جگر مرادآبادی

مظہر امام

جگر مرادآبادی

مظہر امام

MORE BYمظہر امام

    جگر صاحب کا نام بچپن سے ہی سنتاآیا تھا۔ میٹرک کا طالب علم تھا جب اپنے بڑے بھائی جناب حسن امام دردؔکے اصرار پر پہلی دفعہ کسی مشاعرہ میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ مجھے اس وقت تک شاعری، مضمون نگاری وغیرہ سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ شاید اس لیے کہ مجھ میں لکھنے لکھانے کی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ بھائی صاحب چھُپ چھُپ کر افسانے بھی لکھتے اور شعر بھی کہتے۔ میں اماں سے اس کی شکایت کیا کرتا۔ اور اسکول کی درسی کتابوں سے بے توجہی برتنے پر انھیں ڈانٹ پلواکر دل ہی دل میں خوش ہوتا۔ بھائی صاحب جانتےتھے کہ انھیں مشاعرے میں تنہا جانے کی اجازت نہیں مل سکتی اس لیے انھوں نے بہلا پھُسلاکر مجھے بھی چلنے کو رضامند کیا اور میرا سہارا لے کر اماں سے اجازت لی۔ مشاعرے کے لیے جگرؔصاحب کا ایک مصرع بہ طور طرح دیا گیا تھا:

    ‘نادیدہ اک نگاہ کیے جارہا ہوں’

    اس غزل کے ایک شعر نے عوام میں اچھی خاصی مقبولیت حاصل کرلی ہے:

    گلشن پرست ہوں، مجھے گل ہی نہیں عزیز

    کانٹوں سے بھی نباہ کیے جارہاہوں

    اس غزل کا ایک اور شعر بہت مشہور ہوا جسے اردو کے عمدہ اشعار میں شمار کرنا چاہیے:

    یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

    جیسے کوئی گناہ کیے جارہا ہوں میں

    میرے نیم پخت ذہن پر مشاعرے سے کس کس طرح کے اثرات مرتب ہوئے ان پر تفصیل سے روشنی ڈالنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ دوسرے ہی دن میں نے اسی طرح پر ایک غزل لکھنے کی کوشش کی۔ اگر میں اپنے پُرانے کاغذات تلاش کروں تو شاید وہ غزل بھی اپنی اصلی شکل میں مل جائے لیکن اس کے اشعار یہاں پیش کرکے میں آپ سے اپنی ہنسی کیوں اڑاؤں؟

    اتنا ہی نہیں، بلکہ اس مشاعرے کے بعد مجھ میں پہلی دفعہ درسی کتابوں کے علاوہ بھی کچھ لکھنے پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی، اور کچھ دنوں بعد جب اسکول میں گرما کی تعطیلات ہوئیں تو میں نے ایک ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں کم و بیش تیس چالیں ناول ختم کیے جن میں زیادہ تر فضل بک ڈپو کے جاسوسی ناول تھے یا پھر عبدالحلیم شررؔ کے نیم تاریخی ناول۔ میں نے اسی دوران میں ۲۱طبع زاد افسانے بھی لکھے۔ جی ہاں، اکیس! بس سمجھ لیجے، وہ افسانے کیسے رہے ہوں گے!!

    مختصر یہ کہ مجھ میں ادبی ذوق پیدا کرنے اور مجھے شاعری کی طرف راغب کرنے میں کسی نہ کسی طور پر جگرؔصاحب کا بھی حصہ ہے، یہ اور بات ہے کہ جگرؔ صاحب آخر وقت تک اس حقیقت سے بے خبر رہے۔

    جگرؔ صاحب کی دو غزلیں میٹرک کے نصاب میں شامل تھیں، جن میں سے ایک تو وہ تھی جس کامطلع ہے:

    کسی نے پھر نہ سُنا درد کے فسانے کو

    مرے نہ ہونے سے راحت ہوئی زمانے کو

    اور امتحان میں ایک دفعہ اسے میردردؔ کا مطلع سمجھ کر میں نے تشریح میں غلطی کی تھی۔ انھیں دنوں یا اس سے کچھ پہلے ‘‘مدینہ’’ بجنور میں ان کی غزلیں باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس وقت ‘‘مدینہ’’ اردو کا بڑا معیاری اور مقبول اخبار تھا۔ جگرؔ صاحب کی مشہور غزلیں یا نظمیں (جگر صاحب نے ان مسلسل غزلوں کونظموں میں شامل کیا ہے)

    آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی (‘‘یاد’’)

    اور۔۔

    مدّت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم (‘‘تجدید ملاقات’’)

    میں نے پہلی دفعہ ‘‘مدینہ’’ میں ہی پڑھی تھیں۔ ۱۷، ۱۸ سال پہلے کی بات کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ مؤخرالذکر غزل مسلسل کے ساتھ ایک ادارتی نوٹ بھی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ترک شراب اور نکاح ثانی کے بعد یہ جگرؔ صاحب کا پہلا کلام ہے۔

    جگرؔ صاحب کے متعلق اتنا کچھ سننے میں آتا کہ کم سے کم ان کی صورت دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہونا لازمی تھا۔ پھر ان کے مسحور کُن ترنم کے چرچے تھے۔ بعض احباب اور شناسا جگرؔ صاحب کے ترنمّ کی نقل بھی کیا کرتے۔ اس لیے انھیں ‘‘بہ نفس نفیس’’ سننے کا شوق بھی تھا، اور بعد میں ان سے ملنے، بات چیت کرنے اور ان کی ہم نشینی کا شرف حاصل کرنے کی آرزو بھی پیدا ہوئی۔ اپنی پسند کی بڑی شخصیتوں سے ملنے کی خواہش میرے نزدیک عین فطری ہے۔ میں نے تو بڑے سے بڑے ‘‘بے نیاز’’ قسم کے لوگوں کو بھی اسی آرزو میں تڑپتے دیکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا احساس کمتری ملنے ملانے میں پہل نہیں کرتا بلکہ متوقع رہتا ہے کہ ان سے بڑی شخصیت خود پہلے ان کی طرف متوجہ ہو۔

    جگرؔ صاحب سے میری پہلی اور آخری ملاقات ۱۹۵۳ء میں ہوئی جب میں کلکتہ میں تھا۔ ‘‘آتش گل’’ کو چھپوانے کا انتظام اے۔ڈی اظہر صاحب نے کیا تھا جو ان دنوں چٹگاؤں میں کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ آپ کو شعر وادب کا بہت اچھا ذوق تھا۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ان کی کوششوں سے ایک دفعہ حفیظؔ جالندھری کو چٹگاؤں میں پچیس ہزار روپے کی تھیلی پیش کی گئی تھی۔ آپ نے کلکتہ کے مشہور تاجر اور ‘‘عصر جدید’’ کے مالک خان بہادر محمد جان کے توسط سے جگرؔ صاحب کو رائلٹی کی رقم دلوانے کا بندوبست کیا تھا۔ جگرؔ صاحب روپے کی وصولی کے سلسلے میں کلکتہ آئے تھے اور اپنے ایک دیرینہ دوست کے یہاں کیننگ اسٹریٹ میں مقیم تھے۔ رائلٹی کی رقم کا صحیح علم نہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے ہزار روپے ملے ہیں، کسی نے بارہ سو بتائے۔ لیکن عام طور پر یہ سننے میں آیا کہ اظہر صاحب نے یہ مجموعہ پاکستان کے لیے دوہزار میں خریدا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو، البتہ میں نےجگر صاحب کی جیب میں سو سو کے کئی نوٹ اس شانِ بے نیازی سے رکھے ہوئے دیکھے تھے کہ ان کے کسی لمحے بھی جیب سے نکل کر گرپڑنے کا پورا امکان تھا۔

    اتفاق سے انھیں دنوں سی-ایم-او ہائی اسکول میں پہلی دفعہ بزم مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ پرویزؔ شاہدی اسکول کے نئے ہیڈ ماسٹر تھے، اور سالکؔ لکھنوی سکریٹری۔ میں بھی اس اسکول سے متعلق تھا۔ یہ اسکول یتیم خانہ اسلامیہ کلکتہ کا قائم کردہ ہے جس کے سکریٹری احمد اللہ بزمی انصاری ہیں۔ جگرؔ صاحب مشاعرے میں ‘‘بلامعاوضہ’’ شرکت کے لیے بلا تکلف تیار ہوگئے۔ وہاں انہوں نے تین غزلیں سنائیں، جن میں ایک وہ غزل تھی جس کا مشہور شعر ہے:

    تو مرے حالِ پریشاں پہ بہت طنز نہ کر

    اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

    حیدر آباد کے ایک صاحب تھے عبدالمجید، جنھوں نے اپنا نام پلٹ کر مجید عبدل رکھ لیا تھا۔ طبیعت میں مزاح تھا۔ لیکن اکثر وہ پھکڑ پن کی حدتک جا پہنچتا تھا۔ انھوں نے حسب عادت مشاعرہ میں ہوٹنگ کی کوشش کی، اور انھیں رُسوا ہوکر وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس کا انتقام لینے کے لیے انھوں نے مشاعرہ کا ایک طنزیہ خاکہ لکھا، جس میں کلکتہ کے چند شاعروں کے علاوہ جگرؔ صاحب کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ یہ خاکہ ۲۶اپریل ۵۳ء کے ہفتہ وار ‘‘امن’’ کلکتہ میں ‘‘ٹیکنی کلر۔اور مشاعرہ ہوتا رہا’’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ شاعروں کے نام بدل دیے گئے تھے، ‘‘قلب ماہیت’’ سے پرویزؔ شاہدی کو لبریز شہیدی، اشکؔ امرتسری کو مُشک عنبری، رضاؔ مظہری کو دغا مخبری، احسانؔ دربھنگوی کو اعلان دربدری، ابراہیم ہوشؔ کو جراثیم پوش، سالکؔ لکھنوی کو بالک نمائشی اور مجھے مسٹر ابہام بنادیا گیا تھا۔ جگرؔ صاحب کی بابت جو کچھ لکھا گیا، وہ ملاحظہ کیجیے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔

    ‘‘دگر برتن آبادی مائک پر تلملانے لگے۔ غزل تو پوری قابل داد تھی، لیکن ایک شعر میں موجودہ مشکلات کا حل اس خوش اسلوبی سے پیش کیا کہ (سامعین کے بارے میں تو کہہ نہیں سکتا) خود آپ دنگ رہ گئے۔ شعر میں محبوب کی زلفوں کو کھینچ تان کر جہاں جہاں پہنچایا ہے، اس کی قلمبندی مشکل ہے۔ غرض کپڑے کے ایک اہم مسئلے کو چٹکی میں حل کرکے رکھ دیا اور اس دور میں زلفوں کا ایسا کارآمد استعمال غریبوں کو کپڑے کی احتجاج سے بے نیاز کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ شعر گیسودراز ہیرآئیل کی تشہیر کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا تھا۔’’

    جگرؔ صاحب کلکتے میں دو ہفتوں سے زیادہ ہی ٹھہرے ہوں گے۔ میں کولو ٹولہ اسٹریٹ میں رہتا تھا جو کیننگ اسٹریٹ سے متصل ہے۔ جگرؔصاحب کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتا رہتا تھا۔ جب بھی گیا وہ تاش کھیلنے میں مصروف نظر آئے۔ کوئی ملنے والا آتا تو تاش چھوڑ کر اس کی طرف مخاطب ہوجاتے۔ ان کی گفتگو کا انداز بالکل ویسا ہی تھا، جیسا محمد طفیل اڈیٹر ‘‘نقوش’’ نے اپنے خاکے ‘‘جگرؔصاحب’’ میں پیش کیا ہے۔ ابھی سیاسیات پر گفتگو ہو ہی رہی ہے کہ اچانک تصوّف اور الہٰیات کی طرف مڑگئے، پھر عشقیہ شاعری کی طرف، پھر احباب کے بعض کارناموں کی طرف۔۔۔ باتیں اکثر اکھڑی اکھڑی اور بے ربط ہوتیں، لیکن پھر بھی جی چاہتا کہ انھیں ہی بولنے کاموقع دیا جائے۔ ان کےاندازِ گفتگو میں کچھ اتنی طفلانہ معصومیت ہوتی کہ میں سوچنے لگتا، آخر یہ شخص واردات حُسن و عشق کے گہرے نفسیاتی رموز سے کس طرح واقف ہوسکا۔

    کلکتہ میں جگرؔ صاحب کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ ایک دن گھوڑا گاڑی پر سیر کرنے نکلے۔ سوئے اتفاق کہ لاری سے گاڑی کی ٹکرّ ہوگئی۔ جگرؔصاحب زخمی ہوگئے۔ میں اور پرویز شاہدی ان کی عیادت کو گئے۔ تھوری دیر میں اشکؔ امرتسری اور اقبالؔ اکرامی بھی آپہنچے۔ مؤخرالذکر آج کل روزانہ ‘’امروز’’ کلکتہ کے اڈیٹر ہیں، ان دنوں روزانہ ‘‘آزاد ہند’’ میں ‘‘نمک پاش سلمہٗ’’ کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ اس ملاقات کی تفصیل ان کی زبانی سنیے جو ۲۷اپریل ۵۳ءکے روزانہ ‘‘آزاد ہند’’ کلکتہ میں شائع ہوئی تھی:

    ‘‘آج کل حضرت جگرؔمرادآبادی کلکتہ آئے ہوئے ہیں، تین دن ہوئے کہ بیچارے ایک حادثے کا شکار ہوگئے۔ گھوڑا گاڑی پر ‘لب دریا کے کنارے کنارے’ تفریح فرماتے چلے آرہے تھے کہ پیچھے سے ایک ظالم لاری نے ٹکر ماردی۔ جگر صاحب شاعر تو بہت بڑے ہیں مگر جسامت کےلحاظ سے واجبی ہیں، لہٰذا گھوڑے گاڑی کو الوداع کہنے پر مجبور ہوئے اور بغیر اپنی خواہش یا مرضی کے نیچے آگئے۔ اس حادثے کی خبر سن کر جہاں کلکتہ کے دوسرے ادیب آپ کی مزاج پرسی کے لیے گئے، پرویز شاہدی اینڈ کمپنی کے ساتھ خاکسار بھی پہنچا۔ وہاں پہنچ کر کوئی خاص بات نہیں معلوم ہوئی جب تک کہ پرویزؔ صاحب کی پرسشِ مزاج پر جگرؔ صاحب نے اپنا شکم مبارک کھول کر نہیں دکھایا۔ جسم سے قمیص کا ہٹنا تھا کہ ہمیں بڑی کوفت ہوئی۔ ایک نازک مزاج شاعر اس وقت روحانی کرب میں مبتلا تھا۔ مگر واہ رے اخلاق کہ جگر صاحب ہم لوگوں کے ساتھ ہنستے رہے، باتیں کرتے رہے، آپ نے اخلاقاً ایک عدد غزل بھی سنائی۔

    جگر صاحب کی دُنیا بدل چکی ہے۔ زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر پہلے ‘‘بنتی نہیں تھی بادۂ و ساغر کہے بغیر’’ تو اب گفتگو کے وقت زبان سے تصوف اور معرفت کے بیان ہوتے ہیں۔ اثنائے گفتگومیں جوشؔ ملیح آبادی صاحب کا ذکر آگیا تو آپ نے کہا کہ انہیں ملحد سمجھنے والے احمق ہیں۔ جوشؔ پکے مسلمان ہیں۔ جو کچھ لکھتے ہیں اصلاح کی غرض سے۔ پرویزؔ صاحب سے کچھ سیاسی رنگ میں بھی گفتگو ہوئی۔ مگر ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ جگرؔ صاحب سیاست کے مسئلے بھی تصوف سے حل کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کمیونزم کو بھی آپ نے مذہبی نقطہ نظر سے حل کردیا۔ اور ہمارے دل نے کہا کہ چلو قصہ ختم ہوا۔ ہندستان کے سب سے بڑے غزل گو شاعر کے اس ارشاد کے بعد کون ہے جو کمیونسٹوں کو لامذہب کہے! دیکھا چاہیے اسلام کے نام نہاد عَلمبردار جگرؔ صاحب پر کب کفر کا فتویٰ دے کر سنگ باری کی د فعہ لاگو کرتے ہیں؟

    مگر ہمیں پریشانی اس وقت ہوئی جب پرویزؔ شاہدی، اشکؔ امرتسری اور مظہرؔ امام جیسے شاعر ان شیریں کلام کے ہوتے ہوئے جگرؔ صاحب کی نظرِ التفات اس خاکسار پر پڑنےلگی، اور لگے کچھ کلام سنانے کی فرمائش کرنے۔ بھلا ہمارے ایسے غیرمہذّب انسان کو کلام سے کیا واسطہ، اور جہاں اس قدر اہل علم حضرات جمع ہوں، وہاں بدکلامی تو ہو ہی نہیں سکتی، لہٰذا ہم نے گھڑی دیکھی اور نماز جمعہ کا عذر کرکے وہاں سے چلتے پھرتے نظر آئے۔ یہ معلوم نہیں کہ ہماری تشریف آوری کے بعد دوسرے شاعروں پر کیا گزری۔ آیا انھوں نے اپنا کلام بلاغت نظام سنایا یا ہماری ہی طرح ہکلاتے ہوئے وہ بھی بھاگے۔’’

    جگرؔصاحب ‘‘ہکلانے’’ اور ‘‘بھاگنے’’ کا موقع بہ آسانی کب دینے والے تھے۔ اپنا بھی کلام سنایا۔ ہم لوگوں سے بھی کلام سُنا اور بڑے خلوص سے داد دیتے رہے۔ جوشؔ صاحب کا ذکر دورانِ گفتگو میں اکثر آیا۔ اس روز بھی، اس کے بعد بھی۔ جوشؔ صاحب کے ‘‘مسلمان’’ ہونے پر تو انہوں نے مہر تصدیق ثبت کردی جس کا ذکر آچکا ہے۔ انھوں نے جوشؔ صاحب کے اخلاقی کردار سے بعض ایسے پردے اٹھائے جن کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا دُہرانا ہر طرح خلاف تہذیب سمجھا جائے گا۔ رشید احمد صدیقی کا ہی نہیں، جوش ملیح آبادی کا بھی ‘‘دعویٰ’’ ہے کہ جو شخص اچھا انسان نہیں، وہ اچھا ادیب یا شاعر نہیں بن سکتا۔ میرا بھی جی چاہتا ہے کہ کاش ایسا ہی ہوتا۔ لیکن جوشؔ صاحب کی بابت جو باتیں جگرؔ صاحب کی زبانی سننے میں آئیں، اگر وہ درست ہیں (اور کوئی وجہ نہیں کہ غلط ہوں، کیونکہ جگر صاحب کو متفقہ طور پر نیک اور شریف النفس انسان تسلیم کرلیا گیا ہے) تو خود جوشؔ کا اچھا انسان ہونا مشکوک ہوجاتا ہے اور اسی منطق کی رُو سے ان کا اچھا شاعر ہونا بھی۔ ویسے آج بھی اکثر میرے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ تصوف کے کس مسئلے کی رُو سے جگر صاحب نے جوشؔ کے بارے میں اتنی رکیک باتیں بتائیں۔

    جوشؔ صاحب اس وقت تک پاکستان نہیں گئے تھے۔ جگرؔ صاحب کی گفتگو سے کچھ ایسا اندازہ ہوا کہ اس وقت دونوں کے تعلقات و مراسم اچھے نہیں تھے۔ حالانکہ جگرؔ صاحب اپنی رندی اور سرمستی کے دَور میں جوشؔ کے بہت قریب رہے ہیں۔ رشید احمد صدیقی کا بیان ہے کہ انھوں نے جگر کونشہ کے عالم میں کبھی کوئی غیر مہذّب حرکت کرتے یا ہوش و حواس کھوتے نہیں دیکھا۔ جوشؔ کا بیان اس کے برعکس ہے۔ انھوں نے مجازؔ کو جگرؔ کی وہ کیفیت یاد دلاکر ڈرایا تھا جب وہ مدہوشی کے عالم میں دوسروں کی گردن میں اپنے پاؤں کا ہار ڈالا کرتے تھے۔ مجھے جگرؔ صاحب کی شراب نوشی کا دَور دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن ایک دفعہ جوشؔ صاحب کو جام پر جام خالی کرتے دیکھا ہے اور میں نےان کی سنجیدگی اور توازن میں سَرِمو فرق نہیں پایا۔

    شاید میں غیرمتعلق باتیں کرنے لگا ہوں، اس بحث کو میرے مضمون کی حدود سے خارج سمجھ کر نظرانداز کرنا چاہیے۔

    جگرؔصاحب کا خیال آتا ہے کہ تو میرے ذہن میں ایک نہایت ناگوار واقعے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ ۵۱ء سے ۵۴ء تک انجمن ترقی پسند مصنفین کلکتہ (اردو ہندی) ایک بڑی ادبی انجمن تھی جس کی سرگرمیاں ہر طبقۂ خیال کے اہل ذوق کو دعوت توجہ دیتی تھیں۔ اس دوران اس انجمن میں کئی اہم بیرونی شخصیتوں نے شرکت کی، جن میں سردار گوربخش سنگھ، ممتاز حسین، پرتھوی راج کپور، کرنجیا اڈیٹر بلٹز، سردارؔ جعفری، غلام ربانی تاباںؔ، نیرجؔ، بھگوت شرن اپادھیائے وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ جگر صاحب کے اعزاز میں بھی انجمن کی طرف سے ایک جلسہ کیا گیا۔ میں نے ان سے انجمن کے اس جلسہ میں شرکت کی درخواست کی اور وہ از راہ شفقت رضامند ہوگئے۔

    ظاہر ہے کہ ایسے جلسوں میں جن میں نمایاں شخصیت آتی، حاضرین کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ لیکن مائک کے انتظام کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی تھی۔ جگرؔ صاحب آہستہ بولنے کے عادی تھے۔ ان سے گذارش کی گئی کہ وہ اپنے شعری نظریات اور فکری مسلمات پر روشنی ڈالیں۔ حسب معمول وہ انسانیت، تصوف، اشتراکیت، سب کچھ گفتگو میں سمیٹ لائے۔ ان کی آواز ہال کے آخری سرے تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ پھر بھی لوگ خاموشی سے انھیں سُن رہے تھے۔ اتنے میں کامریڈ قسم کے ایک صاحب (جن کا نام میں قصداً نہیں لکھ رہا ہوں) جو ایک کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور شاید جگرؔ صاحب کی آواز ان تک نہیں پہنچ رہی تھی، جگرؔ صاحب کو مخاطب کرکے بڑی بدتمیزی سے بولے ‘‘چھوڑئیے چھوڑئیے یہ باتیں، کوئی غزل سنائیے۔’’ ممکن ہے کامریڈ موصوف ایسی باتیں برداشت نہ کرسکے ہوں جو ‘‘کٹر ترقی پسندی’’ سے سوفیصدی اتفاق نہ رکھتی تھیں(میں انھیں طنزاً ‘‘کامریڈ’’ نہیں کہہ رہا ہوں، سچ مچ وہ ‘‘کامریڈ فلاں’’ پکارے جاتے تھے) موصوف کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہر معاملے میں اختلاف کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ ایک صاحب ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اگر ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی برسراقتدار آگئی تو وہ اپوزیشن میں شامل ہوجائیں گے۔

    چند لمحوں تک ہم لوگ حیرت سے ان کا منہ تکتے رہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، لیکن جب انھوں نے اپنی بات دُہرائی اور جگرؔ صاحب نے بھی سن لی تو پھر ہم لوگ جس ندامت اور شرمندگی سے دوچار ہوئے، اس کا تصور کرکے میری پیشانی پر اب بھی پسینے کے قطرے نمودار ہوجاتے ہیں۔ اس وقت میری پریشانی اور بے موقعگی کا احساس کیجیے جب کہ میں ہی اصرار کرکے انھیں محفل میں لایا تھا۔ پرویزؔ صاحب تو یوں بھی ذرا جلد پریشان ہوجاتے تھے، ان کی جو کیفیت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ ہم سب نے جگرؔ صاحب سے معذرت کرکے اس ناگوار واقعے کے اثرات زائل کرنے کی کوشش کی، مگر تیر کمار سے نکل چکا تھا۔ صرف معذرت خواہی کسی غیر مہذب فعل کا لگایا ہوا زخم تو نہیں دھوسکتی۔ ہم لوگوں نے جگرؔ صاحب سے گذارش کی کہ وہ اپنا کچھ کلام سنائیں۔ وہ راضی نہ ہوئے۔ صرف اتنا کہا ‘‘مجھے کوئی رنج نہیں۔ بس ایک تکدّر پیدا ہوگیا ہے۔ اب اسے رہنے دیجیے۔’’

    میں نے جن کامریڈ کا ذکر کیا، وہ اس وقت انجمن مذکور کے ممبر نہیں تھے۔ بعد میں جب انھوں نے ممبر بننے کی خواہش کی تو ہم میں سے اکثر ممبران ان کو یہ درجہ دینے پر رضامند نہ ہوئے۔ پرویزؔ شاہدی، سالکؔ لکھنوی وغیرہ انھیں انجمن میں جگہ دینے کے روادار نہ تھے۔ خود میں نے شدید مخالفت کی تھی اور انجمن ہی کے ایک جلسہ میں کہا تھا کہ جو شخص تہذیب کی مبادیات سے واقف نہ ہو، جو ہمارے ادب کی اتنی عظیم اور بزرگ ہستی کو اس طرح ذلیل کرنے کی جرأت کرسکتا ہو، اسے انجمن کا ممبر بنانا انجمن کی توہین ہے۔ البتہ کچھ دوسرے ممبروں نے آپس کے ذاتی اختلافات کے مقابلے میں انجمن کی بلند تر قدروں کو نظرانداز کیا اور کامریڈ موصوف کو انجمن میں شامل کرنے کی تائید کی۔ اس وقت انجمن کے سکریٹری مظہر انصاری تھے جن کے خلوص، سادہ مزاجی اور نیک نفسی پر ان کے دشمن بھی شبہ نہیں کرسکتے، وہ ہر چند کہ اس خاص جلسے میں شریک نہ تھے، لیکن جب انھیں اس واقعے کا علم ہوا تو نہایت دل برداشتہ اور کبیدہ خاطر ہوئے اور کامریڈ موصوف کو ممبر بنایا گیا تو آپ نے انجمن سے استعفیٰ دے دیا۔ جگرؔ صاحب نے انجمن میں تصویر کا ایک رُخ دیکھا تھا۔ کاش انھوں نے یہ روشن اور تابناک رُخ بھی دیکھا ہوتا!

    جگرؔ مرادآبادی ہم میں نہیں رہے۔ وہ ہمارے لیے اپنے کلام کی دولت چھوڑ گئے ہیں یا پھر چند یادوں کا سرمایہ۔ جگرؔ صاحب کی شاعرانہ حیثیت کو مختلف ناقدوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی ان کی موت کا غم اتنا تازہ ہے کہ شاید ہم لوگ جذبات کے دائرے سے بہ آسانی باہر نہ نکل سکیں۔ یوں بھی کسی شاعر کے مرتبہ کا تعین کرتے وقت سبھی ایک رائے نہیں ہوسکتے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ کس پایہ کے شاعر ہیں، اس میں شاید ہی کسی کو شبہ ہو کہ انھوں نے ہماری غزل کو مہذب اور فطری عشق سے آشنا کیا ہے۔ وہ ہمارے دَور کے محبوب ترین شاعر تھے اور ان کی محبوبیت ان کے کلام یا ان کے ترنم میں ہی نہیں، ان کی شخصیت میں بھی پنہاں ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY