زہر عشق

MORE BYمرزا شوقؔ  لکھنوی

    لکھ قلم پہلے حمد رب ودود

    کہ ہر اک جا پہ ہے وہی موجود

    ذات معبود جاودانی ہے

    باقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے

    ہمسر اس کا نہیں ندیم نہیں

    سب ہیں حادث کوئی قدیم نہیں

    نعت

    مدح احمد زباں پہ کیونکر آئے

    بحر کوزے میں کس طرح سے سمائے

    ذات احمد کو کوئی کیا جانے

    یا علی جانے یا خدا جانے

    منقبت

    مدح حیدر میں کھولئے جو دہن

    اس سے آگے نہیں ہے جائے سخن

    کوئی حیدر کا مرتبہ سمجھا

    کوئی بندہ کوئی خدا سمجھا

    بیان عشق

    ہے بنا جب سے گلشن ایجاد

    ہوئی ہر شے ہر ایک کو امداد

    رنگ خوبی عطا کیا گل کو

    نالۂ و درد بخشا بلبل کو

    ماہ کو نور لطف ہالے کو

    چشم نرگس کو داغ لالے کو

    راستی کی عطا صنوبر کو

    پیچ سنبل کو آب گوہر کو

    سختی ساری بتوں کے دل میں دی

    الفت انساں کے آب و گل میں دی

    عشق سے کون ہے بشر خالی

    کر دیئے جس نے گھر کے گھر خالی

    پڑتے ہیں اس میں جان کے لالے

    ڈالتا ہے جگر میں بت خانے

    جو کہ واقف تھے سب قرینوں سے

    خاک چھنوائی ان حسینوں سے

    اس سے امید رکھنا ہے بے جا

    بھائی مجنوں سے کیا سلوک کیا

    منہ سے کرنے نہ دی فغاں اس نے

    مارے چن چن کے نوجواں اس نے

    اس نے جس سے ذرا تپاک کیا

    سب سے پہلے اسے ہلاک کیا

    آتش ہجر سے رلاتا ہے

    آگ پانی میں یہ لگاتا ہے

    مار ڈالا تماش بینوں کو

    زہر کھلوا دیا حسینوں کو

    بس میں ڈالے نہ کبریا اس کے

    رحم دل میں نہیں ذرا اس کے

    آغاز داستان

    ایک قصہ غریب لکھتا ہوں

    داستان عجیب لکھتا ہوں

    تازہ اس طرح کی حکایت ہے

    سننے والوں کو جس سے حیرت ہے

    جس محلے میں تھا ہمارا گھر

    وہیں رہتا تھا ایک سوداگر

    مرد اشراف صاحب دولت

    تاجروں میں کمال ذی عزت

    غم نہ تھا کچھ فراغ بالی سے

    تھا بہت خاندان عالی سے

    ایک دختر تھی اس کی ماہ جبیںؔ

    شادی اس کی نہیں ہوئی تھی کہیں

    ثانی رکھتی نہ تھی وہ صورت میں

    غیرت حور تھی حقیقت میں

    سبز نخل گل جوانی تھا

    حسن یوسف فقط کہانی تھا

    اس سن و سال پر کمال خلیق

    چال ڈھال انتہا کی نستعلیق

    چشم بد دور وہ حسیں آنکھیں

    رشک چشم غزال چیں آنکھیں

    تھا جو ماں باپ کو نظر کا ڈر

    آنکھ بھر کر نہ دیکھتے تھے ادھر

    تھی زمانے میں بے عدیل و نظیر

    خوش گلو، خوش جمال خوش تقریر

    تھا نہ اس شہر میں جواب اس کا

    حسن لاکھوں میں انتخاب اس کا

    شعر گوئی سے ذوق رہتا تھا

    لکھنے پڑھنے کا شوق رہتا تھا

    رخ پہ گیسو کی لہر آفت تھی

    جو ادا اس کی تھی قیامت تھی

    تھا یہ اس گل کا جامہ زیب بدن

    سادی پوشاک میں تھے سو جوبن

    سارا گھر اس پہ رہتا تھا قرباں

    روح گر ماں کی تھی تو باپ کی جاں

    نور آنکھوں کا دل کا چین تھی وہ

    راحت جان والدین تھی وہ

    پہلی نظر

    ایک دن چرخ پر جو ابر آیا

    کچھ اندھیرا سا ہر طرف چھایا

    کھل گیا جب برس کے وہ بادل

    قوس تب آسماں پہ آئی نکل

    دل مرا بیٹھے بیٹھے گھبرایا

    سیر کرنے کو بام پر آیا

    خفقاں دل کا جو بہلنے لگا

    اس طرف اس طرف ٹہلنے لگا

    دیکھا اک سمت جو اٹھا کے نظر

    سامنے تھی وہ دخت سوداگر

    ساتھ ہجمولیاں بھی تھیں دو چار

    دیکھتی تھیں وہ آسماں کی بہار

    بام سے کچھ اترتی جاتی تھیں

    چہلیں آپس میں کرتی جاتی تھیں

    رہ گئی جب اکیلی وہ گل رو

    نگراں سیر کو ہوئی ہر سو

    ہوئی میری جو اس کی چار نگاہ

    منہ سے بے ساختہ نکل گئی آہ

    حال دل کا نہیں کہا جاتا

    خوب سنبھلا، نہیں غش آ جاتا

    نہ ہوا گو کلام فی ما بین

    روح قالب میں ہو گئی بے چین

    تیر الفت جو تھا لگا کاری

    اشک بے ساختہ ہوئے جاری

    سامنے وہ کھڑی تھی ماہ منیر

    چپ کھڑا تھا میں صورت تصویر

    تاب نظارہ اتنی لا نہ سکا

    کہ اشارے سے بھی بلا نہ سکا

    دیکھتا اس کو بار بار تھا میں

    محو حسن و جمال یار تھا میں

    گو میں روکے ہوئے ہزار رہا

    دل پہ لیکن نہ اختیار رہا

    اسی صورت سے ہو گئی جب شام

    لائی پاس اس کے اک کنیز پیام

    بیٹھی ناحق بھی ہولیں کھاتی ہیں

    امی جان آپ کی بلاتی ہیں

    گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں

    چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں

    سن کے لونڈی کے منہ سے یہ پیغام

    گئی کوٹھے کے نیچے وہ گلفام

    اس کا جلوہ نہ جب نظر آیا

    میں بھی روتا ہوا اتر آیا

    شام سے پھر سحر کی مر مر کے

    شب وہ کاٹی خدا خدا کر کے

    اضطراب عاشق

    پڑ گیا دل میں غم سے اک ناسور

    یہی اس دن سے پڑ گیا دستور

    دن میں سو بار بام پر جانا

    دیکھنا بھالنا چلے آنا

    جب نہ دیکھا وہاں پہ وہ گل رو

    فرط غم سے نکل پڑے آنسو

    لاکھ چاہا نہ ہو سکا دل سخت

    پئے تسکیں رہی یہ آمد و رفت

    گزرے کچھ دن تو رنج کے مارے

    زر درخسار ہو گئے سارے

    ہو گئی پھر تو ایسی حالت زار

    جیسے برسوں کا ہو کوئی بیمار

    دل کو تھی غم سے خود فراموشی

    لگ گئی لب پہ مہر خاموشی

    نہ رہا دل کو ضبط کا یارا

    سر جہاں پایا دھڑ سے دے مارا

    رنج لاکھوں طرح کے سہتے تھے

    لب تھے خاموش اشک بہتے تھے

    ہجر سے غیر ہوگئی حالت

    غم سے بالکل بدل گئی صورت

    ہوا حیران اپنا بیگانہ

    جس نے دیکھا مجھے نہ پہچانا

    ماں باپ کی فہمائش

    دیکھے ماں باپ نے جو یہ انداز

    روح قالب سے کر گئی پرواز

    پوچھا مجھ سے یہ کیا ہے حال ترا

    کس طرف ہے بندھا خیال ترا

    سچ بتا دے کہ دھیان کس کا ہے

    دل میں غم میری جان کسی کا ہے

    رنج کس شعلہ رو کا کھاتے ہو

    شمع کی طرح پگھلے جاتے ہو

    زرد چہرہ ہے ارغواں کی طرح

    ٹکڑے پوشاک ہے کتاں کی طرح

    کون سی ماہ رو پہ مرتے ہو

    سچ کہو کس کو پیار کرتے ہو

    یہ کہو مہ جبیں ملا ہے کون؟

    تم کو ایسا حسیں ملا ہے کون؟

    کھاتے ہو پیتے ہو نہ سوتے ہو

    روز اٹھ اٹھ کے شب کو روتے ہو

    نہیں معلوم کون ہے وہ چھنال

    کر دیا میرے لال کا یہ حال

    میرے بچے کی جو کڑھائے جان

    سات بار اس کو میں کروں قربان

    اللہ آمیں سے ہم تو یوں پالیں

    آپ آفت میں جاں کو یوں ڈالیں

    تیرے پیچھے کی تلخ سب اوقات

    دن کو دن سمجھی اور نہ رات کو رات

    پالا کس کس طرح تمہیں جانی

    کون منت تھی جو نہیں مانی

    روشنی مسجدوں میں کرتی تھی

    جا کے درگاہ چوکی بھرتی تھی

    اب جو نام خدا جوان ہوئے

    ایسے مختار میری جان ہوئے

    ہاں میاں سچ ہے یہ خدا کی شان

    تم کرو جان بوجھ کر ہلکان

    ہم تو یوں پھونک پھونک رکھیں قدم

    آپ دیتے پھریں ہر ایک پہ دم

    ہم یہاں رنج و غم میں روتے ہیں

    آپ غیروں پہ جان کھوتے ہیں

    یوں مٹاؤ گے جان کر ہم کو

    تھی نہ اس روز کی خبر ہم کو

    دیکھتی ہوں جو تیرا حال زبوں

    خشک ہوتا ہے میرے جسم کا خون

    یوں تو برباد تو شباب نہ کر

    مٹی ماں باپ کی خراب نہ کر

    کچھ تو کہہ ہم سے اپنے قلب کا حال

    کس کا بھایا ہے تجھ کو حسن و جمال

    دل ہوا تیرا شیفتہ کس کا

    سچ بتا ہے فریفتہ کس کا

    کیسا دو دن میں جی نڈھال ہوا

    دائی بندی کا کیا یہ حال ہوا

    آئینہ تو اٹھا کے دیکھ ذرا

    ست گیا دو ہی دن میں منہ کیسا

    سدھ نہ کھانے کی ہے نہ پینے کی

    کونسی پھر امید جینے کی

    کس کی الفت میں ہے یہ حال کیا

    کچھ نہ ماں باپ کا خیال کیا

    دل پہ گزرا ہے کیا ملال تو کہہ

    منہ سے ناشدنی اپنا حال تو کہہ

    یوں ہی گر ہو گیا تو سودائی

    دور پہونچے گی اس کی رسوائی

    ایسے دیوانے کو بھرے گا کون؟

    شادی اور بیاہ پھر کرے گا کون؟

    کردیا کس نے ایسا آوارہ

    کہ نہیں بنتا اب کوئی چارہ

    آگے تو یہ نہ تھا ترا دستور

    کس سے سیکھا ہے اس طرح کے امور

    میرے تو دیکھ کر گئے اوسان

    لیلیٰ مجنوں کے تونے کاٹے کان

    باتیں یہ والدین کی سن کر

    اور اک قلب پر لگا نشتر

    شرم کے مارے منہ کو ڈھانپ لیا

    کچھ نہ ماں باپ کو جواب دیا

    گزرا یاں تک تو یہ ہمارا حال

    اب بیان اس کا ہوتا ہے احوال

    میں تو کھائے ہوئے تھا عشق کا تیر

    پر ہوئی اس کے دل پہ بھی تاثیر

    چھلکے آنکھوں کے دونوں پیمانے

    دل لگا آپ ہی آپ گھبرانے

    آتش عشق سے اٹھا جو دھواں

    باتوں باتوں میں بڑھ گیا خفتاں

    گوش فریاد قلب سننے لگے

    خود بخود ہاتھ پاؤں دھننے لگے

    درد و غم دل کو آ گیا جو پسند

    سونا راتوں کا ہو گیا سوگند

    موج الفت اسے ڈبونے لگی

    ایک الجھن سی دل کو ہونے لگی

    گھٹنے طاقت لگی جو روز بروز

    آتش ہجر ہو گئی دل سوز

    داغ جوں جوں جگر کے جلتے تھے

    اشک گرم آنکھ سے نکلتے تھے

    گرم نالے تھے لب پہ آہ سرد

    دل میں ہوتا تھا میٹھا میٹھا درد

    یوں تڑپتا تھا اس کے سینے میں دل

    جس طرح لوٹے طائر بسمل

    ہو گئی جب کمال حالت زار

    جی میں باقی رہا نہ صبر و قرار

    نامۂ حسن

    لکھنے پڑھنے سے تھا جو اس کو ذوق

    سو چ کر دل میں لکھا اک خط شوق

    بھیجا مجھ کو وہ بے خطر نامہ

    ڈر سے لکھا مگر نہ سرنامہ

    ایک ماما نے آ کے چپکے سے

    خط دیا ان کا ہاتھ میں میرے

    کھول کر میں نے جو اسے دیکھا

    کچھ عجب درد سے یہ لکھا تھا

    ہو یہ معلوم تم کو بعد سلام

    غم فرقت سے دل ہے بے آرام

    اپنے کوٹھے پہ تو نہیں آتا

    دل ہمارا بہت ہے گھبراتا

    شکل دکھلا دے کبریا کے لئے

    بام پر آ ذرا خدا کے لئے

    اس محبت پہ ہو خدا کی مار

    جس نے یوں کر دیا مجھے نا چار

    سارے الفت نے کھو دیئے اوسان

    ورنہ یہ لکھتی میں خدا کی شان

    اب کوئی اس میں کیا دلیل کرے

    جس کو چاہے خدا ذلیل کرے

    جواب عشق

    پڑھ کے میں نے لکھا یہ اس کو جواب

    کیا لکھوں تم کو اپنا حال خراب

    بن گئی یاں تو جان پر میری

    خوب لی آپ نے خبر میری

    ہجر میں مر کے زندگانی کی

    اب بھی پوچھا تو مہربانی کی

    جب سے دیکھا ہے آپ کا دیدار

    دل سے جاتا رہا ہے صبر و قرار

    روز تپ سے بخار رہتا ہے

    سر پہ اک جن سوار رہتا ہے

    تیرے قدموں کی ہوں قسم کھاتا

    ہوش دو دو پہر نہیں آتا

    پوچھتا ہے جو کوئی آ کے حال

    اور ہوتا ہے میرے دل کو ملال

    کہوں کس کس سے اس کہانی کو

    آگ لگ جائے اس جوانی کو

    ہوگئی ہے کچھ ایسی طاقت طاق

    اٹھ نہیں سکتا بار رنج فراق

    ہل کے پانی پیا نہیں جاتا

    ورنہ حکم آپ کا بجا لاتا

    پاتا طاقت جو طالب دیدار

    بام پر آتا دن میں سو سو بار

    پہنچا جس وقت سے ترا مکتوب

    زندگی کا بندھا ہے کچھ اسلوب

    رنج راحت سے گر بدل جائے

    کیا عجب ہے جو دل سنبھل جائے

    پیش قدمی جو تم نے کی مرے ساتھ

    اس میں ذلت کی کون سی ہے بات

    نہیں کچھ اس میں آپ کا ہے قصور

    میری الفت کا یہ اثر ہے ضرور

    عشق کا ہے اثر مرے واللہ

    ورنہ تم لکھتیں یہ معاذ اللہ

    تم تو وہ لوگ ہوتے ہو جلاد

    نہیں سنتے کوئی کرے فریاد

    ہو بلا سے کسی کا حال برا

    کوئی مرجائے تم کو کیا پروا

    نہیں ممکن تمہارا بل جائے

    دم بھی عاشق کا گر نکل جائے

    اب میں لکھتا ہوں آپ کو یہ حضور

    وصل کی فکر چاہیئے ہے ضرور

    اس میں غفلت جو تو نے کی اے ماہ

    حال ہو گا مرا کمال تباہ

    غیر ہے ہجر سے مری حالت

    غم اٹھانے کی اب نہیں طاقت

    دل پہ آفت عجیب آئی ہے

    جان بچ جائے تو خدائی ہے

    جان کو کس گھڑی قرار آیا

    غش نے فرصت جو دی بخار آیا

    تپش دل نے گر کیا ہشیار

    وہم آنے لگے ہزار ہزار

    دل کی وحشت نے کچھ جو مارا جوش

    وہ بھی جاتے رہے جو آئے تھے ہوش

    آشنا دوست آ گئے جو کبھو

    جس نے دیکھا نکل پڑے آنسو

    جھوٹ سمجھیں اسے حضور نہیں

    جان جاتی رہے تو دور نہیں

    مر گئے ہم تو رنج فرقت سے

    پر خبر کی نہ اپنی حالت سے

    اب جو بھیجی یہ آپ نے تحریر

    ہے یہ لازم کہ وہ کرو تدبیر

    سختیاں ہجر کی بدل جائیں

    دل کی سب حسرتیں نکل جائیں

    دے کے خط میں نے یہ کہا اس سے

    جلد اس کا جواب لا اس سے

    پہونچا جب اس تلک مرا مکتوب

    ہنس کے بولی کہ واہ وا کیا خوب

    جواب خط

    پھر کیا یہ جواب میں تحریر

    ''کچھ قضا تو نہیں ہے دامن گیر''

    ذکر ان باتوں کا یہاں کیا تھا

    چھیڑنے کو ترے یہ لکھا تھا

    ایسی باتیں تھیں کب یہاں منظور

    تھا فقط تیرا امتحاں منظور

    یہ تو لکھے تھے سب ہنسی کے کلام

    ورنہ ان باتوں سے مجھے کیا کام

    مجھ کو ایسی تھی کیا تری پروا

    بام پر تو بلا سے آ کہ نہ آ

    بات تھی یہ کمال عقل سے دور

    جھوٹ لکھنے پہ ہوگئے مغرور

    تم پہ مرتی میں کیا قیامت تھی

    کیا مرے دشمنوں کی شامت تھی

    میری جانب سے یہ گماں کیا خوب

    جھوٹ جم جم سے ہے بہت مرغوب

    یہ نہ سمجھا کہ ماجرا کیا ہے؟

    یوں بھی کوئی کسی کو لکھتا ہے

    کالا دانا ذرا اتر والو

    رائی لون اس سمجھ پہ کر ڈالو

    تجھ پہ مرتے بھی گر مرے بد خواہ

    یوں نہ لکھتی کبھی معاذ اللہ

    جان پا پوش سے نکل جاتی

    پر طبیعت نہ یوں بدل جاتی

    ایسی باتوں میں ہوتا ہے بدنام

    اب نہ لکھیئے گا اس طرح کے کلام

    رنج آ جاتا ہے اسی کد سے

    نہ بڑھے آدمی کبھی حد سے

    کیا سمجھ کر لکھا تھا یہ مضمون

    اچھی ہوتی نہیں ہے اتنی دون

    جی میں ٹھانی ہے کیا بتاؤ تو؟

    خانگی کسبی کوئی سمجھے ہو

    مال زادی نہیں یہاں کوئی

    جو کرے تم سے گرمیاں کوئی

    دیکھ تحریر فیل لائے آپ

    خوب جلدی مزے میں آئے آپ

    طالب وصل جو ہوئے ہم سے

    ہے گا سادہ مزاج جم جم سے

    وصال دوست

    رہی کچھ روز تو یہی تحریر

    پھر موافق ہوئی مری تقدیر

    ہوئے اس گل سے وصل کے اقرار

    اٹھ گئی درمیاں سے سب تکرار

    جو کہا تھا ادا کیا اس نے

    وعدہ اک دن وفا کیا اس نے

    رات بھر میرے گھر میں رہ کے گئی

    صبح کے وقت پھر یہ کہہ کے گئی

    بات اس دم کی یاد رکھئے گا

    ایک دن یہ مزا بھی چکھئے گا

    بگڑے گی جب نہ کچھ بن آئے گی

    آپ کے پیچھے جان جائے گی

    لو مری جان جاتی ہوں اب تو

    یاد رکھئے گا میری صحبت کو

    جو خدا پھر ملائے گا تم سے

    تو کہوں گی میں حال آ تم سے

    سن کے میں نے دیا یہ اس کو جواب

    نہ کرو دل کو اس قدر بے تاب

    کہتی تم کیا ہو یہ خدا نہ کرے

    یہ ستم ہووے کبریا نہ کرے

    عمر بھر ہم وفا نہ توڑیں گے

    زندگی بھر نہ منہ کو موڑیں گے

    پیار کرتی جو تھی وہ غیرت حور

    رکھا ملنے کا اس نے یہ دستور

    پنج شنبہ کو جاتی تھی درگاہ

    واں سے آتی تھی میرے گھر وہ ماہ

    عیش ہونے لگے مرے ان کے

    غیر جلنے لگے یہ سن سن کے

    آتش ہجر

    اتفاق ایسا پھر ہوا ناگاہ

    دو مہینے تلک نہ آئی وہ ماہ

    قطع سب ہو گئے پیام و سلام

    نہ رہی شکل راحت و آرام

    طبع کو ہو گئی پریشانی

    عقل کو تھی عجیب حیرانی

    دل کو تشویش تھی یہ حد سے زیاد

    دفعتاً پڑ گئی یہ کیا افتاد

    تھی نہ مجھ سے یہاں کسی کو لاگ

    کس نے اس طرح کی لگائی آگ

    دل میں کس نے یہ اس کے بل ڈالا

    جو مرے عیش میں خلل ڈالا

    کچھ تو ایسا ہوا ہے افسانہ

    جو یہاں تک نہ ہو سکا آنا

    نہیں معلوم کیا پڑی افتاد

    جو فراموش کی ہماری یاد

    کون ایسا ہے جائے گھر اس کے

    کس کو بھیجوں مکان پر اس کے

    کیوں نہ بیزار ہوں میں جینے سے

    نہیں دیکھا ہے دو مہینے سے

    جان آنکھوں میں کھنچ کے آئی ہے

    اب نہیں طاقت جدائی ہے

    کرلیا ہو سکا جہاں تک صبر

    اب کہو دل کرے کہاں تک صبر

    دو مہینے نہ دیکھے جب گل کو

    چین کس طرح آئے بلبل کو

    رات پھر کس طرح گزاری جائے

    کسی طرح دل کی بے قراری جائے

    طبع کس طرح پھر بہل جائے

    جسم سے روح جب نکل جائے

    آخری ملاقات

    آئی نوچندی اتنے میں ناگاہ

    اس بہانے سے آئی وہ درگاہ

    بس کہ مرتی تھی نام پر میرے

    چھپ کے آئی وہاں سے گھر میرے

    تھی نہ فرصت جو اشکباری سے

    اتری روتی ہوئی سواری سے

    پھر لپٹ کر مرے گلے اک بار

    حال کرنے لگی وہ یوں اظہار

    اقربا میرے ہوگئے آگاہ

    تم سے ملنے کی اب نہیں کوئی راہ

    مشورے یہ ہوئے ہیں آپس میں

    بھیجتے ہیں مجھے بنارس میں

    وہ چھٹے ہم سے جس کو پیار کریں

    جبر کیونکر یہ اختیار کریں

    گو ٹھکانے نہیں ہیں ہوش و حواس

    پر یہ کہنے کو آئی ہوں ترے پاس

    آخری التماس

    جائے عبرت سرائے فانی ہے

    مورد مرگ ناگہانی ہے

    اونچے اونچے مکان تھے جن کے

    آج وہ تنگ گور میں ہیں پڑے

    کل جہاں پر شگوفہ و گل تھے

    آج دیکھا تو خار بالکل تھے

    جس چمن میں تھا بلبلوں کا ہجوم

    آج اس جا ہے آشیانۂ بوم

    بات کل کی ہے نوجواں تھے جو

    صاحب نوبت و نشاں تھے جو

    آج خود ہیں نہ ہے مکاں باقی

    نام کو بھی نہیں نشاں باقی

    غیرت حورمہ جبیں نہ رہے

    ہیں مکاں گر تو وہ مکیں نہ رہے

    جو کہ تھے بادشاہ ہفت اقلیم

    ہوئے جا جا کے زیر خاک مقیم

    کوئی لیتا نہیں اب اس کا نام

    کون سی گور میں گیا بہرام

    اب نہ رستم نہ سام باقی ہے

    اک فقط نام نام باقی ہے

    کل جو رکھتے تھے اپنے فرق پہ تاج

    آج ہیں فاتحہ کو وہ محتاج

    تھے جو خود سر جہان میں مشہور

    خاک میں مل گیا سب ان کا غرور

    عطر مٹی کا جو نہ ملتے تھے

    نہ کبھی دھوپ میں نکلتے تھے

    گردش چرخ سے ہلاک ہوئے

    استخواں تک بھی ان کے خاک ہوئے

    تھے جو مشہور قیصر و مغفور

    باقی ان کا نہیں نشان قبور

    تاج میں جن کے ٹکتے تھے گوہر

    ٹھوکریں کھاتے ہیں وہ کاسۂ سر

    رشک یوسف جو تھے جہاں میں حسیں

    کھا گئے ان کو آسمان و زمیں

    ہر گھڑی منقلب زمانہ ہے

    یہی دنیا کا کارخانہ ہے

    ہے نہ شیریں نہ کوہکن کا پتا

    نہ کسی جا ہے نل دمن کا پتا

    بوئے الفت تمام پھیلی ہے

    باقی اب قیس ہے نہ لیلی ہے

    صبح کو طائران خوش الحان

    پڑھتے ہیں کل من علیہا فان

    موت سے کس کو رستگاری ہے

    آج وہ کل ہماری باری ہے

    زندگی بے ثبات ہے اس میں

    موت عین حیات ہے اس میں

    ہم بھی گر جان دے دیں کھا کر سم

    تم نہ رونا ہمارے سر کی قسم

    دل کو ہمجولیوں میں بہلانا

    یا مری قبر پر چلے آنا

    جا کے رہنا نہ اس مکان سے دور

    ہم جو مرجائیں تیری جان سے دور

    روح بھٹکے گی گر نہ پائے گی

    ڈھونڈھنے کس طرف کو جائے گی

    روکے رہنا بہت طبیعت کو

    یاد رکھنا مری وصیت کو

    ضبط کرنا اگر ملال رہے

    میری رسوائی کا خیال رہے

    میرے مرنے کی جب خبر پانا

    یوں نہ دوڑے ہوئے چلے آنا

    جمع ہولیں سب اقربا جس دم

    رکھنا اس وقت تم وہاں پہ قدم

    کہے دیتی ہوں جی نہ کھونا تم

    ساتھ تابوت کے نہ رونا تم

    ہو گئے تم اگرچہ سودائی

    دور پہونچے گی میری رسوائی

    لاکھ تم کچھ کہو نہ مانیں گے

    لوگ عاشق ہمارا جانیں گے

    طعنہ زن ہوں گے سب غریب و امیر

    قبر پر بیٹھنا نہ ہو کے فقیر

    سامنا ہو ہزار آفت کا

    پاس رکھنا ہماری عزت کا

    جب جنازہ مرا عزیز اٹھائیں

    آپ بیٹھے وہاں نہ اشک بہائیں

    میری منت پہ دھیان رکھئیے گا

    بند اپنی زبان رکھئے گا

    تذکرہ کچھ نہ کیجئے گا مرا

    نام منہ سے نہ لیجئے گا مرا

    اشک آنکھوں سے مت بہائیے گا

    ساتھ غیروں کی طرح جائیے گا

    آپ کاندھا نہ دیجئے گا مجھے

    سب میں رسوا نہ کیجئے گا مجھے

    رنگ دل کے بدل نہ جائیں کہیں

    منہ سے نالے نکل نہ جائیں کہیں

    ساتھ چلنا نہ سر کے بال کھلے

    تا کسی شخص پر نہ حال کھلے

    ہوتے آتش کے ہیں یہ پر کالے

    تاڑ جاتے ہیں تاڑنے والے

    ہو بیاں گر کسی جگہ مرا حال

    تم نہ کرنا کچھ اس طرف کو خیال

    ذکر سن کر مرا نہ رو دینا

    میری عزت نہ یوں ڈبو دینا

    رنج فرقت مرا اٹھا لینا

    جی کسی اور جا لگا لینا

    ہوگا کچھ میری یاد سے نہ حصول

    دل کو کر لینا اور سے مشغول

    رنج کرنا نہ میرا میں قربان

    سن لو گر اپنی جان ہے تو جہان

    دے نہ اس کو خدا کبھی کوئی درد

    ہو تا نازک کمال ہے دل مرد

    دل میں کڑھنا نہ مجھ سے چھوٹ کے تو

    رونا مت سینہ کوٹ کوٹ کے تو

    آ کے رو لینا میری قبر کے پاس

    تا نکل جائے تیرے دل کی بھڑاس

    آنسو چپکے سے دو بہا لینا

    قبر میری گلے لگا لینا

    اگر آ جائے کچھ طبیعت پر

    پڑھنا قرآن میری تربت پر

    غنچۂ دل مرا کھلا جانا

    پھول تربت پہ دو چڑھا جانا

    رو کے کرنا نہ اپنا حال زبوں

    تا نہ ہو جائے دشمنوں کو جنوں

    دیکھئے کس طرح پڑے گی کل

    سخت ہوتی ہے منزل اول

    میرے مرقد پہ روز آنا تم

    فاتحہ سے نہ ہاتھ اٹھانا تم

    ہے یہ حاصل سب اتنی باتوں سے

    مٹی دینا تم اپنے ہاتوں سے

    عمر بھر کون کس کو روتا ہے

    کون صاحب کسی کا ہوتا ہے

    کبھی آ جائے گر ہمارا دھیان

    جاننا ہم پہ ہو گئی قربان

    دل میں کچھ آنے دیجیو نہ ملال

    خواب دیکھا تھا کیجیو یہ خیال

    رنج و راحت جہاں میں تو ام ہے

    کہیں شادی ہے اور کہیں غم ہے

    ہے کسی جا پہ جشن شام و پگاہ

    ہے کسی جا صدائے نالہ و آہ

    مرگ کا کس کو انتظار نہیں

    زندگی کا کچھ اعتبار نہیں

    پھر ملاقات دیکھیں ہو کہ نہ ہو

    آج دل کھول کر گلے مل لو

    خوب سا آج دیکھ بھال لو تم

    دل کی سب حسرتیں نکال لو تم

    آؤ اچھی طرح سے کر لو پیار

    کہ نکل جائے کچھ تو دل کا بخار

    دل میں باقی رہے نہ کچھ ارمان

    خوب مل لو گلے سے میں قربان

    حشر تک ہو گی پھر یہ بات کہاں

    ہم کہاں تم کہاں یہ رات کہاں

    کہہ لو سن لو جو کچھ کہ جی میں آئے

    پھر خدا جانے کیا نصیب دکھائے

    دل کو اپنے کرو ملول نہیں

    رونے دھونے سے کچھ حصول نہیں

    ہم کو گاڑے جو اپنے دل کو کڑھائے

    ہم کو ہے ہے کرے جو اچک بہائے

    عمر تم کو تو ہے ابھی کھینا

    دن بہت سے پڑے ہیں رو لینا

    باہیں دونوں گلے میں ڈال لو آج

    جو جو ارمان ہوں نکال لو آج

    پھر خدا جانے کیا مشیت ہے

    اتنی صحبت بہت غنیمت ہے

    کل کسے بیٹھ کر کرو گے پیار

    کس کی لو گے بلائیں تم ہر بار

    کل گلے سے کسے لگاؤ گے

    یوں کسے گود میں بٹھاؤ گے

    حال کس کا سنائے گی آ کر

    کس کی ماما بلائے گی آ کر

    ہم تو اٹھتے ہیں اس مکاں سے کل

    اب تو جاتے ہیں اس جہاں سے کل

    یاد اپنی تمہیں دلاتے جائیں

    پان کل کے لئے لگاتے جائیں

    ہو چکا آج جو کہ تھا ہونا

    کل بسائیں گے قبر کا کونا

    خاک میں ملتی ہے یہ صورت عیش

    پھر کہاں ہم کہاں یہ صحبت عیش

    دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے

    کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے

    ختم ہوتی ہے زندگانی آج

    خاک میں ملتی ہے جوانی آج

    چپ رہو کیوں عبث بھی روتے ہو

    مفت کاہے کو جان کھوتے ہو

    سمجو اس شب کو شب برات کی رات

    ہم ہیں مہماں تمہارے رات کی رات

    چین دل کو نہ آئے گا تجھ بن

    اب کے بچھڑے ملیں گے حشر کے دن

    اب تم اتنی دعا کرو مری جان

    کل کی مشکل خدا کرے آسان

    پھل اٹھایا نہ زندگانی کا

    نہ ملا کچھ مزا جوانی کا

    دل مین لے کر تمہاری یاد چلے

    باغ عالم سے نا مراد چلے

    کہتی ہے بار بار ہمت عشق

    ہے یہی مقتضائے غیرت عشق

    چارپائی پہ کون پڑ کے مرے

    کون یوں ایڑیاں رگڑ کے مرے

    عشق کا نام کیوں ڈبو جائیں

    آج ہی جان کیوں نہ کھو جائیں

    جب تلک چرخ بے مدار رہے

    یہ فسانہ بھی یادگار رہے

    بولی گھبرا کے پھر ٹھہر مری جان

    کچھ سنا بھی کہ کیا بجا اس آن

    حسرت دل نگوڑی باقی ہے

    اور یہاں رات تھوڑی باقی ہے

    گود میں اپنی پھر بٹھا لو جان

    پھر گلے سے ہمیں لگا لو جان

    ڈال دو پھر گلے میں باہوں کو

    پھر گلوری چبا کے منہ میں دو

    پھر کہاں ہم کہاں یہ صحبت یار

    کر لو پھر ہم کو بھینچ بھینچ کے پیار

    پھر مرے سر پہ رکھ دو سر اپنا

    گال پھر رکھ دو گال پر اپنا

    پھر اسی طرح منہ کو منہ سے ملو

    پھر وہی باتیں پیار کی کر لو

    لہر پھر چڑھ رہی ہے کالوں کی

    بو سنگھا دو تم اپنے بالوں کی

    پھر ہم اٹھنے لگیں بٹھا لو تم

    پھر بگڑ جائیں ہم منا لو تم

    پھر لبوں کو چبا کے بات کرو

    پھر ذرا مسکرا کے بات کرو

    پھر بلائیں تمہاری یار لیں ہم

    آؤ پھر سر سے سر اتار لیں ہم

    رو نہ اس طرح سے تو زار و قطار

    دشمنوں کو کہیں چڑھے نہ بخار

    آپ اچھے بھلے بچھڑ جائیں

    اور لینے کے دینے پڑ جائیں

    کاٹ لے کوئی دھڑ سے سر میرا

    بال بیکا نہ ہو مگر تیرا

    میں دل و جاں سے ہوں فدا تیری

    لے کے مر جاؤں میں بلا تیری

    اب تو کیوں ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہے

    کیوں مرے دل کے ٹکڑے کرتا ہے

    میں ابھی تو نہیں گئی ہوں مر

    کیوں سجائی ہیں آنکھیں رو رو کر

    اس قدر ہو رہا ہے کیوں غمگیں

    کیوں مٹاتا ہے اپنی جان حزیں

    کر نہ رو رو کے اپنا حال زبوں

    ارے ظالم ابھی تو جیتی ہوں

    اشک بہتے ہیں ناگوار ترے

    تو نہ رو ہو گئی نثار ترے

    ایسے قصے ہزار ہوتے ہیں

    یوں کہیں مردوے بھی روتے ہیں

    یوں تو آنسو نہ تو بہا اپنے

    دل کو مضبوط رکھ ذرا اپنے

    رنج سے میرے کچھ اداس نہ ہو

    یوں تو للہ بد حواس نہ ہو

    تم تو اتنے میں ہو گئے رنجور

    تھک گئے اور ابھی ہے منزل دور

    اسی غم نے تو مجھ کو مارا ہے

    صدمہ تیرا نہیں گوارا ہے

    اپنے مرنے کا کچھ نہیں ہے الم

    دل میں میرے فقط ہے اس کا غم

    جان ہم نے تو اس طرح کھوئی

    کون تیری کرے گا دل جوئی

    آ کے سمجھائے گا بجھائے گا کون

    اس طرح سے گلے لگائے گا کون

    کون رو کے گا اس طبیعت کو

    کس سے کہہ جاؤں اس وصیت کو

    گو کہ بے جا ترا ہراس نہیں

    کوئی دل سوز بھی تو پاس نہیں

    میں کہاں ہوں جو ساتھ دوں تیرا

    ہاتھ میں کس کے ہاتھ دوں تیرا

    یوں تسلی تری کرے گا کون

    میری صورت بھلا مرے گا کون

    کون یوں خوش کرے گا دل تیرا

    دل ہے اس غم سے مضمحل تیرا

    جی لگے گا نہ ساتھ میں اس کا

    دل لئے رہنا ہاتھ میں اس کا

    پر میں اب اس کا کیا کروں کمبخت

    آسماں دور ہے زمیں ہے سخت

    گو کہ عقبیٰ میں رو سیاہ چلی

    مگر اپنی سی میں نباہ چلی

    جی کو تم پر فدا کیا میں نے

    حق وفا کا ادا کیا میں نے

    بولی پھر زانوؤں پہ مار کے ہاتھ

    نہیں معلوم اب ہے کتنی رات

    جوں جوں گھڑیال واں بجاتا تھا

    جی مرا سنسنایا جاتا تھا

    یوں تو کوئی نہ درد و غم میں کڑھے

    پھولے جاتے ہیں ہاتھ پاؤں مرے

    کچھ عجب ہو رہا ہے جان کا طور

    کہتی ہوں کچھ نکلتا ہے کچھ اور

    آنسو آنکھوں میں بھر بھر آتے ہیں

    دست و پا سارے تھرتھراتے ہیں

    دل کو سمجھاتی ہوں میں بہتیرا

    پر سنبھلتا نہیں ہے جی میرا

    گو تو بیٹھا ہوا ہے پاس مرے

    پر ٹھکانے نہیں حواس مرے

    ہوش آئے ہوئے بھی جاتے ہیں

    دل میں کیا کیا خیال آتے ہیں

    پیش یوں فرقت حبیب نہ ہو

    کسی دشمن کو بھی نصیب نہ ہو

    دوسرا اب یہ اور ماتم ہے

    سانگ باقی بہت ہیں شب کم ہے

    خاک تسکین جان زار کریں

    اب وصیت کریں کہ پیار کریں

    سن کے میں نے دیا یہ اس کو جواب

    دل کو میرے بس اب کرو نہ کباب

    تم تو یوں اپنی جان دو مری جان

    میں وصیت سنوں خدا کی شان

    دل سے رکھنا ذرا یہ اپنے دور

    کون کمبخت یہ کرے گا امور

    مجھ پہ یہ دن تو کبریا نہ کرے

    تم مرو میں جیوں خدا نہ کرے

    جان دے دو گی تم جو کھا کر سم

    میں بھی مرجاؤں گا خدا کی قسم

    جو یہ دیکھے گا خوب روئے گا

    آگے پیچھے جنازہ ہوئے گا

    اک ذرا مجھ سے تو کہو یہ حال

    جی میں کیا آیا آپ کے یہ خیال

    دل ہی دل میں الم اٹھاتی ہو

    جان دیتی ہو، زہر کھاتی ہو

    پہونچا ماں باپ سے اگر ہے الم

    اس کا کرنا نہ چاہئیے تمہیں غم

    جو کہ ہوتے ہیں قوم کے اشراف

    یوں ہی کرتے ہیں وہ قصور معاف

    کچھ تمہیں پر نہیں ہے یہ افتاد

    سب کے ماں باپ ہوتے ہیں جلاد

    صدمہ ہر اک پہ یہ گزرتا ہے

    زہر کھا کھا کے کوئی مرتا ہے

    شکوہ ماں باپ کا تو ناحق ہے

    ان کا اولاد پر بڑا حق ہے

    ہوں جو ناراض یہ قیامت ہے

    ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے

    تم تو نام خدا سے ہو دانا

    اس پہ رتبہ نہ ان کا پہچانا

    کیا بھروسہ حیات کا ان کی

    نہ برا مانو بات کا ان کی

    ہوش رہتے نہیں ہیں اس سن کے

    یہ تو مہمان ہیں کوئی دن کے

    اتنی سی بات کا غبار ہے کیا

    ان کے کہنے کا اعتبار ہے کیا

    غور سے کیجئے جو دل میں خیال

    ان کا غصہ نہیں ہے جائے ملال

    سن کے اس نے دیا یہ مجھ کو جواب

    ہم نے دیکھی نہیں ہے چشم عتاب

    بے حیا ایسی زندگی کو سلام

    منہ پہ آئے نہ تھے کبھی یہ کلام

    طعنے سنتی ہوں دو مہینے سے

    موت بہتر ہے ایسے جینے سے

    خون دل کب تلک پیے کوئی

    بے حیا بن کے کیا جیے کوئی

    نوج انسان بے حمیت ہو

    آدمی کیا نہ جس کو غیرت ہو

    بات وہ کس طرح بشر سے اٹھے

    نہ سنی ہو کبھی جو کانوں سے

    وہ سنے جس کو اس کی عادت ہے

    اس میں کیا اپنی اپنی غیرت ہے

    پر مرے جیتے جی تو بہر خدا

    اپنے مرنے کا ذکر منہ پہ نہ لا

    کون سا پڑ گیا ہے رنج و محن

    جان کیوں دیں گے آپ کے دشمن

    تم نے جی دینے کی جو کی تدبیر

    حشر کے روز ہوں گی دامن گیر

    تو سلامت جہاں میں رہ مری جاں

    نکلیں ماں باپ کے ترے ارماں

    واسطے میرے اپنا دل نہ کڑھا

    چاند سی بنو گھر میں بیاہ کے لا

    ہے یہی لطف زندگانی کا

    دیکھ سکھ اپنی نوجوانی کا

    چار دن ہے یہ نالہ و فریاد

    عمر بھر کون کس کو کرتا ہے یاد

    لطف دینا کے جب اٹھاؤ گے

    ہم کو دو دن میں بھول جاؤ گے

    آخری گھڑیاں

    تھا یہی ذکر جو بجا گھڑیال

    سنتے ہی اس کے ہو گئی بے حال

    ہو گیا فرط غم سے چہرہ زرد

    دست و پا تھرتھرا کے ہو گئے سرد

    مردنی رخ پہ چھا گئی اس کے

    دل میں وحشت سما گئی اس کے

    دل میں گزرا جو اس کے صبح کا شک

    ہوئی استادہ جا کے زیر فلک

    ٹھنڈی جس دم چلی نسیم سحر

    ہو گیا حال اور بھی ابتر

    اتنے میں صبح کی بجی وردی

    دونی چہرے کی ہو گئی زردی

    ہوئے ثابت جو صبح کے آثار

    ہو گئی اور اس کی حالت زار

    بید کی طرح جسم تھرایا

    سر سے لے پاؤں تک عرق آیا

    باتیں کرنی جو تھیں سو بھول گئی

    دم لگا چڑھنے سانس پھول گئی

    بولی گھبرا کے رہیو اس کے گواہ

    اور کہا لا الہ الا اللہ

    اب فقط یہ ہے خوں بہا میرا

    بخش دیجو کہا سنا میرا

    کہہ کے وہ پھر چمٹ گئی اک بار

    اور کیا خوب بھینچ بھینچ کے پیار

    سر سے لے کر بلائیں تا بہ قدم

    بولی تم پر نثار ہوتے ہیں ہم

    آگ لگ جائے وہ گھڑی کمبخت

    بام پر آئی تھی میں کون سے وقت

    پھر یہ بولی وہ پوچھ کر آنسو

    میرے سر کی قسم نہ کڑھیو تو

    آزماتی تھی تجھ کو کستی تھی

    میں ترے چھیڑنے کو ہنستی تھی

    مفارقت

    کہہ کے یہ بات ہو گئی وہ سوار

    یاں بندھا آنسوؤں کا آنکھ سے تار

    آتش غم بھڑک گئی دونی

    تپش قلب نے کی افزونی

    یاد آتی تھی جب وصیت یار

    وہم لاتا تھا دل ہزار ہزار

    تھی مصیبت جو یہ بلا انگیز

    دھیان آتے تھے کیا کیا وحشت خیز

    دل میں کہنے کا اس کے تھا جو ملال

    آتے تھے ذہن میں عجیب خیال

    کون روکے گا جا کے گھر بیٹھے

    جو کہا ہے وہی نہ کر بیٹھے

    ہر گھڑی تھا جو اضطراب فزوں

    چپکا روتا تھا بیٹھا میں محزوں

    کہ اٹھا ایک سمت سے وہ غل

    ہوش جس سے کہ اڑ گئے بالکل

    شعلہ اک آگ کا بھڑکنے لگا

    مثل بسمل کے دل تڑپنے لگا

    یوں تو گزرے تھے دوپہر روتے

    اور ہاتھوں کے اڑ گئے توتے

    ہو گیا دل کو اس طرح کا ہراس

    آئے سو سو طریق کے وسواس

    کہا اک دوست سے کہ تم جا کر

    جلد اس شور و غل کی لاؤ خبر

    روتے ہیں ہم سے بد نصیب کوئی

    مر گیا ان کا کیا حبیب کوئی

    یوں جو اپنی یہ جان کھوتے ہیں

    کون ہیں کس لیے یہ روتے ہیں

    کیا ہوا ان پہ صدمۂ جاں کاہ

    یہ جو کرتے ہیں ایسے نالہ و آہ

    دوڑے آخر ادھر مرے احباب

    لے کر آئے خبر وہاں سے شتاب

    کیا اس طرح آ کے مجھ سے بیاں

    کہ یہاں سے ہے اک قریب مکاں

    باغ کے پاس جو بنا ہے گھر

    واں فروکش ہے ایک سوداگر

    یوں تو اک شور راہ بھر میں ہے

    پر یہ آفت انہیں کے گھر میں ہے

    صاف کھلتا نہیں ہے یہ اسرار

    مر گیا کوئی یا کہ ہے بیمار

    پر یہ ہوتا ہے عقل سے ادراک

    کہ نہیں بے سبب اڑاتے خاک

    کچھ نہ کچھ تو ہے ایسی ہی روداد

    کہ یہ ہے شور نالہ و فریاد

    نہیں برپا یہ بے سبب ماتم

    ہے نکلتا کسی جوان کا دم

    ہر بشر ہو رہا ہے دیوانہ

    کوئی مرتا ہے صاحب خانہ

    نہیں قابو میں ہے کسی کا دل

    پیٹتے سر ہیں صاحبان محل

    نہیں دیتا سنائی کچھ بالکل

    ہے فقط ایک ہائے ہائے کا غل

    تھمتا اک دم بھی واں خروش نہیں

    کس سے پوچھیں کسی میں ہوش نہیں

    روتے جس درد سے ہیں وہ اس دم

    دیکھا جاتا نہیں خدا کی قسم

    کہہ گئی تھی جو وہ کہ کھاؤں گی زہر

    میں یہ سمجھا کہ ہو گیا وہی قہر

    گو حیا سے نہ اس کا نام لیا

    دونوں ہاتھوں سے دل کو تھام لیا

    دوستوں نے جو دیکھی یہ صورت

    بولے اس طرح از رہ الفت

    حال دل یوں تمہارا غیر تو ہے

    مگر اس وقت کیا ہے خیر تو ہے

    بے سبب کس لئے ہوئے ہو اداس

    اڑ گئے کیوں تمہارے ہوش و حواس

    کون سی آفت آ گئی اس دم

    مردنی منہ پہ چھا گئی اس دم

    کیا ہے جو اتنے بے قرار ہو اب

    کوئی مرجائے تم سے کیا مطلب

    ایسی حالت جو بیچ و تاب کی ہے

    تم کو کیا وجہ اضطراب کی ہے

    شہر میں لوگ روز مرتے ہیں

    خفقان اس کا کوئی کرتے ہیں

    فکر کرنا ہے اس طرح کی زبوں

    یونہی ہو جاتا ہے بشر مجنوں

    سن کے ماں باپ کیا کہیں گے بتاؤ

    ہوش پکڑو ذرا حواس میں آؤ

    تم کو کیا ہے جو جان کھوتے ہو

    بے سبب آپ ہی آپ روتے ہو

    ہو رہے ہو ملول کس غم سے

    حال دل کا تو کچھ کہو ہم سے

    طعنہ آمیز دوستوں کے بیاں

    ہوئے معلوم نشتر رگ جاں

    نہ دیا ان کو مارے غم کے جواب

    ڈھانپ کر منہ کیا بہانۂ خواب

    اٹھ گئے دوست آشنا جس دم

    کھول کر منہ کو چپکے اٹھے ہم

    حال دل سینہ میں ہوا جو تباہ

    بیٹھا کمرے سے آن کر سر راہ

    دیکھا برپا ہے ایک حشر کا غل

    بھیڑ سے بند راہ ہے بالکل

    اس طرف سے جو لوگ آتے ہیں

    یہی آپس میں کہتے جاتے ہیں

    والدین کا ماتم

    حال ان کا بھی جائے رقت ہے

    داغ اولاد کا قیامت ہے

    نوچ ڈالے ہیں سارے سر کے بال

    کیا پریشاں ہے والدین کا حال

    آفت تازہ سر پہ ہے آئی

    بک رہے ہیں مثال سودائی

    دھیان ان کی طرف جو جاتا ہے

    غم سے منہ کو کلیجہ آتا ہے

    جو کہ تھے ان میں صاحب اولاد

    حال ابتر تھا ان کا حد سے زیاد

    کہتے تھے کوٹ کر سر و سینہ

    کیوں نہ دشوار ان کو ہو جینا

    مرگ اولاد کا وہ ماتم ہے

    رنج و غم جس قدر کریں کم ہے

    کوئی کہتا تھا کیسی آفت ہے

    نوجواں مرنا بھی قیامت ہے

    یوں تو ہے از پئے زمانا مرگ

    نہ مرے پر کوئی جوانا مرگ

    آتش غم سے دل ہوا ہے کباب

    ہے تپاں مثل ماہئ بے آب

    چشمہ جاری ہے چشم گریاں کا

    ہوش باقی نہیں تن و جاں کا

    نہیں دم بھر کسی کو واں آرام

    دیکھنے والے رو رہے ہیں تمام

    پھوڑ ڈالے ہیں سب نے سر اپنے

    سر و پا کی نہیں خبر اپنے

    بنئے بقال جان کھوتے ہیں

    سارے دوکان دار روتے ہیں

    حال دیکھا جو میں یہ اٹھ کر

    ہل گیا سینے میں دل مضطر

    نہ رہی تاب رنج کے مارے

    لگے تھرانے دست و پا سارے

    بحر الفت نے دل میں مارا جوش

    گر پڑا ہو کے خاک پر بے ہوش

    عشق کی تھی جو دل کو بیماری

    غش کا عالم سا ہو گیا طاری

    دو گھڑی بعد پھر جو آیا ہوش

    دیکھا برپا عجب ہے جوش و خروش

    محبوب کا جنازہ

    آگے آگے ہے کچھ جلوس رواں

    سر کھلے کچھ ہیں پیچھے پیر و جواں

    سن رسیدہ ہیں عورتیں کچھ ساتھ

    سینہ و سر پہ مارتی ہیں ہاتھ

    کوئی ماما ہے کوئی دائی ہے

    کوئی انا کوئی کھلائی ہے

    جب وہ بھرتی ہیں غم سے آہ سرد

    سننے والوں کے دل میں ہوتا ہے درد

    ہوتا غیروں کو ہے ملال ان کا

    دیکھا جاتا نہیں ہے حال ان کا

    کچھ بیاں ایسے ہوتے جاتے ہیں

    راستے والے روتے جاتے ہیں

    اس کے پیچھے پڑی پھر اس پہ نگاہ

    کہ نہ دیکھے بشر معاذاللہ

    شامیانہ نیا زری کا ہے

    نیچے تابوت اس پری کا ہے

    سہرا اس پر بندھا ہے اک زرتار

    جیسے گلشن کی آخر ہو بہار

    تھی پڑی اس پہ ایک چادر گل

    جس سے خوشبو نکلتی تھی بالکل

    عود سوز آگے آگے روشن تھے

    مر گئے پر بھی لاکھ جوبن تھے

    بھیڑ تابوت کے تھی ایسی ساتھ

    جیسے آئے کسی دلہن کی برات

    سب وضیع و شریف تھے ہمراہ

    بھیڑ تھی اس قدر کہ تنگ تھی راہ

    ساتھ تھے خویش و اقربا سارے

    رو رہے تھے غریب بے چارے

    پیچھے پیچھے تھا سب سے سوداگر

    مو پریشاں، اداس، خاک بسر

    آگے آگے جنازہ جاتا تھا

    غش اسے ہر قدم پہ آتا تھا

    ہاتھ تھامے تھے اقربا سارے

    تا کسی جا پہ سر نہ دے مارے

    حال اس درجہ ہو رہا تھا زبوں

    بہتا جاتا تھا سر کے زخم سے خوں

    سب امیر و فقیر روتے تھے

    دیکھ کر راہ گیر روتے تھے

    پیچھے سب کے پنس میں تھی مادر

    کہتی جاتی تھی اس طرح رو کر

    تیری میت پہ ہو گئی میں نثار

    کم سخن ہائے میری غیرت دار

    دل پہ جو گزری کچھ بیان نہ کی

    کچھ وصیت بھی میری جان نہ کی

    کچھ نہیں ماں کی اب خبر تم کو

    کس کی یہ کھا گئی نظر تم کو

    دل ضعیفی میں میرا توڑ گئیں

    بیٹا اس ماں کو کس پہ چھوڑ گئیں

    تازہ پیدا جگر پہ داغ ہوا

    گھر مرا آج بے چراغ ہوا

    دل کو ہاتھوں سے کوئی ملتا ہے

    جی سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے

    زہر دے دے کوئی میں کھا جاؤں

    یا زمیں شق ہو میں سما جاؤں

    داغ تیرا جگر جلاتا ہے

    چاند سا مکھڑا یاد آتا ہے

    مٹ گیا لطف زندگانی کا

    دل کو غم ہے تری جوانی کا

    بیاہ تیرا رچانے پائی نہ میں

    کوئی منت بڑھانے پ]ائی نہ میں

    تیری صورت پہ ہوگئی قرباں

    چلیں دنیا سے کیسی پر ارماں

    ہوئیں کس بات پر خفا بولو

    اماں واری ذرا جواب تو دو

    بولتیں تم نہیں پکارے سے

    اب جیوں گی میں کس سہارے سے

    کیا قضا نے جگر پہ داغ دیا

    آج گھر میرا بے چراغ کیا

    نکلا ماں باپ کا نہ کچھ ارمان

    ہائے بیٹا نہ تم چڑھیں پروان

    ایسی اس ماں سے ہوگئیں بیزار

    لی نہ خدمت بھی پڑ کے کچھ بیمار

    نہ جیؤں گی ترے فراق میں میں

    دل تڑپتا ہے آنکھیں ڈھونڈتی ہیں

    کس مصیبت میں پڑ گئی بیٹا

    کوکھ میری اجڑ گئی بیٹا

    عمر کٹنی تھی ایسے صدمے میں

    ٹھوکریں تھیں لکھی بڑھاپے میں

    سن کے اس طرح اس کی ماں کے بین

    اور سینے میں دل ہوا بے چین

    تھی وصیت جو اس پری کی یاد

    سب کے پیچھے میں ہو لیا ناشاد

    گو یہ طاقت نہ تھی کہ چلتا راہ

    لے چلا جذب عشق پر ہمراہ

    پیچھے ان سب کے جو رواں تھا میں

    صورت گرد کارواں تھا میں

    گہ تڑپتا تھا صورت بسمل

    بیٹھ جاتا تھا گاہ تھام کے دل

    جوں جوں کرتا تھا ضبط میں نالہ

    دل ہوا جاتا تھا تہ و بالا

    مرغ بسمل کی میری صورت تھی

    یاں گرا واں گرا یہ حالت تھی

    العرض پہنچا ساتھ ان کے وہاں

    دفن کا اس کے تھا مقام جہاں

    قبر کھدتی جو واں نظر آئی

    لاکھ روکا پہ چشم بھر آئی

    دیکھ کر یہ جو لوگ رونے لگے

    ٹکڑے ٹکڑے جگر کے ہونے لگے

    طاقت ضبط گر یہ جب نہ رہی

    دل سے اپنے یہ میں نے بات کہی

    کہہ کے کیا مر گئی وہ جان تجھے

    کچھ وصیت کا بھی ہے دھیان تجھے

    ہو نہ للہ بے قرار اتنا

    ضبط کر نالہ ہو سکے جتنا

    دل کو سمجھا کے یہ گیا میں وہاں

    جمع سب ان کے اقربا تھے جہاں

    دل آفت زدہ کو بہلا کر

    چپکا بیٹھا میں اک طرف جا کر

    اشک آنکھوں سے گو نہ بہتے تھے

    لوگ پر دیکھ کر یہ کہتے تھے

    حال چہرے کا آج کیسا ہے؟

    خیر تو ہے مزاج کیسا ہے؟

    لال آنکھیں ہیں تمتمائے ہیں گال؟

    وجہ کیا ہے بیان کیجئے حال؟

    منہ پہ اک مردنی سی چھائی ہے

    چہرے پر چھٹ رہی ہوائی ہے

    بولا میں اور کچھ نہیں ہے بات

    شب کو سویا نہیں میں ساری رات

    اس پہ پیدل جو آیا میں مجبور

    رنگ چہرے کا ہو گیا کافور

    ترک عادت بھی اک عداوت ہے

    رات کا جاگنا قیامت ہے

    دل کا شک ان کے سب نکال دیا

    یہی کہہ سن کے ان کو ٹال دیا

    غل ہوا اتنے میں سب آتے جائیں

    فاتحہ پڑھتے جائیں جاتے جائیں

    سن کے یہ سب گئے وہاں احباب

    بخشا پڑھ پڑھ کے فاتحہ کا ثواب

    جب کہ اس سے بھی ہو گئی فرصت

    آئے جتنے تھے ہو گئے رخصت

    پائی تنہا جو میں نے یار کی قبر

    دل کو باقی رہی نہ طاقت صبر

    تھا جو اس شمع رو کا پروانہ

    دوڑا کر آیا مثل دیوانہ

    گر پڑا آ کے قبر پر اک بار

    اور رونے لگا میں زار و قطار

    نہ رہا تھا جو اختیار میں دل

    لوٹا تربت پہ صورت بسمل

    مر گئی تھی جو مجھ پہ وہ گلفام

    زندگی ہو گئی مجھے بھی حرام

    دیکھا آنکھوں سے تھا جو ایسا قہر

    کھا گیا میں بھی گھر میں آ کر زہر

    دوپہر تک تو قے رہی جاری

    بعد پھراس کے غش ہوا طاری

    تین دن تک رہی وہ بے ہوشی

    ہو گئی جس سے خود فراموشی

    عین غفلت میں پھر یہ دیکھا خواب

    کہ یہ کہتی ہے وہ بچشم عتاب

    سن تو رے تو نے زہر کیوں کھایا

    کچھ وصیت کا بھی نہ پاس آیا

    ہوئے خود رفتہ ایسے حد سے زیادہ

    دو ہی دن میں بھلا دی میری یاد

    دل سے میرا بھلا دیا کہنا

    ہاں یہی چاہیئے تھا کیا کہنا

    کہہ کے یہ جب وہ ہو گئی روپوش

    کھل گئی آنکھ، آ گیا مجھے ہوش

    زہر کا پھر نہ کچھ اثر پایا

    اک تعجب سا مجھ کو یہ آیا

    آشنا دوست سب کا تھا یہ بیان

    مردے جی اٹھے لو خدا کی شان

    ہو گیا والدین کو یہ سرورر

    بڑھ گیا دل کا چین چشم کا نور

    اقربا سن کے ہو گئے دل شاد

    آ کے دینے لگے مبارکباد

    حاصل اتنا تھا اس کہانی سے

    ہم رہے جیتے سخت جانی سے

    عشق میں ہم نے یہ کمائی کی

    دل دیا غم سے آشنائی کی

    مأخذ :
    • کتاب : zehr-e-ishq (Pg. 26)
    • Author : Aashiq Keranvi
    • مطبع : ghalib academy karachi (1949)
    • اشاعت : 1949

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY