اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

انشا اللہ خاں انشا

اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

انشا اللہ خاں انشا

MORE BYانشا اللہ خاں انشا

    جرأت نابینا تھے ۔ایک روز بیٹھے فکر سخن کررہے تھے کہ انشاءؔ آگئے ۔ انہیں محو پایا تو پوچھا۔’’حضرت کس سوچ میں ہیں؟‘‘

    جرأت نے کہا’’کچھ نہیں ،بس ایک مصرعہ ہوا ہے ۔شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔‘‘ انشاءؔ نے عرض کیا ’’کچھ ہمیں بھی پتہ چلے ‘‘

    جرأت نے کہا’’نہیں !تم گرہ لگاکر مصرعہ مجھ سے چھین لوگے‘‘ آخر بڑے اصرار کے بعد جرأت نے بتایا مصرعہ تھا

    ’’اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی‘‘

    انشاءؔ نے فوراً گرہ لگائی :

    ’’اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی‘‘

    جرأت لاٹھی اٹھاکر انشاءؔ کی طرف لپکے۔دیر تک انشاءؔ آگے اور جرأت پیچھے پیچھے انہیں ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY