indo-Muslim کہتے تو روایت کے تشخص کا مسئلہ ان کے لیے آسان ہوجاتا۔ 

    موسیقی میں بھی یہ مشکل آپڑی۔ ہماری موسیقی اگرچہ غیراسلامی ہے، یعنی ہندوستان میں مسلمانوں کے پہلے بھی یہی موسیقی موجود تھی، لیکن اس میں مسلمانوں نے بے انتہا کام کیا، اور اس سے صرف نظر کرنا عسکری صاحب کے لیے ممکن نہ تھا تو انہوں نے بہت کھینچ کھانچ کے ’’خیال‘‘ کی تعریف متعین کی۔ اور ’’خیال‘‘ میں انہوں نے اسلامی رنگ لانے کی کوشش کی اور چونکہ اس میں زیادہ تر مسلمانوں نے کام کیا اس لیے یہ چل بھی گیا۔ اسے ہم ’’اسلامی ادب‘‘ تو نہیں، لیکن ’’اسلامی فنون لطیفہ‘‘ کے بارے میں عسکری کا دوسرا نظریہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن سوال پھر بھی رہتا ہے کہ جن لوگوں نے ’’خیال‘‘ کو ’’اسلامی‘‘ موسیقی کے طور پر ایجاد کیا، وہ خود کیسے اور کتنے مسلمان تھے؟ کیا ادا رنگ اور سدا رنگ کا شمار اولیاء اللہ میں ہوسکتا ہے؟ اور کیا ’’باجو بند کھل کھل جائے‘‘ (استاد بڑے غلام علی خاں)، اور ’’وندے نند کمارم‘‘ (استاد فیاض خاں) جیسی بندشیں ’’اسلامی‘‘ کہی جاسکتی ہیں؟ 

    اسلامی ادب کے تعلق سے عسکری صاحب کا تیسرا نظریہ اردو کی ادبی روایت کے بارے میں ان کے عمومی نظریے سے مستخرج ہوسکتا ہے۔ اس پر گفتگو میں پہلے کرچکا ہوں۔ 

    تو اسلامی ادب کیا ہے؟ اس کی تعریف کبھی صاف نہیں ہوئی عسکری کی نظر میں۔ رہا اقبال کا معاملہ، تو میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اقبال تو بڑے active ہیں۔ عملی آدمی ہیں، اور جدوجہد کے آدمی ہیں۔ اسلام ان کی نظر میں وہی اسلام ہے قرون اولیٰ کا، کہ جب مسلمان سر سے کفن باندھ کر گھر سے نکلتے تھے، اعلائے کلمۃ الحق کی راہ میں، اللہ تعالیٰ کی باتوں کا اعلان کرنے کے لیے وہ نکلتے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک مشن پر مقرر کیا تھا، تم کو ایک کام کرنا ہے دنیا میں۔ تمہیں اللہ کا پیغام تمام عالم میں پہنچانا ہے، کہ اب تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ عسکری کا اسلام تعقلاتی اسلام تھا، عقیدے اور عقیدت کا اسلام تھا، اور اقبال

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے 

    کی بات کہتے تھے۔ 

    لیکن ایک نکتہ اور بھی ہے۔ اقبال کے جو مذہبی افکار و نظریات ہیں، جیسا کہ ہم ان کے لکچروں میں دیکھتے ہیں، Reconstruction of Religious Thought in Islam میں، تو اس میں بہت ساری باتیں غیر اسلامی ہیں۔ اور وہ گویا اجتہاد کی حیثیت رکھتی ہیں اور ظاہر ہے کہ عسکری صاحب کے یہاں اجتہاد نام کی کوئی چیز تھی نہیں۔ وہ تو سرے سے کہتے تھے کہ پہلے جو ہمارے یہاں ہوچکا ہے اور جو ہمارے بزرگ کہہ گئے ہیں وہی سب کچھ ہے۔ اس میں اجتہاد کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اگر اجتہاد ہی کرنا ہوگا تو کسی ایسے مسئلے پر کریں گے جس کا تعلق مناسک دین سے ہو۔ مثلاً وضو کے مسائل میں اجتہاد کریں گے کہ بھائی مسح کہاں کیا جائے۔ تیمم کب کیا جائے۔ رفع یدین ہو کہ نہ ہو۔ لیکن جو اصولی معاملہ ہے اس میں کوئی اجتہاد نہیں ہوسکتا۔ 

    غور فرمائیے، عسکری کا اسلام اشرافی (Elitist) ہے، اور اسراری ہے۔ یہ اعلیٰ ذہنوں کی چیز تو ہے، لیکن اس سے سماجی مسائل نہیں طے ہوسکتے۔ 

    اقبال نے Reconstruction of Religious Thought in Islam میں لکھا ہے کہ میرے خیال میں تو جنت اور جہنم اور جنت سے انسان کا نکالا جانا، یہ کچھ نہیں ہے۔ بلکہ، ان کے الفاظ میں،

    It is the first flash of consciousness in the human soul.

    یہ بالکل نئی بات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ بالکل نئی بات ہے۔ ہم کو بتایا گیا تھا کہ آدم نے گناہ کیا۔ شیطان نے بہکایا بی بی حوا کو اور پھر انہوں نے بہکایا آدم علیہ السلام کو، انہوں نے گیہوں، یا جو کچھ کھایا، اس کے نتیجہ میں وہ جنت سے نکالے گئے۔ قرآن میں بھی کم و بیش یہی ملتا ہے۔ اس کی یہ تاویل کر رہے ہیں اقبال کہ دراصل یہ تفکر اور شعور کی بیداری کی علامت ہے۔ جنت سے نکالے جانے کے معنی دراصل یہ ہیں کہ جنت ایک علامت ہے عالم معصومیت کی، بے گناہی کی، جس میں تعقل اور تفکر نہیں ہے۔ اور تعقل اور تفکر جب پیدا ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ فرق اور امتیاز کا سوال اٹھتا ہے۔ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے؟ ثواب کیا ہے، گناہ کیا ہے؟ پہلے کیا ہے، بعد میں کیا ہے؟ تو جنت سے آدم کا نکالاجانا اقبال کی نظر میں شعور زیست کی بیداری ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ بات عسکری صاحب کو کبھی قبول نہ ہوگی۔ مجھے بھی قبول نہ ہوگی، اگر میں اسلامی نقطہ نظر سے بات کروں۔ 

    اس طرح اقبال دونوں طرح سے عسکری کے لیے ناکافی اور نامناسب تھے۔ ایک تو مسئلہ تشخص (identity) کا تھا۔ تہذیبی طور پر میں مسلمان ہو ں یا ہندو؟ یا مجھے ’’ہندو +مسلم‘‘ کہا جائے؟ اور دوسرا مسئلہ تھا تعمل (Activism) کا۔ جیسا کہ ابھی ہم کہہ چکے ہیں، عسکری کا تصوف سراسر تفکراتی اور تعقلاتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اقبال کا جو اسلامی تفکر ہے اس میں تصوف بہت کم ہے، اجتہاد بہت زیادہ۔ اور عسکری صاحب بظاہر اس کے بھی قائل نہیں تھے کہ اجتہاد کیا جائے۔ 

    جہاں تک ہم جانتے ہیں، بحیثیت شاعر اقبال کے وہ قائل تھے۔ اقبال کی شاعری کے وہ قائل تھے کہ وہ بہت بڑے شاعر تھے۔ لیکن ان کے مطلب کی شاعری وہ نہیں تھی۔ ان کے لیے تو یہی بہتر تھا۔ 

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں 

    کہ اس طرح کی شاعری میں تاویل کی گنجائش بہت ساری ہے۔ لیکن

    ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
    سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی انگبیں 

    جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

    میں تو تاویل کی گنجائش کچھ ہے نہیں۔ ایک ہی بات ہے کہ لڑو اور مرو۔ اس لیے یہ شاعری عسکری کے لیے بہت کام کی نہیں تھی۔ اور نہ یہ شاعری بہت کام کی تھی

    اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
    مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

    اس طرح کی شاعری میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایک طرح کی مساوات Equation قائم کرتا ہے۔ اور یہ وہ مساوات نہیں تھی جو بندے اور اللہ میں ہوتی ہے۔ وہ ایک اور طرح کا سوال قائم کرتا ہے۔ یہاں انسان ایک طرح سے خدا کا شریک ہے نظم کائنات میں، لیکن اسے شکوے بھی ہیں۔ اور یہ شکوے ان شکوؤں سے قطعاً مختلف ہیں جو ’’شکوہ‘‘ کے متکلم کو اللہ سے تھے، 

    کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے 
    بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے 

    ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ کو تو شاید عسکری صاحب ایک حد تک نگاہ موافقت سے دیکھتے، اگرچہ ان نظموں کا گھریلو، پروٹسٹنٹ (Protestant) انداز ان کے مطلب کا نہ تھا۔ آپ کو خیال ہوگا کہ عسکری کی نظر میں مسیحیت کی اصل روایت جس حدتک وہ باقی تھی، رومن کیتھولک مذہب میں تھی۔ اگر کج رو ہیں انجم جیسی شاعری عسکری کے کام کی نہیں تھی۔ 

    سوال: آپ کی اس گفتگو کا جو روپ ’’مکالمہ‘‘ کراچی میں چھپا ہے اس کے حوالے سے انتظار حسین نے ڈان میں ایک کالم لکھا ہے۔ وہ آپ کی اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ عسکری صاحب نے ہند +اسلامی یا Indo-Muslim تہذیب کی اصطلاح کی روشنی میں اسلامی ادب اور تہذیب کا مسئلہ نہیں حل کیا۔ انتظار صاحب کہتے ہیں کہ عسکری نے ’’ہند اسلامی کلچر‘‘ کی اصطلاح بہت استعمال کی ہے۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: انتظار حسین مجھ سے بہت بہتر ہیں کہ عسکری صاحب سے ان کی خوب ملاقاتیں رہی ہیں، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ انتظار حسین کہتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ عسکری صاحب نے Indo-Muslim Culture کی اصطلاح بیش از بیش استعمال کی ہوگی۔ لیکن ان کی تحریروں میں اس کا سراغ مجھے بہت کم ملا۔ ایک جگہ انہوں نے ’’ہند اسلامی کلچر‘‘ کا فقرہ ضرور استعمال کیا ہے، لیکن یہ بھی کہا ہے کہ اس تہذیب کے سب سے بڑے مظاہر ہیں مغل عمارتیں اور اردو زبان۔ یعنی وہ معاملے کو اتنا محدود کرکے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں ان کا مضمون ’’پاکستان کا کلچر‘‘ (۱۹۴۸) دیکھا جاسکتا ہے۔ 

    سوال: عسکری صاحب نے یہ کہا کہ نئی غزل پر میر کے اثرات زیادہ ہیں، غالب کے اثرات کم۔ میر پر انہوں نے کئی ایک مضامین لکھے، جب کہ غالب پر مشکل سے ایک دو۔ انہوں نے غالب پر میر کو فوقیت دی۔ کیا اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ عسکری صاحب کو غالب کے مقابلے میں میر کے یہاں روایت کی کارفرمائی زیادہ نظر آتی تھی؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: ان کا یہ کہنا کہ میر کا اثر نئی غزل پر زیادہ ہے، ممکن ہے ایک خاص وقت میں صحیح رہا ہو۔ ۱۹۴۸/ ۱۹۵۰ کے زمانے میں کئی شعرا اپنی آواز ڈھونڈ نے کے لیے میر کی طرف جارہے تھے۔ مثلاً ناصر کاظمی سب سے پہلے، پھر خلیل الرحمن اعظمی، ابن انشا، ایسے بہت سے اچھے شاعر تھے جو اپنی آواز ڈھونڈنے کے لیے میر کی طرف دیکھتے تھے کہ شاید وہاں سے مجھے کوئی راستہ ملے۔ 

    ترقی پسند غزل کے امکانات تو جیسے بھی تھے وہ فیض، اور مخدوم، مجروح اور جذبی کے یہاں بروے کار آچکے تھے۔ ناصر کاظمی وغیرہ کو کچھ اور مطلوب تھا۔ وہ انہوں نے اپنے خیال میں میر کے یہاں پایا۔ پھر بعد میں ایسا نہیں رہا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جن شاعروں کا اوپر ذکر آیا، وہ غالب کی طرح کے تعقلاتی، خیال بند شاعر نہ تھے۔ ان کو تو میر کی طرف جانا ہی تھا۔ 

    گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں ایک زبردست سیلاب غالب پرستی کا آیا۔ ایساکبھی نہیں تھا کہ غالب پرستی میں کبھی کمی آئی ہو۔ لیکن ان کی مقبولیت اب ادھر کچھ زیادہ بڑھ گئی۔ ۱۹۶۰ کے آس پاس ہم لوگوں نے ادب میں قدم رکھا تو فوری طور پر ہم لوگوں کے لیے جو جواز غالب کے یاں تھا وہ میر کے یہاں نہیں نظر آرہا تھا۔ غالب کی مشکل پسندی، غالب کے رویے، یہ چیزیں ہم لوگوں کے لیے زیادہ قابل قبول تھیں۔ تو میر کے مقابلے میں ہم لوگوں نے غالب پر زیادہ زور دیا۔ 

    لیکن دوسری بات، جو بنیادی بات تھی، بے شک یہی ہے کہ عسکری صاحب غالب پر میر کو فوقیت دیتے تھے۔ میں نے بھی کئی برس زندگی کے گزارے ہیں، میر کو پڑھنے میں، غالب کو پڑھنے میں۔ ایک زمانے میں غالب کا پرستار میں بھی تھا، تقریباً اتنا ہی جتنے حالی اور بجنوری رہے ہوں گے۔ اس کے باوجود میں آہستہ آہستہ اس نتیجہ پر پہچنا کہ میں میر کو غالب پر فوقیت دیتا ہوں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے جو اسباب ہیں وہ ادبی اسباب ہیں۔ شاعر کی حیثیت سے، زبان کو استعمال کرنے والے کی حیثیت سے، انسان اور کائنات پر تفکر کرنے والے کی حیثیت سے، تجربے اور مشاہدے کو شعر کی زبان میں بیان کرنے والے کی حیثیت سے، ان تمام پہلوؤں سے میر کو غالب پر فوقیت حاصل ہے۔ ادب تک معاملہ رکھیے تو سامنے کی بات ہے کہ غالب معنی آفرینی کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ لیکن غالب کے یہاں کیفیت کم ہے۔ یعنی ان کا شعر جذبات کو متحرک کم کرتا ہے۔ وہ متحرک کرتا ہے پہلے آپ کے ذہن کو، آپ کے تعقل کو۔ اور جب آپ گزر لیتے ہیں اس ذہنی اور تعقلی پورے مناظرے سے، تو ممکن ہے وہ آپ کے جذبات کو بھی متحرک کرے۔ ورنہ بنیادی طور پر غالب آپ کی عقل کو متحرک کرتے ہیں۔ 

    میر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ معنی آفریں بھی ہیں اور کیفیت بھی رکھتے ہیں۔ یعنی وہ اکثر آپ کے جذبات کو متحرک کریں گے۔ لیکن آپ جب غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس شعر میں، جو بظاہر محض جذبات کو متحرک کرنے والا تھا، اس میں معنی کی کئی تہیں پوشیدہ ہیں۔ تو اس ایک خاص بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میر کو غالب پر فوقیت حاصل ہے کہ میر کے یہاں دونوں چیزیں ہیں۔ یہاں عقل بھی ہے اور جذبہ بھی ہے۔ اور غالب کے یہاں عقل زیادہ ہے، جذبہ کم ہے۔ 

    لیکن عسکری صاحب نے جس بناپر میر کو برتر ٹھہرایا اور غالب کو کم تر ٹھہرایا، وہ وجہ غیرادبی وجہ تھی۔ یعنی انہوں نے کہا کہ میر تو اپنی شخصیت کو بالکل تج دیتے ہیں۔ وہ معشوق کی شخصیت میں خود کو ضم کردیتے ہیں، اپنی انا کو بھول جاتے ہیں اور ایک ایسے انسان کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جن کا اپنا کوئی وجود کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے وجود کو منعکس کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے Keats کی جو مشہور بات تھی کہ اس کا کہنا تھاکہ،

    A poet is the most unpoetic being in the world.

    اس سے ملتی جلتی بات ہے۔ کیٹس کا مطلب یہ تھا کہ شاعر کی شخصیت Negative ہوتی ہے۔ اس کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ خود کچھ نہیں ہوتا، لیکن دوسروں کے جذبات اور کیفیات کو منعکس کرلیتا ہے۔ تو اسی کو ذرا باریک کرکے، اور ہم لوگوں کی ماورائی فکر کے تناظر میں عسکری صاحب نے کہا کہ میر اپنی شخصیت کو تج دیتے ہیں اور اپنی شخصیت کو ضم کردیتے ہیں معشوق میں، اپنی انا کو مار دیتے ہیں۔ عسکری صاحب کا کہنا تھا کہ غالب اپنی انا کو مارتے نہیں ہیں، بلکہ غالب خود اپنی انا کے شکار ہیں۔ لہٰذا غالب کا رتبہ میر سے کم تر ہے۔ 

    تو سوال یہ ہے کہ یہ کہنا، کہ اپنی شخصیت کو تج دینا، کسی اور کے سپرد کردینا، بہتر ہے اپنی شخصیت اور وجود کا احساس قائم رکھنے سے، یہ محض ایک بیان ہے، یا کوئی ادبی اصول؟ کہنے کو تو ہم بس یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ غالب کا مرتبہ میر سے برتر ہے، کم تر نہیں۔ لیکن بھائی اس میں دلیل تو ہے نہیں، محض ایک بیان ہے۔ اور رہا شخصیت کو تج د ینے کا معاملہ، تو یہ تو آپ نے اپنے طور پر ایک کلیہ قائم کرلیا کہ اپنی شخصیت کو تج دینا یا اپنی شخصیت کو یا اپنے وجود کو، اپنے معشوق کی شخصیت یا وجود میں ضم کردینا اچھا ہے، بلکہ سب سے بہتر ہے۔ یعنی انسان معشوق کے مقابلے میں اپنی انا کو ترک کردے تو سب سے بہتر ہے۔ لیکن شعر کی دنیا میں یہ محض ایک مفروضہ ہے، تصوف میں اس کی حیثیت مرکزی ہو تو ہوگی۔ شعری نظریات، یا ادبی تنقید کی دنیا میں یہ بے ثبوت بات ہے۔ اس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ہے۔ 

    کوئی کہہ سکتا ہے کہ صاحب جو آدمی اپنی انا کو آگے رکھے وہ یقیناً اپنی ذات کا اظہار زیادہ بہتر طور پر کر رہا ہے، کیونکہ وہ اپنی شخصیت کو پوری طرح شاعری میں ڈال رہا ہے۔ جو شاعر شخصیت کو گم کر دیتا ہے وہ کمزور ہے، گویا وہ مات کھاگیا۔ تو یہ بھی محض ایک مفروضہ ہے جس کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی جس کی کوئی ادبی یا نظری اہمیت ہے۔ یوں ہی جیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ صاحب یہ کمرہ بڑا اچھا لگ رہا ہے۔ بس ہم کہہ سکتے ہیں، ثابت نہیں کرسکتے کہ آپ کو بھی یہ کمرہ اچھا لگ رہا ہے، یا لگنا چاہیے۔ آپ اس سے انکار کرسکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ نہیں، ہمیں تو یہ کمرہ بالکل اچھا نہیں لگ ہرا ہے۔ نہ آپ کے پاس کوئی دلیل ہے، نہ ہمارے پاس۔ 

    دوسری، اور شاید اہم تر بات یہ ہے کہ یہ کہاں ثابت ہوا کہ میر نے اپنی انانیت یا اپنی انا کو ترک کردیا ہے؟ عسکری صاحب کے اس بیان میں یہ دوسری بڑی کمزوری ہے۔ پہلی کمزوری تو یہ تھی کہ ان کا بیان استدلال کا محتاج ہے۔ محض ایک دعویٰ ہے، ایک بیان ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ کی مرضی، لیکن دلیل کچھ بھی نہیں ہے۔ چلیے میں نے مان بھی لیا کہ انا کو ترک کردینا اچھا ہے، انا کو نہ ترک کرنے کے مقابلے میں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا ثبوت مل سکتا ہے کہ واقعی میر نے اپنی انا کو ترک کردیا؟ کیا واقعی میر نے اپنی شخصیت اور وجود کو پس پشت ڈال دیا؟ ظاہر ہے کہ اس مسئلے پر خود میر کا بیان اور عسکری صاحب کا بیان سب سے زیادہ معتبر ہے۔ عسکری صاحب پوچھتے ہیں کہ جرأت کو میر نے یہ کیوں کہا کہ تم کو شاعری کیا آتی ہے، تم اپنا چوما چاٹا لیے رہا کرو؟ 

    یعنی عسکری صاحب نے بڑا عمدہ سوال پوچھا کہ بھئی عشقیہ شاعری تو میر کے یہاں بھی ہے۔ وہی سب باتیں، بوسہ، وصال، ہمبستری اور،

    وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پہ اس کے 
    سوجی گئے تھے صدقے یہ جان و مال کیا ہے 

    سنتے ہیں آپ، یہ میر کا شعر ہے۔ تو جو آدمی یہاں تک کہہ سکتا ہے اس کے بارے میں تویہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے چوما چاٹا نہیں آتا۔ تو عسکری صاحب نے اچھا سوال پوچھا کہ اگر جنسیاتی مضامین پر مبنی عشقیہ شاعری، یا جنسیاتی شاعری یا Erotic شاعری کا بہت سارا نمونہ میر کے یہاں بھی ملتا ہے تو پھر انہوں نے جرأت کو کیوں برا بھلا کہا کہ تمہارے یہاں چوما چاٹا ہے، شاعری نہیں؟ 

    پھر عسکری صاحب خود اس کا بہت اچھا جواب دیتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میر کے یہاں عشق ایک معما ہے، ایک وجودی مسئلہ ہے۔ کہ بیک وقت وہ زحمت بھی ہے اور رحمت بھی ہے۔ وہ عاشق کو بلندیوں پر بھی پہنچاتا ہے اور اسے پستی کے گڑھے میں بھی ڈھکیل دیتا ہے۔ وہ لطف بھی ہے اور عذاب بھی ہے۔ عشق میں وجودی پیچیدگیاں ہیں کہ انسان جس کو دل سے چاہتا ہے کہ اس کے سامنے ایک نگاہ کی خاطر اپنا سر ہی کٹا د یتا ہے۔ اور کبھی وہ اسی معشوق سے لڑنے مرنے پر بھی تیار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ میر کے یہاں لڑائی بھی خوب ہوتی ہے۔ ان کا شعر ہے، 

    کب وعدے کی رات وہ آئی جو آپس میں نہ لڑائی ہوئی
    آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی

    تو میر کو خوب معلوم ہے، اور عسکری صاحب کو بھی خوب معلوم ہے کہ عشقیہ شاعری بھی کئی رنگ کی ہوتی ہے۔ اور اگر میر سے منسوب وہ بیان درست ہے، تو میر کا کہنا تھا کہ جرأت کے یہاں صرف ایک رنگ ہے۔ وہ بار بار یہی گا رہے ہیں کہ آجاؤ، مل جاؤ۔ اور جب تم ملتے ہو کتنا مزا آتا ہے، وغیرہ۔ اس کے برخلاف میر کے یہاں یہ بھی ہے کہ عاشق کی زندگی اور عشق کا تجربہ عذاب بھی ہے اور بہشت بھی۔ عشق میں انسان کبھی انسان اور فوق الانسان بھی ہوتا ہے تو کبھی حیوان بھی بن جاتا ہے۔ عشق میں انسان لڑتا جھگڑتا بھی ہے اور فرشہ بھی بن جاتا ہے۔ 

    اچھا اب اگر یہ صحیح ہے کہ میر کے یاہں عشق کا تجربہ غیرمعمولی پیچیدگی کا حامل ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ صحیح ہے، تو پھر یہ کہاں صحیح ہوا کہ میر نے اپنے کو تج دیا، اپنی انا، اپنے وجود سے دست بردار ہوگئے؟ اگر میر اپنی پوری شخصیت سے عشق میں الجھے ہوئے ہیں، کبھی اس میں خود کو حاوی قرار دیتے ہیں، کبھی معشوق سے لڑتے ہیں، کبھی اس کو گالی دیتے ہیں، کبھی رونے لگتے ہیں، کبھی آسمان کی بلندیاں انہیں اپنے سامنے ہیچ نظر آتی ہیں۔ اور کبھی وہ چپ ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ کہتے ہیں، 

    فقیرانہ آئے صدا کر چلے 
    کہ میاں خو ش رہو ہم دعا کرچلے 

    جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم 
    سو اس عہد کو اب وفا کرچلے 

    اور کبھی یہ بھی کہہ دیتے ہیں، 

    ہم وے ہیں سن رکھو تم رہ جائیں مر کے اک جا
    کیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا

    یعنی وہ کبھی کبھی خود کو معشوق سے بڑا بھی قرار دیتے ہیں، اور کبھی اس سے بے نیاز بھی۔ اور کبھی انتہائی عملی، دنیا دار شخص کی طرح وہ کہہ دیتے ہیں، 

    باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم
    کاہے کو کوئی میر دبے جب بگڑگئی

    تو جب عسکری صاحب کو یہ باتیں اچھی طرح معلوم ہیں تو پھر وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ میر اپنی شخصیت کو تج دیتا ہے، اپنی شخصیت کو گم کردیتا ہے، اپنی شخصیت کو گنوادیتا ہے، معشوق کے سامنے ختم کردیتا ہے؟ وہ تو خود کو ختم بھی کرتا ہے اور اپنی سی بھی کرتا ہے۔ 

    اگر ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر عسکری صاحب جو غلطی کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ میر کو ایک لیبل میں محدود کیے دیتے ہیں، جیسے جرأت کو ایک لیبل میں بند کر دیا گیا اور کہاگیا کہ جرأت کے یہاں چوما چاٹا ہے، عشق کی پیچیدگیاں نہیں ہیں۔ اس طرح ان کوایک لیبل میں بند کردیا گیا۔ غلط یا صحیح، اس پر بحث کا اس وقت موقع نہیں۔ میں تو صحیح نہیں جانتا، لیکن چلیے مان بھی لیتے ہیں کہ جرأت میں تہ داری نہیں۔ لیکن جرأت کی ضد میں ایک بہت بڑے شاعر میر کو بھی آپ ایک لیبل تلے بند کر رہے ہیں۔ 

    آپ کہتے ہیں کہ میر کے یہاں شخصیت کا سقوط ہے، تو سچ یہ ہے کہ یہ بات بنتی نہیں۔ اور یہ بھی تو دیکھتے کہ ایسا سقوط کسی اور کے یہاں (مثلاً حافظ کے یہاں، خسرو کے یہاں) بھی تو نہیں ہے؟ اور اگر کہیں نہیں ہے تو میر نے یہ مرتبہ از خود حاصل کرلیا یا ان کا کہیں کوئی پیش رو بھی اس معاملے میں تھا؟ 

    عسکری صاحب خود ہمیں دکھارہے ہیں کہ میر کے یہاں عشق کا تجربہ بیک وقت عذاب بھی ہے اور رحمت بھی، بیک وقت جہنم بھی ہے اور فردوس بھی۔ پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ میر نے اپنی شخصیت کو معشوق کے سامنے تج دیا، یا اس کی ہستی میں خود کو ضم کردیا؟ 

    سوال: روایت کے سلسلے میں ایک بات کہنے سے رہ گئی۔ ’’مکالمہ‘‘ کراچی کے کسی شمارے میں روایت پر گفتگو کرتے ہوئے جمیل جالبی صاحب نے فرمایا تھا کہ عسکری صاحب نے غلط لکھا ہے کہ فیلن (Fallon) نے نظیر اکبر آبادی کو ’’شیکسپیئر ہند‘‘ کہا ہے۔ جالبی صاحب نے لکھا کہ فیلن نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ تو آپ کے خیال میں کیا عسکری صاحب نے اتنی بڑی غلطی کردی کہ فیلن سے وہ قول منسوب کردیا جو اس کا قول تھا ہی نہیں؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: ایسا ہے کہ عسکری صاحب اتنے بھی جلد باز اور بھولے نہیں تھے کہ اتنا اہم حوالہ فرضی طور پر دے گزریں۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اپنے مضامین اور کتابوں میں بے دریغ حوالے دیا کرتے تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایسے حوالے دے جاتے تھے جن کے بارے میں مشکوک معاملہ ہو۔ 

    قصہ یہ ہے کہ دو فیلن (Fallon) ہیں۔ ایک تو مجہول سا آدمی ہے، T. Fallon اس کا پورا نام ہے۔ یہ وہ فیلن ہے جس کے ساتھ مل کر مولوی کریم الدین نے گارساں دتاسی کی تاریخ کا ترجمہ کیا، ’’طبقات شعراے ہند‘‘ کے نام سے۔ اس شخص کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں۔ اس کا علم بھی بہت کم رہا ہوگا، اس لیے کہ جگہ جگہ اس کتاب میں تلفظ کی غلطیاں ہیں، گرامر صحیح نہیں ہے۔ شعرا کے نام بھی صحیح نہیں پڑھے ہیں۔ کریم الدین تو فرانسیسی جانتے نہیں تھے، 

    اس لیے فیلن نے اسے جیسے پڑھ دیا، کریم الدین نے مان لیا۔ 

    لیکن ایک فیلن اور ہے جو مشہور آدمی ہے اور واقعی بڑا نام ہے۔ وہ ہے S.W.Fallon، جس نے لغت لکھا ہے اردو کا، جو ۱۸۷۹ میں چھپا۔ اس میں S.W.Fallon نے ایک دیباچہ لکھا تھا لمبا چوڑا۔ اس دیباچے میں اس نے کہا ہے کہ نظیر اکبرآبادی بہت بڑے شاعر ہیں اور ’’شیکسپیئرہند‘‘ کہلانے کے مستحق ہیں، اور افسوس ہے کہ اردو والے نظیر کی قدر نہیں کرتے۔ چونکہ فیلن کی ڈکشنری کا خاصا بڑا حصہ عوامی اور نام نہاد ’’عامیانہ‘‘ الفاظ پر مشتمل ہے، اور ظاہر ہے کہ بہت سارے ایسے الفاظ نظیر کے یہاں ملتے ہیں، تو نظیر سے اس نے فائدہ اٹھایا۔ اور شاید اس بے تکلف کثرت الفاظ کے باعث اس نے لکھا ہے کہ وہ ’’شیکسپیئر ہند‘‘ کہلانے کے لائق ہیں، کیونکہ شیکسپئر کی بھی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ اس کا ذخیرۂ الفاظ غیر معمولی طور پر متمول ہے، اور اس نے اداے مطلب کے لیے کسی بھی طرح کے لفظ سے احتراز نہیں کیا ہے۔ تو عسکری صاحب نے ایس۔ ڈبیلو۔ فیلن کی بات کہی ہے۔ جمیل جالبی صاحب محقق آدمی ہیں، ان کا ذہن ’’طبقات شعراے ہند‘‘ کی طرف منتقل ہوا، اسی لیے انہوں نے اس بات کا حوالہ T.Fallon کے یہاں ڈھونڈا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ حوالہ وہاں کہاں ملتا؟ اور یہی ان سے بھول ہوئی کہ دو فیلنوں کو ایک سمجھ بیٹھے۔ 

    سوال: آپ اور محمد حسن عسکری میں ایک قدر مشترک شاید یہ بھی ہے کہ عسکری نے ترقی پسند ادب کی مخالفت کی اور آپ بھی اپنے ابتدائی زمانے سے ہی ترقی پسند ادب کے خلاف رہے۔ آپ نے ترقی پسند ادب کی مخالفت جن بنیادوں پر کی، وہ نظری تنقید اور شعریات کی بنیادیں ہیں۔ موجودہ زمانے کے لوگ آپ کے موقف سے خوب واقف ہیں۔ لیکن اپنے زمانے میں محمد حسن عسکری صاحب نے ترقی پسندی کی مخالف کیوں کی، یہ بات آج کے نوجوانوں پر شاید اتنی واضح نہ ہو۔ تو ذرا آپ بتائیں کہ محمد حسن عسکری نے جو ترقی پسندوں سے اختلاف کیا تو اس کے کیا اسباب تھے؟ کیا یہ اسلامی ادب کی طرف ان کے رجحان کے باعث تھا، جب کہ ترقی پسند فکر کو عام طور پر لامذہب، بلکہ مذہب مخالف سمجھا جاتا تھا۔ 

    شمس الرحمن فاروقی: نہیں، عسکری صاحب نے ترقی پسندی کی مخالفت اس وجہ سے ہرگز نہیں کی کہ وہ اسلام پسند تھے، یا مذہبی آدمی تھے، اور ترقی پسند فکر کا عام پیکر لامذہبیت کا ہے۔ عسکری صاحب نے تو ترقی پسند ادب کی مخالفت اس وقت بھی کی تھی جب ان پر مذہب کا رنگ نہ چڑھا تھا، اور ترقی پسند ادب کے عروج کا وہ زمانہ تھا۔ 

    لہٰذا میں ایک بات سب سے پہلے صاف کردوں کہ مخالفت ترقی پسند ادب کی نہیں بلکہ ترقی پسند نظریات ادب کی تھی، میری بھی اور عسکری صاحب کی بھی۔ ادب تو ترقی پسندوں کے یہاں بھی کچھ اچھا بھی ہے اور وہ یقیناً پڑھنے کے قابل ہے، یا اپنے زمانے میں پڑھنے کے قابل تھا، یا رہا ہوگا۔ 

    نظری اعتبار سے دیکھیں تو ترقی پسند نظریات ادب میں بڑے کھانچے اور بڑے جھول ہیں اور عمومی حیثیت سے ترقی پسند نظریۂ ادب میں جو چیزیں اہم ہیں، وہ ادبی نہیں بلکہ غیرادبی چیزیں ہیں، یعنی ان کی بشردوستی (Humanism)، سماجی تبدیلی (Social Change) سے ان کا لگاؤ، عام انسان کو ادب کی محفل میں سر منبر بٹھانا اور اس کے مسائل کو اہمیت دینا، وغیرہ۔ عسکری صاحب کی مخالفت کی وجہ تو بہت سامنے کی اور صاف ہے۔ وہ ہم لوگوں سے زیادہ، اور ہم لوگوں سے بہت پہلے، مغربی ادب سے واقف ہوئے تھے۔ یہ جو نام نہاد ترقی پسندی تھی، ان کے وقت ہی میں اس کا یورپ میں چرچا ختم ہوچکا تھا، اس کا پول کھل چکا تھا۔ اور لوگ سمجھ گئے تھے کہ اس میں جو نظریے پرزور ہے، اور انقلاب کی موافقت میں ادب کو سرمیدان لانے کی بات ہے، اس کے پیچھے محض سیاسی منصوبہ ہے کوئی ادبی منصوبہ نہیں۔ 

    تو کوئی بھی شخص جو براہ راست ادب کا مطالعہ کرتا ہے اور جو ادب کو مرکزی اہمیت دینا چاہتا ہے، وہ اس بات سے کبھی انکار نہ کرے گا کہ ترقی پسند ادب میں ادب کی اہمیت محض ایک آلۂ کار کی سی ہے۔ گویا زندگی کینوس ہے اور ادب موقلم یا برش ہے کہ اس قلم سے آپ کینوس پر کوئی تصویر کھینچے دیجیے اور پھر تقاضا کیجیے کہ سب کو اسی رنگ میں رنگ جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص بھی ادب کو اہمیت دے گا، ادب کو انفرادی اظہار، اور تہذیبی اقدار کا عکاس قرار دے گا اسے ترقی پسند نظریۂ ادب کی پابند، سیاسی فضا پسند نہ آئے گی۔ 

    آپ ذرا ہم دونوں کے ادبی اور تربیتی پس منظر کو نگاہ میں رکھیں۔ میں اور عسکری صاحب دونوں الٰہ آباد یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے اور دونوں کے گویا سب سے بڑے استاد پروفیسر ایس۔ سی۔ دیب (S. C. Deb) صاحب تھے۔ عسکری صاحب نے ’’جزیرے‘‘ انہیں کے نام معنون کی ہے۔ ہمارے یہاں الٰہ آباد یونیورسٹی میں ان کے زمانے میں، اور میرے زمانے میں بھی، سماجی اور سیاسی حالات پر ادب کا مطالعہ مبنی کرنے کی رسم تھی۔ اب مجھے تو معلوم نہیں کہ کیا صورت ہے، لیکن ہمارے زمانے میں تو ایک پورا پرچہ تاریخ کا ہوتا تھا، Political and Social History of England۔ یعنی کون بادشاہ کب مرا، کیسے مرا؟ اس کے زمانے میں سماجی تصورات کیا تھے، وغیرہ؟ اس طرح کی تمام باتیں پڑھائی جاتی تھیں تاکہ سماجی اور سیاسی حالات کو ادب سے پورے طور پر متعلق رکھنے کے لیے بنیاد پیدا ہو۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ایسا کبھی نہیں کہا گیا کہ ادب کے لیے ضروری ہے کہ وہ سماجی اور سیاسی تصورات کو منعکس کرے۔ مثلاً جان ڈن (John Donne) کی ہمارے یہاں اہمیت تھی، اور ڈن کے نزدیک یہ سب معاملات، سماج اور سیاست، کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔ کیٹس (Keats) کی ہمارے یہاں ان دنوں بڑی اہمیت تھی۔ اور کیٹس سراسر غیرسیاسی آدمی ہے۔ ہمیں کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ تم کیٹس کو اس بنا پر مطعون کرو کہ وہ سیاسی اور سماجی شعور سے کچھ سروکار نہیں رکھتا۔ اور مثلاً شیلی (Shelley) کے یہاں جو سیاسی ادب ہے، اس کی کوئی اہمیت ہمارے یہاں اس زمانے میں نہ تھی۔ شیلی کے ادب کا وہ حصہ ہمارے یہاں پڑھایا ہی نہیں گیا جس میں کہ سیاسی تحریکات یا سیاسی تصورات کی باتیں ہیں۔ 

    لہٰذا ایک طرف تو یہ نظریہ تھا کہ ادب میں سیاسی اور سماجی حالات کا عمل دخل ہوتا ہے، یا کوئی تعلق ایسا ہے جو ان دونوں میں قائم ہوجاتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ ایک کی روشنی میں دوسرے کو دیکھیں تو کوئی فائدہ پہنچے۔ لیکن بالکل one to one کا کوئی رشتہ دونوں کے درمیان ہے، یا ضروری ہے کہ شاعر یا ادیب سیاسی سماجی حالات بیان ہی کرے، اور خاص کر کسی خاص نظریۂ ادب، مثلاً مارکسزم، کی پیروی کرے۔ ایسا تصور ہمارے یہاں کبھی نہیں تھا۔ 

    جب میں پڑھ کر نکلا، آج کوئی چالیس بیالیس سال بلکہ پچاس برس ہونے کو آرہے ہیں، میں نے ۱۹۵۵ میں ایم۔ اے کیا تھا۔ عسکری صاحب نے مجھ سے بھی دس سال پہلے کیا تھا۔ تو اس وقت بھی یہی تھا کہ اس زمانے میں سب سے اہم نقاد I.A.Richards ہے، پھر اس کے بعد ٹی۔ ایس۔ الیٹ تھا۔ اور ایف۔ آر۔ لیوس (F.R.Leavis)، جو ادب میں سماجی اور تہذیبی عناصر پر زور دیتا ہے، اس کی ہمارے یہاں اتنی زیادہ اہمیت نہیں تھی۔ عسکری صاحب نے بھی کوئی خاص ذکر ایف۔ آر۔ لیوس کا نہیں کیاہے، اگرچہ وہ بھی خود کو تہذیبی نقاد سمجھتے تھے اور کہتے تھے، خواہ ان کے تہذیبی مطالعۂ ادب کی بنیادیں نہ رہی ہوں جو ایف۔ آر۔ لیوس کے یہاں تھیں۔ 

    پرانے نقادوں میں ہم کولرج (Coleridge) کے بہت قائل اور مداح تھے۔ مجھے پرفیسر دیب (S.C.Deb) کا قول اب تک یاد ہے کہ مجھے کولرج سے اتنی محبت ہے کہ میں بس اس کی پرستش نہیں کرتا۔

    I love Coleridge this side of idolatory.

    دیب صاحب کے زیر اثر میں بھی کولرج سے بہت متاثر ہوا، اور مدتوں میں نے ادب، خاص کر شاعری کو کولرج کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی۔ اب اگرچہ میں کولرج کا اتنا قائل نہیں رہ گیا، لیکن پھر بھی میرے افکار کی تعمیر میں کولرج کا اب بھی بڑا حصہ ہے۔ عسکری صاحب نے کولرج کا کچھ زیادہ اثر نہیں قبول کیا، لیکن فرانسیسی علامت نگاروں تک پہنچنے کی راہ میں وہ جرمن رومانیوں اور کولرج کے علاقے سے ہوکر گزرے ضرور تھے۔ ان سب لوگوں میں یہ بات مشترک تھی کہ ادب کسی نظریے کا محکوم نہیں ہوسکتا۔ فریڈرک شلیگل (Frederich Schlegel) کا مشہور قول ہے کہ ادب سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ 

    تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کی جو تربیت ہوئی اس میں بھی کہیں سے ایسا کوئی شائبہ نہیں تھا کہ ہم ادب کو محکوم ٹھہرائیں کسی نظریۂ ادب کا، کسی نظریۂ حیات و فلسفہ کا، کسی سیاسی پروگرام کا، چہ جائے کہ مارکسزم کا یا کمیونزم کا۔ لہٰذا ہم لوگوں کے زمانے میں تو کسی کو کچھ بھی لگاؤ مارکسی لٹریچر، یا افکار و خیالات سے ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ عسکری صاحب کے زمانے میں کاڈویل کا کیا مرتبہ تھا، (انہوں نے ایک دو جگہ کاڈویل کا نام لیا ہے)، لیکن ہم لوگوں کے زمانے میں تو کاڈویل (Christopher Caudwell) کی جو دو کتابیں بہت مشہور تھیں، ان کو کوئی پڑھتا نہیں تھا۔ یوں ذکرکرتے تھے کہ کوئی کاڈویل صاحب ہیں جنہوں نے بڑے کھلے اور جوشیلے انداز میں مارکسی خیالات کے لیے کوشش کی ہے کہ انگریزی ادب کو بھی ان کا تابع ٹھہرایا جائے۔ یعنی سیاسی اور سماجی حالات بدلتے ہیں تو ادب بدل جاتا ہے اور انگریزی ادب کی تاریخ کو مارکس کی بنائی ہوئی تاریخی منطق کے ثبوت کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ ہم لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر ادب میں پیش گوئی عام ہونا چاہیے۔ مثلاً کاڈویل نے کہا کہ سیاسی حالات فلاں طرح کے تھے تو ان کے باعث ناول پیدا ہوا۔ لیکن اگر یہ درست ہے تو ہم دعویٰ کرسکتے ہیں کہ فلاں حالات میں فلاں طرح کا ادب پیدا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ آپ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ادب کسی کھیت میں نہیں اگتا کہ اس پر خارجی حالات کا تقریباً پورا تسلط ہو۔ 

    میرے اور عسکری صاحب کے استادوں میں پی۔ سی۔ گپتا (P.C.Gupta) صاحب بھی تھے جو غالباً کمیونسٹ پارٹی کے ممبر تھے، اور انہوں نے ہندی اور انگریزی میں بہت سی کتابیں ترقی پسند انداز کی لکھی تھیں۔ لیکن انہوں نے بھی ادب کے بارے میں ایسی لچر اور لاطائل باتیں نہیں کہیں جیسی ان وقتوں کے ترقی پسند ہمارے یہاں کہتے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عسکری صاحب اور مجھ میں جو چیزیں مشترک ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ ہماری جو تربیت تھی ادب کے پڑھنے پڑھانے کی، اس میں یہ بات بالکل صاف تھی کہ اچھا ادب نہ کسی سیاسی مسلک کا آلۂ کار ہوسکتا ہے اور نہ اسے کسی فلسفے کا پابند ترجمان ہونا چاہیے، چہ جائے کہ مارکسزم ایسے مسلک کا جس کا کھوکھلاپن عسکری صاحب پر اور مجھ پر تویقیناً پوری طرح سے ظاہر ہوچکا تھا۔ 

    سوال: عسکری صاحب جب لاہور پہنچے اور وہاں انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین اور حلقہ ارباب ذوق کے احباب میں ٹکراؤ کو دیکھا، اس کا تو اثر نہیں پڑا ان کے ذہن پر؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: نہیں میں تو یہ نہیں سمجھتا۔ اور یہ بات دھیان میں رکھنے کی ہے کہ ۱۹۴۷ تک عسکری صاحب نے اپنا نظریۂ ادب مکمل طور پر اپنے ذہن میں، اور بہت حدتک اپنی تحریروں میں، قائم کرلیا تھا۔ حلقۂ ارباب ذوق کی جنگوں کو بھلا وہ کیا اہمیت دیتے۔ عسکری صاحب نے کبھی بھی ذاتی پسند یا ناپسند کو ادب پر جاری نہیں کیا۔ مثلاً احتشام صاحب سے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔ اپنی مرتب کردہ کتاب ’’میری بہترین نظم‘‘ میں انہوں نے احتشام صاحب کا ذکر بھی کیا ہے۔ تو ذاتی تعلقات کی بات اور ہے، ادبی چھان بین کی بات اور۔ 

    عسکری صاحب منٹو کو بہت پسند کرتے تھے۔ اگرچہ منٹو ترقی پسند تھے اور بعد میں نہیں رہے، لیکن اس کا خیال کیے بغیر کہ پہلے وہ کیا تھے اور کیا نہیں، عسکری صاحب نے ان کی تعریف کی۔ میں صرف ایک شخص کے بارے میں سمجھتا ہوں، وہ ہیں خواجہ منظور حسین صاحب مرحوم، کہ خواجہ صاحب کے بارے میں انہوں نے ذاتی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اور ایک آدھ اور چھوٹے موٹے لوگوں پر بھی وہ ناراض ہوئے، لیکن اس کا تعلق ادبی اور اصولی معاملات سے نہیں ہے۔ مثلاً یہ نہیں ہے کہ کسی سے دوستی ہے تو اس کی تعریف کر رہے ہیں اور کسی سے تعلقات خراب ہیں تو اس کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ 

    خواجہ منظور حسین صاحب مرحوم سے عسکری صاحب کی ناراضگی زیادہ تر اس بات پر تھی کہ ان کے خیال میں خواجہ صاحب ان کے شاگردوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تھے، انہیں نمبر کم دیتے تھے۔ ممکن ہے یہ القاص لا یحب القاص قسم کی کوئی چیز ہو، لیکن خواجہ صاحب مرحوم کی ادب شناسی کے بارے میں عسکری صاحب نے جو لکھا اس میں مجھے ذاتیات، یا کینہ توزی کا کوی شائبہ نظر نہیں آیا۔ یہ ضرور ہے ک جب وہ کسی کے بارے میں مخالفانہ رائے کا اظہار کرتے تھے تو رو رعایت زیادہ نہ کرتے تھے۔ اور جہاں تک ادب شناسی کا سوال ہے، تو خواجہ صاحب مرحوم کے عزیز اور محترم شاگردان، سرور صاحب اور اسلوب احمد انصاری صاحب مجھے معاف فرمائیں، لیکن واقعہ یہی ہے کہ عسکری صاحب کا مطالعہ خواجہ صاحب کے مطالعے سے وسیع تر اور ہمہ گیر تر تھا، اور ادب فہمی میں تو عسکری صاحب ان سے کوسوں اوپر تھے۔ 

    اور جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا تھا، تربیت کے علاوہ دوباتیں ہیں۔ تربیت تو تھی ہی ہم دونوں کی، لیکن یہ بات بھی تھی کہ ہم دونوں اپنے ادب سے تھوڑی بہت جو واقفیت رکھتے تھے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں بھی یہ سوال کبھی نہیں پوچھا جارہا تھا کہ ادب میں سیاسی حقیقت اور سماجی بصیرت کی کیا اہمیت ہے؟ یعنی شاعر کو کس طرح کی سماجی سیاسی بصیرت کا اظہار کرنا چاہیے؟ مثلاً ہم نے خاقانی کا قصیدہ پڑھا،

    ہاں اے دل عبرت بیں از دیدہ نظر کن ہاں 

    تو ہم نے اسے پسند کیا کہ اس میں زور ہے، مضامین کی آمد ہے، دردمندی ہے، اس میں علم کی فراوانی ہے۔ ہم نے اسے اس لیے نہیں پسند کیا، یا اس کی تحسین کی، کہ یہ کوئی سیاسی پنگا لے رہا ہے جو کہ منگولوں یا ترکوں کے خلاف جارہا ہے۔ جب انوری نے مرثیہ لکھا خراسان کی تباہی کا، اور والی سمرقند سے مدد مانگی کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرو، تو کیا وہ اس لیے لکھ رہے تھے کہ وہ کسی مخصوص سیاسی نظام کے موافق یا مخالف تھے؟ نہیں بلکہ وہ عمومی بات کہہ رہے تھے کہ ہماری تہذیب تباہ ہوئی، شہر ہمارا غارت کیا گیا، اس لیے رو رہے ہیں اور مدد مانگ رہے ہیں۔ تو ہماری ادبی تہذیب میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں کہ ذاتی پسند، ناپسند کو فوقیت دیں۔ 

    سوال: عسکری صاحب کے ساتھ کچھ اور دوسرے نقاد تھے جو ان کی ہم نوائی کر رہے تھے۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: اس زمانے میں تو عسکری صاحب کی ہم نوائی کم و بیش کرنے والوں میں دو صاحبان تھے، لیکن وہ اپنے اپنے رنگ میں تھے۔ مثلا کلیم الدین احمد صاحب تھے، تو وہ بھی کہتے تھے کہ ادب پر نظریے کی قید لگانا مناسب بات نہیں، کجا کہ کسی سیاسی نظریے کو ادب پر حاوی کرنا۔ وہ صاف کہتے تھے کہ ادب پہلے ادب ہوتا ہے۔ وہ تو الفاظ سے بنتا ہے۔ الفاظ کیسے ہیں، معنی کتنے ہیں، اور جو کہا جارہا ہے وہ کس طرح کہا جارہا ہے؟ یہ سوال اہم ہیں۔ اور سچائی اور جھوٹ کا معیار یہ نہیں کہ مارکس نے کیا لکھا ہے اور افلاطون نے کیا لکھا ہے؟ دوسرے آل احمد سرور، ان کا معاملہ یہ ہے کہ شروع شروع میں بھی، جب وہ ترقی پسندی کے بہت نزدیک تھے، اس زمانے میں بھی وہ کبھی نظریے کی حاکمیت کے قائل نہیں تھے۔ اور بعد میں تو ان کی پوزیشن بالکل ہی لبرل اور روشن فکر ہوگئی اس معاملے میں۔ اور وہ اس خیال سے دور ہوگئے کہ مارکسزم یا سماجی حقیقت نگاری یا اشتراکی حقیقت نگاری (Socialist Realism) ہی ادب کا اصل معیار ہے۔ تو یہ لوگ تھے جن کے موقف اور عسکری کے موقف میں کچھ وحدت تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ان دونوں ہی کے ساتھ عسکری صاحب کی کوئی خاص ہمدردیاں اور ہم آہنگیاں نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں صاحبان اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود عسکری صاحب کی نگاہ میں بہرحال مغرب زدگی کا شکار تھے۔ 

    کلیم الدین احمد صاحب نے اپنی کتاب ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں عسکری صاحب پر ایک پورا باب لکھا ہے اور انہیں بہت برا بھلا کہا ہے، کہ یہ مغرب سے مانگے تانگے کی خبریں لے آتے ہیں اور بہت ہی تھرڈ گریڈ کا، معمولی رپورٹر کے جیسا کام کرتے ہیں۔ وہ سطحی قسم کے تبصرے پڑھ لیتے ہیں اور پھر ہم لوگوں پر آکر دھونس جماتے ہیں کہ براہ راست واقفیت کی بناپر گفتگو کر رہے ہیں۔ گویا عسکری کو کلیم الدین احمد صاحب نے بہت سے بہت ایک سکنڈ کلاس کا جرنلسٹ قرار دیا۔ انہوں نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ کا نظریۂ ادب غلط ہے، یا آپ کی ادب فہمی مشکوک ہے۔ بلکہ اس بات پر وہ ناراض ہوئے کہ ان کے خیال میں عسکری صاحب پڑھتے کم تھے اور بولتے زیادہ تھے۔ وہ براہ راست کم جانتے تھے اور تبصرہ اس سے بڑھ کر کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ عسکری صاحب کا علم بہت ہی پکا اور وسیع علم تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلیم الدین احمد اور محمد حسن عسکری کے درمیان کسی طرح کی ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی اور نہ ہوسکتی تھی۔ کلیم الدین احمد پورے پورے مغرب کے پیرو تھے۔ اور عسکری مغرب کے پیرو نہیں تھے بلکہ یہ کہ مغرب سے اپنے آپ کو باخبر رکھتے تھے، اس کے مبصر، طالب علم، اور نقاد تھے۔ 

    مثلاً اقبال کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ کلیم الدین صاحب کا خیال اچھا نہیں تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک بات یہ بھی کہی کہ اقبال کے یہاں فلسفیانہ شاعری کا وہ معیار نہیں نظر آتا جو مثلاً ہمیں آوڈ (Ovid) کے یہاں ملتا ہے، جو لاطینی کا بڑا شاعر ہے۔ اس کے برخلاف، عسکری نے بہت پہلے یہ بات لکھی تھی کہ خاقانی نے علمی اور فلسفیانہ شاعری کا وہ معیار قائم کیا ہے کہ جان ڈن (John Donne) تو کجا، خود لکریشئس (Lucretius) کے یہاں بھی نہیں ملتا۔ یہ بات انہوں نے ۱۹۴۴ یا ۱۹۴۵ کے کسی خط میں لکھی ہے۔ مجھے اب یاد نہیں آرہا ہے کہ وہ خط انہوں نے کس کے نام لکھا ہے، عبادت بریلوی کے نام، یا کسی اور کے نام۔ اور ہمارے کلیم الدین صاحب یہ فرمارہے ہیں کہ Ovid کے یہاں فلسفیانہ کلام کی جو گہرائی اور اونچائی ہے، اس تک اقبال نہیں پہنچ سکتے۔ ہم جانتے ہیں کہ لکریشئس (Lucretius) تو یورپ کا سب سے بڑا فلسفیانہ شاعر مانا جاتا ہے، اور عسکری اسے خاقانی کے مقابلے میں ہیچ ٹھہراتے ہیں، جب کہ کلیم الدین صاحب کو ایک کم تر درجے کے شاعر Ovid نے ہی اتنا موہ لیا کہ وہ اسے اقبال سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ یہ فرق دیکھ رہے ہیں آپ؟ تو ان دونوں میں کوئی فکری آہنگی نہیں ہوسکتی۔ 

    اچھا اب سرور صاحب۔ تو سرور صاحب کے بارے میں عسکری صاحب کی رائے بہت اچھی نہیں تھی۔ معاف کیجیے گا، یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ سرور صاحب کے بارے میں ان کے دو اعتراضات تھے۔ ایک تو یہ کہ سرور صاحب دوٹوک بات کہنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ انصاف اور توازن کے اتنے متلاشی رہا کرتے ہیں کہ مثلاً وہ یوں گفتگو کرتے ہیں، میرانیس بہت اچھے شاعر ہیں تو دبیر بھی کوئی خراب شاعر نہیں ہیں۔ انیس کے یہاں خوبیاں ہیں اور دبیر کے اپنے محاسن ہیں۔ یہ بات عسکری صاحب کو پسند نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بات ہو یا جو خیال ہو وہ دوٹوک ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ سرور صاحب کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ مغربی ادب سے مرعوب ہیں، اور خود سے بہت کم سوچتے ہیں۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ سرور کا جومغربی ادب کا مطالعہ ہے وہ زندہ اور متحرک ہے اور وہ مرعوب ہونے والا نہیں ہے۔ کلیم الدین احمد نے جو یہ بات کہی کہ Ovid کے برابر اقبال نہیں پہنچ سکتے، ایسی بات سرور صاحب مرتے دم تک نہیں کہہ سکتے، چاہے آپ ان کو پھانسی پر لٹکا دیجیے۔ بلکہ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ارے بھائی کیا ضروری ہے کہ آپ کسی سے ان کا مقابلہ ہی کیجیے۔ ممکن ہے میں عسکری کا ہم نوا ہوکر یہ کہہ دوں کہ اقبال کی فلسفیانہ شاعری میں جو بات ہے وہ لکریشئس کے یہاں نہیں ہے۔ لیکن سرور یہ بھی نہ کہیں گے کہ اقبال خراب شاعر ہیں یا چھوٹے شاعر تھے، اور لکریشئس سے موازنہ بھی درمیان میں نہ لائیں گے۔ 

    سوال: فراق صاحب بھی تو انگریزی ادب کے استاد تھے، اور انگریزی ادب کی راہ سے اردو ادب میں آئے تھے۔ کیا فراق صاحب کے یہاں مغرب سے مکمل وابستگی کی وہ فضا نہیں ہے جو عسکری صاحب کو شاید کلیم الدین صاحب کی تحریر میں نظر آتی تھی؟ عسکری صاحب نے فراق کی شاعری اور ان کی تنقید پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اور فراق کی شاعری پر آپ نے جو لکھا ہے وہ عسکری صاحب کی رایوں کے بالکل برعکس ہے۔ تنقید میں بھی آپ فراق صاحب کو کچھ بہت بلند مقام نہیں دیتے۔ سوال یہ ہے کہ عسکری صاحب فراق صاحب کی تنقید اور شاعری سے اس قدر متاثر کیوں تھے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: یہ بات بالکل درست ہے کہ عسکری صاحب کی جو عقیدت ہے اور جو محبت ہے فراق صاحب سے، اور جو، کہنا چاہیے کہ گویا پرستش کی حد تک پہنچی ہوئی تھی، وہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی۔ 

    ایک وقت تھا کہ بہت سارے نوجوانوں کے ساتھ میں بھی فراق صاحب کا بہت قائل تھا، اتنا تو نہیں جتنا عسکری صاحب تھے، لیکن پھر بھی قائل تھا کہ ہاں اچھے شاعر ہیں۔ آہستہ آہستہ میرا خیال بدلا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار خلیل الرحمٰن اعظمی نے مجھ سے کہا کہ فراق بڑے شاعر نہیں ہیں، بہت سے بہت وہ مصحفی کے برابر ٹھہریں گے۔ اور میں تو اس زمانے میں بھی، جب میں فراق صاحب کا معتقد تھا، اس ستائش و ثنا سے خود کو متفق نہ کرسکا جو عسکری صاحب نے فراق صاحب پر نچھاور کی ہے۔ 

    استدلال انہوں نے جو بیان کیے ہیں وہ صرف دعوے ہیں۔ مثلاً، فراق کا یہ شعر ایسا ہے جو بہت ہی انسانی بلندی پر پہنچ کر ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں فراق صاحب نے ایسی بات کہی ہے جو دوسرا آدمی کہہ سکتا ہی نہیں۔ ’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ کے بارے میں عسکری صاحب نے لکھا کہ یہ ایسی کتاب ہے جو آدمی کی ہمت چھڑادیتی ہے۔ تو یہ سب ظاہر ہے کہ محض جملے ہیں۔ ایسے جملے ہیں جو عسکری صاحب کی زبان سے نکلے ہیں۔ لہٰذا انہیں ہم توجہ سے پڑھتے ہیں، انہیں اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن کم از کم میں ان سے اپنے کو متفق نہیں کرسکا۔ مجھے یہاں پر عسکری صاحب کی ایک ناکامی نظر آتی ہے کہ وہ فراق صاحب کے اتنے مداح ہیں کہ ان کے سامنے وہ فکر اور منطق کو تہہ کرکے الگ رکھ دیتے ہیں اور عقیدہ اور ہیرو پرستی کی دنیا میں آجاتے ہیں۔ 

    ظاہر بات ہے کہ فراق صاحب سے بدرجہا زیادہ پڑھے لکھے آدمی تھے عسکری صاحب۔ کیا انگریزی اور فرانسیسی ادب، کیا دوسری یورپی زبانوں کا ادب، کیا اردو اور فارسی ادب، کیا فلسفہ اور نظریہ، ان سب چیزوں میں عسکری صاحب ان سے زیادہ عالم تھے اور اس کے علاوہ ان کا ذہن مختلف چیزوں کو جوڑنے اور مختلف چیزوں کو آپس میں ملادینے، دور کی چیزوں کو نزدیک لادینے کا کام جس طرح کا کرتا تھا اس طرح تو شاید کم ہی کسی کا ذہن کام کرتا ہو۔ جس طرح کا ذہن عسکری صاحب کا تھا، فیصلہ کن اور عالمانہ، اس کے مقابلے میں فراق صاحب کا ذہن شاعرانہ ذہن تھا۔ تنقید میں بھی ان کا شاعرانہ ذہن بہت زیادہ کارفرما نظر آتا ہے۔ واہ واہ سبحان اللہ، کیا عمدہ ردیف استعمال کی ہے، ردیف بول رہی ہے۔ کیا ٹھیٹ زبان ہے اور کس طرح سے عشق کا تجربہ کتنی خوبی سے بیان ہوا ہے۔ اور یہاں دیکھیے مصحفی کے یہاں تو نچلا ہونٹ دانتوں میں دباکر مسکرادینے کی ادا پائی جاتی ہے۔ 

    یقیناً فراق صاحب کا قاری ان کی شخصیت اور ان کی زبان کے سحر میں گرفتار ہوسکتا ہے اور عسکری کے ساتھ شاید ایساہی ہوا۔ تنقید میں عسکری صاحب کے یہاں فراق صاحب کے لیے انتہائی غیراستدلالی لہجہ ہے۔ اور کچھ شاگردی کی عقیدت بھی عسکری صاحب کے رویے میں شامل ہے۔ 

