بھائی!
میرا دکھ سنو، ہر شخص کو غم موافق اس کی طبیعت کے ہوتا ہے۔ ایک تنہائی سے نفور ہے ایک کو تنہائی منظور ہے۔ تاہل (۱) میری موت ہے۔ میں کبھی اس گرفتاری سے خوش نہیں رہا۔ پٹیالے جانے میں ایک سبکی اور ذلت تھی۔ اگر چہ مجھ کو دولت میسر آجاتی لیکن اس تنہائی چند روزہ اور تجرید (۲) مستعار کی کیا خوشی؟ خدا نے لاولد رکھا تھا، شکر بجالاتا تھا۔ خدا نے میرا شکر مقبول و منظور نہ کیا۔ یہ بلا بھی قبیلہ داری کی شکل کا نتیجہ ہے۔ یعنی جس لوہے کا طوق اسی لوہے کی دو چھکڑیاں بھی پڑگئیں۔ خیر اس کا کیا رونا ہے۔ یہ قید جاودانی ہے۔
جناب حکیم صاحب ایک روز از راہ عنایت یہاں آئے۔ کیا کہوں کہ ان کے دیکھنے سے دل کیا خوش ہوا ہے۔ خدا ان کو زندہ رکھے۔ میاں، میں کثیر الاحباب شخص ہوں۔ سیکڑوں بلکہ ہزاروں دوست اس باسٹھ برس میں مر گئے۔ خصوصاً اس فتنہ و آشوب میں تو شاید کوئی میرا جاننے والا نہ بچے گا۔ اس راہ سے مجھ کو، جو دوست اب باقی ہیں، بہت عزیز ہیں۔ واللہ دعا مانگتا ہوں کہ اب ان احیا میں سے کوئی میرے سامنے نہ مرے۔ کیا معنی کہ جو میں مروں، تو کوئی میرا یاد کرنے والا اور مجھ پر رونے والا بھی تو دنیا میں ہو۔
مصطفیٰ خاں کا حال سنا ہوگا خدا کرے مرافعے (۳) میں چھوٹ جائے ورنہ حبس ہفت سالہ کی تاب اس ناز پرورد میں کہاں؟
احمد حسین میکش کا حال کچھ تم کو معلوم ہے یا نہیں؟ مخنوق (۴) ہوا، گویا اس نام کا آدمی شہر میں تھا ہی نہیں۔
پنسن کی درخواست دے رکھی ہے۔ یہ شرط اجرا بھی میرا کیا گزارہ ہوگا؟ ہاں دو باتیں ہیں ایک تو یہ کہ میری صفائی اور بیگناہی کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ موافق قول عوام ”چولہے (۵)، دلد ر ہو گا“
تجھ کو میری جان کی قسم! اگر میں تنہا ہوتا تو اس وجہ قلیل میں کیسا فارغ البال اور خوش حال رہتا؟ یہ بھی خبط ہے جو میں کہہ رہا ہوں خدا جانے پنسن جاری ہو گا یا نہ ہوگا۔ احتمال تعیش و تنعم به شرط تجرید، صورت اجرائے پنسن میں سونچتا ہوں اور وہ موہوم ہے۔ بیدل کا شعر مجھ کو مزا دیتا ہے،
نہ شام ما را سحر نویدے، نہ صبح مارا دم سپیدے
چو حاصل ماست نا امیدی، غبار دنیا بفرق عقبیٰ
اس وقت جی تم سے باتیں کرنے کو چاہا، جو کچھ دل میں تھا وہ تم سے کہا۔ زیادہ کیا لکھوں۔
از غالب بنام جان و جانان و از جان و جاناں
عزیز تر، حکیم غلام نجف خاں سلمہ اللہ تعالیٰ
۱۸۵۸ء
(۱) تاہل: شادی / ازواج
(۲) تجرید: تنہائی۔
(۳) مرافع: مقدمه
(۴) مخنوق ہوا: پھانسی ہوئی۔
(۵) چولہے دلدر نہ ہوگا: کھانے پینے کا محتاج نہ ہوگا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.