ہاں اے نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
دلچسپ معلومات
مولانا حالی فرماتے ہیں کہ مرزا کے ایک دوست مجتہد العصر نے اردو میں جنابِ سید الشہداء کا مرثیہ لکھنے کی فرمائش کی۔ مرزا نے حسبِ فرمائش یہ تین بند لکھے اور مجتہد العصر کی خدمت میں بھیج کر یہ لکھ بھیجا کہ تین بند صرف حکم کی تعمیل میں لکھے ہیں ورنہ میں اس میدان کا مرد نہیں ہوں۔ یہ اُن لوگوں کا حصہ ہے جنہوں نے اس وادی میں عمریں بسر کی ہیں۔ مجھ کو ان کے درجے تک پہنچنے کے لیے ایک دوسری عمر درکار ہے۔ پس مجھے اس خدمت سے معذور و معاف رکھا جائے۔ ان کا قول تھا کہ ہندوستان میں انیس اور دبیر جیسا مرثیہ گو نہ ہوا ہے، نہ آئندہ ہو گا۔
ہاں اے نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو
اے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی
اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.