کرشن چندر

مظہر امام

کرشن چندر

مظہر امام

MORE BYمظہر امام

    کرشن چندر!

    زباں پہ بار خدایا۔۔۔ کہ اس نام کے آتے ہی میری نطق نے میری زبان کے بوسے لیے، لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کرشن چندر کی تحریر کا ہر جملہ، ہر فقرہ، ہر لفظ ہم سے بوسے کا طالب ہوتا ہے۔ کرشن چندر جو زبان کا شاعر اور بیان کا ساحر تھا۔ جب ہمارے یہاں جدیدیت کا غلغہ بلند ہوا تو اِس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ پیش رَو ترقی پسند ادبی تحریک کو مطعون اور اس کے علم برداروں کو رد کیا جائے۔ اس تحریک سے وابستہ سب سے ہردل عزیز یا کم از کم زیر بحث نام کرشن چندر کا تھا، لہٰذا انہیں ادیب کے زُمرے سے ہی خارج کردیا گیا اور وہ “non-writer” کہلائے۔ ان دنوں یہ بات بہت پھیلائی گئی کہ جب کرشن چندر کے ادبی انحطاط پر بلراج مین رانے مہندرناتھ کے سامنے تنقید کی تو مؤخرالذکر نے اوّل الذکر کو زدوکوب کیا۔

    ایک زمانہ تھا جب یہی “non-writer”اردو افسانے کا بے تاج بادشاہ تھا، اور اس کے تمام ہم عصروں کی کور اس سے دبتی تھی۔ سب اس سے حسد کرتے تھے، اس کے مقابل آنا چاہتے تھے۔ کچھ اس کے قریب کی صف میں جگہ پاکر مطمئن تھے۔ اردو افسانے کے عناصر اربعہ بالترتیب کرشن چندر، بیدی، منٹو اور عصمت قرار دیے گئے تھے۔ ایک بار منٹوکو احمد ندیم قاسمی کا (جو ان دنوں ‘‘ادب لطیف’’ کے اڈیٹر بھی تھے) ایک تعریفی خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ آپ افسانہ نگاری کے ‘‘بادشاہ’’ ہیں۔ منٹو نے یہ خط فخر سے کرشن چند کو دکھایا۔ اتفاق سے کرشن چندر کے پاس بھی احمد ندیم قاسمی کا ایک خط انہیں دنوں ملا تھا، جسے انہوں نے بے نیازی سے ایک طرف ڈال دیا تھا۔ منٹو نے فخر کا اظہار کیا تو کرشن چندر نے انہیں وہ خط دکھادیا جس میں لکھا تھا کہ آپ افسانہ نگاری کے ‘‘شہنشاہ’’ ہیں۔

    شروع سے ہی کرشن چندر کا قد دوسرے افسانہ نگاروں سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ۱۹۴۱-۴۲ء تک ان کا طوطی بولنے لگا تھا۔ راشد نے ۴۱ء میں اپنے مجموعہ کلام ‘‘ماورا’’ پر ان سے دیباچہ لکھوایا۔ سہیل عظیم آبادی نے ‘‘الاؤ’’ پر ۴۲ء میں۔ ۴۲-۴۳ء سے ۵۰-۵۱ء تک، جب میرا شوق مطالعہ عروج پر تھا، کرشن چندر کی ہر تحریر میری آنکھوں کا سرمہ تھی۔ ان کے افسانوں کے مجموعے ‘‘طلسم خیال’’، ‘‘نظارے’’، ‘‘زندگی کے موڑ پر’’، ‘‘اَن داتا’’، ‘‘نغمے کی موت’’، ‘‘پرانے خدا’’، انشائیوں یا مزاحیہ طنزیہ مضامین کے مجموعے ‘‘ہوائی قلعے’’ اور ‘‘گھونگھٹ میں گوری جلے’’، ڈراموں کا مجموعہ ‘‘دروازہ’’ ان کے مرتب کئے ہوئے مجموعے ‘‘نئے زاویے’’ کی دونوں جلدیں، اور اپندرناتھ اشک کے منتخب افسانوں کا مجموعہ ‘‘نفس’’۔ میرا خیال ہے کہ سب ۴۵ء کے اوائل تک چھپ چکے تھے۔ میں نے یہ تمام کتابیں نہ صرف پڑھیں بلکہ انہیں حزرجاں بنایا۔

    کرشن چندر ۱۹۳۹ء میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے، ۴۰ء میں لاہور سے دہلی آگئے، وہاں ان کے رفیقوں میں راشد، منٹو، اشک، میراجی وغیرہ تھے۔ میں جب ۵۸ء میں آل انڈیا ریڈیو میں آیا تو مجھے سب سے بڑی خوشی اس بات کی تھی کہ اس ادارے سے پطرس، کرشن چندر اور یہ دوسرے بڑے ادیب وابستہ رہ چکے ہیں۔

    کرشن چندر ۴۲ء میں شالیمار پکچرز پونا کے مالک ڈبلو۔زیڈ۔احمد کی دعوت پر ریڈیو سے فلمی دنیا میں آگئے اور اس ادارے سے بحیثیت مکالمہ نگار وابستہ ہوگئے۔ یہیں جوشؔ بھی تھے، ساغرؔ نظامی بھی۔ پھر نئے شاعروں اور ادیبوں میں اخترالایمان اور رامانند ساگر بھی وہیں آگئے۔ ایک مسعود پرویز تھے جن کی نظمیں ان دنوں ‘‘ادب لطیف’’وغیرہ میں چھپا کرتی تھیں، لیکن وہ شالیمار کی فلموں میں ہیرو بن کر آئے۔ اس ادارے کی خاص ہیروئن ‘‘پراسرارنینا’’ کہلاتی تھیں۔ ان کا اصل نام شاہدہ تھا۔ علی گڑھ سےتعلق تھا۔ ان کے شوہر محسن عبداللہ تھے جو بمبمئی ٹاکیز میں ‘‘کہانی اور مکالمہ نویسی کے شعبے’’ سے وابستہ تھے۔ وہ علی گڑھ کی مشہور روشن خیال شخصیت شیخ عبداللہ کے صاحبزادے اور ڈاکٹر رشید جہاں کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی ایک بہن خورشید جہاں فلموں میں رینوکا دیوی کے نام سے کام کرتی تھیں۔ ان کی دوسری فلم بمبئی ٹاکیز کی ‘‘نیا سنسار’’ تھی۔ اتفاق سے بحیثیت فلمی کہانی کار یہ خواجہ احمد عباس کی پہلی فلم تھی، جس کے لیے انہیں ساڑھے سات سو روپے ملے تھے۔ رینوکا دیوی نے شالیمار کی فلم ‘‘غلامی’’ میں بھی کام کیا تھا۔ ان کے مقابل مسعود پرویز ہیرو تھے۔ ‘‘پراسرار نینا’’ محسن عبداللہ سے علیحدہ ہوگئی اور انہوں نے ڈبلو۔زیڈ۔احمد سے شادی کرلی، جو شالیمار کا دیوالہ کرکے اپنی نئی بیوی کے ساتھ پاکستان چلے گئے۔ رینوکا دیوی شادی کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں بیگم خورشید مرزا کے نام سے کام کرتی رہیں۔ گزشتہ دنوں ان کا انتقال ہوگیا۔

    کرشن چندر کے بارے میں ان دنوں بھی میرا خیال یہی تھا کہ وہ فلموں میں کامیاب نہیں ہیں۔ ‘‘من کی جیت’’ اور ‘‘غلامی’’ کے مکالموں سے مجھے مایوسی ہوئی تھی۔ شالیمار کے حالات خراب ہوئے تو کرشن چند ربمبئی چلے آئے، اور پھر خود بھی فلم سازی کی طرف مائل ہوئے اور دو فلمیں ‘‘سرائے کے باہر’’ اور ‘‘دل کی آواز’’ بنائیں۔ دونوں ناکام ہوئیں۔ تیسری فلم ‘‘راکھ’’ آدھی بن پائی تھی کہ فلم کمپنی ہی ٹوٹ گئی۔ اپنی ریڈیو کی ملازمت کےزمانے میں انہوں نے ‘’سرائے کے باہر’’ نام کا ڈرامہ لکھا اور پیش کیا تھا جو ریڈیو کے سامعین میں غیرمعمولی طور پر مقبول ہوا تھا۔ یہ ڈرامہ ان کے مجموعے ‘‘دروازہ’’ میں شامل ہے۔ فلم کی ضرورت کے پیش نظر اس میں بہت کچھ اضافہ کرنا پڑا۔ پھر وہ شاید بھول گئے کہ ریڈیو اور فلم دو الگ الگ میڈیم ہیں اور ان دونوں کے مطالبات مختلف ہیں۔ ریڈیو آواز کا میڈیم ہے، اس لیے مکالموں کی صناعانہ اور شاعرانہ زبان سننے والوں کو اچھی لگ سکتی ہے، لیکن فلم میں آواز کے علاوہ حرکات و سکنات اور کرداروں کے عمل کی بھی اہمیت ہے۔ یہاں طول طویل پُرتصنّع مکالمے کام نہیں آتے۔ فلم بُری طرح فلاپ ہوئی۔ میں نے انہیں دنوں اس پر ایک طویل سخت تبصرہ کیا تھا، جو میرے مضامین کے مجموعے ‘‘آتی جاتی لہریں’’ میں بھی شامل ہے۔ ‘‘سرائے کے باہر’’ کی ناکامی کا ایک سبب اس کی ہیروئن رادھیکا بھی تھی، جس کا اصل نام ثمینہ تھا۔ وہ شالیمار میں اداکارہ کی حیثیت سے قسمت آزمانے آئی تھی۔ کرشن چندر سے قربت پیدا ہوئی اور انہوں نے اسے ہیروئن بنانے کا وعدہ کرلیا۔ ثمینہ سے اپنے اور کرشن چندر کے تعلقات پر رامانند ساگر نے ایک افسانہ ‘‘میرا ہمدم، میرا دوست’’ کے نام سے اپریل ۴۶ء کے ‘‘ساقی’’ میں لکھا تھا۔ اس افسانے کے کرادروں کو پہچاننا ان کے لیے زیادہ مشکل نہیں جو شالیمار پکچرز سے وابستہ افراد سے تھوڑی واقفیت بھی رکھتے ہوں۔ کرشن چندر کو کرن چندر کے روپ میں کون نہ پہچانے گا؟ اپنا نام البتہ انہوں نے اچھا خاصہ بدل دیا تھا۔ یعنی راجن۔ کئی نام اپنی اصل صورت میں تھے، مثلا: شیام، اختر (اختر الایمان)، پرویز (مسعود پرویز)، ویاس(بھرت ویاس)۔ ایک جگہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہاں ہندوستان کا عظیم شاعر ہوش نصیح آبادی رہتا ہے، یعنی جوش ملیح آبادی۔

    رامانند ساگر کا یہ افسانہ اس ‘‘حمام’’ کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں سب ایک جیسے تھے۔ مصنف خود بھی۔ اس افسانے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ثمینہ رامانند ساگر کی طرف راغب تھی، مگر کامیابی ان کے ظاہری دوست اور باطنی رقیب کرشن چندر کے حصے میں آئی۔ چند لفظوں میں کرشن چندر کے کردار کے پہلو کو اس طرح پیش کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مصنف نے اپنے جذبۂ رشک و حسد کی عینک لگاکر یہ تصویر بنائی ہے:

    ‘‘ایک پختہ ریا کار کی طرح اس میں غرور کی بو تک نہ تھی، اور ہر ایک سے ہمدردی تو گویا اس کا شیوہ تھا، حتی کہ وہ ہر ایک کا رازدار تھا، ہر ایک کا ہمدم، ہر ایک کا دوست۔’’

    اس افسانے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کا قیام کرشن چندر کے یہاں تھا۔ کرشن کی بیوی افسانہ نگار کو پسند نہ کرتی تھی۔ یہ بات تو خیر اب ہر ایک کو معلوم ہے کہ کرشن چندر اپنی بیوی سے ہمیشہ نامطمئن اور ناآسودہ رہے۔ ان کی صورت اور مزاج دونوں کی وجہ سے۔ اس کی تصدیق افسانے کے ان جملوں سے ہوتی ہے، اور ان سے کرشن چندر کی قوت برداشت کا بھی اندازہ ہوتا ہے:

    ‘‘بیوی اس کی زندگی کا وہ ناسور تھا، جو کسی بھی عمل جراحی سے کاٹا نہ جاسکتا تھا۔ باایں ہمہ اسی کم ظرف بیوی کی خاطر اس نے اپنی محبوبہ کو اس وقت جب کہ وہ اس کی خاطر اپنے خاوند کو طلاق دے کر دہلی سے کولہا پور تک آگئی تھی، اپنے نوکر کے ہاتھ یہ جواب لکھ بھیجا تھا ‘میں نے کیچڑ ہی میں رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے’۔‘‘

    کرشن چندر، ثمینہ کے بارے میں (جس سے ان کے گہرے مراسم قائم ہوئے اور جو ان کی فلم کی ہیروئن بنی) جو رائے رکھتے تھے، یا رامانند ساگر کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے جس رائے کا اظہار کرتے تھے، اسے زیر گفتگو افسانے میں کرشن چندر کی زبان سے یوں ادا کیا گیا ہے:

    ‘‘یہ لڑکی جس کی معصومیت پر تم فدا ہو رہے ہو، اس سے پہلے جانے کتنوں پر ہاتھ صاف کرچکی ہے۔اب بھی گھومنے پھرنے کے لیے ایک نواب صاحب کی موٹر کار اس کی سواری میں رہتی ہے۔ اس کا چہرہ خوبصورت نہ سہی، لیکن طفلانہ معصومیت کا ایک ایسا پَر تو اس پر مَوجود ہے کہ تم جیسے کئی نوجوان عشق کے جھانسے میں زندگی تباہ کرچکے ہیں۔’’

    رامانند ساگر کے افسانے میں ثمینہ کا نام امینہ ہے۔

    فروری ۴۹ء میں ریلوے اسٹرائک کے خطرے کے پیش نظر مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ میرے ساتھ منظر شہاب بھی گرفتار ہوئے تھے۔ ہم لوگوں نے ایک ترقی پسند رسالے ‘‘نئی کرن’’ کااجرا کیا تھا۔ اس کے پرچے بھی پولیس اٹھاکر لے گئی تھی۔ انہیں دنوں کچھ اور ادیبوں اور شاعروں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی، مثلاً خلیل الرحمن اعظمی کی۔ سردار جعفری شاید پہلے ہی سے جیل میں تھے۔ بمبئی میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت کرشن چندر نے کی۔ ملک راج آنند، ساغرؔ نظامی وغیرہ نے بھی تقریریں کی تھیں۔ کرشن چندر نے اپنے خطبہ صدارت میں گرفتار شدگان کا نام لیتے ہوئے ‘‘بہار کے لیکھک ایم۔امام’’ کا نام بھی لیا تھا۔ اس وقت تک ایم۔امام کے نام سے میری کچھ چیزیں چھپتی ضرور تھیں، لیکن کسی اہم رسالے میں نہیں۔‘‘نئی کرن’’ کے ادارہ میں بھی یہی نام تھا۔ اس وقت کے سب سے بڑے ادیب نے مجھ جیسے نوعمر لکھنے والے کا نام اپنے ایک مضمون میں لیا، اس سے برھ کر افتخار کی بات میرے لیے اور کیا ہوسکتی تھی۔

    کرشن چندر کو میں نے ‘‘نئی کرن’’ کا پہلا شمارہ بھجوایا تو تھا، مگر احساس شرمندگی کے ساتھ، کیوں کہ اس شمارے کا معیار حسب خواہ نہ تھا۔ دوسرے اس میں ان کی فلم ‘‘سرائے کے باہر’’ پر میرا ایک سخت جارحانہ تبصرہ بھی شامل تھا۔ کرشن چندر کی جانب سے کوئی رسید نہیں آئی تو میں نے انہیں یاد دہانی کا خط لکھا ۔ انہوں نے اپنی مصروفیات کی تفصیل بتاتے ہوئے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کیا:

    ‘‘یہ سطریں بھی محض اس خیال سے لکھ رہا ہوں کہ کہیں آپ میری خاموشی کا غلط مفہوم نہ نکال لیں۔’’

    ‘‘نئی کرن’’ کا دوسرا شمارہ میرے نزدیک بڑی حدتک اطمینان بخش تھا۔ اس کا اداریہ بھی بالواسطہ بھیمڑی کانفرنس کے منشور کی ہمنوائی کر رہا تھا۔ میں نے کرشن چندر کو ‘‘پیارے ساتھی’’ سے مخاطب کرتے ہوئے ان سے افسانے کی درخواست کی۔ ان دنوں اشتراکیت اور ترقی پسندی سے وابستہ ہم لوگ ایک دوسرے کو ‘‘کامریڈ’’ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ آج کچھ عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ میں نے کرشن چندر جیسے بڑے ادیب کو بھی اسی طرح مخاطب کرنے کی جرأت کی تھی۔ شاید انتقاماً ہی کرشن چندر نے بھی مجھے خط میں ‘‘پیارے ساتھی’’ سے مخاطب کیا اور یہ لکھا کہ پرچہ ابھی مجھے نہیں ملا، لیکن یقین ہے کہ آپ لوگوں نے محنت کی ہوگی۔ اس خط کے ساتھ انہوں نے اپنا ایک مضمون بہ عنوان ‘‘ایک امریکی ناول’’ بھیجا تھا، جو دراصل ہاورڈ فاسٹ کے مشہور ناول Road to Freedom کے اردو ترجمے کا دیباچہ تھا۔ یہ ترجمہ احسن علی خاں نے کیا تھا۔ اس دوران کرشن چندر کو ‘‘نئی کرن’’ کا دوسرا شمارہ مل گیا۔ مجھے یقین تھا کہ انہیں میری انتہا پسندی پسند آئے گی، کیوں کہ ان دنوں ترقی پسندی اسی راستے پر گامزن تھی، لیکن انہوں نے مجھے لکھا:

    ‘‘ہمیں محدود دائرے سے نکل کر کھُلی فضا میں سانس لینا چاہئے، تاکہ ہم صحت مند رہیں اور زیادہ دنوں جی سکیں۔’’

    یہ میرے لیے ایک تازیانہ تھا۔

    میں ستمبر ۵۱ء کے اواختر میں کلکتہ آگیا، اور وہاں سات سال سے زیادہ میرا قیام رہا۔ اس دوران کرشن چندر دوبار کلکتے آئے۔ اس سے پہلے بھی وہ دومرتبہ کلکتے آچکے تھے۔ اپنے کالج کی تعلیم کے ابتدائی دنوں میں وہ دہشت گردوں کی ایک جماعت میں داخل ہوگئے تھے۔ انہیں دنوں ان کی ملاقات بھگت سنگھ سے ہوئی۔ خطرہ بڑھا تو چند ماہ کے لیے کلکتہ بھاگ گئے۔ دوسری بار وہ ۳۸ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی دوسری کل ہند کانفرنس میں پنجاب کے ترقی پسند مصنفین کے مندوب کی حیثیت سے شرکت کے لیے کلکتہ گئے تھے، اسی کانفرنس میں سجاد ظہیر اپنی نو بیاہتا بیوی رضیہ سجاد ظہیر کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور اس مرتبہ ان کی جگہ ڈاکٹر عبدالعلیم کو انجمن کا سکریٹری منتخب کیا گیا تھا۔

    کرشن چند تیسری بار اپریل ۵۲ء میں کل ہند امن کانفرنس میں شرکت کے لیے کلکتہ تشریف لائے اور انہوں نے مجلس صدارت کے ایک رُکن کی حیثیت سے انگریزی میں ایک خطبہ بھی پڑھا۔ کرشن چندر انگریزی کے ایم۔اے تھے۔ شروع شروع میں وہ انگریزی میں بھی مضامین لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے انگریزی کے دوتین جرائد کی ادارت بھی کی تھی۔ پھر وہ اردو کے ہوکر رہ گئے، لیکن کبھی کبھی ذائقہ بدلنے کے لیے انگریزی میں بھی لکھتے رہتے۔ جن دنوں ادب کے علاوہ فلموں سے بھی میری دلچسپی عروج پر تھی، کرشن چندر کے مضامین اور خود ان کے کیے ہوئے اپنے افسانوں کے ترجمے عموماً ماہ نامہ ‘‘ساونڈ’’ میں نظر آتے۔ اس کے اڈیٹر ظہیر بابر قریشی تھے، جو ZABAK کے نام سے مشہور تھے۔ ‘‘ساونڈ’’ کی ہر دلعزیزی کا زمانہ ۴۳ء اور ۴۷ء کے درمیان ہے۔ اس کے خاص مضمون نگار خواجہ احمد عباس بھی تھے۔ کرشن چندر کی انگریزی عبارت میں سادگی اور صفائی کے ساتھ شاعرانہ چاشنی بھی شامل تھی۔

    ۵۲ء کی کل ہند امن کانفرنس ایک تاریخی کانفرنس تھی، اور ہرچند کلکتہ جلسوں اور جلوسوں کا شہر ہے، لیکن اس کانفرنس کی نوعیت اپنی ایک منفرد اور جداگانہ شان رکھتی تھی۔ کئی نامور شخصیتوں نے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں براہ راست حصہ لیا۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو، ملک راج آنند، ہیرن مکرجی، گوپال ہلدار، کرشن چندر، مجازؔ، سردارؔ جعفری، پرویزؔ شاہدی، مخدومؔ محی الدین، مجروحؔ سلطان پوری، کیفیؔ اعظمی، نیازؔ حیدر، وامقؔ جونپوری، اشک امرتسری، خواجہ احمد عباس، انور عظیم، پرکاش پنڈت، رضیہ سجاد ظہیر، سید عبدالمالک، پرتھوی راج کپور، سلیل چودھری، سریندر کور، اچلا سچدیو، امر شیخ، رام کمار اور بہت سے ادیب، شاعر، دانشور، فن کار۔

    اس کانفرنس کی بہت سی باتیں ذہن سے محو نہیں ہوتیں۔ کسی سب کمیٹی کے اجلاس میں اسرارالحق مجازؔ نے بھی انگیریزی میں ایک تقریر کی۔ ان دنوں ان پر جنون کا حملہ تھا۔ نہ جانے انھوں نے کیا کچھ کہا۔ وہ اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد باہر آئے تو میں نے ان سے کہا:

    ‘‘مجازؔ صاحب! سنا ہے آپ نے بڑی ولولہ انگیز تقریر کی۔’’

    مجازؔ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ‘‘آپ نے نہیں سُنی؟’’

    ‘‘معاف کیجیے میں ذرا دیر سے پہنچا۔’’

    “Then I must commit suicide!” (تب تو مجھے خودکشی کرلینی چاہیے!) مجازؔ کی طبعی حسِ ظرافت جاگی ہوئی تھی۔ انھیں پتہ نہیں تھا کہ انھوں نے قسطوں میں کب سے ‘‘خودکشی’’ کر رکھی ہے۔

    اسی وقت سردار جعفری بھی آگئے اور چٹخارے لے لے کر مجازؔ کی تعریف کرنے لگے: ‘‘تم نے بڑی کھری کھری باتیں کہیں، سچ ہے۔ اللہ کے بندوں کو آتی نہیں رُوباہی!’’

    مجازؔ کی رگِ ظرافت پھر پھڑکی: ‘‘روباہیؔ تخلّص ہے کیا؟’’

    سردارؔ جعفری نے اس وار کی چوٹ محسوس کی اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چل دیے مجازؔ نے پیچھے سے داغا: ‘‘آداب عرض ہے!’’

    اس کانفرنس کے ساتھ ہی ایک آل انڈیا مشاعرہ بھی منعقد ہوا تھا۔ کلکتہ کی تاریخ میں شاید اتنا شاندار مشاعرہ کبھی نہیں ہوا۔ لگ بھگ بیس پچیس ہزار سامعین تھے۔ کرشن چندر نے صدارت کی تھی۔ فیضؔ اور سجادؔ ظہیر پاکستان کی جیلوں میں بند تھے۔ اس مشاعرے میں فیضؔ کی غزل مجروحؔ نے اور سجادؔ ظہیر کی وامقؔ نے اپنے اپنے مخصوص ترنم میں سنائی تھی۔ اس مشاعرے کے کامیاب ترین شعرا کیفیؔ اعظمی، پرویزؔ شاہدی اور نیاز حیدر تھے۔ اسی مشاعرہ کا واقعہ ہے کہ جب مجازؔ مائک پر آئے تو انہوں نے اپنا کلام سنانے سے پہلے کہا: ‘‘میرے دوست کرشن چندر نے فرمائش کی ہے کہ میں PEACE پر کوئی نظم پڑھوں، تو میں اپنا کلام CUT-PIECE (کٹ پیس) میں سنارہا ہوں۔’’ اور اس کے بعد انھوں نے کچھ متفرق اشعار اور قطعات سنائے جن میں سے ایک یہ تھا:

    نطق رُسوا، دہن دریدہ ہے

    یہ شنیدہ نہیں ہے، دیدہ ہے

    رندرِ برباد کو نصیحت ہے

    شیخ کی شان میں قصیدہ ہے

    ان دنو ں مجازؔ، شاعرِ انقلاب جوشؔ ملیح آبادی سے بہت برہم نظر آتے تھے۔ کچھ ہی دنوں پہلے جوشؔ نے ایک طویل نظم مجازؔ کی نصیحت میں لکھی تھی اور کم و بیش ان ہی دنوں ان کی ایک نظم شیخ محمد عبداللہ وزیر اعظم جموں کشمیر کی ستایش میں شائع ہوئی تھی۔ مجازؔ نے اپنا یہ شعر بھی پڑھا تھا:

    سینۂ انقلاب چھلنی ہے

    شاعرِ انقلاب کیا جانے!

    اس مشاعرہ کا ایک المیہ پہلو یہ ہے کہ جب مجازؔ نے اپنی معرکہ آرا نظم ‘‘اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو’’ پڑھنی شروع کی تو مجمع نے، جو انقلابی اور ہنگامہ خیز نظمیں سننے کا مشتاق تھا، بے طرح شور مچایا اور مجازؔ تین بند پڑھ کر بیٹھ گئے۔ مجھے یاد ہے جب وہ اس مصرعے پر پہنچے تھے ۔ع شہر یاروں سے رقابت کاجنوں طاری تھا، تو انھوں نے بطورِ وضاحت بڑی نفرت، حقارت اور غصے سے کہا تھا: “Those I.C.S. Bureaucrats!”

    سردار جعفری نے، جو مشاعرہ کے اسٹیج سکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے، معاملہ پر قابو پانے کی کوشش کی اور سامعین سے کہا کہ یہ نظم گزشتہ پچیس سال میں لکھی ہوئی بہترین نظموں میں سے ایک ہے، آپ اسے غور سے سنیں، مگر مجازؔ دوبارہ پڑھنے پر رضامند نہ ہوئے۔ مجروحؔ نے مائک پر آکر غیرسنجیدہ لہجے میں مجازؔ سے درخواست کی کہ وہ اپنی کوئی غزل سنادیں، لیکن مجازؔ جو تن کر بیٹھے تھے، تنے رہے۔ ان کی شاعرانہ خودداری نے انھیں دوبارہ مائک پر آنے سے باز رکھا۔

    مجھے آٹو گراف حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ لیکن میرے ایک دوست سید منسوب حسن نے مجھے آگے بڑھا دیا تو مجھے ان کی آٹو گراف بک میں کچھ دستخط لینے پڑے۔ سیف الدین کچلو کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نےایک بار میرے لمبے قد کا جائزہ لیا اور دستخط کرنے سے پہلے میری طرف دیکھ کر شفقت سے کہا: “you tall boy!” کرشن چندر کے پاس گیا تو انھوں نے دریافت کیا: ‘‘انگریزی میں یا اردو میں؟’’ میں نے کہا: ‘‘اردو میں’’۔ انہوں نے اردو میں دستخط کردیے تو میں نے دوسرا صفحہ بڑھادیا: ‘‘اس پر انگریزی میں’’۔ وہ مسکرائے اور خاموشی سے فرمائش کی تعمیل کردی۔

    مارچ ۵۳ء میں دہلی میں ایک بار پھر کرشن چندر سے ملاقات ہوگئی، جب میں کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین کی چھٹی کانفرنس میں کلکتہ کی انجمن کے ایک مندوب کی حیثیت سے شریک ہوا۔ یہ ترقی پسند ادبی تحریک کا سخت بحرانی دور تھا اور اس کا اندازہ ان تقریروں سے ہوجاتا تھا جو اس کانفرنس میں ہوتی تھیں اور ان کا دفاع رام بلاس شرما، ڈاکٹر عبدالعلیم اور سردار جعفری کرتے رہتے تھے۔ کرشن چندر تقریر کے آدمی نہیں تھے۔ وہ بولتے تو جھجکتے ہوئے۔ انھوں نے تقریر کیا کی، افسانوی انداز میں کچھ باتیں کیں۔ رام بلاس شرما سکریٹری تھے اور ان کے خلاف محاذ آرائی تھی۔ اس لیے کرشن چندر کا نام پیش ہوا۔ ترقی پسند وں کے انتہا پسند حلقے سے وابستگی کی بناپر کرشن چندر سے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کلکتہ کی انجمن کے ہی ایک مندوب شری نرائن جھا نے کرشن چندر کے نام کی مخالفت کی تھی اور وجہ بھی بتانی چاہی تھی۔ لیکن یہ کہہ کر انہیں روک دیا گیا کہ آپ دوسرا نام پیش کیجیے۔ بہرحال، کرشن چندر سکریٹری چنے گئے۔

    اس کانفرنس کے موقع کی کچھ باتیں یاد آرہی ہیں۔ ساحر لدھیانوی، جنھیں فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، بمبئی سے آئے تھے۔ ہم لوگ پاس کے ایک چائے خانے میں بیٹھے۔ ذکر فلمی دنیا کا آیا تو وہ اس زمانے کی بعض بڑی ہیروئینوں کا مذاق اڑانے لگے کہ ان سے ٹافی کے علاوہ اور کسی موضوع پر بات نہیں کی جاسکتی۔ پھر پرکاش پنڈت سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: ‘‘بھئی مجازؔ کو انجکشن وکشن دلواکر اس کی شادی کروادو۔’’ (آج میں سوچتا ہوں کہ ساحرؔ نے خود انجکشن وکشن لے کر شادی کیوں نہ کی!) کانفرنس میں نیا مینی فسٹو پیش ہونا تھا۔ ساحرؔ کہنے لگے، بھئی بحث ہوگی، ڈرافٹ مینی فسٹو پڑھ کر تیار کرنی چاہیے۔ ساحرؔ نے بحث میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ حصہ کیا لیتے، وہ بحث کے دوران موجود ہی نہیں تھے۔ (شاید انہیں بھی اب ‘‘ٹافی’’ کے علاوہ کسی موضوع سےدلچسپی نہیں تھی)

    اس کانفرنس میں گوپال متل شریک تو نہیں ہوئے لیکن وہ آس پاس گھومتے پھرتے یا لان میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے۔یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ وہ امریکی امداد سے ترقی پسندوں کے خلاف ایک رسالہ نکالنے جارہے ہیں۔ میں نے یہی بات ان سے دریافت کی۔ ان کے چہرے پر ناگواری کےاثرات ظاہر ہوئے۔ کہنے لگے کہ جو بھی ترقی پسندوں کی آمریت کے خلاف کچھ بولتا یا لکھتا ہے، اسے امریکی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسرے مہینے ‘‘تحریک’’ کا پہلا شمارہ منظر عام پر آگیا۔ یہاں یہ بات بھی یاد آگئی کہ کانفرنس کے پہلے دن ہی اسٹالن کا انتقال ہوا تھا اور بعد کی کارروائی بڑے سوگوارانہ ماحول میں ہوئی تھی۔

    ۵۲ء کے بعد کرشن چندر ستمبر ۵۷ء میں کلکتہ آئے اور اس طرح آئے کہ چار چھ دن تک کلکتہ میں ان کی موجودگی کا کسی کو کانوں کان علم تک نہیں ہوا۔ وہ جنتا سنیما کے پاس میجسٹک ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۳ میں بند ہوکر روپ کے شوری کی ایک فلم کے لیے مکالمے اور منظرنامے لکھتے رہے۔ یہ فلم شاید کبھی مکمل نہ ہوپائی۔ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ روپ کے شوری کی مشہور فلم ‘‘ایک تھی لڑکی’’ کے مکالمے کرشن چندر نے ہی لکھے تھے اور اس فلم کی شہرت اور کامیابی میں میناؔ کی شوخی اور ‘‘لارالپّا’’ والے گانے کا ہی نہیں بلکہ کرشن چندر کے مکالموں کا بھی حصہ تھا۔

    ان دنوں کلکتہ کے ادبی سراغرساں شہزاد منظر تھے۔ انھوں نے یہ مژدہ سنایا کہ کرشن چندر کلکتہ میں ہیں۔ مزید تفصیلات کا انھیں بھی علم نہ تھا۔ دوسرے دن یعنی ۲۸ستمبر کو سہ پہر کے روزانہ ‘‘آبشار’’ میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ کرشن چندر کے اعزاز میں کلکتہ کے ادیبوں کی طرف سے چورنگی ریستوراں میں چار بجے ایک ٹی پارٹی کا اہتمام ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان ادیبوں میں نہ پرویز شاہدی شامل تھے، نہ ل۔احمد اکبر آبادی۔قریباً دوبجے ابراہیم ہوشؔ کا ایک رقعہ مجھے ملا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ تم بھی اس پارٹی میں مدعو ہو، دفتر ‘‘آبشار’’ آجاؤ، ہم لوگ سالکؔ صاحب کے ساتھ وہاں چلیں گے۔ میں وہاں جانے کو تیار ہی ہو رہا تھا کہ شہزادؔ منظر اور اصغر راہیؔ آگئے اور بولے کے ہم لوگ ہوٹل جارہے ہیں، آپ بھی چلیے۔ ٹی پارٹی میں بغیر دعوت کے میرے احباب کا شرکت کرنا مجھے کچھ مناسب معلوم نہیں ہوا۔ لیکن یہ احباب اتنے جوش میں تھے کہ مجھے اس جانب اشارہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ صرف اس رقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اتنا کہا کہ مجھے سالک صاحب اور ہوش صاحب کے ساتھ جانا ہے۔ دونوں احباب دل برداشتہ ہوکر نیم خفگی کے عالم میں چلے گئے۔ بعد میں اضغرؔ راہی نے اپنے دل کا بخار اس طرح نکالا کہ ‘‘مظہر امام صاحب، سالکؔ لکھنوی کے ساتھ موٹر میں جانا چاہتے تھے، اس لیے ہم لوگوں کے ساتھ نہیں آئے۔’’

    چورنگی ریستوراں میں سب جانے پہچانے چہرے تھے۔ اپنے دوست، ساتھی، بنگالی، ہندی اور اردو کے ادیب۔ یہ پارٹی ترقی پسندوں کی طرف سے تھی، لیکن مجھے یعنی انجمن ترقی پسند مصنفین کلکتہ کے سکریٹری کو اس کی واقفیت نہ تھی۔ قصہ یہ ہوا کہ ہمارے ایک دوست راجندر بھارتی کو، جو ہندی اور اردو کے اخباروں کے لیے اشتہارات فراہم کیا کرتے تھے اور لکھنے لکھانے کا شوق بھی رکھتے تھے، کرشن چندر کی آمدکا علم ہوا، اور انھوں نے دوڑدھوپ کرکے انتہائی عجلت میں اِس نشست کاانتظام کیا۔ ظاہر ہے، بہت سے رفیقوں کو اطلاع نہ ہوسکی۔ اِس نشست کی صدارت ہیرن مکرجی نے کی۔ کرشن چندر نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں کلکتہ میں بنگلہ، ہندی اور اردو ادب کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جائے۔ ہیرنؔ مکرجی اور گوپالؔ ہلدار نے بنگالی ادب میں نئے رجحانات کی بابت تقریریں کیں۔ ہندی کی نمایندگی صوبائی کمیونسٹ پارٹی کے ہندی ہفتہ وار ‘‘سوادھینتا’’ کے اڈیٹر انور اگی نے کی۔ مجھے پہلے سے نہ تو اس جلسہ کا کوئی علم تھا اور نہ یہ خبر تھی کہ وہاں کلکتہ میں اردو ادب خصوصاً ترقی پسند ادبی تحریک کی رفتار کے بارے میں اظہار خیال کرنا ہوگا۔اس لیے جب اردو کے بارے میں گفتگو کرنے کی بات آئی تو میں نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ یہ صحیح ہے کہ میں ان دنوں کلکتہ میں اردو اور ہندی کے ترقی پسند مصنفین کی مشترکہ انجمن کا سکریٹری تھا اور اس نشست کے صدر کی حیثیت سے ہیرن مکرجی اور دیگر رفیقوں نے مجھ ہی سے فرمائش کی تھی کہ میں اردو ادب کے بارے میں کچھ کہوں۔ لیکن میں اچانک اس تبصرے کے لیے تیار نہ تھا، اس لیے میں نے سالکؔ لکھنوی کی طرف اشارہ کردیا۔

    کرشن چندر کے اعزاز میں دی ہوئی پارٹی نے کئی ہنگامے کھڑے کردیے۔ پہلا ہنگامہ جس نے کلکتہ کی ساری صحافتی برداری کو بیدار کردیا، سالکؔ لکھنوی کی تقریر کے سلسلے میں تھا۔ ۲۹ ستمبر کو اس پارٹی کی روداد شایع کرتے ہوئے روزانہ ‘‘عصرجدید’’ نے اس تقریر کو ‘‘غیرذمہ دارانہ اور توہین آمیز’’ بتایا۔ دوسرے دن کے ‘‘عصرجدید’’ میں شہزاد منظرکا لکھا ہوا ایک طریل مراسلہ ‘‘کلکتہ کے ادیبوں اور شاعروں کی توہین’’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ جس میں انھوں نے بڑے سخت لفظوں میں سالک لکھنوی کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے مجھ سے بھی برہمی کا اظہار کیا اور میری ‘‘خاموشی’’ کو ‘‘مصلحت اندیشی’’ سے تعبیر کیا۔ ان کے الفاظ میں:

    ‘‘اردو ادب کے متعلق کچھ کہنے کا موقع آیا تو صدر اور حاضرین کی طرف سے مظہر امام (موجودہ انجمن ترقی پسند مصنفین کلکتہ کے سکریٹری) سے تقاضہ کیے جانے کے باوجود مظہرؔامام نےاس سلسلہ میں نہ جانے کس مصلحت کی بناپر معذوری ظاہر کی، حالانکہ اس وقت تک وہ انجمن کے سکریٹری تھے اور ان کا فرض تھا کہ وہ اس سلسلہ میں انجمن کی سرگرمیوں، اس سے متعلق ادیبوں اور شاعروں یا مجموعی طور سے کلکتہ کےادبی ماحول کے متعلق کچھ کہتے۔ حالانکہ اس سلسلہ میں انہوں نے کلکتہ کے قابلِ ذکر شاعروں اور ادیبوں کی ایک فہرست بنائی تھی، لیکن پتہ نہیں کس بناپر اور کس مصلحت سےانھوں نے خاموشی برتنے ہی میں بہتری سمجھی۔’’

    اسی دن ‘‘عصر جدید’’ کے مزاحیہ کالم میں انھیں باتوں کااعادہ کیا گیا تھا اور اس کی ابتدا اس طرح ہوئی تھی:

    ‘‘راویِ معتبر اس طرح روایت کرتا ہے کہ جب اردو کے مشہور ادیب اور سب سے بڑے افسانہ نگار کرشن چندر تشریف لائے تو ترقی پسند مصنفوں کی طرف سے ایک شاندار پارٹی دی گئی اور چونکہ سخت خطرہ اس بات کا تھا کہ کسی چور دروازے سے کوئی قدامت پسند یا تنزل پسند ادیب نہ گھس آئے، اس لیے ان تمام اخبارات کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی، جن کے متعلق ذرا بھی قدامت پسندی کا شبہ تھا۔ اس طرح اس پارٹی میں صرف ترقی پسند جمع ہوسکے اور دوسرے خیال والے اِس خبر سے بھی محروم رہ گئے کہ کرشن چندر صاحب کلکتہ تشریف لائے ہیں۔’’

    سالک لکھنوی اور ابراہیم ہوشؔ سے کاروباری، صحافتی اور ادبی چشمک کے باعث دوسرے صحابیوں نے موقع کا فائدہ اٹھا۔ ان دنوں کلکتہ میں ترقی پسند نقطہ نظر رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کا حلقہ پرویزؔ شاہدی، ابراہیم ہوشؔ، سالکؔ لکھنوی اور مظہر امام سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اخباروں نے کوشش کی کہ آپس میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں اور کلکتہ کے واحد اہم ادبی حلقے کو ضرب پہنچائی جائے۔ یکم اکتوبر کو روزنامہ ‘‘امروز’’ نے ایک انتہائی رکیک اداریہ لکھا، جس کا عنوان تھا ‘‘ترقی پسندوں میں جنگ’’ اس اداریہ میں عنوان بتائے بغیر کرشن چند کے ایک افسانے ‘‘ایک ہزار چار سو بہتر لڑکیاں’’ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کرشن چندر اور پرویزؔ شاہدی کو غلط رنگ میں پیش کرنےکی کوشش کی گئی اور سالکؔ لکھنوی کو مجھ سے بدگمان کرنے کے لیے شعوری طور پر ذہنی پستی کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہاں ‘‘نقل کفر’’ بھی مناسب نہیں۔

    مراسلہ بازیوں کا سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔

    اسی سلسلے کے ایک دوسرے ہنگامے یا بحث کی روداد سنئے:

    ہوا یہ کہ جب اسی چورنگی ریستواں والی ٹی پارٹی میں کرشن چندر چائے نوش فرماچکے تو اِن سے بھی کچھ ارشاد فرمانے کی گزارش کی گئی۔ کرشن چندر نے یہ شوشہ چھوڑا کہ وہ کوئی باضابطہ تقریر کرنے کے بجائے سوالوں کے جواب دینا پسند کریں گے۔ اب میری شامت جو آئی تو میں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی تنظیمی بے حسی کے بارے میں سوال کرڈالا۔ کرشن چندر ۵۳ء کے کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری تھے۔

    تنظیمی بے حسی کی بابت میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کرشن چندر نے کہا کہ انجمن اپنا رول پورا کرچکی ہے اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مارکسزم کے نظریہ کی بنیاد پر ایک ایسی انجمن بنانا چاہیے جو ملک کو سوشلزم کی منزل تک لے جانے میں مُمد ہو۔

    میں نے پھر سوال کیا ‘‘اگر ایسا ہے تو انجمن کی موت کا اعلان کیوں نہیں کردیا جاتا؟’’

    کرشن چندر نے مسکراتے ہوئے معصوم قطعیت کے ساتھ جواب دیا ‘‘موت کے باضابطہ اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی، موت آپ اپنا اعلان ہے۔’’

    یہاں پھر ایک بے تعلق سی لیکن دلچسپ بات یاد آرہی ہے۔ کسی نے کرشن چندر سے ایک طویل سوال کیا تھا، جس کے الفاظ اب یاد نہیں رہے۔ کچھ جدلیاتی مادیت وغیرہ کا ذکر تھا۔ کرشن چندر نے برجستگی سے کہا تھا: ‘‘بھئی، آپ جانتے ہیں، میں گدھا ہوں، بات ذرا دیر سے سمجھ میں آتی ہے۔ آپ اپنے سوال کا مفہوم مختصر لفظوں میں بیان کیجیے۔’’

    کرشن چندر کی خود گذشت بہ عنوان ‘‘ایک گدھے کی سرگذشت’’ کچھ عرصہ پہلے شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکی تھی اور جیسا کہ خود انہوں نے بتایا تھا، لوگ ان کی طرف اشارہ کرکے کہا کرتے تھے: ‘‘وہ دیکھو، وہ گدھا جارہا ہے۔’’

    میرے سوال اور کرشن چندر کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے ماہنامہ ‘‘سہیل’’ گیا کی اکتوبر ۵۷ء کی اشاعت میں کلام حیدری نے ‘‘نئے حالات اور ہم’’ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا، جس میں کرشن چندر کے بیان کی وضاحت طلب کی گئی اور ان سے دریافت کیا گیا کہ اب اگر وہ مارکسی بنیاد پر تنظیم چاہتے ہیں تو وہ کیسی ہوگی۔ ایک جگہ کلام حیدری نے لکھا تھا:

    ‘‘انھوں نے (کرشن چندر نے) یہ نہیں کہا کہ انجمن چند افراد کی گروپ بندیوں کا شکار ہوگئی۔ انھوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ انجمن نظریاتی انتہا پسندی (جو ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی کی ایک جھلک تھی) کی بھینٹ چڑھ گئی۔کرشن چندر نے یہ بھی نہیں کہا کہ بین الاقوامی پیمانے پر نظریاتی تبدیلیوں (بلکہ ‘‘بتوں’’ کی تبدیلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا)نے انجمن ترقی پسند مصنفین کو تو ایک طرف، سیدھے سیدھے کمیونسٹوں ہی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور پُرانے بتوں سے نئے بتوں تک آنے کے عبوری زمانے میں ‘‘ترقی پسندی’’ کی بنیاد پر کسی ادبی انجمن کی تنظیم ممکن نہیں۔’’

    دوسرے مہینے یعنی نومبر کے ‘‘سہیل’’ میں شہزاد منظر نے کلام حیدری کے جواب میں ایک مضمون شایع کرایا۔ جس کا عنوان تھا ‘’انجمن ترقی پسند مصنفین کی ضرورت’’۔ اس مضمون میں کرشن چندر کے الفاظ سے پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ترقی پسندوں کی تنظیم ٹوٹنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا:

    ‘‘کلام حیدری نے اپنے مضمون میں جس طرح ذہنی جھلاہٹ کا اظہار کیا ہے، وہ قطعی غیرمناسب اور ناجائز ہے۔ کلام حیدری ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی، انجمن ترقی پسند مصنفین، سوویت روس اور بین الاقوامی کمیونزم کے متعلق اپنے خیالات کااظہار کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ بھی اختیار کرسکتے تھے۔ خواہ مخواہ کرشن چندر کی قطعی ذاتی رائے کو ایک ذریعہ بناکر ادبی سنسنی اور تہلکہ مچانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔’’

    یہ ہنگامے ادبی یا صحافتی محاذ پر ہوئے۔ ادب داستان کا وہ حصہ سنئے جو سراسر ذاتی نوعیت کا ہے:

    چورنگی ریستوراں والی نشست کے بعد جب سب لوگ باہر آئے تو میں نے کرشن چندر سے شکایت کی کہ آپ اتنے دنوں سے کلکتہ آئے ہوئے ہیں، لیکن آپ نے اپنی آمد کی اطلاع ہم میں سے کسی کو نہ دی۔ کرشن چندر نے کہا ‘‘چلیے ہوٹل چلتے ہیں، وہیں باتیں کریں گے۔’’

    میجسٹک ہوٹل پہنچ کر مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک دو باتیں یاد رہ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے پاس اتنی ڈاک آتی ہے جتنی بہت سے فلمی ہیرو کے پاس بھی نہیں آتی۔ میرے ایک استفسار پر انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ فلمیں بنارہےتھے تو پروڈیوسر نے انہیں گاڑیاں دے رکھی تھیں۔ اب ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ روس سے نقد کی صورت میں رائلٹی نہیں آسکتی۔ البتہ اس رقم سے چیزیں خرید کر لائی جاسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی چیزیں لانا ممکن نہیں۔

    دوسرے دن شام کو دوبارہ ملنے کا پروگرام طے ہوا۔ میں نے پرویز شاہدی کو اطلاع دی۔ پھر ہم دونوں ل۔حمد اکبر آبادی کے یہاں گئے۔ وہاں اتفاق سے جمیلؔ مظہری بھی موجود تھے۔ ہم سب کرشن چندر کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا وہ صبح سے بخار میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک امریکی رسالے سے دل بہلا رہے تھے، جس میں نیم برہنہ (بلکہ ‘نیم’ سے کچھ زیادہ) تصویریں تھیں۔ اس کا نام FOLLIES تھا۔ (کلکتہ سے رخصت ہوتے وقت انہوں نے وہ رسالہ مجھے بخش دیا، جو ان کی یادگار کے طور پر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے) ہم لوگوں کے اصرار پر وہ بستر پر لیٹ گئے۔ جمیلؔ مظہری سے تعارف ہوا تو کرشن چندر بولے کہ میں آپ سے واقف ہوں اور آپ سے پونا میں جوشؔ صاحب کے یہاں مل چکا ہوں۔ پرویزؔ شاہدی سے وہ اپنے زیرِ تصنیف ناول ‘‘خدا جہنم میں’’ کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے: ‘‘اس کاتھیم یہ ہے کہ خدا ایک دفعہ دنیا میں آتا ہے اوریہاں ارباب اختیار نے اذیت کوشی کے جو ذرائع اختیار کر رکھے ہیں، انہیں دیکھ کر وہ کانپ جاتا ہے کہ کہ ان کے مقابلہ میں اس کی بنائی ہوئی جہنم تو بہت حقیر ہے۔’’

    پرویز شاہدی نے دریافت کیا۔ ‘‘کیا اس میں concentration camps اور Electric chair وغیرہ کا ذکر ہوگا؟’’

    کرشن چندر بولے: ‘‘ابھی میں بتانا نہیں چاہتا کیونکہ ناول کا اصل لطف ضائع ہوجائے گا، لیکن ان سب سے زیادہ ہیبت ناک ظلم اور جبر کے مظاہر پیش کیے جائیں گے۔’’ انھوں نے بتایا کہ یہ ناول ہندی میں جلد ہی قسط وار شائع ہونے والا ہے، لیکن اردو میں کون شائع کرے گا، کہا نہیں جاسکتا۔ یہ ناول آج تک شائع نہیں ہوسکا۔ کرشن چندر نے مجھے ایک خط میں لکھا تھا ‘‘شاید خدا کی مرضی نہیں ہے۔’’

    باتوں کے دوران کرشن چندر کی تکلیف بڑھ گئی تھی اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اب وہ آرام کرنا چاہتے ہیں۔ بخار تیز ہوگیا تھا اور سر کا درد بڑھ چلا تھا۔ بے چینی سے کروٹ بدلتے ہوئے بڑے رنجیدہ لہجے میں بولے: ‘‘بھائی پرویزؔ! اب کفن وفن کا انتظام کرو۔ تمہارے کلکتہ نے مارڈالا۔ ہائے۔’’

    پرویزؔ صاحب نے ان کے بازو کو تھپکتے ہوئے تسلی دی ‘‘کیوں گھبراتے ہو صبح تک ٹھیک ہوجاؤگے۔ میں اپنے ملازم کو بھجوادیتا ہوں، وہ رات کو یہیں رہے گا۔’’

    کرشن چندر بولے: ‘‘مظہر امام بھی رہ جائیں تو ٹھیک رہے گا۔میں تو یہاں بالکل اکیلا ہوں۔’’

    ایک بڑے فن کار کی تیمار داری کی سعادت میرے لیے ‘‘مسرت بخش’’ تھی!

    کرشن چندر جس اضطراب اور بے چینی کا مظاہرہ کر رہے تھے، وہ اچھے اچھوں کے اطمینانِ قلب کو متزلزل کرنے کے لیے کافی تھا۔ پونچھؔ کے رہنے والے ان کے بچپن کے ایک دوست، جو کلکتہ میں کاروبار کرتے تھے، رات کے دس بجے ایک ڈاکٹر کو بلا لائے جس نے کچھ دوائیں تجویز کیں۔ جب میں دوا لانے چورنگی پہنچا تو لگ بھگ گیارہ بج رہے تھے۔ عام طور پر اس وقت تک دواخانے بند ہوچکتے ہیں۔ اتفاق سے ایک ڈسپنسٹری کھلی تھی۔ میں دوائیں لے کر ہوٹل پہنچا تو پرویزؔ صاحب کا ملازم نظیرؔ آچکا تھا۔ وہ کرشن چندر کو جانتا تھا، کیونکہ ۵۲ء میں کل ہند امن کانفرنس کے دنوں میں کرشن چندر پرویزؔ شاہدی ہی کے یہاں مقیم تھے۔

    اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار، دنیا کے ایک عظیم ملک کاایک عظیم فنکار بستر علالت پر تھا اور میں اس کی تیمار داری پر مامور۔ جس نے آج تک کسی کی تیمار داری نہیں کی تھی، جو اس فن سے قطعی نابلد تھا۔

    کرشن چندر کو ۱۰۱ ڈگری سے زیادہ بخار نہ تھا، لیکن وہ مسلسل کراہ رہے تھے اور بار بار یہ شعر پڑھتے:

    الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا

    دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

    کہنے لگے: ‘‘بھائی امام! اب بچنے کی کوئی امید نہیں۔ موت کو بھی آنا تھا تو کہاں آئی!’’

    سر کے در کی بار بار شکایت کرتے اور میں پوری طاقت کے ساتھ دونوں ہاتھوں سےان کا سر دباتا۔ اس سے تھوڑا آرام ملتا تو کہتے: ‘‘پورا بدن ٹوٹ رہا ہے، کسی کروٹ چین نصیب نہیں ۔ع "آج کی رات مسافر پہ بہت بھاری ہے"

    میں پھر اپنی پوری طاقت صَرف کرکے ان کے پاؤں اور کمر دباتا۔ اس دوران میں ان کے سر کا درد پھر بڑھ چُکا ہوتا۔ اب میں سر کی طرف رجوع کرتا اور میرے کانوں میں یہ آواز آتی: ‘‘آہ! صبح تک زندہ نہیں رہوں گا۔کچھ نہ دوا نے کام کیا۔’’

    مجھے کرشن جی کی بے دلی اور بد دلی پر دل ہی دل میں ہنسی بھی آتی۔ لیکن میں اپنے چہرے پر پوری سنجیدگی طاری کیے ہوئے ان کی خدمت میں مصروف رہا۔ رات کے پچھلے پہر تھوڑی دیر کے لیے کرشن جی کو نیند آگئی۔ میں جاگتا رہا۔ میرے لیے زندگی میں یہ پہلا موقع تھاکہ میں نے کسی مریض کے سرہانے پوری رات جاگ کر گزاری ہو۔

    کرشن چندر بمبئی جاکر مرنا چاہتے تھے۔ شاید وہ چند دن اور کلکتہ ٹھہرتے، لیکن انہیں یہ گوارا نہ تھا کہ ان کا جنازہ کلکتہ میں اٹھے۔ انھوں نے دوسری صبح کی فلائٹ سے اپنے لیے سیٹ بُک کرالی تھی۔ صبح تک ان کی طبیعت پہلے سے بہت بہتر تھی۔ کہنے لگے: ‘‘کلکتہ کی گرمی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ میں جب پنجاب میں تھا، گرمیوں میں پہاڑوں پر چلا جاتا تھا۔ میں بیمار نہیں پڑتا، اس لیے بیمار ہونے پر جلد گھبراجاتاہوں۔’’

    رات کے کرشن چندر صبح کو یکسر بدل چکے تھے۔ اب وہ موت کا ذکر چھوڑ کر زندگی کی باتیں کر رہے تھے۔ عباسؔ، ساحرؔ، جاں نثار اخترؔ اور رامانند ساگر کی باتیں۔ میں نے ان سے دھرم پرکاش آنند کے بارے میں دریافت کیا، جنھوں نے کسی زمانے میں ‘‘ادبی دنیا’’ ، ‘‘ادب لطیف’’ وغیرہ میں جنس کے موضوع پر بڑے خوبصورت افسانے لکھے تھے اور کرشن چندر نے ‘‘نئے زاویے’’ کی پہلی جلد اور غالباً ‘‘نئے فسانے’’ میں بھی انھیں شامل کیا تھا۔ ان سے معلوم ہوا کہ آنند دہلی میں افسری کرتے ہیں اور افسانہ نگاری سے تائب ہوگئے ہیں۔

    ساحرؔ کسی زمانے میں کرشن چندر کے اندھیری والے مکان کے گیرج میں اور پھر ان کے مکان کی اوپری منزل میں رہا کرتے تھے، لیکن ان دنوں کسی بڑے فلیٹ میں منتقل ہوچکے تھے۔ ساحرؔ اور مجروحؔ کے ذکر پر بولے: ‘‘اب تو میں نے دونوں ہی سے ملنا بند کردیا ہے، کیونکہ جب بھی ان میں سے کوئی ملتا ہے، سوائے دوسرے کی شکایت کے کوئی اور بات ہی نہیں کرتا۔’’

    بمبئی کے اردو شاعروں کے آپس کے تعلقات کے بارے میں مجھے اس بیان کی تصدیق ہوئی جب میں نے انگریزی کے نئے شاعر ڈام موریس کا سفرنامہ پڑھا۔ اس نے لکھا ہے کہ جب میں ملک راج آنند سے ملنے گیا تو انھوں نے کہا کہ بمبئی میں اردو کے چھ بلند پایہ شاعرہیں، لیکن ان کے آپسی تعلقات کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف میرے یہاں کھانے پر اکٹھے ہوتے ہیں اور تب ہی آپس میں ان کی بات چیت ہوتی ہے۔

    کرشن چندر نے واپس بمبئی پہنچ کر اپنے مخصوص مزاح کی چاشنی لیے ہوئے ایک انتہائی محبت آمیز خط لکھا جو ان کی اخلاقی سربلندی کا بھی آئینہ دار ہے:

    ‘’جب کلکتے سے نکلا تو ۱۰۲ درجۂ حرارت تھا۔ یہاں پہنچ کر پھر ۱۰۴ ہوگیا۔ اس وقت سے اب تک بستر پر دراز رہا ہوں۔ دو تین روز سے بخار نہیں ہے، لیکن نقاہت شدید ہے۔ کلکتہ سے جو فُلو میں لایا تو یہاں سب کو بانٹ دیا۔ چنانچہ ان دنوں میری بیوی بچے، میرا سکریٹری اور گھر کے دوسرے ملازمین سب فُلو سے بیمار پڑے ہیں۔ ہمسائے آکے دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کے باورچی کھانا پکاتے ہیں۔ مہندرؔجی مزاج پُرسی کے لیے آیا کرتے تھے۔ تین روز سے وہ بھی اپنے گھر میں فُلو میں مبتلا ہیں۔کہیے آپ تو خیرت سے رہے؟ میرے جانے کے بعد!

    ابھی تو یہ حال ہے کہ کلکتہ کے نام سے ہی وحشت ہوتی ہے (حالاں کہ اب تو بیچارے وحشتؔ بھی کلکتہ میں نہ رہے) حالانکہ آپ کی محبت اور رفاقت نے کلکتے میں بڑا سہارا دیا اور یہ خوبصورت بات ہمیشہ دل میں رہے گی۔ افسوس کہ اپنی علالت کی وجہ سے آپ سے ملاقات بڑی سرسری اور بے لطف رہی۔’’

    اسی خط میں انہوں نے پوچھا تھا: ‘‘شاہد پرویزی کس حال میں ہیں؟’’ میں نے پرویزؔشاہدی کو یہ خط دکھایا تو انہیں یہ بات گراں گذری کہ کرشن چندر ان کانام لینے میں غلطی کر رہےہیں۔ میں نے انہیں اس سلسلے میں لکھا تو ان کا بڑا دلچسپ جواب آیا:

    ‘‘شاہد پرویزی، توبہ توبہ، پرویز شاہدی کو میری طرف سے بہت بہت پیار۔ اگر میں اپنی علالت کے زمانے میں ان کا نام غلط لکھ گیا تو کیا مضائقہ ہے؟ انہیں بھی مجھے کرشن چندر کے بجائے ‘‘چرشن کندر’’ کہہ دینے کا حق ہے۔ وہ اس حق کو ہمیشہ استعمال کرسکتے ہیں۔’’

    کرشن چندر سے خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلا تو میں نے ایک خط میں دریافت کیا کہ کیا آپ بھی اپنی تحریروں پر تنقیدیں پڑھ کر ناگواری محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہوئے اپنے ۲۲نومبر ۵۷ء کے خط میں مجھے لکھا:

    ‘‘اس ملک کے ادیبوں مںا یہ بہت بڑی کمزوری ہے کہ وہ اپنے ادب کے خلاف کوئی بات سن ہی نہںا سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک غلط قسم کی تنقید نگاری کا رجحان جڑ پکڑ رہا ہے۔ بشتر تنقدبیں تو دوست نوازی کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہںت اور بعض بُغض اور منافرت کی بنا پر۔ اس طرح سے صحت مند تنقید نہیں ہوتی۔ اگر میں واقعی اوّل درجے کا ادب پشر کرتا ہوں تو یہ تمام مخالفت تاریخ کی نظروں میں بے معنی ہوجائے گی، اور اگر واقعی مںت بُرا ادب پشف کرتا ہوں تو مرپے تمام دوستوں کی مدح و ستائش مجھے ادبی موت سے کبھی نہ بچاسکے گی۔ قصہ مختصر یہ کہ ادیبوں کو ادب کے معاملے مں اپنے دل وسعں رکھنے چاہئںا۔ اس وسعت نظری کے بغرا اول درجے کا بلکہ دوم درجے کا ادب بھی پدقا نہںف ہوسکتا۔’’

    اپریل ۵۸ء میں میری شادی ہوئی تو میں نے کرشن چندر کو اس کی اطلاع دی۔ ان کاخط آیا:

    ‘‘آپ نےشادی کرڈالی؟ خدا آپ کو خوش رکھے اور شادی کی ہر آفت سے محفوظ رکھے۔ عورتوں کے متعلق میرا اب یہ عقیدہ ہے کہ دور سے بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔’’

    کرشن چندر کی دعا کا وہی حشر ہوا جو اس طرح کی دعاؤں کا ہوتا ہے! میرا خیال ہے کہ انھیں عورتیں دور سے ہی نہیں، نزدیک سے بھی اچھی معلوم ہوتی تھیں! اس کی تصدیق جلد ہی ہوگئی۔

    کچھ عرصہ بعد منظر شہاب نے بتایا کہ وہ پٹنہ سے دربھنگا جانے کے لیے بذریعہ اسٹیمر گنگا پار کر رہے تھے کہ انہیں کرشن چندر ایک سُوٹ کیس پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ پہلے تو انہیں پہچاننے میں تکلف ہوا، پھر ہمت کرکے پوچھ ہی لیا کہ آپ اس طرف کہاں؟ معلوم ہوا کہ وہ تسنیم سلیم چھتاری کی دعوت پر ان سے ملنے چکیہ (موتی ہاری) جارہے ہیں۔ ان دنوں تسنیم سلیم کے شوہر وہاں ایک شوگر مل کے منیجر تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کرشن چندر سے سلمیٰ صدیقی کی دوستی یہیں پروان چڑھی! واللہ اعلم۔

    ۶۱ء میں پرویزؔ شاہدی، یومِ جگرؔ میں شرکت کے لیے کٹک آئے تو انہوں نے خبردی کہ کرشن چندر نے سلمیٰ صدیقی سے شادی کرلی ہے۔ اس کی اطلاع انھیں بنّے بھائی سے کلکتے میں ملی تھی۔ کرشن چندر کے ذوقِ حُسن کا میں ہمیشہ سے قائل رہا ہوں اور سلمیٰ صدیقی کے حُسن کے بارےمیں دورائیں نہیں ہوسکتی تھیں۔ میں نے پہلی بار ان کی تصویر ‘‘شعاعیں’’ نام کے دہلی کے ایک رسالے کے افسانہ نمبر ۴۹ء میں سرورق پر دیکھی تھی۔ اسی رسالے کے کسی اور شمارے میں خورشید عادل منیر اور ان دونوں کے پہلے بچے کی تصویر بھی سلمیٰ کے ساتھ چھپی تھی۔ اس رسالے میں دونوں میاں بیوی کے افسانے شائع ہوتے رہتے تھے۔ (خورشید عادل منیر کے افسانے میں نے ‘‘ساقی’’ میں بھی دیکھے تھے) ۵۰-۵۱ء میں سلمیٰ خورشید منیر ‘‘شعاعیں’’ کی مجلس ادارت میں بھی شامل تھیں۔ کرشن چندر کی تحریریں بھی اِ س رسالے میں آنے لگی تھیں۔ کرشن اپنی بیوی سے ہمیشہ غیرمطمئن رہے، اور شاید اسی لیے ایک آستاں سے دوسرے آستاں تک بھٹکتے رہے۔ شاہد احمد دہلوی نے کرشن چندر پر لکھے ہوئے اپنے خاکے میں اس زمانے کا ذکرکرتے ہوئے جب وہ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام ا سسٹنٹ تھے، لکھا ہے کہ ان کے بارے میں بُری بُری باتیں سننے میں آتی تھیں۔ ظاہر ہے یہ ‘‘بُری بُری باتیں’’ کرشن چندر کی حُسن پرستی سے متعلق ہی رہی ہوں گی۔ ہمارے یہاں ‘‘شاہد و شراب’’ کے ذکر سے ہی تیوریوں پر بَل پڑ جاتے ہیں۔ استحصال، رشوت ستانی، بے ایمانی، فریب کاری ہمارے معاشرے کا مَن بھاتا کھاجا ہیں۔

    سلمیٰ صدیقی سے کرشن چندر کی شادی ایک عرصے تک موضوع گفتگو اور مسئلہ بحث بنی رہی۔ ہماری سرحد کے اس پار تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ وہاں جو کچھ لکھا گیا، میں نے نہیں دیکھا، لیکن وہاں کے ایک رسالے شاید ‘‘ادب لطیف’’ میں انہیں دنوں کرشن چندر کا ایک خط چھپا تھا جس میں انہوں نے اس موضوع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اڈیٹر سے درخواست کی تھی کہ وہاں جو گندگی اچھالی جارہی ہے، اسے ختم کرانے کی کوشش کریں۔ ان دنوں یہ بات بھی پھیلی کہ یہ شادی اسلامی طریقے سے ہوئی، باقاعدہ نکاح ہوا۔ کرشن چندر نےاسلام قبول کیا اور اپنا نام قادر ملک رکھا۔

    اس شادی کے چھ سات سال بعد"شاعر" کا ایک ضخیم اور نہایت عمدہ کرشن چندر نمبر ۶۷ء میں شائع ہوا۔ اس میں علی گڑھ کے کسی قلم کار کی کوئی تحریر نہیں تھی۔ سنا گیا کہ رشید احمد صدیقی کی خاطر شکنی کا لحاظ رکھتے ہوئے وہاں کے کسی ادیب نے اس نمبر کے لیے لکھنامناسب نہیں سمجھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہےکہ رشید صاحب نے اس شادی کے بعد کبھی کرشن چندر سے ملنا گوارا نہیں کیا، لیکن سلمیٰ صدیقی سے ان کے تعلقات کرشن چندر کی زندگی میں ہی قائم ہوگئے تھے۔ اس کا ثبوت سلمیٰ کے نام ان کے وہ خطوط ہیں جو لطیف الزماں خاں کے مرتب کردہ مجموعے میں شامل ہیں۔ میں نے ‘‘شاعر’’ کے اس نمبر میں کرشن چندر پر محمد حسن عسکری کا وہ طویل مقالہ بھی شائع کرادیا تھا جو ‘‘اردو ادب میں ایک نئی آواز’’ کے عنوان سے اگست ۴۱ء کے ‘‘ساقی’’ میں چھپا تھا۔ خود کرشن چندر بھی اس مضمون کو بھول گئے تھے، اور بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ محمد حسن عسکری نے، جو کرشن چندر کے مخالفوں میں شاید سب سے موثر آواز تھے، کبھی ان کی افسانہ نگاری پر ایک انتہائی توصیفی مضمون بھی لکھا تھا۔ ڈاکٹر آفتاب احمد نے لکھا ہے کہ ایک بار انہوں نے عسکری سے اس مضمون کا ذکر کیا تو وہ ٹال گئے۔ ۵۴ء میں ‘‘سیارہ’’ کراچی میں عسکری نے کرشن کا جو انتہائی محبت آمیز خاکہ لکھا تھا، اس پر کسی کی نگاہ ہی نہیں گئی۔

    کرشن چندر سے ایک تفصیلی لیکن آخری ملاقات ۷۳ء میں کانپور اور لکھنؤ میں ہوئی۔ نہرو کلچرل ایسوسی ایشن لکھنو کی جانب سے کانپور کے کملا کلب کے احاطے میں ایک کل ہند مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسی تقریب میں ایسوسی ایشن کی جانب سے اس وقت کے نائب صدر جمہوریۂ ہند جی۔اس۔پاٹھک کے ہاتھوں کرشن چندر اور کیفی اعظمی کو انعامات بھی دیے گئے تھے۔ مشاعرے کی صدارت کرشن چندر نے کی تھی۔ کیفی اعظمی کو، ان کے معذور ہونے کے بعد، میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ فرش کی بجائے کرسی پر بیٹھنے لگے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ان کی صاحبزادی شبانہ اعظمی سیدھے سادے لباس میں اسٹیج پر موجود تھیں۔ اس وقت تک ان کی پہلی فلم ‘‘انکرُ’’ بھی ریلیز نہیں ہوئی تھی، اور فلمی اداکار کی حیثیت سے کم ہی لوگ انہیں جانتے تھے۔ البتہ مشاعرے میں مشہور فلم اسٹار نگار سلطانہ کی نوخیز بیٹی حنا کوثر اپنے تمام قاتلانہ گلیمر کے ساتھ بحیثیت شاعرہ شریک تھیں، اور انہیں ہی مشاعرے میں سب سے زیادہ داد ملتی تھی۔ ساحرؔ لدھیانوی نے اپنی نظم ‘‘پرچھائیاں’’ شروع کی، لیکن مجمع نے سُننا گوارا نہ کیا۔ کسی نے ‘‘تاج محل’’ کا لقمہ دیا۔ ساحرؔ کی وہ نظم بھی بے دلی کے ساتھ سُنی گئی۔ مشاعرے میں اتنی بھیڑ تھی کہ اسے کنٹرول کرنا مشکل تھا۔ افراتفری کا یہ عالم تھا کہ مجروحؔ سلطان پوری مشاعرہ گاہ کے گیٹ تک پہنچے تو کسی نے انہیں اندر جانے نہ دیا۔ وہ واپس چلے گئے اور مشاعرے میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی محفل میں پہلی بار احمد جمال پاشا اور عابد سہیل سےملاقات ہوئی۔

    منتظمین مشاعرہ نےجس جگہ میرے قیام کا انتظام کیا تھا، وہیں فراقؔ، مجروحؔ، شاذؔ تمکنت، زبیرؔ رضوی وغیرہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ شاذؔ کہنے لگے کہ میں تمہارا یہ شعر اپنی محبوبہ کو اکثر سُناتا ہوں:

    محو ہوتی ہی نہیں یاد تری

    کوئی بچپن کا سبق ہو جیسے!

    مشاعرے کے دوسرے روز میں شمس الرحمنٰ فاروقی کے یہاں منتقل ہوگیا جو ان دنوں وہیں کانپور میں ڈائرکٹر پوسٹل سروسز تھے۔ انہیں بھی غیرمسلم اردو مصنفین کانفرنس میں بحیثیت آبزرور شریک ہونا تھا اور مجھے بھی۔ انہیں کی گاڑی میں لکھنؤ تک کا سفر کیا۔ رام لال نے میرے قیام کا انتظام کہیں اور کیا تھا، لیکن رتن سنگھ مجھے کھینچ کر اپنے یہاں لے گئے۔ وہ ان دنوں آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ میں پروگرام اگزیکٹیو تھے۔ ان سے بھی یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن پر کبھی ن۔م۔راشد اور کرشن چندر بھی رہ چکے ہیں۔

    غیر مسلم اردو مصنفین کانفرنس میں بہت سی مقتدر شخصیتیں تھیں، مگر مرکز نگاہ کرشن چندر ہی تھے، ہر چند انہیں اس وقت تک non-writer قرار دیا جاچکا تھا اور جدیدیت پسندوں کا حلقہ ان سے کھنچا کھنچا رہتا تھا۔ یہ جدیدیت کے عروج کا زمانہ تھا، اور ایسا لگتا تھا کہ ترقی پسندی اپنی معنویت کھوچکی ہے، مگر کرشن چندر ان آتی جاتی لہروں سے بے نیاز لکھے جارہے تھے۔ ان کا ناول ‘‘آدھا راستہ’’ عابد سہیل نے انہیں دنوں چھاپا تھا۔ ہوٹل گلمرگ میں، جہاں کرشن چندر کا قیام تھا، میں نے عابد سہیل کو ان سے ان ناول کے اگلے حصے کی تکمیل کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا۔

    کانفرنس کے الگ الگ اجلاسوں میں اور ان سے باہر میرا ساتھ زیادہ تر کرشن چندر کے ساتھ رہا۔ وہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ 'ہیم وتی نندن بہوگنا' سے بھی اسی بے تکلفی سے ملتے جس طرح اپنے کسی بے شناخت قاری سے۔ عظمت ان کےشانوں تک پہنچ کر بہت سبک ہوگئی تھی۔ کانفرنس میں اردو کی بقا اور ترویج کے سلسلے میں بہت سی تجویزیں پیش ہوئیں۔ جیسا کہ قاعدہ ہے منظوری سے پہلے تجویزوں پر بحثیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کئی بحثوں میں حصہ لینے کے لیے مجھے مجبور کیا۔ اور جب ریڈیو سے متعلق ایک تجویز پیش ہوئی، کہ اردو کو اس ذریعۂ ابلاغ میں خاطر خواہ جگہ ملنی چاہیے تو انہوں نے خود جاکر مائک پر میرےنام کا اعلان کیا۔ وہ شہر میں کئی جگہ گئے۔ رکشے پر میں ہمیشہ ان کے ہم سفر رہا۔ ان کے لیے گاڑی وزیر اعلیٰ کے یہاں سے بھی آسکتی تھی، یا ان کے کسی بھی اہل ثروت مدّاح کے یہاں سے۔ مگر انہوں نےکسی سے یہ احسان لینا گوار نہ کیا۔ ہوٹل میں اور رکشے پر ان سے بہت سی باتیں ہوئیں، ترقی پسندی اور جدیدیت کی، بمبئی کی فلمی زندگی کی، ان کی نئی تحریروں کی۔ میں نے عسکری کا ذکر چھیڑنے کے لیے کہا کہ میں نے ان کا مضمون ‘‘شاعر’’ کے نمبر میں چھپوا دیا تھا۔ کہنےلگے: ‘‘تم نے بہت اچھا کیا، مجھے یہ مضمون یاد نہیں تھا، مہندر جی کو بھی نہیں۔’’ ان سے عسکری کی مخالفت کی بات چل نکلی۔ بولے: ‘‘پہلے وہ بھی ترقی پسندی سے متاثر تھے۔ دہلی میں کئی بار ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ محبت سے ملتے تھے، پھر پتہ نہیں کیوں وہ میری مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ تقسیم کے بعد تو انہوں نے باقاعدہ میرے خلاف محاذ آرائی کی۔’’

    میں نے کہا: ‘‘جی ہاں، میں نے ‘سنگ میل’ وغیرہ میں ان مضامین کے بارے میں پڑھا تھا جو انہوں نے آپ کے خلاف بعض اخبارات اور رسائل میں لکھے تھے۔ خاص طور پر فسادات پر لکھے ہوئے آپ کے افسانوں پر وہ بہت معترض تھے۔ ان دنوں وہ منٹو کو بڑھا رہے تھے۔ ان کے ساتھ مل کر ‘‘اردو ادب’’ کااجرا بھی کیا تھا، پھر انہوں نے پاکستانی ادب کا نعرہ لگایا۔’’

    میں نے مزید کہا: ‘‘تقسیم سے پہلے بھی وہ ‘جھلکیاں’ میں آپ پر بالواسطہ طنز کرتے رہے تھے۔ ‘ان داتا’ کے بعد انہوں نے لکھا تھا کہ قحط بنگال پر لکھے ہوئے افسانوں سے گھسے ہوئے پیسوں کی بو آتی ہے۔ ویسے اپنے خاکے میں آپ سے دوستی کا انہوں نے بار بار ذکر کیا ہے۔’’

    کرشن چندر خاموش رہے۔ میں نے بات کا رُخ بدلنے کے لیے دریافت کیا: ‘‘آپ سلمیٰ بھابھی کو نہیں لائے؟’’

    کہنے لگے: ‘‘بھائی، انہیں یہاں تکلیف ہوتی۔ وہاں تو قدم قدم پر ٹیکسی مل جاتی ہے۔ لکھنؤ کے ان چھوٹے چھوٹے رکشوں پر بیٹھنا ان کے لیے دشوار ہوتا۔’’

    پھر میں پٹنہ میں سخت بیمار ہوا۔ پوری طرح صحت یاب بھی نہ ہوا تھا کہ میں تبدیل ہوکر سری نگر چلا گیا۔ میرے وہاں پہنچنے سے قبل کرشن چندر آخری بار کشمیر آئے تھے۔ بعض دوستوں نے بتایا: ‘‘بہت رقیق القلب ہوگئے ہیں۔ زیادہ پی لیتے ہیں اور رونے لگتے ہیں۔’’ نہ جانے کون سی خلش تھی، ناآسودگی اور محرومی کا کون سا احساس تھا، جس نے انہیں مضطرب کر رکھا تھا۔ دل کا حملہ ہوا، پیس میکر لگایا گیا۔ انتقال کی خبر آئی تو مجھ پر سکتہ سا طاری ہوگیا۔ کرشن چندر سے میرا جتنا جذباتی تعلق رہا ہے، کسی اور ادیب سے نہیں رہا۔ ہوش و حواس بجا ہوئے تو میں نے سری نگر دوردرشن کے مذاکرے میں کہا کہ موجودہ تنقید کرشن چندر کی دشمن ہے، لیکن یہ تنقید اپنی موت آپ مرجائے گی، کیوں کہ کرشن چندر کے لازوال افسانوں کی تعداد ان تیروں سے زیادہ ہے جو ان پر برسائے گئے ہیں!

    ۱۹۷۹ء میں مجھے ایک تربیتی کورس سے وابستگی کے سبب چھ ماہ تک فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ پونا میں رہنا پڑا۔ فروری میں اعجاز صدیقی مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر صابو صدیق ہال بمبئی میں ایک جلسہ منعقدہ ہوا جس کا اہتمام ‘‘شاعر’’ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ میں بھی مدعو تھا اور بیگم اعجاز صدیقی کا مہمان تھا۔ جلسے کی صدارت میں نے کی۔ ظ۔انصاری، راہی معصوم رضا، سلمیٰ صدیقی وغیرہ موجود تھے۔ سلمیٰ صدیقی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ دوسرے دن سہ پہر کو ان کے دولت کدے پر ان سے ملنے کا وقت مقرر ہوا۔ صبح سویرے ظ۔انصاری مجھ سے ملنے میری رہائش گاہ پر آگئے۔ ان سے رخصت ہونے کے بعد ٹیلی ویژن سنٹر چلا گیا۔ وہاں سردار جعفری اور تبسم (مشہور فلم/ ٹی وی آرٹسٹ) کے ساتھ کرشن چندر کے افسانے ‘‘آدھ گھنٹے کا خدا’’ پر مبنی بمبئی دوردرشن کی تیار کردہ ٹیلی فلم دیکھی۔ وہاں سے راہی معصوم رضا کے یہاں پہنچا۔ وہیں آج کی معروف فلمی اداکارہ دیپتی نول (پرکاش جھا کی سابق بیوی) سے تعارف ہوا۔ اس وقت تک ان کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایک ڈری ڈری سہمی سہمی سی لڑکی لگتی تھیں۔ راہیؔ کو میں نے بتایا کہ مجھے یہاں سے سلمیٰ صدیقی کے یہاں جانا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں بھی اسی طرف جارہا ہوں، تمہیں چھوڑدوں گا۔ انہوں نے مجھے اپنی نئی سیاہ ایمبیسڈر میں سلمیٰ صدیقی کے گھر پہنچا دیا۔ سلمیٰ بھابھی کہنے لگیں کہ کرشن جی جن دوچار لوگوں کو اپنے آپ سے بہت قریب سمجھتے تھے، ان میں ایک آپ کانام بھی لیا کرتے تھے۔ کرشن جی کی زندگی میں اَن گنت لوگ آئے ہوں گے، بے شمار افراد سے قربت رہی ہوگی، پھر بھی اگر انہوں نے مجھے خود سے قریب سمجھا تو میں اسے ان کی بڑائی اور عظمت کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں نے خواہش ظاہر کی کہ میں کرشن بھائی کا وہ کمرہ دیکھنا چاہتا ہوں جس میں بیٹھ کر وہ لکھا کرتے تھے۔ سلمیٰ بھابھی نے بتایا کہ وہ کمرہ اس شکل میں باقی نہیں رہا۔ پھر وہ مجھے اس کمرے میں لے گئیں، جسے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ خیال آیا کہ اس مکان کو حکومت کی جانب سے کرشن چندر میوزیم میں تبدیل ہونا چاہیے تھا، مگر وہاں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے اس دور کے سب سے زیادہ موضوع بحث ادیب کی شناخت ہوسکتی۔ بمبئی جیسے مصروف اور بے نیاز شہر میں، یہی کیا کم ہے کہ وہ مکان جس میں کرشن چندر رہا کرتے تھے، ان کی بیوی بچوں کے سر چھپانے کے لیے باقی رہا۔

    میں کرشن چندرکے سابقہ اسٹڈی روم سے باہر نکلا ہی تھا کہ سلمیٰ بھابھی اشارہ کرکے مجھے پھر اسی کمرے میں واپس لے گئیں، اور تقریباً سرگوشی کے لہجے میں بولیں: ‘‘آپ نے کرشن جی کے انتقال کے بعد پٹنہ سے خط لکھا تھا اور مجھ سے ان کے نکاح نامہ کی نقل مانگی تھی۔’’ میں حیرت اور ایک طرح کے احساس تکدّر کے ساتھ ان کا منہ تکنے لگا۔ وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھیں۔ لیکن میں ہی بول پڑا: ‘‘میں ساڑھے تین سال سے پٹنہ سے باہر ہوں، کشمیر میں۔ میں نے کرشن بھائی کی وفات کے بعد بلکہ آج تک آپ کو کوئی خط نہیں لکھا۔ اگر کرشن بھائی کے نام میرا کوئی خط محفوظ ہو تو تحریر ملاکر دیکھ لیجیے۔’’ ایسا محسوس ہوا کہ ان کے سینے سے ایک بڑا بوجھ ٹل گیا ہے، لیکن وہ گومگو میں رہیں، شاید سوچ رہی تھیں کہ پھر کس نے یہ فریب کاری کی؟ آج تک میرے لیے بھی یہ ایک معمہ ہے کہ وہ خط میرے نام سے کس نے لکھا۔ ممکن ہے کسی واقف کار صحافی نے کرشن چندر سے میرے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاکر، میرے نام کا استحصال کرنا چاہا ہو، تاکہ کرشن بھائی اور سلمیٰ بھابھی کی شادی کے سلسلے میں پھر کوئی سنسنی خیز خبر شائع کی جاسکے۔

    زندگی کے حُسن سے کرشن چندر کا نکاح بچپن میں ہی ہوچکا تھا۔ انہوں نے اس منکوحہ کو اپنی بھرپور محبت دی۔ وہ مایوس اور دل شکستہ بھی ہوئے کہ زندگی کو بدصورت اور بدمزہ بنانے کی کوششیں ہر طرف سے ہو رہی تھیں لیکن زندگی کو خوبصورت دیکھنے کی آرزو سے وہ آحر دم تک سرشار رہے۔ ان کا ‘‘نکاح نامہ’’ دیکھنا ہو تو ‘‘زندگی کے موڑ پر’’ دیکھیے، ‘‘بالکونی’’ دیکھیے، ‘‘گرجن کی ایک شام’’ دیکھیے۔ اور ایک معمولی تحریف کے ساتھ ‘‘بالکونی’’ کی ان آخری سطروں پر مضمون کو ختم کرنے کی اجازت دیجیے:

    ‘‘بہار ضرور آئے گی، ایک دن انسان کی اجڑی کائنات میں بہار ضرور آئے گی۔۔۔ کرشن چندر! تیرے آنسو بیکار نہ جائیں گے!’’

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY