علاء الدین کا توبوز

ساغر خیامی

علاء الدین کا توبوز

ساغر خیامی

MORE BYساغر خیامی

    یقیں ہے جائے گی اک روز جان دلی میں

    تلاش کرتے ہوئے اک مکان دلی میں

    تمام دن کے سر راہ ہم تھکے ہارے

    شکم میں چوہے اچھلتے تھے بھوک کے مارے

    بڑا تھا میرا شکم دوستو میں کیا کرتا

    رقم تھی جیب میں کم دوستو میں کیا کرتا

    چلا خرید کے توبوز سوئے دشت حقیر

    لگی جو پاؤں میں ٹھوکر سنور گئی تقدیر

    غم حیات کی راتوں میں دن نکل آیا

    گرا جو ہاتھ سے تربوز جن نکل آیا

    ادب سے بولا کہ ادنیٰ غلام ہوں ساغرؔ

    جو ہو سکے نہ کسی سے وہ کام ہوں ساغرؔ

    اشارہ ہو تو میں رخ موڑ دوں زمانے کا

    بنا دوں تم کو منیجر یتیم خانے کا

    مرے سبب سے لطیفہ مشاعرہ ہو جائے

    پلک جھپکنے میں شاعر بھی شاعرہ ہو جائے

    گناہ و شرک کی راتوں میں آفتاب ملے

    عبادتیں کریں ملا تمہیں ثواب ملے

    اگر میں چاہوں ملٹھی سے رس بھری ہو جاؤ

    بغیر تیر چلائے پدم شری ہو جاؤ

    میں آدمی نہیں دشمن سے ساز باز کروں

    اگر میں چاہوں تو احمق کو سرفراز کروں

    جو حکم کیجے تو مردے میں جان ڈلوا دوں

    میں عہد پیری میں بیوی جوان دلوا دوں

    بجائیں سیٹیاں اب تلخیاں زمانے کی

    یہ پکڑو کنجیاں قارون کے خزانے کی

    نہیں ہے دل کی تمنا جہان دلوا دے

    میں ہاتھ جوڑ کے بولا مکان دلوا دے

    یہ کہہ کے گھس گیا تربوز میں وہ کالا جن

    عجیب وقت ہے بگڑے ہوئے ہیں سب کے دن

    یہ سرد سرد فضاؤں کا غم نہ سہتے ہم

    مکاں جو ملتا تو تربوز میں نہ رہتے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY