فرضی لطیفہ

اکبر الہ آبادی

فرضی لطیفہ

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ

    مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

    یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں

    نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

    سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ

    کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

    کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

    کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

    تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے

    بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

    کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی

    کجا عاشق کجا کالج کی بکواس

    کجا یہ فطرتی جوش طبیعت

    کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

    بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے

    ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس

    یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی

    مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس

    دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود

    نہیں منظور مغز سر کا آماس

    یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ

    تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY