Dozakhi

Ismat Chughtai

Dozakhi

Ismat Chughtai

MORE BYIsmat Chughtai

    INTERESTING FACT

    سعادت حسن منٹو کا اقتباس اس خاکہ کے بارے میں ’’ساقی‘‘ میں ’’دوزخی‘‘ چھپا۔ میری بہن نے پڑھا اور مجھ سے کہا۔’’سعادت! یہ عصمت کتنی بے ہودہ ہے۔ اپنے موئے بھائی کو بھی نہیں چھوڑا کم بخت نے۔ کیسی کیسی فضول باتیں لکھی ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔’’ اقبال اگر میری موت پر تم ایسا ہی مضمون لکھنے کا وعدہ کرو۔ تو خدا کی قسم میں آج مرنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ شاہجہان نے اپنی محبوبہ کی یاد قائم رکھنے کیلئے تاج محل بنوایا۔ عصمت نے اپنے محبوب بھائی کی یاد میں’’دوزخی‘‘ لکھا۔ شاہجہان نے دوسروں سے پتھر اٹھوائے۔ انہیں ترشوایا اور اپنی محبوبہ کی لاش پر عظیم الشان عمارت تعمیر کرائی۔ عصمت نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے خواہرانہ جذبات چن چن کر ایک اونچا مچان تیار کیا اور اس پر نرم نرم ہاتھوں سے اپنے بھائی کی نعش رکھ دی۔ تاج شاہ جہان کی محبت کا برہنہ مرمریں اشتہار معلوم ہوتا ہے۔ لیکن’’دوزخی‘‘ عصمت کی محبت کا نہایت ہی لطیف اور حسین اشارہ ہے۔ وہ جنت جو اس مضمون میں آباد ہے۔ عنوان اس کا اشتہار نہیں دیتا۔

    This content is only available in

    Devanagari and Urdu

    Source:

    0
    COMMENTS
    VIEW COMMENTS

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY