عظمت انسان

جوشؔ ملیح آبادی

عظمت انسان

جوشؔ ملیح آبادی

MORE BYجوشؔ ملیح آبادی

    1

    اے قلم چوب خضر، حبل متین ارشاد

    شانۂ گیسوئے خم دار عروس ایجاد

    قلزم وقت میں تو زمزمۂ باد مراد

    تیری تاریخ میں بیتی ہوئی صدیاں آباد

    کرۂ خاک صد انوار و صد آثار کے ساتھ

    رقص میں ہے تری پازیب کی جھنکار کے ساتھ

    2

    دونوں عالم کو اٹھائے ہوئے شانے تیرے

    بربط گیتی و گردوں میں ترانے تیرے

    جس قدر بھی ہیں زمانے وہ زمانے تیرے

    تندرؤ وقت کے دھاروں میں فسانے تیرے

    دور پارینہ کہ ہے موت کے ایوانوں میں

    سانس لیتا ہے ترے زندہ کتب خانوں میں

    3

    تو بصد ناز جدھر سے بھی گذر جاتا ہے

    جادۂ زیست کا ہر ذرہ سنور جاتا ہے

    تو مہ وسال کی یورش سے نکھر جاتا ہے

    ضربت وقت سے کچھ اور ابھر جاتا ہے

    توڑ دیتی ہے چٹانوں کو روانی تیری

    رس پر آتی ہے بڑھاپے میں جوانی تیری

    4

    نوک تیری جگر کوہ کو برماتی ہے

    نازنینوں کے کلیجوں میں اتر جاتی ہے

    تیری گھنگھور گھٹا دل پہ جو جھا جاتی ہے

    دونوں عالم کے برسنے کی صدا آتی ہے

    تیری بوچھار میں ڈھلتے ہیں ترانے کیا کیا

    مست رم جھم میں کھنکتے ہیں فسانے کیا کیا

    5

    تیرے سجدے میں ثریا کی بلندی غلطاں

    تیرے لفظوں میں دو صد شمس و قمر زمزمہ خواں

    تیری گفتار سے برنائی ذہن انساں

    تیری رفتار سے رقصاں ہے نگار دوراں

    تیری چوکھٹ پہ جبینیں ہیں جہاں داروں کی

    سانس رکتی ہے تیرے نام سے تلواروں کی

    6

    تیرا پرچم علم و چتر و عصا پر بھاری

    ایک اک حرف ترا ارض و سما پر بھاری

    تیرا اک عشوہ دو عالم کی ادا پر بھاری

    روشنائی تری خون شہداء پر بھاری

    جس میں عنصر ہے ابد کا وہ ہنر ہے تجھ میں

    دولت عمر مسیحا و خضر ہے تجھ میں

    7

    تو خزف کو قمر و لعل و گہر دیتا ہے

    شب لب تشنہ کو گل بانگ سحر دیتا ہے

    موج تخئیل کو لفظوں میں کتر دیتا ہے

    روح کاغذ کے مسامات میں بھر دیتا ہے

    خامشی کو ہمہ تن ساز بنا دیتا ہے

    تو خیالات کو آواز بنا دیتا ہے

    8

    تیری ٹھوکر پہ سر قیصر و تاج فغفور

    تیری مطرب حرکت لرزش مژگان شعور

    تیرے آغوش میں آب خضر و آتش طور

    تیرے سینے میں شب قدر و نم صبح ظہور

    معتبر ہے جو گواہی سو گواہی تیری

    صبح صادق کا سپیدہ ہے سیاہی تیری

    9

    تو ہر اک سطر میں سو شہر بسا دیتا ہے

    طاق الفاظ میں قندیل جلا دیتا ہے

    گنگناتا ہے تو کاغذ کو بجا دیتا ہے

    فکر سی چیز کو آنکھوں سے دکھا دیتا ہے

    جب تجھے معرض رفتار میں لے آتے ہیں

    کتنے بت ہیں کہ ترشتے ہی چلے جاتے ہیں

    10

    اے قلم مسئلہ میزان و معارف مقیاس

    علم بنیاد و ہنر محور و ادراک اساس

    فکر پیما و نظر ناقد و فرہنگ شناس

    مشعل قصر ادب مشرق صبح قرطاس

    نام تیرا سبب جنبش لب ہائے رسول

    اے قلم موت کے لمحے کی تمنائے رسول

    11

    اے قلم نور فشاں ہو کہ دمک جائے زمیں

    ظلمت وہم میں ضوبار ہو خورشید یقیں

    حیف اس دور جواں پر کہ بہ ایں عقل مبیں

    آدمی کی عظمت کا اسے اندازہ نہیں

    حسن ارضی پہ سماوات کو شیدا کر دے

    آدمی کیا ہے یہ دنیا پہ ہو یدا کردے

    12

    آدمی دولت دارین و متاع دوراں

    آدمی نغمۂ داؤدو جمال کنعاں

    آدمی وارث کونین و رئیس دو جہاں

    آدمی بربط محراب جہان گذراں

    دور میں نازش آفاق کا جام آتا ہے

    لب گیتی پہ جب انسان کا نام آتا ہے

    13

    فاتح مملکت باطن و ظاہر انساں

    خسر و انجم و دارائے جواہر انساں

    شاعر و مطرب و بت ساز و مصور انساں

    موجد و مصلح و مولا و مفکر انساں

    دیدۂ ارض و سماوات کا تارا انساں

    قلزم وقت کا مڑتا ہوا دھارا انساں

    14

    آدمی حسن شفق نور سحر بانگ ہزار

    بوئے گل رنگ حنا موج صبا رقص شرار

    نغمۂ جوئے چمن زمزمۂ ابر بہار

    عشوۂ موسم گل ناز ہوائے کہسار

    دست کونین میں سرشار کٹورا انساں

    نرگس لیلیٰ ایجاد کا ڈورا انساں

    15

    اس کی آواز جلاتی ہے سروں کی مشعل

    اس کی رفتار بجاتی ہے زمیں کی چھاگل

    اس کرے میں کہ عناصر ہیں جہاں گرم عمل

    معتبر اک فقط انسان ہے باقی مہمل

    اس کے نغموں ہی سے فردوس عمل ہے دنیا

    ورنہ اک واہمۂ لات و ہبل ہے دنیا

    16

    عشوۂ زہرہ جبیناں ہے اسی کے دم سے

    خاک رقصاں و غزل خواں ہے اسی کے دم سے

    دور میں جام بہاراں ہے اسی کے دم سے

    مستی گردش دوراں ہے اسی کے دم سے

    خیمۂ جشن شبستاں میں سویرا ہوجائے

    یہ جو اٹھ جائے تو دنیا میں اندھیرا ہوجائے

    17

    کرۂ خاک ہے مدہوش فضا خواب میں ہے

    ظلمت آلودۂ غفلت ہے ضیاء خواب میں ہے

    شب تارو سحر لالہ قبا خواب میں ہے

    نجم و خورشید و قمر ارض و سما خواب میں ہے

    عقدہ ہے کون و مکاں عقدہ کشا ہے انساں

    اس نندا پے میں فقط جاگ رہا ہے انساں

    18

    اس کی تخئیل کے حلقے میں جناں رقصاں ہے

    نغمہ برلب ہے مکاں دور زماں رقصاں ہے

    شرمگیں لیلئ اسرار نہاں رقصاں ہے

    اس کی انگنائی میں روح دوجہاں رقصاں ہے

    یہ رئیس قمری ہے یہ امام شمسی

    اس کے انفاس پہ تلتا ہے نظام شمسی

    20

    آدمی فاتح مستقبل امراض و اجل

    آدمی عربدۂ آخر و ناز اول

    صاحب قوس و ہلال و شفق و ابر وجبل

    آمر مہر و مہ و زہرہ و ناہید و زحل

    شرف کعبہ و اعزاز کلیسا انساں

    زندگی محمل و رقصندہ ہے لیلیٰ انساں

    21

    اس کی محراب میں غلطیدہ فرشتوں کا ورود

    اس کی سرکار میں جبرئیل امیں سر بہ سجود

    اس کے انکار کی پاداش میں شیطاں مردود

    اس کا جنت سے ہبوط اصل میں ہیجان صعود

    خلد کو تج کے تھرکتی ہوئی جنت پائی

    خاک کی گود میں آیا تو خلافت پائی

    22

    یہ شب ماہ کی جگ مگ یہ سحر کا گلزار

    شبنم گل پہ یہ نوخیز شعاعوں کا نکھار

    رقص کرتی ہوئی تتلی پہ یہ رنگوں کی پھوار

    آدمی کی فقط اک موج تبسم پہ نثار

    لیلئ نغمۂ کن کا خم و چم ہے انساں

    جس کی جھولی میں صمد ہے وہ صنم ہے انساں

    23

    نرم آنچوں پہ مہ و سال نے سینکا ہے اسے

    چاندنی نے طبق سیم میں گوندھا ہے اسے

    سرخ تیشوں سے شعاعوں نے تراشا ہے اسے

    چھینیاں وقت کی ٹوٹی ہیں تو کھرچا ہے اسے

    جو بن اپنا مہ و خورشید نے جب گھالا ہے

    تب کہیں نور کے سانچے میں اسے ڈھالا ہے

    24

    مدتوں دایۂ فطرت نے کھلایا ہے اسے

    دودھ صدیوں نے لگاتار پلایا ہے اسے

    کتنے بپھرے ہوئے دھاروں نے ترایا ہے اسے

    کتنی صبحوں کے تسلسل نے جگایا ہے اسے

    کتنے قرنوں کی مشقت نے اجالا ہے اسے

    خون تھوکا ہے عناصر نے تو پالا ہے اسے

    25

    ظلمت و نور گل و خار سرور و غوغا

    آب و آتش خزف و برگ سراب و دریا

    پابہ گل کوہ دواں نہر پر افشاں صحرا

    چمپئی دھوپ سیہ ابر گلابی جاڑا

    ان سب اضداد نے مل جل کے سنوارا ہے اسے

    خاک نے کتنے جتن کر کے نکھارا ہے اسے

    26

    اس کو جھولے میں جھلایا ہے صبا نے برسوں

    لوریاں دی ہیں سمندر کی ہوا نے برسوں

    اسکو پروان چڑھایا ہے فضا نے برسوں

    اس کو چوما ہے لب ارض و سما نے برسوں

    خاک گرداں کی پسینے سے نسیں بھیگی ہیں

    تب کہیں خیر سے انساں کی مسیں بھیگی ہیں

    27

    اس کے انفاس سے رخسار تمدن پہ شباب

    اس کی آواز سے گلزار ترنم شاداب

    اس کے ادراک کی چٹکی میں دو عالم کی نقاب

    اس کی پلکوں کی جھپک ارض و سما کی مضراب

    خاک پرزمزمۂ نہر جناں ہے انساں

    دہن لیلیٰ عالم میں زباں ہے انساں

    28

    مرغزار و چمن و وادی و کوہ و صحرا

    سبزہ و شبنم و ریحان و گل و سرو و صبا

    ذرہ و اختر و مہر و مہ و دشت و دریا

    سب یہ گونگے ہیں اٹھائے ازلی سناٹا

    گرہ ارض و سما کھول رہا ہے انساں

    اس خموشی میں فقط بول رہا ہے انساں

    29

    آدمی صاحب گیتا و زبور و قرآں

    کفر ہے اس کی صباحت تو ملاحت ایماں

    بانی دیر و حرم وضع ناقوس و اذاں

    خالق اہر من و موجد حرف یزداں

    یہ جو عیب و ہنر وزشتی و زیبائی ہے

    فقط انسان کی ٹوٹی ہوئی انگڑائی ہے

    30

    دوزخ دہر میں گلزار جناں ہے انساں

    حلقۂ زلف و خم آب رواں ہے انساں

    جنبش نبض مکاں روح زماں ہے انساں

    خاک ہے تاج محل شاہجہاں ہے انساں

    حاکم کون و مکاں ناظم دوراں انساں

    خاک اک رحل سبک سیر ہے قرآں انساں

    31

    اس کے انفاس سے خوشبو میں روانی آئی

    خامشی کو روش زمزمہ خوانی آئی

    آگ درشن کو لئے تھال میں پانی آئی

    اس نے دیکھا تو زلیخا پہ جوانی آئی

    اس کی آواز نے درہائے ادا کھول دیئے

    طور سے بن نہ پڑا بند قبا کھل دیئے

    32

    آدمی حافظ و خیام و انیس و عرفی

    غالب و مومن و فردوسی و میر و سعدی

    خسرو و رومی و عطار و جنید و شبلی

    یونس و یوسف و یعقوب و سلیمان و علی

    خطبۂ حضرت خلاق کا منبر انساں

    انتہا یہ کہ محمدؐ سا پیمبر انساں

    33

    آپ کہتے ہیں کہ اللہ کو بندے پہچان

    اور بیگانہ ہے انسان سے اب تک انسان

    اس جہالت میں کہاں علم خدا کا امکان

    شرط اول ہے کہ حاصل ہو بشر کا عرفان

    ذکر ابھی آپ نہ اللہ کا للہ کریں

    فقط انسان سے انسان کو آگاہ کریں

    34

    ذہن جس وقت کہ ہو جائیگا انساں آگاہ

    تو نکل آئے گا خود پردۂ انساں سے الہٰ

    وحدت انفس و آفاق کو پالے گی نگاہ

    اور شریعت یہ بنے گی کہ تکدر ہے گناہ

    شور ہوگا نہ رہے کوئی وفا کا دشمن

    بے شک انسان کا دشمن ہے خدا کا دشمن

    35

    دوست اپنا ہے تو انسان کے دامن کو نہ چھوڑ

    ہاں اسی حبل متیں کی طرف ادراک کو موڑ

    دل تو دل ہے کسی پتھر کو بھی جھلا کے نہ توڑ

    کہ یہ انداز ہے اللہ کی وحدت کا نچوڑ

    گوقباحت ہے بڑی کافریزداں ہونا

    اس سے بدتر ہے مگر کافر انساں ہونا

    36

    پھر تو کھل جائیگی یہ بات کہ بے حب انام

    نہ ولایت نہ امامت نہ رسالت نہ پیام

    دل ہے بے سوز تو مہمل ہیں طواف و احرام

    سب سے بہتر عمل خیر ہے تیمار عوام

    ان کو سرکار دو عالم کے پیام آتے ہیں

    جو برے وقت میں انسان کے کام آتے ہیں

    37

    بات تو جب ہے کسی فرد سے وحشت نہ رہے

    دوست تو دوست ہے دشمن سے بھی نفرت نہ رہے

    دل ہو یوں صاف کہ امکان کدورت نہ رہے

    عقل کی ہے یہ نجابت کہ عداوت نہ رہے

    شہر وحدت میں نبرد حرم و دیر نہیں

    صحت فکر اگر ہے تو کوئی غیر نہیں

    38

    اپنے یاروں کی محبت ہے مزاج انساں

    آپ بھی اپنے رفیقوں پہ ہیں گوہر افشاں

    دل سے تھا شمر بھی اپنے رفقا پر قرباں

    آپ اور شمر ہیں اس سطح پہ بالکل یکساں

    ہاں جو دل میں چمن حب عدو کھل جائے

    آپ کو سطح حسین ابن علی مل جائے

    39

    کفر بھی رات محبت میں ہے عین اسلام

    عنصر بغض ہو دل میں تو عبادت بھی حرام

    جو کسی قلب پہ جڑتا ہے نگین اکرام

    کندہ ہوتا ہے در عرش پہ اس شخص کا نام

    جب کوئی غیر کو پیغام اماں دیتا ہے

    اٹھ کے ہر ذرۂ آفاق اذاں دیتا ہے

    40

    کپکپاتی ہے جسے آہ اسیران بلا

    جس کے سینے میں دھڑکتی ہے صدائے فقرا

    جس کے اعصاب کو ڈستا ہے رخ زرد گدا

    جس کی شہ رگ میں کھٹکتی ہے نگاہ غرباء

    تذکرے اس کے فرشتوں میں ہوا کرتے ہیں

    انبیاء اس کی زیارت کی دعا کرتے ہیں

    41

    تلخ کاموں کو بلاتا ہے جو آب شیریں

    بخشتا ہے کسی مضطر کو جو کیف تمکیں

    عمر بھر خدمت انساں سے جو تھکتا ہی نہیں

    اس کی سرکار میں خود عرش جھکاتا ہے جبیں

    اپنے زانو پہ جو دکھیوں کو سلا لیتا ہے

    اس کو اللہ کلیجے سے لگا لیتا ہے

    42

    جس کی ہر سانس ہو اک ولولۂ خیر انام

    نیند جس کی ہو غریبوں کی محبت میں حرام

    جادۂ خدمت انساں پہ جو ہو گرم خرام

    اس الوہی بشریت پہ درود اور سلام

    حامل اوج الوہیت انساں تھے حسین

    ہاں اسی جادۂ خدمت پہ خراماں تھے حسین

    43

    قافلے دھوپ میں جس وقت کہ چکراتے تھے

    ہائے کیا دل تھا انہیں چھاؤں میں لے آتے تھے

    داد احسان کی ملتی تھی تو شرماتے تھے

    تشنہ لب دیکھ کے دشمن کو تڑپ جاتے تھے

    دشت بے آب میں کوثر کی روانی تھے حسین

    کشت انساں پہ برستا ہوا پانی تھے حسین

    44

    چشمۂ بذل و سخا دجلۂ جود و احساں

    مصلح وضع جہاں عزت نوع انساں

    لنگر کشتئ حق ناشر حکم یزداں

    خادم خستہ دلاں ہادم قصر سلطاں

    خاور صدق و صفا داور اثیار حسین

    کل جہاں قافلہ و قافلہ سالار حسین

    45

    چشم نم ناک میں تھا پر تو روئے بے شیر

    سانس لیتے تھے تو چبھتا تھا جگر میں اک تیر

    برق جوالہ کی تھی موج ہوا میں تاثیر

    اور اس نقطۂ حدت پہ کھڑے تھے شبیر

    کہ جہاں دھوپ کچھ اس طور سے برماتی ہے

    سینۂ برف سے بھی آنچ نکل آتی ہے

    46

    پھر بھی ماتھے کا پسینہ جو گرا دیتے تھے

    پل میں دہکے ہوئے سورج کو بجھا دیتے تھے

    چاندنی دھوپ کے آنگن میں کھلا دیتے تھے

    لو پہ رکھتے تھے قدم پھول بنا دیتے تھے

    رخ پہ اک آنچ سی جب پیاس میں لہراتی تھی

    جھرجھری کوثر و تسنیم کو آجاتی تھی

    47

    اتنی حدت میں بھی آہنگ زمستاں تھے حسین

    آب و رنگ چمن و ابر بہاراں تھے حسین

    کشت آئین رسالت کے نگہباں تھے حسین

    فرق سے تابہ قدم موسم باراں تھے حسین

    جھوم کر چرخ پہ قبلے سے گھٹا آتی تھی

    بات کرتے تھے تو جنت کی ہوا آتی تھی

    48

    بزم اجمال میں تفسیر مفصل تھے حسین

    طاعت متصل و حمد مسلسل تھے حسین

    شاہد گل بدن و حجلۂ مقتل تھے حسین

    ہادی پختہ و انسان مکمل تھے حسین

    سایۂ تیغ میں بھی درس وفا دیتے تھے

    اتنہا یہ ہے کہ قاتل کو دعا دیتے تھے

    49

    مصر مقتل میں جواب مہ کنعاں تھے حسین

    طرفہ اک زمزمۂ نوحہ بداماں تھے حسین

    صبح افسردگئ شام غریباں تھے حسین

    کوثر تشنہ وہاں خندۂ گریاں تھے حسین

    دشت فریاد میں گل بانگ ترنم تھے حسین

    لیلیٰ آہ کے ہونٹوں کا تبسم تھے حسین

    50

    نازش نوع بشر فخر اب وجد تھے حسین

    مفرد و مستند و اشرف و امجد تھے حسین

    سجدہ کرتا تھا جدھر کعبہ وہ معبد تھے حسین

    نقطۂ پختگئ فکر محمدؐ تھے حسین

    یہ نہ ہوتے تو یقیں صیدگماں ہوجاتا

    آخری شعلۂ پیغام دھواں ہوجاتا

    51

    جگر ختم رسل جان علی شمع بتول

    خاور جو و کرم داور اقدار و اصول

    موت کو گرد قدم مل نہ سکی وہ مقتول

    خاتم حق کے نگیں دین شہادت کے رسول

    مثل شبیر جنہیں پاس وفا ہوتا ہے

    ایسے بندوں ہی کے پردے میں خدا ہوتا ہے

    52

    بہر شادابیٔ رنگینئ گلزار انام

    طاق حجت میں جلانے کو چراغ اتمام

    اس تمنا میں کہ ڈس لیں نہ یقیں کو اوہام

    خیمۂ پاک سے جسوقت کہ نکلے تھے امام

    میر آفاق بہ صدزینت زین آتے ہیں

    دور تک شور بپا تھا کہ حسین آتے ہیں

    53

    آپ کیا آئے کہ پیغام بہاراں آیا

    دشت پرخار میں زہرا کا گلستاں آیا

    مردہ زروں کی طرف چشمۂ حیواں آیا

    افق مصر پہ گویا مہ کنعاں آیا

    سور مارن میں بہ صد شان تفا خر آئے

    جن کی عادت ہے شہادت وہ بہادر آئے

    54

    آپ کیا آئے کہ میدان بنا باغ نعیم

    آئی ہر سمت سے فردوس کے پھولوں کی شمیم

    جھک گئے انفس و آفاق برائے تسلیم

    اپنے سینے سے لگانے کو بڑھے ابراہیم

    ہاتھ پھیلائے ہوئے باد بہاری آئی

    جھوم اٹھے خار کہ پھولوں کی سواری آئی

    55

    بزم ارواح میں پہنچی جو حسینی آواز

    تو زمیں پر اتر آے جو نبی تھے ممتاز

    مصطفےٰ جھک گئے سجدے میں بہ افراط گداز

    فاطمہ نے یہ صدا دی کہ تری عمر دراز

    ہل گیا عرش معلی وہ تلاطم آیا

    لب قدرت پہ اک افسردہ تبسم آیا

    56

    اللہ اللہ وہ میدان میں تقریر امام

    نرم لہجے میں کھنکتے ہوئے فردوس کے جام

    یوں مرتب تھا لب خشک پہ شاداب کلام

    جادۂ وحی پہ جس طرح نبوت کا خرام

    بات میں لہر بہ دیں تشنہ لبی آتی تھی

    بوئے انفاس رسول عربی آتی تھی

    57

    ذہن بہرے تھے خطابت نہ ہوئی بار آور

    رس کی بوندوں کو بھلا جذب کرے کیا پتھر

    طبل پر چوٹ پڑی دشت ہوا زیر و زبر

    باندھ لی آل محمد نے بھی مرنے پہ کمر

    پھر تو اک برق تپاں جانب اشرار چلی

    نہ چلی بات تو پھر دھوم سے تلوار چلی

    58

    رن میں ہر چند کہ تھا دبدبۂ قیصر و جم

    لشکرو دمدمہ و طنطنہ و رعب و حشم

    دشنہ و خنجر و تیر و تبر و تیغ و علم

    لڑکھڑائے نہ محمد کے نواسے کے قدم

    سر اشرار سے میدان و غا پاٹ دیا

    تیغ براں کا رگ جاں سے گلا کاٹ دیا

    59

    یوں چلی کشتئ قلزم شکن تشنہ لباں

    تھم گیا شور ہوا رک گئی نبض طوفاں

    انکسار دل شبیر نے زہ کی جو کماں

    ہاتھ بھر منہ سے نکل آئی تکبر کی زباں

    پشتۂ دجلۂ طغیان ستم ٹوٹ گیا

    ناؤ ٹکرائی تو گرداب کا دم ٹوٹ گیا

    60

    تاج نے آل محمد پہ جو روکا پانی

    پیاس کے ابر سے یوں ٹوٹ کے برسا پانی

    بے دھڑک قصر حکومت میں درآیا پانی

    ہوگیا سر سے شہنشاہ کے اونچا پانی

    تاج داری مع اورنگ و نگیں ڈوب گئی

    آسماں سے جو لڑی تھی وہ زمیں ڈوب گئی

    61

    جوئے خوں میں جو دلیروں کے سفینے آئے

    چند پیاسے جو لہو موت کا پینے آئے

    مرد جب سر سے کفن باندھ کے جینے آئے

    شہریاری کو پسینے پہ پسینے آئے

    نبض آقائی ابلیس ہوس چھوٹ گئی

    فقر کی ضرب سے شاہی کی کمر ٹوٹ گئی

    62

    وہ لب فسق پہ تبلیغ نواہی نہ رہی

    نشۂ کبر کی وہ مست جماہی نہ رہی

    ذوق بیعت کی جلو میں وہ تباہی نہ رہی

    تاؤ مونچھوں پہ جو دیتی تھی وہ شاہی نہ رہی

    حشم قیصری و فر ق کیانی نہ رہا

    پیاس کی دھوپ سے تلوار میں پانی نہ رہا

    63

    اللہ اللہ جہاں کوب حسینی اصحاب

    جن کے دریائے شجاعت میں دو عالم غرقاب

    اکبر و ابن مظاہر کا نہیں کوئی جواب

    وہ لڑکپن کی جوانی یہ بڑھاپے کا شباب

    دونوں جاں باز تھے دونوں ہی جری کیا کہنا

    مشعل شام و چراغ سحری کیا کہنا

    64

    قطرۂ دل میں لئے ایک سمندر تھے حسین

    ذات واحد میں سمیٹے ہوئے لشکر تھے حسین

    دین آداب رفاقت کے پیمبر تھے حسین

    جان دینے کو جب آئے تو بہتر تھے حسین

    سرفرشتوں کے یہاں آج بھی خم ہوتے ہیں

    ایسے انسان رسولوں میں بھی کم ہوتے ہیں

    65

    حیف جس قوم کا سلطان ہو ایسا انساں

    وہ رہے خستہ پریشان معطل حیراں

    نہ شرربار ترنگیں نہ دہکتے ارماں

    جس کی آنکھیں فقط آباد ہوں سینے ویراں

    ہمت و جرأت و ایثار و وفا کچھ بھی نہیں

    ذکر مولا پہ کراہوں کے سوا کچھ بھی نہیں

    66

    زندگی شعلۂ جوالا ہے گلزار نہیں

    موت کا گھاٹ ہے یہ مصر کا بازار نہیں

    اپنے آقا کی تاسّی پہ جو تیار نہیں

    زندہ رہنے کا وہ انسان سزاوار نہیں

    جو حسینی بھی ہے اور موت سے بھی ڈرتا ہے

    ہاں وہ توہین حسین ابن علی کرتا ہے

    67

    جہلا جب کلہ علم کو ٹھکراتے ہیں

    علماء دین کو جب بیچ کے کھاجاتے ہیں

    سفہاء دولت فانی پہ جب اتراتے ہیں

    جو حسینی ہیں وہ میداں میں نکل آتے ہیں

    دھجیاں دامن دولت کی اڑا دیتے ہیں

    باد صر صر کو چراغوں پہ نچا دیتے ہیں

    68

    مرد وہ ہیں پر باطل جو کتر دیتے ہیں

    حق جو مانگے تو دل و جان و جگر دیتے ہیں

    شیر سا بھائی تو یوسف سا پسر دیتے ہیں

    ہات بیعت کو بڑھاتے نہیں سر دیتے ہیں

    آتش مرگ میں بے خوف و خطر جاتے ہیں

    آنچ آتی ہے جو عزت پہ تو مرجاتے ہیں

    69

    سورما فتنۂ باطل کو دبا دیتے ہیں

    خون دہکے ہوئے ذروں کو پلا دیتے ہیں

    اپنی گودوں کے چراغوں کو بجھا دیتے ہیں

    اپنے چاندوں کو اندھیروں میں سلا دیتے ہیں

    مثل شبیر جو پیغام عمل دیتے ہیں

    ایسے ہی لوگ زمانے کو بدل دیتے ہیں

    70

    میں یہ پوچھوں جو خفا ہوں وہ رفیقان کرام

    کہ لرزتے تو نہیں آپ حضور حکام

    آپ سرکار میں جھکتے تو نہیں بہر سلام

    آنکھ شاہوں سے ملاتے ہیں بہ انداز امام

    رائے بکتی تو نہیں آپ کی بازاروں میں

    آپ کا رنگ تو اڑتا نہیں درباروں میں

    71

    آپ باطل سے دبکتے ہیں تو یاران کرام

    آپ کو نام حسین ابن علی سے کیا کام

    جائیے بیٹھئے خلوت میں علی الرغم امام

    لوٹیے دولت لب ہائے بتان گل فام

    خود کو عشرے میں نہ مغموم بنائے پھرئیے

    اپنی غیرت کے جنازے کو اٹھائیے پھریے

    72

    آپ کا آل محمد سے جدا ہے دستور

    قابل غور نہیں مسئلۂ شرح صدور

    آپ کا شغل ہے کوئی تو فقط کشف قبور

    آپ کو پیروئ شیر خدا نامنظور

    آپ تو شمع رہ و رسم کے پروانے ہیں

    دوش پر کعبہ ہے سینوں میں صنم خانے ہیں

    73

    قوم وہ قوم ہے جو عزم کی متوالی ہے

    دین بے روح فقط دین کی نقالی ہے

    دل ہے غافل تو عبادت بھی بداعمالی ہے

    بے عمل قوم کی قرأت نہیں قوالی ہے

    موت کے وقت کی یسین بنا رکھا ہے

    دین کو آپ نے اک بین بنا رکھا ہے

    74

    آپ ناواقف پیوستگئ عشرہ و عید

    آپ اک قفل ہیں اور قفل بھی گم کردہ کلید

    دل ہیں خاشاک و خزف دیدۂ تر مروارید

    دعوۂ حب حسین اور ہوس قرب یزید

    سوز خواں کے ہیں طلبگار رجز خواں کے نہیں

    آپ مجلس کے مسلمان ہیں میداں کے نہیں

    75

    ایک دھوکا ہے لگاوٹ میں اگر لاگ نہیں

    لو نکل آئے نہ جس راگ سے وہ راگ نہیں

    قلزم برق کا اشکوں میں ذرا جھاگ نہیں

    حیف پانی تو ہے موجود مگر آگ نہیں

    چٹکیاں لے نہ لہو میں تو جوانی کیا ہے

    آگ کی جس میں نہ ہلچل ہو وہ پانی کیا ہے

    76

    کربلا اب بھی ہےاک ہوش ربا انگارا

    اپنے پانی میں لئے آگ کا جولاں آرا

    برق و آتش کا ابلتا ہوا اک فوارا

    ایک مڑتا ہوا خون شہدا کا دھارا

    رنگ اڑتا نظر آتا ہے جہاں داروں کا

    مینہ برستاں ہے یہاں آج بھی تلواروں کا

    77

    کربلا آج بھی ہے ایک لگاتار پکار

    ہے کوئی پیروئ ابن علی پر تیار

    عصر حاضر میں یزیدوں کا نہیں کوئی شمار

    تم مصلوں پہ دو زانو ہو مسلح اشرار

    شور ماتم میں کہیں تیغ کی جھنکار نہیں

    لب پہ نالے ہیں مگر ہاتھ میں تلوار نہیں

    78

    کربلا میں ہے وہی شعلہ فشانی اب تک

    آگ کی موج ہے تلوار کا پانی اب تک

    تشنگی میں ہے وہی دجلہ چکانی اب تک

    منچلوں کی ہے وہی زمزمہ خوانی اب تک

    روئے ماحول پہ بانکوں کی وہ دھج ہے اب بھی

    میرے سوئے ہوئے شیروں کی گرج ہے اب بھی

    79

    کربلا میں اثر باغ جناں آج بھی ہے

    بوے انفاس مسیحا نفساں آج بھی ہے

    حسن رنگینئ خونیں کفناں آج بھی ہے

    صبح عاشور کی گل بانگ اذاں آج بھی ہے

    اک پر اسرار خموشی ہے پر افشاں اب تک

    صبح کے دوش پہ ہے شام غریباں اب تک

    80

    اب بھی گودھوپ کی شدت سے زمیں بھنتی ہے

    سوزن خاک شراروں کی ردا بنتی ہے

    پھر بھی ذروں سے ہوا لعل و گہر چنتی ہے

    زندگی سیرت شبیر پہ سر دھنتی ہے

    رنگ رخسارۂ تاریخ نکھر جاتا ہے

    لب پہ جب نام حسین ابن علی آتا ہے

    81

    کربلا اب بھی سر وقت پہ لہراتی ہے

    زلف کی طرح خیالات پہ بل کھاتی ہے

    خامشی رات کو جس وقت کی چھا جاتی ہے

    دل زینب کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے

    کبھی ظلمت میں جو کوندا سا لپک جاتا ہے

    ایک قرآن بلندی پہ نظر آتا ہے

    82

    اب بھی اک سمت سے اٹھتا نظر آتا ہے دھواں

    بیبیاں چند کھلے سر نظر آتی ہیں یہاں

    ایک گوشے میں ہے گونجی ہوئی آواز اذاں

    اک پھرہرا ہے سیہ پوش فضا پر غلطاں

    چند سائے نظر آتے ہیں خراماں اب بھی

    ایک زنجیر کی جھنکار ہے لرزاں اب بھی

    83

    کربلا کے رخ رنگیں پہ دمک آج بھی ہے

    اس کے در کے ہوئے شیشوں میں کھنک آج بھی ہے

    کل کی برسی ہوئی بدلی کی دھنک آج بھی ہے

    ایک نوشاہ کے سہرے کی مہک آج بھی ہے

    کچھ گریباں نظر آتے ہیں فضا پر اب بھی

    ایک جھولا متحرک ہے ہوا پر اب بھی

    84

    کربلا سر سے کفن باندھ کے جب آتی ہے

    وسعت ارض و سماوات پہ چھا جاتی ہے

    تند انفاس سے فولاد کو برماتی ہے

    تبرو تیر کو خطرے میں نہیں لاتی ہے

    چڑھ کے نیزے پہ دو عالم کو ہلا دیتی ہے

    کربلا موت کو دیوانہ بنا دیتی ہے

    85

    کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے

    کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے

    کربلا خار تو کیا آگ پہ چل سکتی ہے

    کربلا وقت کے دھارے کو بدل سکتی ہے

    کربلا قلعۂ فولاد ہے جراروں کا

    کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا

    86

    کربلا ایک تزلزل ہے محیط دوراں

    کربلا خرمن سرمایہ پہ ہے برق تپاں

    کربلا طبل پہ ہے ضربت آواز اذاں

    کربلا جرات انکار ہے پیش سلطاں

    فکر حق سوز یہاں کاشت نہیں کرسکتی

    کربلا تاج کو برداشت نہیں کرسکتی

    87

    جب تک اس خاک پہ باقی ہے وجود اشرار

    دوش انساں پہ ہے جب تک حشم تخت کابار

    جب تک اقدار سے اغراض ہیں گرم پیکار

    کربلا ہاتھ سے پھیکے گی نہ ہرگز تلوار

    کوئی کہہ دے یہ حکومت کے نگہبانوں سے

    کربلا اک ابدی جنگ ہے سلطانوں سے

    88

    کہہ رہا ہے یہ ارے کون بہ انداز سروش

    کہ بس امروز ہے امروز نہ فردا ہے نہ دوش

    کس کی یارب یہ صدا ہے کہ فضا ہے خاموش

    میں حسین ابن علی بول رہا ہوں اے جوشؔ

    بخش دے آگ مرے سرد عزاداروں کو

    ہاں جگا ڈاب میں سوئی ہوئی تلواروں کو

    89

    کربلا بہر عمل نعرہ زناں ہے اب تک

    کربلا گوش بر آواز یلاں ہے اب تک

    کربلا منتظر صف شکناں ہے اب تک

    کربلا جانب انساں نگراں ہے اب تک

    داد غم ایک بھی جاں باز نہیں دیتا ہے

    کوئی آواز پہ آواز نہیں دیتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جوشؔ ملیح آبادی

    جوشؔ ملیح آبادی

    مآخذ
    • کتاب : Kuliyat-e-Marasi Josh Malihabadi (Pg. 230)
    • Author : Asmat Malihabadi
    • مطبع : Fareed Book Depot

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY