بیگم بااختیار
ڈپٹی نذیر احمد نے جس مثالی عورت کا خاکہ کھینچا، بیگم بااختیار نے اس کے بالکل الٹ اپنی ”اصلاح“ فرمائی۔ شکر ہے مولوی صاحب یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ نہیں، ورنہ بیگم کی خود مختاری دیکھ کر وہ صدمے سے اپنی ہی تصانیف کو عاق کر دیتے۔
ڈپٹی صاحب نے اپنی تصانیف میں والدین کو یہی سبق دیا کہ بیٹیوں کو کھانا پکانے، جھاڑو، پونچھا، سلائی، کڑھائی، بنائی، کپڑے دھونے، ہر سال بچہ پیدا کرنے، شوہر کے گھر آتے ہی اس کے پیر دبانے، وظیفۂ زوجیت کے لیے ہر وقت مستعد رہنے اور ساس سسر کی جی حضوری کے فن میں یکتا کر دیجیے۔ تعلیم، شخصیت، خواہشات اور عقل اگر کہیں راستے میں رہ بھی جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر امورِ خانہ داری ہی تو عورت کی معراج ہے اور اگر اس مقدس نصاب میں کہیں کمی رہ جائے تو پھر طلاق کا دیو ہیکل خوف ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔
بیگم کے والدِ مرحوم (جن کا نام بھی حسنِ اتفاق سے نذیر ہی تھا) نے ڈپٹی نذیر احمد کی تصانیف کا بغور مطالعہ فرما کر انہیں وہیں الماری میں محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا اور بیٹی کی پرورش ان کے بالکل برعکس کی۔ نتیجتاً بیگم نے بڑے ہو کر ڈپٹی صاحب کے پورے فکری نظام کو عملی طور پر غلط ثابت کر دیا!
بیگم کتنی بڑی افسر ہیں، اس کا اندازہ ان کے دفتر کے رقبے سے لگائیے، پورے بیس کنال۔ بعد میں پتہ چلا کہ دفتر نہیں، گھر تھا۔۔۔ مگر نگوڑا انٹرنیٹ بھی کیا شے ہے، آدمی لیپ ٹاپ کھولے تو ہر جگہ دفتر بن جاتا ہے۔
دفتر وہ بھی جاتی ہیں، مگر وہاں ان کے لیے جو کمرہ مخصوص ہے وہ ان کے پاوڈر روم سے بھی چھوٹا ہے۔ بڑی افسر ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جگہ کم ہو اور مصروفیت زیادہ دکھائی دے۔
گھر سے کام کرنے میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ بذریعہ انٹرنیٹ محمود و ایاز، دونوں کو حسبِ لیاقت گاجر یا چھڑی سے نوازا جا سکتا ہے۔ محمود سے مراد باس اور ایاز سے ماتحت ہیں۔ انٹرنیٹ نے دونوں کو پہلی بار ایک ہی قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔
بیگم سچ بات منہ پر کہنے کی عادی ہیں، مگر اس وقت تک جب تک اسے سفارتی زبان میں کہا جا سکے۔ مثلاً اگر خوابگاہ میں جمورا صاحب (شوہر نامدار) کتاب میں غرق ہوں اور بیگم پر نیند کا نزول ہو چکا ہو تو نہایت شفقت سے فرمائیں گی، آپ تھک گئے ہوں گے۔ رات بھی خاصی بیت چکی ہے۔ اب سو جائیے۔
جمورا صاحب سدا کے سادے۔ بیگم کی دردمندی پر فوراً ریجھ جاتے ہیں۔ مگر بلا کے غیر سفارتی اور غیر پارلیمانی انسان ہیں۔ جھٹ بول اٹھتے ہیں، نہیں بیگم! میں تو بالکل تھکا ہوا نہیں۔ سو فیصد تر و تازہ ہوں!
بیگم کا سفارتی دور یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ فرماتی ہیں، ابے، تجھے عزت راس نہیں آتی؟ میں تھکی ہوئی ہوں۔ لائٹ آف کر کے سو جا۔ اور اگر مطالعے کی ایسی ہی کھجلی ہے تو گلی کے کھمبے کے نیچے اسپیشل بلب لگا ہوا ہے، جا وہاں بیٹھ کر پڑھ۔
جمورا صاحب بیگم کی سلیس زبان برسوں سے پڑھتے آ رہے تھے، سو فوراً مفہوم تک پہنچ گئے اور کتاب اٹھا کر باہر روانہ ہو گئے۔
گھر سے کام کرنے میں مگر ایک قباحت بھی ہے۔ کورونا کی برکت سے بچے بھی اسکول کا سارا ادھم گھر ہی مچائے رکھتے ہیں۔ بیگم ہر وقت کسی نہ کسی تخلیقی عمل (جسے سرکاری زبان میں بیوروکریٹک بھی کہتے ہیں۔) میں مصروف رہتی ہیں، اس لیے بچوں کا شور ان کی یکسوئی کا تیا پانچہ کر دیتا ہے۔ چنانچہ یہ علی الصبح، یعنی قریب دوپہر دو بجے، دفتر تشریف لے جاتی ہیں۔
جمورا صاحب اعلیٰ پائے کے صحافی، ادیب اور شاعر ہیں۔ یوٹیوب پر لاکھوں پرستار ہیں۔ بیگم کا دعویٰ ہے کہ یہ سارے پرستار انہیں کی تخلیق ہیں۔ گزشتہ پندرہ برس سے رات دن ایک کر کے جعلی اکاؤنٹ بناتے آئے ہیں۔ سچ کیا ہے، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جمورا صاحب ملکی اور غیر ملکی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں اور اتنا کما ہی لیتے ہیں کہ بیگم کی کم از کم ایک لپ اسٹک کا خرچ نکل آتا ہے۔
جب بیگم شکرِ دوپہر (اپنے حساب سے صبحِ کاذب) بچوں کے شور سے گھبرا کر دفتر روانہ ہوتی ہیں تو جمورا صاحب بھنا کر کہتے ہیں، ”یہ ای میلیں لکھنا بھی کوئی تخلیقی کام ہے؟ مجھے دیکھو۔ غزل، نظم، افسانہ، ناول، تحقیقی مقالے، ترجمے، کالم۔۔۔ جانے کیا کیا چوبیس گھنٹے کے شور میں لکھ دیتا ہوں۔ پھر بھی فرصت مل جائے تو طبلہ بھی بجا لیتا ہوں۔ اگر غالب یا شیکسپیر میری جگہ ہوتے تو کب کے قلم چھوڑ کر قلفی بیچ رہے ہوتے۔“
بیگم فوراً اصلاح فرماتی ہیں، قلفی ہی بیچتے تو کیا اچھا تھا۔ اس میں منافع زیادہ ہے، مغز ماری کم۔ مجھے دیکھو، ایک ای میل لکھ کر لاکھوں کما لیتی ہوں۔
بیگم دفتر سنبھالتی ہیں اور جمورا صاحب بچوں کی آیا بنے رہتے ہیں۔ بیچ میں اگر فراغت کے چند لمحے میسر آ جائیں تو کچھ لکھ پڑھ لیتے ہے۔ اسی اثنا میں جمورا صاحب کو بار بار یہ خیال آتا ہے کہ کاش ڈپٹی نذیر احمد کی تراشی ہوئی مثالی عورت سے ہی شادی کر لی ہوتی!
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لو میرج تھی، اور پروپوزل بھی بیگم ہی کی طرف سے آیا تھا۔ جمورا صاحب ساری عمر اسی نیک فہمی میں رہے کہ دیکھو، ایک معمولی رائٹر کی کتنی بڑی قسمت کہ اتنی ہائی پروفائل، وی آئی پی ورکنگ لیڈی خود چل کر ان کے حلقۂ زوجیت میں آ گئی۔
سادگی کا یہ عالم کہ یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ بیگم کو دراصل شوہر نہیں، ایک ایسا ہمہ وقت دستیاب ملازم مطلوب تھا جس کی تنخواہ بھی نہ دینی پڑے۔
رات آٹھ یا نو کے درمیان جمورا صاحب کسی تخلیقی عمل میں غرق ہوتے ہیں کہ اچانک بیگم صاحبہ کی گاڑی کا ہارن پورے فلسفے کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ سوچوں کا تسلسل یوں ٹوٹتا ہے جیسے کسی سنجیدہ ناول کے بیچ میں دروازے پر دودھ والا دستک دے دے۔
یہ بھی عرض ہے کہ انہیں نوکر نہیں ملتا، باوجود اس کے کہ تنخواہ خاصی معقول رکھتے ہیں۔ شاید اسی محرومی کے باعث بیگم نے بھی ان سے شادی کو ایک ”آزمائشی تقرری“ سمجھ کر قبول کیا تھا۔۔۔ آنٹرے پرینیور تھے، اور نو سے پانچ والی ذلت سے آزاد۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ یہ آزادی محض ایک نئے درجے کی ذلت کا آغاز ہے۔۔۔ جہاں شوہر ایک ساتھ خانساماں، گیٹ کیپر, مالی اور حسبِ ضرورت دیگر غیر مختص شعبہ جات کا اضافی چارج بھی سنبھالتا ہے۔
یہ بیگم کے سب ہی کچھ تھے، سوائے ڈرائیور کے۔۔۔ کیونکہ بیگم کو ڈرائیونگ سے عشق تھا۔ گاڑی کو وہ کسی لڑاکا طیارے کی طرح اڑاتی ہیں، وہ بھی بغیر لائسنس اور اکثر بغیر کاغذات کے۔ جمورا صاحب کا تو ہر سفر میں یہی خیال رہتا ہے کہ شاید یہ آخری اسٹاپ ہو۔ اگر کبھی رفتار کم کرنے کی درخواست کریں تو جواب ملتا ہے، کاہے کا ڈر ہے جی، آپ تو بیمہ شدہ ہیں!
ایک دفعہ بیگم نے لال بتی والا اشارہ بھی توڑ دیا۔ اتفاق سے وہاں انسپکٹر موجود تھا۔ بیگم نے بلا تردد گاڑی روکی، چابی اس کے ہاتھ میں تھمائی اور بڑے اطمینان سے فرمایا، نہ لائسنس ہے، نہ کاغذات۔۔۔ گاڑی سرکاری ہے، بند کر دیجئے اور مجھے کریم کرا دیجئے گے۔ ان کی اس دیدہ دلیری نے انسپکٹر کے چھکے چھڑا دیے۔ وہ فوراً چابی بیگم کے ہاتھ میں واپس دے کر یہ جا وہ جا۔
اب یہ بھنا کر دل ہی دل میں دھرپدی انگ میں ایک موٹی سی گالی (اپنے آپ کو) دے کر، پیر پٹختے ہوئے گیٹ کھولنے چل دیتے ہیں۔ ابھی لانج تک ہی پہنچے ہوتے ہیں کہ بیگم کا فون آ جاتا ہے اور ساتھ ہی ہارن دوبارہ چنگھاڑ اٹھتا ہے۔ فون پر بیگم انہیں صلواتیں سناتی ہیں کہ ایک گھنٹہ ہو گیا گیٹ کے باہر۔ کہاں مر گئے ہو؟ یہ دل ہی دل میں کہتے ہیں، بہت ہی بے صبر عورت ہے!
خیر، گرتے پڑتے، مرتے کھپتے، ہانپتے کانپتے اور پسینے میں شرابور یہ گیٹ تک پہنچتے ہیں۔ بیگم گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہو جاتی ہیں۔ یہ ویلے کی طرح گاڑی اندر لے آتے ہیں، سامان نکالتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی فطری خفت بھی جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب یہ بھی ایسے نہیں کہ بیگم کے سامنے چوبیس گھنٹے بھیگی بلی بنے رہیں۔ دماغ بھنوٹ ہو جائے تو بیگم کی بھی طبیعت صاف کر دیتے ہیں۔ ویسے ان کا یہ اندازِ تکلم بیگم کو اندر ہی اندر بے حد پسند ہے، البتہ اوپر اوپر سے وہ اس کی بھرپور مذمت فرماتی ہیں۔۔۔ تاکہ توازنِ رشتہ برقرار رہے۔
ارے آج پھر آپ دس بیس سیر نئی کتابیں لے آئیں! ہزاروں پہلے سے موجود ہیں جو گرد چاٹ رہی ہیں، پہلے انہیں تو پڑھ لیجیے!
بیگم کے گھر میں قریب دو درجن کمرے ہیں۔ ایک درجن میں کتابوں نے باقاعدہ ڈیرہ جما رکھا ہے۔ باقی جو رہائشی استعمال سے بچے ہیں وہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر آرائشی سامان سے اس درجہ بھرے ہوئے ہیں کہ آدمی داخل ہو تو باہر نکلنے کی نیت فوراً ترک کر دے۔
بیگم کا لان بھی کوئی پچیس کنال کا ہے۔ روز جمورا صاحب سے فرمائش ہوتی ہے کہ آدھے پر مزید کمرے ڈلوا دیے جائیں۔ نت نئے برانڈ روز متعارف ہو رہے ہیں، سیل بھی جاری ہے، مگر گھر میں رکھنے کی گنجائش مسلسل غیر حاضر ہے۔ جمورا صاحب حسبِ معمول ہاں میں ہاں ملا کر اس مسئلے کو بھی مستقبل کی فائل میں ڈال دیتے ہیں۔
اجی یہ کام کا لٹریچر ہے۔ وہ پھٹیچر نہیں جو آپ ٹنوں کے حساب سے روز لکھتے ہیں۔ بیگم تنک کر جواب دیتی ہیں۔
کتابیں ضرور خریدیں مگر ردی اکھٹا کرنے کی غرض سے نہیں۔ پڑھتی تو آپ ہیں نہیں!
جب پڑھنے بیٹھتی ہوں تو آپ شکایت کرتے ہیں کہ ہر وقت کتابیں ہی پڑھتی رہتی ہوں۔ انسان بھی کسی حال میں خوش نہیں رہتا!
یہ چپ ہو جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ جب آدم نہ سمجھا سکا حوا کو تو بندہ کیا بیچتا ہے!
اچھا یہ ڈھیر سارے جوتے، ملبوسات، پرفیومز اور میک اپ کا سامان؟ یہ پھر لے آئیں آپ گاڑی بھر کے۔ اگر آپ دن میں دو بار بھی لباس تبدیل کریں تو رہتی زندگی تک یہ ہی نہیں ختم ہونے والے جو آج کل چوہے کتر رہے ہیں!
چوہے یوں کتر رہے ہیں کہ آپ مزید کمرے جو نہیں تعمیر کرواتے۔ جب اللہ نے دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کروں؟ آپ جانتے نہیں کتنے گھروں کا چولہا جلتا ہے میری شاپنگ کی بدولت!
پر کریڈٹ کارڈ تو آپ اللہ میاں کا نہیں میرا استعمال کرتی ہیں! اس سے ہی سب کا چولہا جل رہا ہے۔ جمورا صاحب یاد دلاتے ہیں۔
آپ کو بھی اللہ نے میرے طفیل ہی نوازا ہے۔ دولت عورت کی وجہ سے ہی آتی ہے مرد کے پاس! بیگم انہیں یاد دلاتی ہیں۔ خیر یہ چپ ہو جاتے ہیں۔
کھانے میں کیا ہے؟ بیگم پوچھتی ہیں۔ وہی ہے جو کل پکایا تھا۔ جمورا صاحب جواب دیتے ہیں۔ یہ بلا کے شیف ہیں۔ انتہائی ذائقے دار کھانا بناتے ہیں۔
آپکو معلوم ہے میں روز روز ایک ہی کھانا نہیں کھا سکتی۔ مجھ سے دیوانہ وار محبت کا دعوی تو کرتے ہیں مگر تازہ کھانا نہیں بنا سکتے!
بیگم کا شکوہ سن کر جمورا صاحب فون کر کے کہیں سے بھی تازہ کھانا (جو دراصل باسی تواسی ہوتا ہے) منگواتے ہیں جو بیگم شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ پھر اس کے بعد ان سے کہتی ہیں کہ وہ بہت تھک گئی ہیں۔ آرام کرنا چاہتی ہیں۔ بچوں کو کھانا کھلا کر سلا دیجئے گا اور اگر صبح سکول جانا ہو تو اٹھ کر تیار کروا کے چھوڑ بھی آئیے گا۔ جمورا صاحب کہتے ہیں، جی جناب! اور ویسا ہی کرتے ہیں جیسا حکم صادر ہوا تھا۔ رات گئے ساڑھے تین بجے تک کام کرنے کے باوجود تمام امور خانہ داری احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں بالکل ڈپٹی نذیر احمد کی اصغری کی طرح!
یوں سارا دن طنز، شکوے، خدمت اور ہنسی ملاحظہ ایک ہی چھت کے نیچے سانس لیتے رہتے ہیں۔ جمورا صاحب کبھی خود کو مظلوم سمجھتے ہیں، کبھی بیگم کو نظامِ کار، مگر دونوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سب شکایات اصل میں محبت کے ہی مختلف لہجے ہیں۔
رات کے کسی لمحے میں، جب گھر کی آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں، تو دونوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سارا شور بھی انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھنے کا بہانہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید رہ سکتے ہیں۔ اور یہی ان کی روزمرہ کی سب سے خوبصورت شرارت ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.