    سوال: محمد حسن عسکری کے انتقال کے بیس بائیس برس بعد اب دوبارہ لوگ محمد حسن عسکری کی طرف رجوع ہو رہے ہیں۔ عام پڑھنے والوں میں وہ پھر مقبول ہو رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ادھر بیس پچیس برسوں میں اردو میں تنقید لکھنے والوں کی جو کھیپ آئی ہے کیا اس نے محمد حسن عسکری کے اثرات قبول کیے ہیں؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: یقیناً محمد حسن عسکری سے میری جو عقیدت ہے اور اثرپذیری ہے وہ بہت پرانی ہے۔ جیسا کہ میں نے لکھا بھی ہے کہ جب میں ہائی اسکول اور انٹرمیں پڑھتا تھا تو عسکری صاحب کے مضامین دیکھتا تھا، ’’ساقی‘‘ میں ’’جھلکیاں‘‘ کے عنوان سے۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ کوئی شخص اتنا پڑھا لکھا بھی ہوسکتا ہے اور اس قدر ز بردست گرفت ہوسکتی ہے اس کی مغربی ادب پر اور نئے علوم پر۔ بلکہ میں نے تو اپنے مضمون ’’غبار کارواں‘‘ میں لکھا ہے کہ عسکری کو پڑھ کر میرے تو چھکے چھوٹ جاتے تھے کہ میں تو اتنا علم رکھتا ہی نہیں ہوں، اور نہ اس طرح لکھ سکتا ہوں۔ تو میں پھر تنقید میں کیا کرسکوں گا؟ تو میں اس وقت سے عسکری صاحب کا قائل اور مداح ہوں۔ ان کا عقیدت مند رہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میں ہر جگہ ان سے متفق نہیں ہوں مگر ان کا حلقہ بگوش تو یقیناً ہوں۔ 

    رہا یہ کہنا کہ بیس پچیس برس کے بعد اب عسکری صاحب کا احیا ہورہا ہے، تو میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دراصل عسکری صاحب کی تنقید کا اثر و نفوذ کبھی اردو ادب میں کم نہیں ہوا۔ ہندوستان میں ضرور ان کا ذکر کم ہوتا ہے اور ان کا نام کم لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کی چیزیں یہاں کے لوگوں تک پہنچیں ہی نہیں۔ دو کتابیں یہاں علی گڑھ سے چھپی ہیں، وہی یہاں کے لوگوں کو ملی ہیں۔ ’’جھلکیاں‘‘ اور دوسری کتابیں ان کی کہاں دستیاب ہیں؟ ان کے افسانے بھی یہاں نہیں چھپے۔ افسانوں کے مجموعے میں جو اختتامیہ انہوں نے لکھا تھا وہ غیرمعمولی تھا فکشن کی تنقید میں۔ وہ بھی کسی کے پاس نہیں ہے۔ صرف ان لوگوں کے پاس ہے جن کے پاس ’’جزیرے‘‘ کا پہلایا دوسرا ایڈیشن ہو۔ ابوالکلام قاسمی کی کتاب کے سوا کوئی مفصل مطالعہ بھی ان کا نہیں لکھا گیا۔ خیر اس کتاب میں اور خوبیوں کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس میں ’’جزیرے‘‘ کا اختتامیہ شامل ہے۔ 

    تو ہندوستان کے نئے لوگوں نے، یعنی ہمارے بعد آنے والوں نے کم ان کاذکر کیا ہے۔ ہم لوگ، یعنی سنہ ساٹھ والے لوگ بے شک ان کو بہت اہم مانتے ہیں۔ کیا وارث علوی، کیا گوپی چند نارنگ، کیا فضیل جعفری، مغنی تبسم، وہاب اشرفی ہوں یا شمیم حنفی، کوئی ایسا نقاد نہیں جو ان کو اپنا استاد نہ مانتا ہو۔ خلیل الرحمن اعظمی ان کے بہت قائل تھے۔ سب نے ان سے سیکھا ہے اور ان کا اعتراف کیا ہے۔ ہاں باقر مہدی شاید ان سے کچھ خاص متاثر نہ ہوئے، لیکن ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ 

    پاکستان کی بات دیگر ہے۔ وہاں ان کی بات تقریباً مستند رہ چکی ہے اور بڑی حدتک اب بھی ہے۔ یعنی کسی بات پر، کسی مسئلے پر عسکری صاحب کی رائے بیان کردی جائے تو زیادہ ترلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب اس کے آگے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، عسکری صاحب تو اپنا موقف ظاہر کرچکے ہیں۔ 

    عسکری صاحب کی تنقید میں تین عناصر بے مثال ہیں۔ ایک تو ان کا اسلوب، بہت ہی واضح، بہت دلنشیں اور ضرورت پڑنے پر انتہائی طنزیہ کاٹ سے بھرا ہوا، شگفتگی، اور مشکل کو آسان کردینے کی صفات سے مزین۔ دوسری چیز تھی ان کے علم کا استحضار کہ وہ مغرب و مشرق کا علم اپنے سامنے رکھتے تھے۔ کچھ بھولتے نہیں تھے۔ جو کچھ پڑھا تھا، انہیں یاد تھا اور وہ وقت ضرورت فوراً اس کو استعمال کرلیتے تھے۔ اور پڑھا انہوں نے بہت تھا۔ نتیجہ نکالنے میں، فکری تہہ دھاروں کے آپسی روابط ڈھونڈنے میں وہ بڑے ماہر تھے۔ تیسری بات جو تھی وہ یہ کہ ان کا ذہن غیرضروری چیزوں کو کاٹ کر فوراً نفس مضمون تک پہنچ جاتا تھا۔ کسی چیز کو پڑھ رہے ہیں، کسی کتاب کو پڑھ رہے ہیں، کوئی مسئلہ سامنے آرہا ہے۔ ہم لوگ ایسے میں عام طور پر پھنس جاتے ہیں فروعات میں۔ وہ ہمیشہ فروعات کو کاٹتے چھاٹتے ہوئے اصل مغزتک پہنچ جاتے تھے۔ یہ تین چیزیں بیک وقت آج کسی میں یکجا نہیں ہیں۔ 

    عسکری کے جو خاص شاگرد تھے، شاگرد کہیں یا متاثر کہیں، یا پیرو کہیں، سلیم احمد اور مظفر علی سید۔ تو مظفرعلی سید میں علم بہت تھا اور اسلوب کی بھی خوبی ایک حد تک عسکری صاحب جیسی ان میں تھی۔ لیکن ان میں یہ خوبی نہیں تھی کہ وہ فروعات کو کاٹ کر مغزتک پہنچ جائیں۔ اور ان کے علم میں وہ وسعت بھی نہ تھی جسے ہم عسکری کا طرہ امتیاز مانتے ہیں۔ اور ان کا قلم عسکری صاحب کی طرح رواں اور حاضر نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بہت کم لکھا۔ 

    سلیم احمد کے یہاں یہ تھا کہ انہوں نے بھی عسکری صاحب کے اسلوب کے بعض پہلوؤں، خاص کر شگفتگی اور سلاست، ان کا اثر بڑی حدتک قبول کیا۔ وہ شاید مظفر علی سید سے زیادہ ذہین بھی تھے۔ لیکن ان کا علم عسکری صاحب جیسا وسیع اور ہمہ گیر نہ تھا۔ طباعی ان کے یہاں بہت ہے، ذہانت کے لوامع بہت ہیں۔ جتنا پڑھا ہے اچھا پڑھا ہے۔ ان میں اپنے طور پر سوچنے کی بھی ہمت تھی۔ 

    اب آج کے لوگوں نے جو کچھ بھی اثر قبول کیا ہے عسکری صاحب کا، تھوڑا بہت، تو اس میں یہی مشکل آجاتی ہے کہ وہ عسکری صاحب کو پوری طرح سے انگیز نہیں کرسکتے، کیوں کہ جو شخص بھی ہے وہ ان تین چیزوں پر بیک وقت قادر نظر نہیں آتا۔ قادر کیا، ان تین میدانوں میں بیک وقت قدم رکھنے کا اہل نظر نہیں آتا۔ تو آج، میں سمجھتا ہوں کہ عسکری جیسا نقاد میری نظر میں نہیں ہے۔ ہندوستان میں ظاہر ہے فضیل جعفری نے اور وارث علوی نے بڑی حدتک عسکری صاحب کے اسلوب سے روشنی حاصل کی۔ تہذیبی معاملات سے سروکار رکھنے کے باعث بھی وارث علوی اور شمیم حنفی ان سے متاثر ہیں۔ بیان کی وضاحت، شگفتگی طرز کی، اور براہ راست گفتگو کا انداز، یہ سب باتیں وارث علوی اور فضیل جعفری نے بلاشبہ عسکری سے سیکھیں۔ لیکن یوں کہیے کہ یہ سب بس ایک حد تک ہوکے رہ گیا۔ اور دونوں کے یہاں اپنی طرح کی مجبوریاں اور اپنی طرح کی کمزوریاں بھی آگئیں۔ مثلاً یہ کہ فضیل جعفری کا علم مشرقی علوم میں اتنا دور رس نہیں ہے جتنا کہ عسکری صاحب کا علم تھا۔ وارث علوی کا علم مشرقی علوم میں کچھ نہیں ہے اور مغربی علوم میں وہ بہت دور نہیں جاتے ہیں۔ جتنا وہ جانتے ہیں خوب جانتے ہیں، مگر اصل الاصول سے انہیں بہت کم دلچسپی ہے۔ وہ جملے بازی اور دلچسپی پیدا کرنے کی خاطر شگوفے چھوڑنے میں زیادہ لگ جاتے ہیں اور ان کا مضمون بہت اچھا انشائیہ فکاہیہ بن جاتا ہے۔ اسی بھیڑ بھاڑ میں تنقیدی باتیں گم ہوجاتی ہیں۔ عسکری کی طرح نظریہ سازی اس وقت کسی کو نہیں آتی۔ عسکری صاحب تو ترجمہ، محاوروں کا استعمال، غزل، ادب اور زندگی میں جنسی حسیت کا مقام، ادبی ہیئت، ان سب موضوعات پر نظریہ ساز مضمون لکھ سکتے تھے۔ یعنی Theorize کرلیتے تھے ہر چیز کو۔ خیال رکھو کہ یہاں To Theorize کے معنی ہیں، کسی چیز کی Theory بیان کرنا، کسی نکتے کو نظریے کا رنگ اور قوت دے دینا، کسی چیز کے بارے میں نظری گفتگو کرنا۔ 

    تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت کوئی ایسا نقاد ہے جس کو میں یہ کہہ سکوں کہ وہ عسکری صاحب کی جگہ کو بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ علم و فضل کی حدتک آج نہیں تو دس سال بیس پچاس سال بعد یہ صلاحیت کسی کو حاصل ہوجائے گی۔ ان جیسی نثر لکھنے والا اور ان کی طرح کا Passionate concerns رکھنے والا پیدا ہونے میں شاید اور بھی دیر لگے۔ 

    اور ابھی تو مجھے کوئی نظر نہیں آرہا ہے جس میں یہ تین عناصر جو میں نے عسکری صاحب کے بیان کیے، کہ غیر معمولی علم، اور غیرمعمولی طور شگفتہ اور براہ راست اثر کرنے والی آسان نثر اور مسائل کے مغز تک فوراً پہنچ جانا اور فروعات کو چھوڑ دینا، یہ تین صفات بیک وقت آج مجھے کسی نقاد میں نظر نہیں آتے۔ 

    سوال: آپ کے خیال میں محمد حسن عسکری کا تنقیدی شعور فکشن کی تنقید میں زیادہ موثر اور کامیاب ہے یا شاعری کی تنقید میں؟ اور انہوں نے منٹو، انتظار حسین، یا ایک دو اور افسانہ نگاروں کو چھوڑ کر کسی افسانہ نگار یا ناول نگار پر کیوں نہیں لکھا؟ شاعری میں میر پر زیادہ لکھا، غالب پر کم، فراق پر زیادہ لکھا۔ سودا، درد، انیس، پر بالکل نہیں، تو ایسا کیوں ہے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: ایک بات تو یہ ہے کہ یہ سوال عسکری صاحب سے پوچھنے کا تھا۔ لیکن انہوں نے میر، غالب اور فراق کے علاوہ بھی شعرا پر لکھا ہے۔ لمبے مضامین میں جرأت پر انہوں نے لکھا ہے، حالی پر انہوں نے لکھا ہے، محسن کاکوری پر لکھا ہے۔ اور لمبے تو نہیں، لیکن جمیل الدین عالی اور ناصر کاظمی پر بھی انہوں نے متوسط ضخامت کے مضامین لکھے ہیں۔ یہ لوگ ان کے جونیئر معاصر تھے۔ 

    اصل میں یہ بات زیادہ اہم نہیں ہے کہ وہ اچھے نقاد فکشن کے تھے، یا شاعری کے؟ اور انہوں نے منٹو کے علاوہ اور کسی پر کیوں نہیں لکھا، یا شاعری کے نقاد تھے تو فلاں فلاں پر بھی کیوں نہیں لکھا؟ یا افسانے کی تنقید میں ان کا مرتبہ کیا ہے؟ 

    چونکہ ان کے یہاں فکری لہر بدلتی رہی، لہٰذا انہوں نے اپنی فکری سرگرمیوں کے اعتبار سے موضوعات اختیار کیے۔ کوئی منصوبہ ان کے سامنے نہ تھا کہ فلاں فلاں پر لکھوں گا۔ مثلاً جب انہوں نے منٹو پر پہلے لکھا تو ان کا خیال اور طرح کا تھا ادب کے بارے میں۔ دوبارہ جو منٹو کے بارے میں انہوں نے لکھا تو اس وقت ان کے خیالات ادب کے بارے میں مختلف تھے۔ وہ اس وقت بڑی حد تک فکشن کے لیے فرانسیسی ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں کو ہی معیار قرار دیتے تھے۔ یہ صحیح اس لیے بھی ہے کہ ہمارے یہاں جدید فکشن جب مغرب سے آیا ہے تو مغرب کے بڑے ناموں اور مغرب کے نظریہ سازوں سے ہی ہمیں استفادہ کرنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ کہ اپنے دور دوم میں جب وہ فکشن پر لکھ رہے تھے تو ان کے سیاسی اور سماجی تاملات بھی پیش پیش تھے۔ وہ فسادات کے پس منظر میں لکھے ہوئے اردو فکشن کے بارے میں رائیں اور فیصلے قائم کرنا چاہتے تھے۔ پاکستانی ادب کے بھی مسئلے سے وہ الجھے ہوئے تھے۔ 

    لیکن اپنی عمر کے آخری دس پندرہ برسوں میں وہ مغرب کے بڑی حدتک کیا، پوری طرح منکر ہوچکے تھے۔ اس معنی میں منکر ہوچکے تھے کہ وہ کہتے تھے کہ مغرب کا فکری نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ اس آخری زمانے میں اگر پروست یا (Proust) بالزاک یا (Balzac) آندرے مورواس (Andre Maurois) یا آندرے ژید (Andre Gide) کے حوالے سے وہ لکھتے تو منٹو یا اردو فکشن کے بارے میں کیا کہتے، میں نہیں کہہ سکتا۔ انتظار حسین کے بارے میں بھی یہی معاملہ ہے۔ 

    آج بہت سے نقاد ایسے ہیں جو اپنے چاروں طرف کمزور ذہن اور کم صلاحیت اور درجۂ سوم کے لکھنے والوں کو جمع کرتے ہیں تاکہ ان سے واہ واہ سن سکیں اور کسی قسم کی تنقیدی بحث یا نکتہ چینی ان کے منھ سے نہ نکلنے پائے اور وہ صرف اندھوں میں کانے راجہ بنے رہیں۔ اس کے برخلاف عسکری صاحب بالکل بڑی بے تکلفی سے اپنے سے بہت جونیئر لوگوں کو جن میں وہ دیکھتے تھے کہ ان میں کچھ صلاحیت ہے، ان کی وہ بہت ہمت افزائی کرتے تھے۔ چنانچہ انتظار حسین، ناصر کاظمی، احمد مشتاق، جمیل الدین عالی، جمیل جالبی، سلیم احمد، سجاد باقر رضوی، شمس الرحمٰن فاروقی، ان سب لوگوں پر عسکری صاحب کی مہربانی کا، محبت کا، پرتو ہے اور سب نے ان سے فیض اٹھایا ہے۔ 

    اب رہ گیا یہ سوال کہ وہ فکشن کے بڑے نقاد تھے یا شاعری کے بڑے نقاد تھے؟ اور اگر وہ شاعری کے بڑے نقاد تھے تو انہوں نے شعرا پر کیوں سیر حاصل طور پر نہیں لکھا؟ تو جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے یہاں کمیت کا معاملہ اتنا اہم نہیں ہے۔ کیونکہ ’’جھلکیاں‘‘ کی دونوں جلدیں دیکھیں تو اس میں یہ نظرآئے گا کہ ان کے یہاں بے اتنہا تنوع ہے۔ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس کو چھونے سے وہ انکاری ہوں۔ چاہے نثر کی تھیوری ہو، چاہے فکشن کی تھیوری ہو، چاہے استعارے کی بات ہو، چاہے زبان کے مسائل ہوں، چاہے داستان بطور فکشن اور بطور نثر پارہ کا معاملہ ہو، چاہے نفسیاتی تنقید ہو، وہ کسی چیز میں بند نہیں تھے۔ اور کسی موضوع میں وہ اپنے معیار سے نیچے اترتے نہیں تھے۔ 

    وہ نثر ہمیشہ اسی بلند معیار کی، اسی رنگ کی لکھتے تھے، چاہے وہ ایک پیراگراف لکھ رہے ہوں یا بھرپور مضمون لکھ رہے ہوں۔ تو جان لینا چاہیے کہ انہوں نے غالب پر کم لکھا یا یا اقبال پر بالکل نہیں لکھا، یا یہ کہ حالی پر اتنا لمبا مضمون لکھ دیا لیکن شبلی پر نہیں لکھا، یہ زیادہ اہم بات نہیں ہے۔ اہم بات جو ہے وہ یہ کہ ان کی ہر تحریر اور ان کے تمام مجموعے مضامین کے، ایک طرح سے خزانہ ہیں بصیرتوں کا، نکتہ افروزیوں کا۔ اب اس خزانے سے جو چاہے نکال لے۔ مثلاً اگر الگ الگ ان کے مضامین کی بات کرو تو ابھی جو میں نے ’’جزیرے‘‘ کے اختتامیے کے بارے میں کہاتھا کہ فکشن کی تنقید میں اس کا جواب نہیں ہوسکتا۔ بالکل seminal مضمون ہے، یعنی تخم سے بھرپور مضمون۔ اس میں ایسے نکتے اور بصیرتیں ہیں جن کی روشنی میں فکشن کی تنقید پر تفصیلی گفتگو ممکن ہے۔ اور اس میں نزاکت اس بات کی بھی ہے کہ جو شخص لکھ رہا ہے وہ خود افسانہ نگار ہے، اور اپنے افسانوں کے حوالے سے لکھ رہا ہے اس کے باوجود وہ ایسی تنقیدی عمارت تعمیر کر رہا ہے جو عملی طور پر اور نظری طور پر دوسروں کے بھی کام آسکتی ہے۔ 

    تو اب یہ کہنا کہ یہ اختتامیہ سب سے بڑا مضمون ان کا ہے، ’’اور ’’ہیئت یا نیرنگ نظر‘‘ بڑا مضمون نہیں ہے، یا ترجمے پر انہوں نے جو لکھا ہے وہ کم تر ہے اور محاوروں پر جو لکھا ہے وہ برتر ہے، یہ بہت مشکل اور درحقیقت غیرضروری ہے۔ 

    میرے خیال میں محمد حسن عسکری ایسے تنقید نگار ہیں جن کے بارے میں یہ حکم تو لگتا ہی نہیں ہے کہ ان کا کام کہاں زیادہ اچھاہے اور کہاں کم۔ ہم ان سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ مجھے بے شمار جگہ ان سے اختلاف ہے۔ لیکن ان سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اور ذاتی طور پر میری رائے یہ ہے کہ ان سے اختلاف کرنے کے پہلے خود کو اچھی طرح دیکھ بھال لینا چاہیے کہ میں جہاں اختلاف کر رہاہوں وہاں میرے اپنے مبلغ علم اور مرتبۂ فکر کا کیا عالم ہے؟ رسل (Bertrand Russell) نے کیمبرج میں اپنے معاصر مفکر اور ماہر اقتصادیات کینز (Keynes) کے بارے میں لکھا ہے کہ بحث میں کینز سے اختلاف کرتے وقت مجھے لگتا تھا کہ میں اپنی جان ہتھیلی پر لیے ہوئے ہوں۔ افسانے کے بارے میں، غزل کے بارے میں، قصیدہ کے بارے میں، بیانیہ کے بارے یں، عسکری کو آپ چاہے جہاں سے شروع کردیجیے اور پھر شگفتگی اور تازہ فکری کی بہار دیکھیے۔ محسن کاکوری پر کتنا اچھا لکھا ہے انہوں نے۔ تو کوئی چیز ان کو بند نہیں کرتی ہے۔ یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ 

    اب رہا یہ معاملہ کہ اور جو نقاد ہیں ان کے سامنے، ان کے معاصروں میں یا ان کے بعد والوں کے درمیان، ان کا کیا مرتبہ ہے؟ تو میں یہی دیکھتا ہوں کہ ایسا اور کوئی نقاد نہیں ہے جس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکیں کہ ہر طرح کے موضوع پرنظری اور عملی اعتبار سے اس نے جو لکھا ہے وہ سب کے سب اعلیٰ درجہ کا ہے۔ اختلاف کی بات اور ہے۔ اختلاف تو مجھے افلاطون اور ارسطو اور آنند وردھن اور جرجانی اور آئی۔ اے۔ رچرڈس سے بھی ہے، لیکن میں کان پکڑ کر ان کا نام لیتا ہوں۔ 

    سوال: اچھا یہ بتائیے کہ آپ کے تعلق سے جو بات ہوتی ہے کہ آپ نے شاعری کی تنقید زیادہ لکھی ہے اور فکشن کی تنقید کم لکھی ہے تو کہیں محمد حسن عسکری کے اتباع میں تو یہ رویہ نہیں اپنایا آپ نے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: بات تو عسکری صاحب کی ہو رہی ہے، اس میں تم خواہ مخواہ مجھے گھسیٹ رہے ہو۔ میں سمجھتا ہوں یہ زیادہ مناسب نہ ہوگا اور موقع بھی نہیں۔ مگر میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی بات مجھ میں اور عسکری صاحب میں مشترک ہے تو شاید یہ کہ موضوعات کا تنوع میرے یہاں بھی بہت ہے۔ بلکہ ایک آدھ موضوع ایسا ہے جو عسکری صاحب سے چھوٹ گیا ہے۔ مثلاً عروض، علم بیان کی بعض باتیں، لغت نویسی کے مسائل، لغت نگاری، پس نو آبادیاتی Post-colonial طرزفکر، وغیرہ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ان میدانوں میں وہ آتے تو مجھ سے بہت آگے جاتے۔ اب تم نے ذاتی باتیں چھیڑی ہیں تو میں ایک جملہ کہہ دیتا ہوں۔ عسکری صاحب نے ایک خط میں مجھے لکھا تھا، اور وہ چھپ بھی گیا ہے، بہت پہلے چھپاتھا۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ مجھے کم فرصتی ہے، اور اب تو یہ عالم ہے کہ کوئی مشکل کام میرے سامنے آتا ہے تو میرے جی میں آتی ہے کہ فاروقی صاحب اسے کر ڈالتے اور مجھے نہ کرنا پڑتا۔ تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان کی محبت اور خوردنوازی تھی۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس طرح کا تنوع انہوں نے اختیار کیا اس کی کچھ جھلک آپ شاید میرے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ 

    سوال: تنوع کے سلسلے میں بات ہو رہی ہے اور آپ کے یہاں لغت نگاری اور علم لغت کے مسائل سے جو دلچسپی ہے، اس کا بھی ذکر آیا، تو میں چاہتا ہوں کہ انہوں نے زبان کے مسائل پر جو گفتگو کی ہے، صفات کے استعمال یا محاوروں کے تعلق سے، تو اس سلسلے میں آپ کے خیالات معلوم کروں۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: بھائی میں توسمجھتا ہوں کہ وہ دونوں مضمون جو ہیں صفات والا اور محاوروں والا، یہ ایسے مضمون ہیں کہ میرے بس میں نہیں تھے۔ جس عمر میں انہوں نے لکھا ہے اس عمر میں جب میں تھا تو یہ مضمون میرے بس میں نہیں تھے۔ جو بصیرت انہوں نے ان میں ظاہر کی ہے، خاص کر صفات والے مضمون میں، اور یہ دکھایا ہے کہ صفات کا استعمال دراصل کمزوری کی علامت ہے افسانہ نگار کے لیے، کہ وہ شے کو خود سے نہیں بیان کر سکتا، یہ بصیرت بے مثال ہے۔ مثلاً کوئی لکھے کہ صاحب بڑا گرم پانی تھا، ابلتا ہوا پانی تھا، کھولتا ہوا پانی تھا۔ تو ظاہر بات ہے کہ یہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کے ناکام ہوجانے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اس طرح گرم پانی ہم تک نہیں پہنچتا، بلکہ ہم اسے محسوس ہی نہیں کرتے، صرف ان صفات کو محسوس کرتے ہیں۔ 

    انہوں نے دکھایا ہے کہ صفات کہاں پر کام آتی ہیں۔ داستانوں میں صفات کا استعمال کس طرح سے کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں، اور وہاں وہ کس قدر اثرانگیز ہوتی ہیں۔ یہ سب ایسی باریکیاں ہیں کہ میں تو وہاں تک پہنچنے کا اہل نہیں تھا اگر میں اس زمانے میں اس طرح کا مضمون لکھنے بیٹھتا۔ اب تو خیر میں نے مضمون پڑھ لیا ہے ان کا، دو تین بار پڑھ چکا ہوں۔ میرے بھی فکر کے انداز آگے چل کر کچھ اس طرح کے ہوگئے کہ اب لکھوں تو شاید ممکن ہے میں بھی ایک آدھ جملہ اس طرح کا کہہ سکوں۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ عسکری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بطور انسانی کارنامے کے، کہ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس پر انہوں نے کوئی بات کہی ہو اور جو ہمارے لیے اہمیت نہ رکھتی ہو۔ مثلاً ان کو ایک جملے سے بہت بدنام کیا گیا تھا کہ صاحب میں ترقی پسندوں کا پرچہ کیوں پڑھوں کہ دونی میں تو ننگی تصویروں کا رسالہ بھی ملتا ہے۔ ٹھیک ہے، آپ برا مانیے۔ میں خود تو اس طرح کا جملہ نہ لکھوں گا، لیکن اس کے پیچھے جو تھیوری ہے اس پر کسی کی نظر نہیں گئی۔ تھیوری یہ نہیں ہے کہ ترقی پسند لوگ فحش نگار ہیں۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ترقی پسند حضرات قبل از بلوغ کا ذہن رکھتے ہیں۔ امیر آدمی بہت بے ضمیر ہوتا ہے، غریب آدمی بڑا اچھا ہوتا ہے۔ طوائف بچاری سماج کی ماری ہے، ورنہ دراصل ہر طوائف کے اندر ایک ماں چھپی ہوئی ہے۔ ادیب دراصل انقلابی کارندہ ہے، اس کا سروکار الفاظ سے نہیں، اصلاحات سے ہے۔ اس طرح کے معصومانہ موضوعات پر رطب اللسان ہونے میں ترقی پسندوں کو بہت مزہ آتا تھا۔ جو لذت جو کسی نوبالغ یا نابالغ انسان کو فحش تصویروں سے حاصل ہوتی ہے، اس طرح کی لذت اور دلچسپی ترقی پسندوں کو ان سطحی اور simplistic موضوعات میں حاصل ہوتی ہے گویا ابھی وہ ذہنی طور پر بالغ نہیں ہوئے ہیں۔ عسکری صاحب کے بیان کا مطلب دراصل یہ ہے۔ 

    اسی طرح، ان کا یہ قول ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ زندگی سے بیزار ہیں، غم میں ہیں، یاس میں ہیں، تو مجھے افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ بودلیئر (Baudelaire) کو کیوں نہیں پڑھتے؟ اب ظاہر بات ہے کہ جس نے بودلیئر کا نام ہی نہیں سنا تو پڑھے گا کہاں سے؟ اچھا نام سن لیا تو فرانسیسی آتی نہیں، انگریزی میں پڑھنا پڑے گا۔ اور کوئی ضروری نہیں کہ انگریزی ترجمہ، خواہ وہ نہایت مستند ہو، وہی لطف اور بصیرت افروزی رکھتا ہو جو اصل فرانسیسی میں ہے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر سب نہیں تو بعض نظموں کا پورا لطف ترجمے میں نہیں آسکتا، اور میں نے بودلیئر کے کچھ نہیں تو پانچ سات انگریزی ترجمے ضرور پڑھے ہیں۔ 

    لہٰذا ان کا یہ مشورہ بظاہر نرگسیت کا، یا رعب ڈالنے کی خاطر نام لینے (name dropping) کااظہار معلوم ہوتا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ میں بھی ایسا جملہ نہ لکھتا۔ لیکن یہاں یہ بات تھی کہ اگر کوئی شخص صبر کرکے دس پانچ صفحے بودلیئر کے بارے میں پڑھ لے، یھر ایک دو نظمیں پڑھ لے، پھر عسکری صاحب کا مضمون پڑھ لے تو اسے پتہ چلے گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً بنیادی بات وہ یہ بتارہے ہیں کہ بودلیئر کی پوری شاعری کا جوہر اس کشمکش میں ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے؟ یعنی وہ رومن کیتھولک ہے اور کیتھولک ہونے کی وجہ سے اس کے یہاں بھی، جس طرح ہمارے مذہب میں ہے، بہت صاف صاف حدیں مقرر ہیں۔ حرام کی، حلال کی، مناسب کی نامناسب کی، اچھے کی برے کی، کفر کی اور ایمان کی۔ تو وہ اس تہذیب میں پلا ہوا ہے اور اس کے عقائد اس کی شخصیت میں پیوست ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ یہ اصول اور یہ نظریات ایسے ہیں جن کو بڑی آسانی سے ردکیا جاسکتا ہے۔ یعنی کسی چیز کو آپ اچھا کہہ رہے ہیں لیکن ممکن ہے کہ دراصل وہ اچھی نہ ہو۔ اور جس تقدس کی تلاش میں آپ دنیا اور تاہل کو تج کر رہبانیت اختیار کرتے ہیں، اسی کے نام پر آپ ’’نسلی صفائی‘‘ (ethnic cleansing) بھی کرتے ہیں۔ 

    بوسنیا (Bosnia) میں، کاسوو (Kosovo) میں، فلسطین میں، تزکیۂ نسل (Ethnic cleansing) آخر مذہب ہی کی تو بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔ اور ان سے بھی بہت پہلے صلیبی جنگوں میں آپ دیکھ رہے ہیں صلیبیوں کو، کہ وہ مسلمان بچوں کو سنگینوں کی نوک پر رکھ کر ان کو بھون کر کھا رہے ہیں، مفتوح شہر کے شہر تاراج کیے جارہے ہیں، اور ان کے باسیوں میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی۔ جس سچائی کے تحت آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس پر اعتقاد اور عمل کے ذریعہ ہماری زندگی سکون اور اطمینان کے ساتھ گزرسکتی ہے اور ہم مستحق ہوں گے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے، اسی سچائی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اس کے نام لیوا جب کسی غیرملک میں پہنچتے ہیں اور فتح مند ہوتے ہیں تو وہاں کے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو میں نے بیان کیا۔ 

    توبودلیئر کے یہاں یہ dilemma ہے کہ وہ کس کو اچھا کہے اور کس کو برا کہے؟ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اچھی چیزیں بھی بری ہوں اور بری چیزیں بھی اچھی ہوں۔ بدصورتی میں بھی حسن ہوسکتا ہے۔ مثلاً وہ زمانہ نسلی امتیاز اور قومی تفوق میں یقین رکھنے کا زمانہ تھا۔ یہ خیال بہت عام تھا کہ کالے لوگ ذہنی طور پر کم تر ہوتے ہیں۔ روحانیت ان میں ہوتی ہی نہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جانوروں میں نہیں ہوتی ہے تو اسی طرح سارے کالے لوگوں میں نہیں ہوتی ہے۔ لیکن بودلیئر کی معشوقہ کالی ہے، اس کے بارے میں وہ نظم لکھتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ تو دیونی ہے، قوت اور پناہ کی سرچشمہ ہے، اور میں تیرے سائے میں بیٹھا ہوا ہوں۔ یعنی اس طرح سے وہ اپنے زمانے کی تعصباتی نظر کو مسترد کرکے نئی نظر سے دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کشمکش یہی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو ہم برا کہتے ہیں اس میں بھی اچھائی ہو، یا جسے ہم اچھا کہتے ہیں تو اس میں بھی برائی ہو۔ تو اس لیے عسکری صاحب کہتے ہیں کہ جب میں اپنے زمانے کے لوگوں کو یاس و حرماں میں دیکھتا ہوں، زندگی سے بیزار اور گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے کہ لوگ بودلیئر کو نہیں پڑھتے، کیونکہ بودلیئر ان کی اپنی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور ان کو بتاتا ہے کہ یہ ہے مسئلہ زندگی کا۔ 

    چنانچہ وہ اپنی مشہور نظم To the Reader میں قاری سے کہتا ہے کہ اے میرے ریاکار قاری، تیری اور میری نوع ایک ہی ہے، تو میرا بھائی ہے،

    O hypocritical reader, my fellow-man and brother!

    جب شاعر اپنے قاری کو اپنا بھائی بھی بتاتا ہے اور پھر ریاکار بھی کہتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں کئی پہلو ہیں کہ میں خود ریاکار ہوں کہ تجھے اپنا بھائی کہہ رہا ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ تو میرا بھائی ہے اور میرا قاری ہے۔ یعنی قاری اور شاعر ایک ہی ہیں۔ اور ایک پہلو یہ ہے کہ تو ریاکار ہے جو میری نظم کو اچھا کہہ رہا ہے۔ کیونکہ تو اور میں دونوں ایک ہیں، اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ یا پھر یہ کہ خود پڑھنے کا عمل ایک طرح کی ریاکاری ہے۔ تو یہ سب نکات تھے عسکری صاحب کے جن کی بنا پر انہوں نے کہا کہ کاش لوگ بودلیئر کو پڑھتے۔ اب آپ اسے عسکری صاحب کی کمزوری کہہ سکتے ہیں کہ وہ شاعری، اور خاص کر درون بیں، استعاراتی شاعری کے اس قدر دلدادہ تھے۔ لیکن وہ ایسی بڑی گہری گہری باتیں چلتے پھرتے کہہ دیا کرتے تھے۔ آپ کو اس کے مضمرات معلوم ہیں تو بڑی اچھی بات ہے۔ اگر نہیں معلوم ہے تو ڈھونڈ لیجیے، اگر ڈھونڈ سکتے ہیں۔ لیکن آپ نہ جانیں اور ڈھونڈ بھی نہیں سکتے تو برابھلا ہی کہیں گے کہ صاحب دیکھیے ہم کو مرعوب کر رہے ہیں۔ یہ ایسی باتیں بتارہے ہیں، پتہ نہیں کہاں سے ایسی باتیں لاتے ہیں۔ 

    تو یہ معاملہ تھا دراصل کہ عسکری صاحب کا کوئی جملہ ایسا نہیں ہے جس میں کوئی باریکی فکر نہ ہو۔ مثلاً انہوں نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ بھائی اب تک بیدل کی دوغزلیں میرے پلے پڑی ہیں۔ اب بتائیے، فارسی آپ خوب پڑھے ہوئے ہیں۔ عربی آپ جانتے ہیں۔ فرنچ آپ بے حد و حساب جانتے ہیں، انگریزی کے آپ عالم ہیں، اور اردو کے تو خیر آپ بڑے نقاد ہیں ہی۔ اب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بیدل کی دو ہی غزلیں میری سمجھ میں اب تک آئی ہیں۔ تو آپ محض نقش مار رہے ہیں، یا پھر ظاہر ہے کہ کوئی نکتہ ہے اس بات میں۔ لیکن نقش مارنے کا فیصلہ کرنے کے پہلو غور کرلیں کہ کوئی نکتہ تو اس بات میں پوشیدہ نہیں ہے؟ 

    اب غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نکتہ یہی ہے کہ جو شخص مشرقی تصورات عشق اور تصوف اور شعریات سے پورے طور پر واقف نہ ہو، اسے صحیح معنی میں بیدل کا شارح نہیں کہہ سکتے۔ یوں تو بیدل کا کوئی شعر آپ لے لیجیے، مطلب میں بتادیتا ہوں آپ کو۔ لیکن اس کے پیچھے جو نظام فکر ہے، اس نظام فکر کو پورے طور سے سمجھنا چیزے دیگراست۔ اچھا اس سے پہلے عسکری صاحب کہہ چکے ہیں کہ والیری کی ایک نظم اور ملارمے کی دولائنیں ہی میری سمجھ میں آسکی ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شاعری کے پیچھے جو تہذیبی اور علامتی نظام ہے، اس نظام کو پہلے سمجھوں تب جاکر میں سمجھوں گا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ 

    لیکن ہم اردو کے نقادوں کا رنگ ہی دیگر ہے۔ ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے عام طور پر کہ جب تنقید لکھنے بیٹھیے تو تعریف کیجیے کہ شعر کیا ہے۔ اس کے لیے ایک قول کہیں سے لے آئے، ایک اور کہیں سے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا تو نہیں ہو رہا ہے؟ کوئی اس میں فرانسیسی ہے، کوئی روسی ہے، کوئی انگریز ہے۔ سب کو ملاکر رکھ دیا کہ فلاں یہ کہہ رہا ہے، فلاں یہ کہہ رہا ہے۔ بغیر ان میں کسی قسم کا تقابل قائم کیے یا یہ دیکھے بغیر کہ کون کس فکر کے نظام سے کہہ رہا ہے۔ اب جس چیز کو ارسطو بیان کر رہا ہے یہ وہ چیز نہیں ہے جس کو مثلاً الیٹ بیان کرتا ہے۔ دونوں کو اکٹھا کردینا اور ان کا فرق نہ بیان کرنا دانش مندی نہیں۔ آپ فرق واضح نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دونوں سے بے خبر ہیں۔ نہ الیٹ کو سمجھتے ہیں نہ ارسطو کو۔ ہمارے یہاں کی نظری تنقید اکثر و بیشتر صرف قینچی اور گوند (cutting and pasting) کا معاملہ ہے۔ داخلی ربط تو بڑی بات ہے، ظاہری ربط بھی مفقود ہوتا ہے۔ اور جب نظریہ درست نہ ہوگا، Theory ہی درست نہ ہوگی تو تنقید کیا ہوگی، ٹیڑھی میڑھی، کانی بوچی ہی تو ہوگی۔ 

    تو عسکری صاحب ان سب معنوں میں کہا کرتے تھے کہ میں سمجھا نہیں ہوں ابھی، سمجھنے کی منزل میں ہوں۔ یعنی میں ابھی اس پورے نظام فکر اور شعریات کو سمجھنے کی فکر میں ہوں، سمجھ لوں تب جاکر اس شاعری کی فہم کا حق ادا ہوگا۔ 

    اب ایک اور مثال۔ انہوں نے نثر والے مضمون میں لکھا ہے کہ ایک ناول ہے فلوبیئر کا۔ چھوٹا سا گم نام اور نامکمل ناول ہے Bouvard et Pecuchet (بووار اور پیکوشے) اس کا ترجمہ ابھی حال میں شائع ہوا ہے۔ عسکری صاحب لکھتے ہیں کہ فلاں جگہ اس میں جو نثر ہے، بھائی اس طرح کی دولائنیں بھی نثر کی میں لکھ لوں تو میں اپنے کو نثر نگار مانوں گا۔ تو ظاہر ہے پہلی بار اس جملے کو پڑھیے تو غصہ آئے گا کہ فرانسیسی زبان کے ناول کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ ہمیں نہ تو فرانسیسی آتی ہے، نہ انگریزی میں اس ناول کا ترجمہ ہی ہم نے دیکھا ہے۔ اور اگر دیکھا بھی تو کیا، عسکری صاحب تو فرانسیسی زبان کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن عسکری صاحب بتارہے ہیں کہ آپ فلوبیئر کے نظریۂ فن سے واقف ہوں تو پتہ لگے کہ اس جملے کا کیا مطلب ہے۔ مثلاً اس کو یہ دکھانا منظور ہے کہ سرد پا لے کی رات میں پودوں اور پتیوں پر کیا اثر پڑتا ہے، تو اس بات کو خود معلوم کرنے کے لیے وہ رات بھر کھلے میں بیٹھا رہتا ہے۔ جاکر اپنے باغ میں سردی کھاتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ رات کے بھیگنے کے ساتھ ساتھ پودوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ رنگ کتنا بدل رہے ہیں، کب اور کتنے پژمردہ ہو رہے ہیں، کتنے وہ بھاری ہو رہے ہیں شبنم سے، تب وہ جاکر حسب حال الفاظ ڈھونڈ کر لاتا ہے۔ وہ آدمی یہ کہتا ہے کہ زبان میں مرادفات کا وجود ہی نہیں ہے۔ وہ صرف mot just یعنی بالکل درست لفظ، اور mot solitaire یعنی واحد لفظ، میں یقین رکھتا ہے۔ مثلاً ہم نے کا کہ ’’خوب ہے‘‘ اور ’’اچھا ہے‘‘ ہم معنی ہیں۔ فلوبیئر کہتا ہے کہ دونوں میں الگ الگ مفہوم ہیں۔ ’’اچھا‘‘ وہ نہیں ہے جو ’’خوب‘‘ ہے، جو ’’خوب‘‘ ہے وہ ’’اچھا‘‘ نہیں ہے۔ تو جو شخص کہ اپنی نثر میں اس حد تک احتیاط کرتا ہو اور جو کہ حقیقت نگاری کی اس منزل پر پہنچا ہوا ہو، لامحالہ وہ جس طرح کی نثر لکھے گا وہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ 

    تو اگر یہ باتیں نہیں معلوم ہیں تو عسکری صاحب کا جملہ ہمیں یقیناً ایک طرح کی ادعائیت معلوم ہوگا۔ ایک طرح کی مبالغہ آمیز بڑ معلوم ہوگا۔ لیکن جب اس کی گہرائی میں جائیے تو اس کے پیچھے ایک نظام کارفرما ملے گا۔ 

    عسکری صاحب کے یہاں یہ ایک طرح کی کمی ہے۔ وہ بڑی گہری گہری باتیں یوں ہی کہہ جاتے ہیں۔ جو شخص اس نظام سے واقف نہیں ہے جس کے تحت یہ باتیں کہی گئی ہیں تو اس کے لیے پیچیدگی اور پریشانی کا موقع آجاتا ہے۔ لیکن عسکری صاحب کی تنقید کا ایک مقصد ہم لوگوں کی تعلیم اور تربیت بھی تھا۔ اگر ہمیں ادب سے دلچسپی ہے تو Buvard et Pecuchet کے بارے میں ان کا جملہ پڑھ کر سوچیں گے کہ یہ کیوں کہا گیا۔ اور اگر ہم تنقید کو تخلیق کا بدل سمجھ کر پڑھتے ہیں تو پھر اس طرح کے جملے ہمیں صرف دق کریں گے، کچھ بتائیں گے نہیں۔ 

    سوال: میرے خیال میں اب یہ بات تو مان لی گئی ہے کہ وہی نقاد بڑا نقاد ہے جو کلاسیکی ادب پر گرفت مضبوط رکھتا ہے۔ محمد حسن عسکری نے کلاسیکی ادب پر تو لکھا ہی، لیکن وہ داستان تک بھی گئے۔ انہوں نے ’’طلسم ہوش ربا‘‘ کا بھی انتخاب کیا۔ اور آپ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے۔ آپ نے داستان پر کام کیا اور تین چار جلدوں میں ایک الگ انداز کی کتاب داستان پر بھی آپ لکھ رہے ہیں۔ ایک ضخیم جلد اس کی چھپ بھی چکی ہے۔ تو آپ کی کلاسیکی ادب سے جو دلچسپی ہے کیا وہ عسکری صاحب کی وجہ سے ہے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: اس میں کچھ تو عسکری صاحب کا ضرور دخل ہے۔ جب میں نے عسکری صاحب کو پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ اگرچہ وہ یورپی ادب کے بڑے رسیا ہیں لیکن جگہ جگہ ان کے یہاں اشارے اور نکتے ملتے ہیں اپنے ادب کے بارے میں، کلاسیکی ادب کے بارے میں، فارسی ادب کے بارے میں۔ میں اپنی جگہ پر یہ سمجھتا تھا شروع شروع میں کہ سب ادب ایک ہی ہے، وہ انگریزی ہو، چاہے یونانی ہو، چاہے فرانسیسی ہو۔ چاہے اردو ہو، چاہے فارسی ہو، چاہے چینی ہو۔ سب ادب ایک ہے لہٰذا سب ادب پڑھنا چاہیے، اور اس کو پڑھنے کے طریقے کم و بیش ایک ہونا چاہیے۔ اگر میں انگریزی کا کلاسیکی ادب پڑھ رہا ہوں تو اردو کا بھی کلاسیکی ادب مجھے پڑھنا چاہیے۔ اگر میں ڈھائی ہزار برس پہلے کے ڈراما نگار کو یونان سے لاکر پڑھ رہا ہوں تو میں اپنے یہاں کے کالی داس کو کیوں نہ پڑھوں اور اپنے یہاں کے آغا حشر کو کیوں نہ پڑھوں؟ دونوں ضروری ہیں۔

    یہ میرا خیال تھا، اور اب بھی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو نظریہ تھا، کہ سب ادب ایک ہوتا ہے اور اس کو پڑھنے کے طریقے کم و بیش ایک ہوتے ہیں، تو اب میں اس نظریے پر قائم نہیں ہوں۔ لیکن اس نتیجے پر میں اب بھی قائم ہوں کہ اگر میں انگریزی یا فرانسیسی کے کلاسیکی ادب کو پڑھتا ہوں، یا اگر میں لاطینی یا چینی کلاسیکی ادب کو پڑھتا ہوں تو ظاہر ہے اپنے کلاسیکی ادب کا مجھ پر اس سے زیادہ ہی حق ہے کہ میں اسے پڑھوں اور اس سے اثر قبول کروں، اس سے لطف حاصل کروں۔ 

    عسکری صاحب کی جس خوبی نے میرا دل بہت کھینچا وہ یہ تھی کہ وہ اپنی زمین کو چھوڑتے نہیں۔ چاہے وہ بات کر رہے ہوں چاسر (Chaucer) کی یا قرون وسطیٰ کے فرانسیسی ادب کی، چاہے وہ بو دلیئر اور لوتریاموں (Lautreamont) کی بات رات بھر سے کر رہے ہوں، چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹے، کسی کم مشہور فرانسیسی فن پارے کی باریکیاں بیان کریں، لیکن قدم ان کے زمین پر ہمیشہ رہتے ہیں۔ 

    تیسری بات یہ ہے کہ میں اس بات کا شروع سے ہی قائل ہوں اور جو تربیت حاصل کی میں نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے اور اس سے پہلے بھی، اس میں بھی یہ بات بہت اہم طور پر ہم لوگوں کو بتائی گئی تھی کہ ادب ایک طرح کا مسلسل عمل ہے۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی عہد ختم ہوا تو اس کے بعد اس کا دروازہ بند ہوگیا۔ اس کو کھول نہیں سکتے۔ ایسا نہیں کہ جو نیا عہد آیا اس کا پرانے عہد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، کوئی رشتہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ بتایا بلکہ سمجھایا گیا کہ ہر ادب ایک اکائی کی طرح سے ہوتا ہے۔ اور جس ادب میں راشد اور میراجی ہیں اسی ادب میں میر اور سودا بھی ہیں اور اسی ادب میں محمد قلی قطب شاہ اور ہاشمی بیجاپوری بھی ہیں۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ وہ ادب کوئی اور تھا اور راشد اور میراجی کچھ اور ادب لکھ رہے تھے۔ 

    یہ اور بات ہے کہ زمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ زبان، زبان کے بارے میں ہمارا رویہ، تاریخ اور سیاست کی لائی ہوئی تبدیلیاں، اور ان سے بڑھ کر تصورات کی لائی ہوئی تبدیلیاں، یہ سب چیزیں ادب کی ظاہری اور ایک حد تک داخلی شکل بدل دیتی ہیں۔ الیٹ (Eliot) نے ہمیں یہ بات سکھائی کہ نیا ادب پڑھیں تو پرانے ادب کو پڑھنے کے نئے طریقے ہاتھ آتے ہیں۔ راشد اور میراجی کے درمیان جو تاریخ تصورات مشترک ہیں وہ راشد، میراجی، اور نصرتی اور خوب محمد چشتی میں مشترک نہیں ہیں۔ لیکن وہ سب ایک ہی ادب ہے، اردو ادب، اور جو ذہن کام کر رہا ہے، جو تصور کائنات ہے، وہ اپنی اصل میں ایک ہی ہے۔ اس کو اصل میں ایک نہ مانیں گے تو نہ آپ راشد اور میراجی کو ٹھیک سے پڑھ سکیں گے، نہ آپ ہاشمی اور غواصی اور خوب محمد چشتی کو ٹھیک سے پڑھ سکیں گے۔ الیٹ نے یہ بات بھی سجھائی کہ جو شاعر جتنا ہی نیا ہوگا، اتنا ہی زیادہ اس نے پرانے کا اثر قبول کیا ہوگا۔ فرینک کرموڈ (Frank Kermode) نے اس نکتے کو اور پھیلاکر بیان کیا۔ 

    یہ بات شروع سے ہی میرے ذہن میں جاگزیں رہی ہے۔ میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ جدید شاعری اور قدیم شاعری میں کوئی فرق نہیں، کہ ہیں دونوں شاعری ہی۔ اور اس لیے مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کہ میں تو پرانے زمانے کا آدمی ہوں لیکن میں جدید بھی ہوں۔ جدید اس معنی میں ہوں کہ ۱۸۵۷ کی لائی ہوئی تبدیلیوں کا میں شکار بھی ہوں اور پروردہ بھی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ ۱۸۵۷ کے زخم مغرب پرستی یا مارکسیت کے مرہم سے نہیں بھر سکتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ دنیا ۱۹۵۰ کے بعد بہت سکڑ گئی ہے اور اس کو مجموعی حیثیت سے ایسے مسائل درپیش ہیں جو پہلے کسی ایک ملک یا خطے کو بھی درپیش نہ تھے۔ لہٰذا اب نہ کلاسیکی ادب ہوسکتا ہے اور نہ نو آبادیاتی ادب۔ ترقی پسند ادب بھی نوآبادیاتی ذہنیت کا نمائندہ ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد ہمیں ذہنی طور پر مارکسی افکار کا غلام بنانا تھا، اور مارکسی فکر بھی وہ جن پر اسٹالن کا ٹھپہ تھا، مارکس یا انگلز کا نہیں۔ 

    میں جدید ادب کا پرستار ہوں اور جدید ادب کے ساتھ جو تصورات وابستہ ہیں ان تصورات کو عام کرنے میں میرا بھی ہاتھ ہے۔ میں ان کا قائل بھی ہوں اور ان پر عمل بھی کرتا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان تصورات کو، اور اس ادب کو جسے جدید کہا جاتا ہے، اس کو خریدوں اس قیمت پر کہ میں میر، سودا، اور ولی، اور شاہ سراج، غواصی، اور نصرتی، اور بہاء الدین باجن، داغ اور امیر مینائی، اور ان جیسے سیکڑوں کو چھوڑدوں۔ یہ قیمت میں ادا نہیں کرسکتا، اور نہ کوی بھی شخص جسے اپنے ادبی اور قومی تشخص کا شعور ہے، ایسی قیمت ادا کرسکتا ہے۔ 

    یہ صحیح ہے کہ ہمارا ایک بڑا طبقہ، جیسا کہ کل بات ہو رہی تھی، دو غلط فہمیاں اس کے یہاں عام ہوئیں، ایک تو یہ کہ روایت کے کچھ حصے گندے، ازکار رفتہ، غیر صالح، یا غیر کارآمد بھی ہوسکتے ہیں اور انہیں ہم کاٹ کر پھینک سکتے ہیں۔ گویا روایت کوئی درخت ہے کہ اس میں سے بہت کچھ چھانٹ دیجیے، پھر بھی کچھ بچ سکتا ہے، اور چھانٹنا ہر درخت کے لیے اچھا ہے۔ دوسری بات یہ ہم نے اپنے ادب کے بارے میں خود پھیلائی کہ اس کا بڑا حصہ غیرواقعی اور بے معنی ہے۔ 

    واقعہ یہ ہے کہ روایت ایک درخت نہیں، بلکہ روایت ایک جسم ہے۔ اگر میرے جسم کا کوئی ایک حصہ کاٹ دیں تو میں رہوں گا تو شمس الرحمٰن فاروقی لیکن میں ایک ہاتھ کے بغیر رہوں گا، ایک پاؤں کے بغیر رہوں گا، ایک آنکھ کے بغیر رہوں گا۔ اور اگر آپ میرے جسم سے دل نکال دیں یا میرا سر کاٹ دیں تو میں مرجاؤں گا۔ 

    یہ خیال کرنا کہ روایت کوئی نامیاتی وجود نہیں ہے، بلکہ مشینی وجود ہے، غلط ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ روایت کا کچھ حصہ ہمارے یہاں فرسودہ ہے یا از کار رفتہ ہے۔ یا غیر کارآمد ہے، یانقصان دہ ہے۔ مثلاً جرأت کا کلام غیر کارآمد اور فرسودہ ہے بلکہ فحش بھی۔ اور دیکھیے یہ ریختی کس قدر گندی چیز ہے، بہو بیٹیاں اسے کیوں کر پڑھ سکتی ہیں؟ یہ تو زوال میں مبتلا تہذیب کی علامت ہے۔ 

    قصیدے میں جھوٹ بولا جاتا ہے۔ شاعر لوگ فضولیات لکھ لکھ کر بادشاہوں کی تعریف کرتے رہتے ہیں، بادشاہ تو ایک کوڑی کے بھی نہیں تھے۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک بزرگ نقاد نے فرمایا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ بہادر شاہ ظفر کہ جن کی حکومت لال قلعے سے آگے نہ تھی ان کے لیے ذوق اور غالب نے کیا کیا طومار باندھے۔ اور بھلا بہادر شاہ کے پاس دینے کے لیے بھی کیا تھا؟ پھر ایسے مفلس اور قلاش کی مداحی سے کیا حاصل؟ 

    میں شروع سے یہ بات کہتا رہا ہوں کہ غزل کے بغیر قصیدے کا تصور ممکن نہیں۔ مثنوی کے بغیر مرثیے کا تصور ممکن نہیں۔ اسی طرح، افراد کو لیجیے تو ذوق، غالب، مومن، ناسخ نہیں ہیں تو میں بھی نہیں ہوں۔ اگر ولی اور سودا اور میر نہیں ہیں تو ذوق و ناسخ بھی نہیں ہیں۔ شاہ نصیر نہیں ہیں تو ناسخ اور مصحفی اور غالب بھی نہیں ہیں۔ پوری کہانی میں ایک تسلسل ہے۔ چاہے ناسخ اور غالب کو یہ نہ معلوم رہا ہو کہ دکن اور گجرات میں کیا ہوتا رہا ہے لیکن وہ بھی شامل اسی روایت میں ہیں۔ کیونکہ ایک پل ہے جو اس روایت کو دکن اور اورنگ آباد اور گجرات سے دلی لایا۔ وہ پل ولی، عبدالولی عزلت، اور پھر ذرا بعد میں سراج اورنگ آبادی نے بنایا۔ میر چاہے کہہ دیں کہ دکن میں کوئی شاعر واعر نہیں ہوا۔ لیکن حق یہ ہے کہ دکن نہ ہوتا تو میر بھی نہ ہوتے۔ ان سے وہ بھاگ نہیں سکتے۔ اور پھر وہ تصور کائنات ہے جو نصرتی اور وجہی سے لے کر باقر آگاہ اور داغ وامیر تک ایک ہے۔ 

    رہی دوسری بات، تو انیسویں صدی کی آخری چوتھائی کے زمانے سے ہمارے یہاں یہ غلط فہمی بڑی عام ہوگئی تھی کہ صاحب بہت ساری شاعری ہماری حقائق پر مبنی نہیں ہے اور حقائق پر مبنی نہ ہونے کی وجہ سے ہم پر وہ کھلتی نہیں۔ مصنوعی ہے اس لیے اس کا طلسم ہم کو بے جان معلوم ہوتا ہے۔ ہماری شاعری نہ نیچرل شاعری ہے اور نہ نیچر کی شاعری ہے۔ یہ بات اس قدر مقبول اور موثر ثابت ہوئی کہ آج بھی ہمارے مطالعات ادب اور اردو شاعری کی ہماری قرأتیں اس کے سحر سے آزاد نہیں ہیں۔ دس بارہ سال پہلے ایک دفعہ میں علی گڑھ یونیورسٹی میں ایک لکچر دے رہا تھا۔ اور لکچر وہی تھا جو میں نے ’’شعرشور انگیز‘‘ کی جلد سوم اور چہارم کے دیباچوں میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا، یعنی کلاسیکی غزل کی شعریات۔ تو اس میں میں نے مثالیں دیں نسیم دہلوی سے، جلال سے، رشک سے، مومن سے، اور چھوٹے چھوٹے لوگوں سے اور بڑے بڑے لوگوں سے۔ تو ایک بہت بڑے شاعر، فلسفی، نقاد، یعنی وحید اختر نے کھڑے ہوکر کہا کہ صاحب یہ درجۂ دوم کے لوگ تو مجھے بالکل ہی اپیل نہیں کرتے۔ میرے لیے یہ بند کتاب کی طرح ہیں۔ ان کو پڑھنے سے کیا فائدہ؟ میں نے جواب میں کہا کہ کسی بھی ادبی تہذیب میں عام طور پر درجۂ اول کے نام دس فیصدی ہوتے ہیں۔ اور باقی سب نام درجۂ دوم، بلکہ اس سے بھی کم تر درجے کے ہوتے ہیں۔ تو وہ تہذیب کتنی بدنصیب ہوگی جس کا ایک سربرآوردہ نمائندہ اپنے ادب کے نوے فیصد حصے سے واقف نہ ہو، اور واقفیت حاصل کرنے سے انکار کرتا ہو اور کہتا ہو کہ یہ حصہ میرے لیے کھلتا ہی نہیں، بند رہتا ہے۔ 

    ان دو اصولوں پر میں شروع سے کاربند رہا ہوں: ایک تو یہ کہ ہمارا کلاسیکی ادب اب بھی بامعنی ہے، اور دوسرا یہ جدید اور قدیم ایک دوسرے کی تنسیخ نہیں، بلکہ تکمیل کرتے ہیں۔ 

    کسی کے بارے میں یہ کہنا (جیسا کہ عسکری صاحب کے بارے میں کہا گیا) کہ انہوں نے کلاسیکیت میں پناہ لی، جدید مسائل کا سامنا نہ کرسکے، اگر رجعت پرست نہیں تو نوقدامت پرست Neo-conservative ضرور ہوگئے۔ یہ سب باتیں شکست خوردہ ذہن کی علامت ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو خود اپنی جگہ پر کلاسیکی ادب کو پڑھنے یا اس کو پڑھ کر لطف اندوز ہونے کے قابل نہیں ہیں اور جن میں کوئی علمی شغف نہیں ہے، اور وہ انہیں چیزوں کو پڑھنے کے قابل سمجھتے ہیں جو مغرب سے آئی ہوں، تو پھر ظاہر بات ہے کہ وہ عسکری کو جدید معاملات سے فراری ہی کہیں گے۔ ایک عرصے کی بات ہوگئی۔ میری درخواست پر عسکری صاحب نے ’’شب خون‘‘ میں ایک مضمون لکھا تھا، ’’اردو کی اصل ادبی روایت کیا ہے؟‘‘ وحید اختر مرحوم کا تو نام بھی نہ تھا، لیکن مشرق اور مغرب کے تصورات اور افکار، او رنوآبادیاتی ذہن کی ریشہ دوانیوں کو عسکری نے آئینہ کرکے رکھ دیا تھا۔ وحید اختر مرحوم بڑے فاضل اور بڑے ذہین شخص تھے۔ وہ آسانی سے ہار ماننے والوں میں نہ تھے۔ لیکن عسکری صاحب کے اس مضمون پر وہ خاموش رہے۔ یہ مضمون ’’وقت کی راگنی‘‘ میں شامل ہے۔ 

    یہ کلاسیکی ادب میں پناہ لینے کی بات نہیں۔ کلاسیکی ادب پڑھ کر اپنے ذہنی اور روحانی افق کو وسیع کرنے کی بات ہے۔ سودا کو ہم لوگ آج کیا سمجھتے ہیں؟ یہی نا کہ تھا ایک ٹھٹھول گو، ہرزہ دار، قصیدے اور ہجو میں زور کیا دکھاتا تھا، اپنے باطن کی سیاہی اور مزاج کے تملق کو ظاہر کرتا تھا۔ ہاں غزل بھی تھوڑی بہت کہہ لیتا تھا۔ لیکن سودا کو نہیں پڑھا ہے آپ نے تو آپ کو کیا معلوم ہو کہ وہ کیا تھا۔ سودا کی ایک غزل ہے، سکندری جانے، افسری جانے۔ پندرہ سترہ شعر میں انہوں نے پورا فلسفۂ حکومت و نظم و نسق بیان کردیا ہے۔ ایک اور غزل ہے، ہنجار ہو پیدا، گفتار ہو پیدا۔ اس پندرہ شعر کی غزل میں اپنے زمانے کی شعریات لکھ دی ہے، اور میر پر نکتی چینی بھی شاید کی ہے۔ غزل کے بارے میں ہمارے یہاں جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ محض عشقیہ وشقیہ ہے اور رونا دھونا ہے، شراب و شباب ہے۔ ان کو کیا پتہ لگے گا کہ سودا نے، جرأت نے، انشا نے، ناسخ نے، میر نے، غزل میں کیا کیا ڈال دیا ہے جو صاحبان سودا کا مذاق اڑاتے ہیں، یا انہیں آج کے لیے بامعنی نہیں سمجھتے، وہ مندرجہ بالا زمینوں میں سودا کے مضامین پر مبنی، یا جدید فلسفۂ حکومت اور جدید اردو شعریات پر مبنی زیادہ نہیں تو چار ہی چار بامعنی اور رواں شعر لکھ کر دکھادیں، یا کسی سے لکھواکر لے آئیں۔ 

    معاف کیجیے گا ہمارے نقادوں میں سہل انگاری بہت ہے۔ سستا کام بہت ہے۔ جو چیزیں جاری ہیں، سامنے آجاتی ہیں، انہیں پڑھ لیتے ہیں، انہیں پرلکھ دیتے ہیں۔ پرانی چیزوں کو پڑھنے میں ڈھونڈنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اب میر کا ہی بظاہر معمولی سا شعر ہے، 

    لو ہو پیتے ہی مرا اشک نہ منھ کو لاگا
    بوسہ جب لے ہے ترے ہونٹوں کی بیری کا مزہ

    دیوان میں چھپا ہوا ہے ’’پیڑی کا مزا‘‘ اور غزل کے قافیے ہیں، ’’اسیری، فقیری‘‘ وغیرہ۔ اس میں پیڑی‘‘ کا کیا دخل؟ اب آپ روتے رہیے۔ متن ظاہر ہے کہ غلط ہے، لیکن صحیح کیا ہے معلوم نہیں۔ جب غور کریں اور لغات دیکھیں تو پتہ لگے گا کہ یہ ’’بیری‘‘ ہے، یعنی باے موحدہ اور یاے معروف سے ہے۔ ’’بیری‘‘ کے معنی ہیں پان کا وہ رنگ جو ہونٹ یا دانت پر لگ جاتا ہے۔ میں نے جب سے خون کے گھونٹ پئے، تب سے یہ معمولی پانی والے آنسو مجھے بھلے نہیں لگتے۔ جب میں نے تیرا بوسہ لیا تو منھ اور زبان پر تیرے ہونٹوں کی سرخی کا مزہ لگ گیا۔ پھر وہ لطف کہاں، خوناب کا لطف کہاں، اور معمولی آنسو کہاں۔ 

    ظاہر ہے کہ اس شعر کو سمجھنے میں جتنی محنت پڑی ہے، ہمارے زیادہ تر نقادوں کے پاس اتنا وقت نہیں، نہ اتنی محنت کے وہ عادی ہیں۔ جب عسکری صاحب بیٹھ کر جرأت پر چالیس صفحات لکھتے ہیں تو محنت لگتی ہے، سوچنا پڑتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ بھائی ایسے زبردست آدمی کو میر نے اگر کہہ دیا کہ تمہاری شاعری میں چوما چاٹا کے سوا کچھ نہیں، تو ایسا کیوں کہہ دیا؟ پھر وہ آتے ہیں مثلاً حالی کے پاس۔ وہ دیکھتے ہیں کہ غزل کا سچا شاعر ہے، لیکن پھر بھی غزل کی مخالفت کرتا ہے۔ تو دونوں میں تطابق کس طرح کیا جائے، اور نہ کیا جائے تو دونوں کو الگ الگ سچائی کیسے ثابت کرسکتے ہیں؟ اس طرح کے سوچنے میں دماغ اور عقل لگتی ہے، مطالعہ اور فکر لگتی ہے۔ 

    سوال: محمد حسن عسکری تنقید کے ہی نہیں تخلیق کے بھی آدمی تھے۔ اور انہوں نے درجن بھر سے زائد افسانے لکھے اور کئی افسانے بہت مقبول ہوئے، ’’پھسلن‘‘ وغیرہ۔ ان افسانوں کے معیار کے حوالے سے ان کے معاصرین مثلاً غلام عباس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ یا ’’پھسلن‘‘ کے بارے میں ایک بزرگ نقاد سے ہمیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ عسکری صاحب نے اس افسانے میں اپنے اور فراق صاحب کے مابین جنسی تعلقات کو افسانے کا رنگ دیا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ عسکری نے افسانہ نگاری کیوں چھوڑ دی تھی؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: عسکری صاحب بطور افسانہ نگار بالکل ایک اور واحد آواز ہیں اردو ادب میں۔ دو طرح سے۔ ایک تو ان کی جو نثر ہے اس میں کوئی بھی شعوری کوشش نظر نہیں آتی ہے نثر بنانے کی۔ مثلاً بیدی کے یہاں نظر آتا ہے۔ بہت سوچ ساچ کر لکھتے ہیں، بہت سوچ سوچ کر نثر بناتے ہیں۔ بیدی کے بارے میں کہیں پہلے میں نے کہا تھا کہ بیدی کا ایک لفظ بھی بدل نہیں سکتے۔ اگر کوئی لفظ انہوں نے لکھا ہے افسانے میں شروع میں، اور وہ لفظ آپ کو نامناسب نظر آتا ہے اور آپ اسے بدلنا چاہیں گے تو بعد میں آپ کو مایوسی ہوگی جب آپ دیکھیں گے کہ اس لفظ کی کوئی معنویت آگے جاکر کھلتی ہے۔ وہ لفظ پہلی نظر میں آپ کو بھونڈا یا ہلکا معلوم ہوا ہو، لیکن پورے افسانے کے تناظر میں اس کی معنویت ہے۔ منٹو ہیں کہ وہ اتنی آسانی سے لکھتے چلے جاتے ہیں کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ آدمی لکھ رہا ہے یا بول رہا ہے یا اس پر لفظ اتر رہے ہیں۔ لیکن ذرا ساغور کیجیے تو منٹو کے یہاں تشبیہات، انوکھے الفاظ کااستعمال، مکالمے کی چمک دمک، یہ سب صاف ظاہر کردیتا ہے کہ بہت ہی تنظیم سے یہ آدمی لکھ رہا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک ایک فقرہ لکھ کر وہ سوچتا ہو، لیکن اس کا ذہن اتنا منظم ہے کہ لگتا ہے اس کی عبارت کا بڑا حصہ اس کے ذہن میں پہلے سے آچکا تھا جب اس نے لکھنا آغاز کیا۔ 

    اب عسکری صاحب کا معاملہ یہ تھا کہ ان کے ہاں نثری اسلوب کو سنوارنے بنانے یا افسانوی طرز اختیار کرنے، یا جوان کے زمانے میں بہت مقبول تھا۔ نثر میں شاعرانہ انداز اختیار کرنے کا رویہ، اس طرح کی کوشش عسکری صاحب کے یہاں نہیں ملتی۔ وہ بہت ٹھکی ہوئی لیکن بظاہر سادہ نثر لکھتے تھے میں نے ہمیشہ سوچا ہے ان کے بارے میں کہ اگر ان کی نثر کا مقابلہ کیا جائے تو اردو میں تو شاید کوئی نہ ملے۔ انگریزی یا فرانسیسی میں ایک دو آدمی ایسے ضرور ہیں جن کی نثر ان کے مشابہ ہم کہہ سکتے ہیں، یہ کہ فطری، لیکن بہت سوچی ہوئی نثر ہے۔ افسانویت لانے کا، افسانے کو ڈرامائی بنانے کا، یا افسانے کو شعریت سے بھردینے کا کوئی طوران کے یہاں نظر نہیں آتا۔ 

    دوسری بات یہ کہ جو ان کے موضوعات ہیں، وہ بھی اردو ادب میں اس وقت تک کسی نے نہیں برتے تھے۔ اگرچہ عصمت کے کئی افسانے عورت کی داخلی جنسی زندگی کے بارے میں ہیں، لیکن عصمت کے یہاں عورت کے نقطۂ نظر سے افسانہ لکھا جاتا ہے، اور عورت کا نقطۂ نظر بھی کہیں روایتی، گھریلو، کہیں اوپر سے اوڑھا ہوا ’’جدید‘‘ ہے، اور کہیں زیادہ فطری ہے۔ اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے، بلکہ سادہ سا بیان ہے، اور افسانہ نگار کی نگاہ میں حقیقت پر مبنی ہے یعنی افسانہ نگار بزعم خود ’’حقیقت‘‘ بیان کر رہی ہے۔ کرداروں کی ذہنی کیفیات کا کوئی بیان نہیں ہے۔ ان کی پیچیدگیوں کا ذکر، کہ وہ اپنے عمل یا روئیے کو اچھا سمجھ رہے ہیں کہ برا سمجھ رہے ہیں، کہ فطری اور اضطراری سمجھ رہے ہیں، یہ سب باتیں عصمت کے یہاں نہیں۔ بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوت ہے جس کے وہ کردار تابع ہوگئے ہیں اور اس کے اندر کی جو باریکیاں یا گہرائیاں ہیں، اور خود اس قوت کی پوشیدہ قوتوں کا انہیں کوئی پتہ نہیں ہے۔ 

    اختر حسین رائے پوری کا ایک افسانہ اس کے کچھ بعد کا ہے۔ ’’جسم کی پکار‘‘، اس میں بھی ہم جنسی کا موضوع لیا گیا ہے، لڑکے اور استاد کے بارے میں۔ ہوسکتا ہے ہمارے ان بزرگ نے، جن کا تم نے ابھی ذکر کیا ہے، اس افسانے اور ’’پھسلن‘‘ کو اپنے ذہن میں گڈمڈ کردیا ہو۔ ’’جسم کی پکار‘‘ میں یہ ضرور ہے کہ ایک لڑکا ہے، اس کو ایک طرح کی دلکشی اور دلچسپی محسوس ہوتی ہے اپنے استاد میں، اس کی جسمانی صفات، مثلاً وہ قدآور ہے، اس کی پنڈلیوں پر بال بہت ہیں، وغیرہ، یہ چیزیں اس لڑکے کو بے چین کرتی ہیں۔ 

    ’’پھسلن‘‘ میں تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے استاد شاگرد وغیرہ کا۔ اگر کسی نے یہ کہا کہ ’’پھسلن‘‘ میں عسکری صاحب نے اپنے اور فراق صاحب کے تعلقات بیان کیے ہیں تو اول تو یہ بات ہی بے بنیاد ہے کہ عسکری اور فراق میں شاگردی استادی کے سواکوئی اور رشتہ بھی تھا، اور دوسری بات یہ کہ ’’پھسلن‘‘ میں یہ موضوع ہی نہیں ہے استاد اور شاگرد کے درمیان کسی جسمانی کشش یا تعلق کا۔ یہ افسانہ ’’جسم کی پکار‘‘ کے مقابلے میں بہت زیادہ پیچیدہ، اور ایک طرح سے گھبرادینے والا ہے۔ اس میں نوکر اور مالک کے معاملات ہیں۔ ایک بالغ ہوتا ہوا نوکر ہے، اور اس سے کچھ کم عمر کا لڑکا ہے جو صاحب خانہ کا لڑکا ہے۔ 

    ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ زیادہ تر اندر ہی اندر ہے، باہر ابھی کچھ بہت نظر نہیں آتا۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ اس کو کھلے بندوں چھوتا ہے، اس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ یہ سب کچھ نہیں ہے بس اندر ہی اندر جو کچھ ہے، ہم آہستہ آہستہ اس سے واقف ہوتے ہیں۔ تو اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں غیر معمولی حبس، بلکہ احتباس ہے۔ اس حیثیت میں یہ افسانہ مجھے ٹامس مان (Thomas Mann) کے افسانے Death in Venice کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں ایک بزرگ مصنف ایک لڑکے کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اس کو وہ ریسٹوراں میں دیکھتا ہے اور اس پر عاشق ہوجاتا ہے۔ سارے افسانے میں ایک دفعہ بھی ان کی آپس میں بات نہیں ہوتی ہے۔ وہ اس کو دور سے دیکھتا ہے، اس کے پیچھے پیچھے جہاں جہاں وہ جاتا ہے، وہاں ا ٹھتا بیٹھتا ہے۔ لیکن اس کمبخت نے کبھی اس سے ایک جملہ بات بھی نہیں کی یہاں تک کہ وہ خودکشی بھی کرلیتا ہے۔ اپنے کو گولی مار لیتا ہے۔ وہ افسانہ نگار اور وہ سارا افسانہ پھر بھی جنسی احتباس سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن بار بار کوفت ہوتی ہے کہ کمبخت کچھ کرتا کیوں نہیں۔ اپنی اور ہماری جان کیوں جلائے جارہا ہے؟ ’’پھسلن‘‘ کا تقریباً وہی معاملہ ہے کہ دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بیشتر اس نوکر، نذرو جس کا نام ہے، کی باتوں اور جھجکتی ہوئی حرکتوں، یا صاحب خانہ کے لڑکے جمیل کے اسکولی مشاہدوں اور ذہنی کوائف میں ہے۔ آگے بڑھ جانے کی تو کوئی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ تو ’’پھسلن‘‘ بہت غیرمعمولی افسانہ ہے اور یہ بالکل ہی غلط مفروضہ ہے کہ اس میں استاد شاگرد کے آپسی جنسی تعلقات کا بیان ہے اور یہ بات کہیں سے بھی ثابت نہیں، بلکہ ایسی کوئی افواہ بھی میں نے نہیں سنی کہ عسکری اور فراق میں کچھ رشتہ اور بھی تھا۔ 

    تو انہوں نے افسانہ نگاری چھوڑ کیوں دی جب کہ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ میں افسانہ نگار پہلے ہوں اور باقی چیزیں بعد میں ہوں؟ اس کا جواب میں نے ابھی تلاش نہیں کیا ہے۔ بہرحال، کچھ باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ افسانہ نگاری انہوں نے یوں ترک کی ہوگی شاید کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہو کہ بطور نقاد جو ان کا منصب ہے کہ معاصر اردو ادب اور ادیبوں کو وہ ایک خاص راستے پر لگائیں یا انہوں نے جو سوچا یا پڑھا ہے ادب کے بارے میں، اسے اوروں تک پہنچائیں، اس میں رخنہ انداز ہوتی ہوگی ان کی افسانہ نگاری۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے انگریزی اورفرانسیسی فکشن بہت سارا ترجمہ کیا۔ تو ایک حد تک ان کا افسانہ نگاری کا جو شوق تھا یا جبلت تھی وہ بڑی حدتک تراجم سے آسودہ ہوگئی۔ ترجمے کو وہ جتنی اہمیت دیتے تھے، تم اس سے واقف ہو۔ 

    سوال: بات افسانے پر ہو رہی ہے تو اور آگے اس کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے غلام عباس پر مضمون لکھا ہے، منٹو اور انتظار حسین پر بھی لکھا۔ آپ کے نزدیک ان تین افسانہ نگاروں میں وہ کون سی خوبیاں تھیں جن سے وہ متاثر تھے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: انتظار حسین تو بہت بعد میں آئے۔ غلام عباس ایسے ہرگز نہیں تھے کہ وہ کہیں سے عسکری کو متاثر کرتے۔ عسکری صاحب کو تو ہم سب غلام عباس سے بہت اچھا افسانہ نگار مانتے ہیں۔ ان کے دو مشہور افسانے تو انگریزی سے مستعار ہیں، لیکن خیر وہ بھی اچھے افسانہ نگار تھے۔ عسکری صاحب اس معنی میں فقیدالمثال ہیں کہ عسکری کے سارے افسانوں کا محور انسانی تعلقات اور جنسی تحرکات ہیں۔ جنسی ہیجانات تحرکات اور تعلقات کااتنا باریک تجزیہ اور کسی کے یہاں نہیں ملتا۔ مثلاً منٹو کے یہاں جنس کے معاملات کا بہت گہرا مطالعہ ہے، لیکن منٹو کے یہاں یہ ایک ذریعہ ہے کچھ اور باتیں بیان کرنے کا، کسی نکتے کو واضح کرنے کا۔ جسے انگریزی میں کہیں He wants to put across a point. منٹو کے یہاں جو جنسی تحرکات کا بیان ہے تو وہ مقصود بالذات نہیں ہے۔ وہ ذریعہ ہے کردار نگاری کا، یا کسی طبقے کے بارے میں کوئی بات بیان کرنے کا۔ بابو گوپی ناتھ ہیں، سو گندھی ہے، یا ’’بو‘‘ کی گھاٹن ہے، یہ سب کسی پیغام کے حامل ہیں۔ عسکری کا افسانوں کا میدان صحیح معنی میں جنس کی نفسیات ہے۔ ان میں کوئی پیغام، کوئی تعلیم، کوئی سبق نہیں۔ 

    سوال: تو کیا یہ کہا جائے کہ عسکری صاحب کے افسانوں میں زندگی کے بارے میں کوئی بصیرت نہیں ملتی؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: یہی تو لطف کی بات ہے کہ بصیرت پھر بھی موجود ہے۔ لیکن ’’بصیرت‘‘ وغیرہ کو عسکری صاحب کچھ زیادہ اہمیت دیتے نہیں تھے۔ ان کی نظر میں ادب کا سب سے بڑا فائدہ اس کی بصیرتوں میں نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت میں تھا کہ وہ ہمیں اپنے وجود سے روشناس کراتا ہے۔ بودلیئر کا یہ قول کتنا زبردست ہے کہ میرا قاری میرا بھائی ہے، اور ہر قاری ریاکار ہوتا ہے۔ 

    سوال: بودلیئر کے ذکر نے میرے سوالوں کا رخ ایک بار پھر محمد حسن عسکری کے فکری میلانات کی طرف پھیردیا۔ یہ بات تو درست ہے کہ آخری زمانے میں ان کے افکار کا مرکز مغرب سے ہٹ کر مشرق میں آگیا تھا، لیکن’’جدیدیت، یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ جیسی کتاب انہوں نے کیوں لکھی؟ یہ تو ایک طرح سے وہ اپنے ہی اوپر فرد جرم عائد کر رہے تھے۔ 

    دوسری بات یہ کہ جن لوگوں نے صرف اس کتاب کا نام سنا ہے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ عسکری صاحب نے اردو میں جدیدیت کے خلاف لکھا ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ ان کی یہ کتاب ان کے اسلامی افکار، یا انتہا پسندانہ مشرقیت کا اظہار کرتی ہے۔ مگر اس کے نام میں انہوں نے ’’جدیدیت‘‘ کا لفظ کیوں ڈال دیا؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: ’’جدیدیت‘‘ کی اصطلاح عسکری صاحب پہلے بھی استعمال کرچکے ہیں، میر والے مضمون میں۔ اور وہاں بھی ان کا مطلب اس اصطلاح سے وہ نہیں تھا جس طرح سے عام طور پر ہم لوگ آج مراد لیتے ہیں۔ یعنی ہماری اصطلاح میں جدیدیت وہ ادبی رجحان ہے جو اردو ادب میں ۱۹۶۰ کے آس پاس نمایاں ہوا۔ جدیدیت ہندوپاک میں بہت مقبول رہی اور اب بھی زندہ اور فعال ہے۔ یہ وہ رجحان، یا وہ طرز فکر، یا تحریک ہے، آپ جو بھی کہہ لیجیے، جس نے ادب کی ادبی حیثیت، اور فن کار کی فنی اور ذہنی آزادی کو قائم کرنے میں بہت سعی کی، اور اس مہم میں بالآخر کامیابی حاصل کی۔ جدیدیت نہ ہوتی تو وہ لوگ بھی نہ ہوتے جو آج جدیدیت کو برابھلا کہنا اپنا مذہبی یا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ 

    محمد حسن عسکری جس چیز کو ’’جدیدیت‘‘ کہتے ہیں، وہ اردو ادب کی جدیدیت پسندی نہیں ہے۔ اسے ہم مغربی Enlightenment کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کا ترجمہ ’’روشن فکری‘‘ فارسی میں ہے اور اب اردو میں بھی یہی رائج ہے۔ جب عسکری کا پہلا مضمون چھپا، جس میں انہوں نے یہ اصطلاح استعمال کی ہے، یعنی میر والے مضمون میں، تو اس وقت ’’روشن فکری‘‘ اصطلاح اردو میں تھی نہیں۔ اور عسکری صاحب نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اٹھارویں صدی میں جو فکر نمودار ہوتی ہے یورپ میں، وہ پرانی فکر سے اور عیسائیت سے بھی خود کو الگ کرتی ہے، غالباً یہ خیال کیا کہ اس کو جدیدیت کیوں نہ کہہ دیا جائے؟ ورنہ اس معنی میں ’’جدیدیت‘‘ کی اصطلاح نہ یورپ میں استعمال ہوئی نہ اردو میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ بات سمجھ لینے کی ہے۔ 

    اچھا اب سوال یہ ہے کہ عسکری صاحب کیوں خفا ہیں اس شے سے جسے وہ جدیدیت کہتے ہیں اور ہم آپ روشن فکری کہتے ہیں؟ اس کی دو وجہیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ ہر اس فکر سے ناخوش ہیں اور نامطمئن ہیں جس کی بنیاد یونانی فکر پر ہے۔ اور جیسا کہ انہوں نے لکھا بھی ہے غالباً مولانا محمود الحسن دیوبندی کے حوالے سے، کہ یونانی فلسفیوں سے بڑھ کر کوئی احمق طبقہ پیدا نہیں ہوا۔ اسی کتاب میں کہیں لکھا ہے انہوں نے۔ ظاہر ہے سب اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔ لیکن وجود کے اور روح کے مراتب اور مادے کے جو حدود ہیں ان کے بارے میں جو نظریات افلاطون اور ارسطو نے پیش کیے ہیں وہ عسکری صاحب کو قبول نہیں تھے، یا نارسا معلوم ہوتے تھے۔ اس کے برخلاف وہ اسلامی مفکروں، اور خاص کر ان مفکروں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم آپ نوافلاطونی کہتے ہیں اور جنہوں نے روح اور مادے کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 

    عسکری صاحب نے یونان کے ان مفکروں کو تقریباً چھوڑدیا ہے جو افلاطون سے پہلے کے ہیں۔ اور ایک آدھ جو افلاطون کے بعد کے ہیں جیسے فلاطینوس (Plotinus) جو کہ نوافلاطونیت کا بانی کہا جاتاہے، اس کے یہاں روحانی فضا بہت ملتی ہے۔ اس کو بھی انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔ افلاطون کے پہلے کے لوگ دو طرح کے تھے۔ ایک تو وہ تھے جو نہ تو مادہ پرست تھے اور نہ روحانیت پرست، بلکہ وہ صرف عقل کی، مشاہدے کی بات کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جو چیز عقل اور مشاہدے سے ثابت نہیں ہوسکتی، اس کے وجود کے بارے میں ہماری رائے ہوسکتی ہے، ہمارا علم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مشہور جملہ ہے ہراقلیطوس (Heraclitus) کا، کہ سواے ایٹم کے اور خلا کے کچھ بھی نہیں۔ (Nothing exists but atoms and space.) اور کسی چیز کے بارے میں ہم کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہے کہ نہیں۔ اس طرح کی اور بہت سی باتیں تھیں۔ تو عسکری صاحب نے ان کو چھوڑ دیا ہے، گورجیاس (Gorgias) جیسے عقلیت پرستوں کو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے صرف افلاطونی اور ارسطوئی فکر پر اپنا زور صرف کیا ہے، اور خاص کر ان لوگوں کے علم الوجود، مابعد الطبیعیات اور علم العلم کو۔ 

    روشن فکری نے ارسطوئی اور افلاطونی فکر کی بہت سی چیزوں کو مسترد تو کیا مگر Enlightenment عسکری صاحب کو اس لیے قبول نہیں ہوا کہ خدا کو بھی Enlightenment نے مسترد کردیا۔ اور اگر خدا کو معرض بحث میں لایا بھی گیا تو اس طرح کہ کائنات ایک ایسی شے ہے جس کے اسباب و عمل کا ہم جائزہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی چیز کیوں پیدا ہوئی، کیسے بنی، کیسے مرتقی ہوئی؟ ان سوالوں پر غور کیا جاسکتاہے۔ مگر روشن فکری نے یہ بھی کہا کہ ان جائزوں کے لیے کسی مافوق الفطری یا کسی روحانی قوت کے وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 

    دوسری بات یہ کہی Enlightenment نے کہ ہم ہر اس چیز کو لاسکتے ہیں معرض شک میں جس کے بارے میں ہمیں عقل سے شہادت نہ مل سکے۔ یا جسے ہم عقل کی بنیاد پر سمجھ نہ سکیں۔ چنانچہ جیسا کہ تم جانتے ہو کہ سب سے پہلے انجیل کی کتابوں کے بارے میں سوالات اٹھے۔ انجیل میں بہت سے ایسے مقامات آتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، یا اللہ تعالیٰ کی آنکھ، تو اس سے کیا مراد ہے؟ قرآن میں بھی اس طرح ذکر آتا ہے۔ تو اس سے کیا مراد ہے؟ اسلامی مفسروں نے تو یہ کہا کہ معنی تو معلوم ہیں، لیکن کیفیت نہیں معلوم ہے۔ لیکن مغربی روشن فکری اس پر مطمئن نہیں تھی۔ وہ لوگ پوچھتے تھے کہ کیا مطلب ہے اس بات کا، کیفیت کیا ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ کی صفت بصارت ہے تو کیا اس کی آنکھیں بھی ہیں؟ اگر نہیں تو کتب مقدسہ میں کیوں ذکر ہے؟ انجیل میں تو ایسا ہی لکھا گیا ہے۔ تو انجیل میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو سائنس، یا مشاہدے، یا فکر کی روشنی میں غلط معلوم ہوتی ہیں۔ ان کو کس طرح صحیح ماناجائے، یا ان کی کیا تعبیر کی جائے کہ انجیل کو بھی صدمہ نہ ہو، اورحقیقت بھی مجروح نہ ہو؟ 

    پرانے مفسرین انجیل نے کشف کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا کہ کائنات کی عمر چار ہزار آٹھ سو بہتر برس ہے۔ (ہمارے یہاں بھی بعض صوفیا نے کشف کی بناپر زمین کی عمر چھ ہزار برس متعین کی ہے۔ اگر ’’زمین‘‘ سے مراد انسانی تہذیب لی جائے تو یہ مدت کم و بیش درست لگتی ہے۔) اس کے مقابلے میں سائنس نے کہا کہ کائنات تو دور رہی، صرف زمین کی عمر کئی کروڑ برس ہے۔ اس طرح عقل کے دباؤ سے مجبور ہوکر انسانی زندگی کا محور عقیدے اور کشف اور روحانیت سے ہٹ کر عقلیت کی طرف منتقل ہوگیا۔ قبول سے زیادہ انکار پر قائم ہوا، اور کشف سے زیادہ استدلال پر قائم ہوا۔ لہٰذا عسکری صاحب کو یہ بہت باتیں ناگوار لگیں، بلکہ غلط معلوم ہوئیں۔ 

    ایک بات اور بھی ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جس کی بناپر مغرب کے مفکروں کا بھی روشن فکری پر مکمل اعتبار نہ رہا۔ اور وہ بات یہ ہے کہ روشن فکری نے غرور سے کام لیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ہم کائنات کے اسرار کو حل کرسکتے ہیں۔ اس نے سمجھا کہ کائنات تو ایک مشین کی طرح سے ہے اور آہستہ آہستہ ہم اس مشین کے پرزے الگ الگ کرکے د یکھ لیں گے کہ اس کی سائنس کیا ہے، یہ کن اصولوں پر بنی ہے، اور اس کی ٹکنالوجی کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہوا۔ کائنات کے اسرار جتنے کھلتے ہیں اتنی ہی زیادہ پیچیدہ وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ ابھی کچھ دن ہوئے میں نے طبیعیات کے نوبل انعام یافتہ مشہور سائنسداں اسٹیون وائنبرگ (Steven Weinberg) کا بیان پڑھا کہ کائنات جتنی ہی زیادہ تفہیم پذیر ہوتی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ وہ بے مقصود و مقصد بھی معلوم ہوتی ہے،

    The more the universe seems comprehensible, the more it seems pointless.

    ذرا دیکھیے، کل تک تو روشن خیالی کہہ رہی تھی کہ یہ کائنات ایسی ہے کہ اس کے وجوہ تخلیق، اور اس کا طریق نظم، دونوں کے وجوہ اور اسرار کو کھولنے کی قدرت سائنس کو حاصل ہے۔ اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمیں تخلیق کائنات کی کوئی وجہ ہی نہیں سمجھ میں آرہی ہے۔ 

    کچھ دن ہوئے میں نے ۲۸مارچ ۲۰۰۲ کے نیویارک ریویو آف بکس The New York Review of Books میں اس صدی کے بہت بڑے ماہر طبیعیات اور سائنسی مفکر فری مین ڈاسن (Freeman Dysen) کا بیان پڑھا کہ ایک لاشخصی کائنات میں انسان جیسے ذی شعور وجودوں کی موجودگی، زیست اور زبان کے اسرار، خیر و شر کا وجود، اور لزوم و احتمال کے معاملات، یہ فلکیات (Astronomy) اور طبیعیات کے اسرار سے بھی زیادہ بڑے اسرار ہیں۔ اور ان سوالوں کے آگے اور بھی سوال ہیں، ایسے جنہیں ہم پوچھ بھی نہیں سکتے۔ کائنات کے بارے میں یہ سوال وہ ہوں گے جنہیں مستقبل کے ذہن اور وجود اٹھاسکیں گے، ایسے وجود جن کے تصورات اور احساسات ہماری دسترس سے اتنے ہی دور ہوں گے جتنے کہ ہمارے تصورات و احساسات کسی کینچوئے کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو کائنات کیسی نظر آئے گی، اس کے بارے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے،

    The mysteries of life and language, good and evil, chance and necessity, and of our own existence as conscious beings in an impersonal cosmos are even greater than the mysteries of physics and astronomy… Beyond these questions are others that we cannot even ask, questions about the universe as it may be perceived in the future by minds whose thoughts and feelings are as inaccessible to us as our thoughts and feelings are to earthworms.

    روشن خیالی نے سرمایہ پرستی، قوم پرستی اور وطن پرستی کو فروغ دیا۔ ان چیزوں کی برائیاں آج ہم پر ظاہر ہیں۔ آئیسایا برلن (Isaiah Berlin) نے اپنے ایک مضمون میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کے خیالات نے دنیا کو نقصان عظیم پہنچایا۔ اس کی فہرست میں کئی Enlightenment والوں کے نام ہیں۔ پھر ظاہر ہے کہ عسکری صاحب کو روشن فکری ایک گہری گمراہی کے سوا اور کیا معلوم ہوتی؟ 

    آخری بات یہ کہ روشن فکری نے مادے کو کسی طرح نہ کسی طور پر فوقیت دی، روح سے انکار کیا۔ یا اگر انکار نہیں کیا تو یہ کہا کہ یہ ہمارے مطلب کی چیز نہیں ہے۔ اور جب روح سے انکار کیا، یا اعتراض کیا، تو جو بھی روحانی تعلقات انسان اور کائنات، یا کائنات کے بنانے والے کے درمیان قائم ہوسکتے ہیں، ان سے بھی انکار کردیا گیا۔ عسکری صاحب کا بار بار کہنا تھا کہ انسانی روح کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہونا چاہیے، اللہ جو کہ خالق کائنات ہے، اصل الاصول ہے، اول الاولین ہے، ہمارا مبدأ اور معاد ہے۔ اور یہ تعلق استوار ہوسکتا ہے صرف عقیدہ اور روایت کی بنیاد پر، عقل کی بنیاد پرنہیں۔ 

    عسکری صاحب کے یہاں روایت، جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں، زبانی تسلسل پر قائم تھی۔ اور ابھی بیسویں صدی کی آٹھویں نویں دہائی تک مغربی روشن فکری کی نظر میں زبانی روایت ہر جگہ غیر معتبر تھی۔ مغربی روشن فکری نے تحریر پر بہت اصرار کیا اور کہا کہ جو چیز لکھی ہوئی نہیں ہوگی اسے ہم نہیں مانیں گے۔ زبانی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں، یا غلط ہوسکتی ہیں، یا corrupt ہوسکتی ہیں۔ کسی بات کا سب سے اچھا ثبوت تحریری ثبوت ہے۔ 

    تو اس طرح سے جتنی بھی فکری بنیادیں ہیں روشن فکری کی وہ سب عسکری صاحب کو ناقبول تھیں۔ اور اس روشن فکری، اس Enlightenment کے نتیجے میں جو مادی اور مالی ترقی ہوئی Physics میں Medicine میں، اور دوسرے تمام سائنسی علوم میں، ٹیلیفون بنا، ریڈیو بنا اور ٹیوی بنا۔ کمپیوٹر بنا۔ انسان چاند تک پہنچا۔ انسان نے genetic code کو توڑنے کی کوشش کی اور بڑی حد تک اسے توڑ بھی لیا۔ ان چیزوں کی عسکری صاحب کے خیال میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب فروعی ہیں اور گویا حاشیے پر ہیں۔ انسان کا اصل مقصد سکون قلب (قلب مطمئنہ) حاصل کرنا اور خیر و خوبی کو پہچاننا اور فوق الانسان کے ابعاد کو سمجھنا ہے۔ یہ نہیں کہ آپ نے ٹیلیفون بنالیا اور یہاں سے بیٹھے بیٹھے آسٹریلیا، امریکہ، بات کرلی۔ یا آپ نے راکٹ بنالیا اور خود کو چاند تک پہنچادیا۔ یہ چیزیں تو محض شعبدے ہیں۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا،

    ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
    اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

    یہ بات صحیح ہے کہ سائنس بہت ترقی کر رہی ہے۔ لیکن انسان اب بھی نہیں سمجھ پایا کہ آخر اتنی بڑی کائنات کہاں سے آئی؟ اس میں اتنا مادہ (matter) کہاں سے آیا؟ اگر اللہ نے اسے نہیں بنایا تو کائنات کس نے بنائی؟ اگر یہ مادہ energy یعنی توانائی کی بدلی ہوئی صورت ہے تو توانائی کی اصل کیا ہے؟ اور کتنی بڑی کائنات ہے یہ؟ پھیل رہی ہے کہ سکڑ رہی ہے؟ ٹوٹ رہی ہے کہ بنتی چلی جارہی ہے؟ عسکری صاحب اس کتاب میں کہہ رہے تھے کہ جو بھی نظام فکر قائم کیا گیا ہے عقل اور دانش کے نتیجے میں، وہ انکاری ہے روحانیت کا، اور وہ خود شکوک سے بالاتر نہیں۔ روحانیت، اور اس کا لایا ہوا یقین ہی انسان کا اصل مقصود ہے۔ لہٰذا وہ ان سب چیزں کو گمراہی قرار دیتے ہیں جن پر آج کی مغربی دنیا قائم ہے۔ 

    اصل بات یہی ہے کہ دو الگ راستے ہیں۔ اگر انسان کا مقصود خدا کے وجود کے بارے میں چھان بین کرنا ہے تو اس کے لیے بھی بعض سائنس داں اب بھی کہتے ہیں کہ سائنس بتادے گی کہ اللہ میاں کہاں ہوتے ہیں؟ لیکن ہم کیسے ان تک پہنچ سکتے ہیں، اس کا جواب سائنس نہیں دیتی۔ روحانیت کہتی ہے کہ خدا اندر قیاس مانہ گنجد۔ یہ آلہ ہی بیکار ہے، دانش سے روح کی گتھی نہیں حل ہوتی۔ ہمیں کشف درکار ہے۔ اور کشف کا انکار سائنس اس لیے کرتی ہے کہ سائنس کہتی ہے کہ کشف بدلتا رہتا ہے، آج کچھ ہے کل کچھ ہے۔ 

    یا تمہارا کشف کچھ ہے ہمارا کشف کچھ ہے۔ اور ہر کشف سچا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور کشف کا کوئی Test نہیں، کوئی قاعدے نہیں۔ اس کے بدلے سائنس داں استدلال اور تحریر لاتا ہے۔ سائنس داں کہتا ہے کہ ہمارا ہر نظریہ کسی استدلال پر مبنی ہے اور استدلال کے مسترد ہوجانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ ہر استدلال کسی مشاہدے اور نظریے پر قائم ہوتا ہے۔ کوئی بہتر استدلال ہی پچھلے استدلال کو مسترد کرے گا، کوئی بہتر مشاہدہ یا نظریہ ہی پچھلے مشاہدے یا نظریے کو مسترد کرے گا۔ سائنس اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔ 

    تو یہ دو دھارے ہیں فکر کے۔ ایک دھارا وہ ہے جو کہتا ہے کہ انسان کے وجود کا مقصد روحانیت کے مراحل طے کرنا اور خالق کائنات کے نزدیک پہنچنا ہے۔ اسے ہم وصول الی اللہ کہتے ہیں، صوفیانہ زبان میں۔ وصول الی اللہ کے لیے تعلق مع اللہ قائم کرنا ہوگا۔ اور تعلق مع اللہ قائم کیسے ہوگا؟ تعلق مع اللہ قائم ہوگا روایت کی مختلف بصیرتوں کو اپنے اندر جذب کرنے سے۔ اور روایت کہاں سے آئی ہے؟ روایت آئی ہے پیغمبرؑ سے اور پیغمبرؑ کے ماننے والوں سے چلی آرہی ہے سینہ بہ سینہ۔ فکر کا دوسرا دھارا کہتا ہے نہیں، انسان کا مقصد کائنات میں اپنے وجود کو قائم و مستحکم کرنا اور ماحول یعنی Environment پر قابو پانا ہے۔ سردی لگ رہی ہے، گرم کپڑے پہنیے۔ گرمی لگ رہی ہے ایرکنڈیشنر چلا لیجیے۔ فاصلہ لمبا ہے، موٹر گاڑی پر بیٹھ جائیے، اور زیادہ لمبا ہے تو ہوائی جہاز، ورنہ راکٹ ہے۔ کوئی بیماری ہے، دوا کھالیجیے یا عمل جراحی سے تبدل عضو کرالیجیے۔ 

    وڈزورتھ کی (Wordsworth) مشہور نظم ہے،

    Three years she grew in sun and shower,
    Then nature said: a loverlier flower
    On earth was never sown;
    This child I to myself shall take,
    She shall be mine, and I will make
    A lady of my own.

    اب وہ لڑکی تین سال تک کھلے جنگلوں میں رہتی ہے، دھوپ میں طوفان میں، طرح طرح کے جنگلی جانوروں اور خطرات کے درمیان۔ بقول ورڈزورتھ اس طرح وہ فطرت سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے،

    She shall be sportive as the fawn
    That wild with glee across the lawn
    Or up the mountain springs;
    And hers shall be the breathing balm,
    And hers the silence and the calm
    Of mute, insensate things.

    اس پر بعض جدید نقادوں نے کہا فطرت سے ہم آہنگی تو درکنار، تین سال تک کسی نوزائیدہ لڑکی کو تنہا چھوڑ دیجیے جنگل میں تو وہ بھوک سے مر جائے گی، یا اس کو نمونیہ ہوجائے گا، یا لو لگ جائے گی، یا جانور کھاجائیں گے۔ یعنی بنیادی طور پر دنیا کا ماحول انسان کے لیے معاند Hostile ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ اس Hostile ماحول کو کس طرح قابو میں لائیں، یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ لیکن روحانیت کہتی ہے کہ نہیں، دکھ اٹھانا یا آرام سے رہنا، کائنات پر قابو پانا یا کائنات میں بیگانوں کی طرح رہنا، یہ مسائل غیر ضروری اور فروعی ہیں۔ جب تعلق مع اللہ قائم ہوجائے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یا پھر یہ سب باتیں غیراہم ہوجائیں گی، کیونکہ ہم بلند تر حقیقتوں سے ہم آہنگ ہوچکے ہوں گے۔ 

    تو جب عسکری صاحب اس اصول کے حامی ہیں کہ تعلق مع اللہ اور وصول الی اللہ ہی اصل چیز ہیں، تو ظاہر ہے کہ وہ تمام فلسفے جو اللہ کے وجود کو کہیں نہ کہیں منہا کرکے بات کرتے ہیں کائنات کے بارے میں، عسکری صاحب کی نظر میں گم راہی کے سوا کیا ٹھہریں گے؟ 

    سوال: تو کیا آپ کے خیال میں عسکری صاحب کا سارا اختلاف اس بات پر مرتکز تھا کہ مغرب کی تہذیب بے خدا تہذیب ہے اور مغرب کا معاشرہ بے دین معاشرہ ہے؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: اگر بہت موٹے اور عمومی طور سے کہی جائے تو یہ بات صحیح ہے۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کیونکہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی تہذیب خدا کو کیوں ترک کرتی ہے، اور کوئی معاشرہ بے دین کیوں ہوجاتا ہے؟ میں نے ابھی آئیسایا برلن کا ذکر کیا ہے کہ اس کی فہرست مجرمین میں کئی نام روشن فکری یعنی Enlightenment والوں کے ہیں۔ ابھی کچھ دن ہوئے سید حسین نصر کے ان خطبات کا مجموعہ شائع ہوا ہے جو انہوں نے مانچسٹر یونیورسٹی میں دیے تھے، سنہ ۲۰۰۰ میں۔ ان خطبات میں انہوں نے صاف کہا ہے کہ روشن خیالی آج کے تمام مسائل اور پریشانیوں اور خرابیوں کی بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ روشن خیالی نے انسان میں غرور (Hubris) اور خودپسندی پیدا کردی، اور ساری مشکلیں یہیں سے شروع ہوئیں۔ گویا مغرب کی لادینی سبب نہیں ہے، نتیجہ ہے مغرب کی دنیاے افکار میں خود پسندی اور غرور کے عناصر کے داخل ہونے کا۔ 

    سوال: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابلیس کے غرور نے جنت سے انسان کی بے دخلی کا سامان کیا، تو گویا روشن خیالی انسان کے ہبوط دوم کا سبب بنی، اور وجہ یہاں بھی وہی غرور تھا؟ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: ہاں، ایک طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا افسانہ غرور سے غرور تک کا افسانہ ہے۔ غرور کے باعث انسان اپنی ہستی کو ترک نہیں کرتا، اپنے سے بڑی کسی حقیقت میں، اپنے سے برتر کسی وجود میں اسے ضم نہیں کرتا۔ 

    سوال: یہ تو گویا وہی میر والی بات ہوگئی جو عسکری صاحب کہا کرتے تھے کہ میر بڑے شاعر ہیں کیونکہ وہ اپنی شخصیت کو اپنے معشوق کے سامنے بالکل ختم کرڈالتے ہیں۔ 

    شمس الرحمٰن فاروقی: میں تو اس سے اتفاق نہیں کرتا، جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں۔ بعض مسائل کے حل بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ حل انتہائی سادہ اور سڈول یا Elegant ہوتے ہیں۔ اب رہی Enlightenment کی بات، تو یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے، کہ عسکری صاحب، اور اب سید حسین نصر کا تجویز کردہ حل کچھ ضرورت سے زیادہ سادہ معلوم ہوتا ہے۔

     

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY