غالبؔ کو برا کیوں کہو

دلاور فگار

غالبؔ کو برا کیوں کہو

دلاور فگار

MORE BYدلاور فگار

    کل ایک ناقد غالبؔ نے مجھ سے یہ پوچھا

    کہ قدر غالبؔ مرحوم کا سبب کیا ہے

    مجھے بتاؤ کہ دیوان حضرت غالبؔ

    کلام پاک ہے انجیل ہے کہ گیتا ہے

    سنا ہے شہر کراچی میں ایک صاحب ہیں

    کلام ان کا بھی غالبؔ سے ملتا جلتا ہے

    ہمارا دوست طفیلی بھی ہے بڑا شاعر

    اگرچہ ایک بڑے آدمی کا چمچہ ہے

    تو پھر یہ غالب مرحوم کی ہی برسی کیوں

    مجھے بتاؤ کہ ان میں خصوصیت کیا ہے

    نہ ذوقؔ کا ہے کہیں تذکرہ نہ مومنؔ کا

    نہ ذکر میرؔ کہیں ہے نہ یوم سوداؔ ہے

    یہ فیضؔ و ماہرؔ و جوشؔ و فراقؔ کچھ بھی کہیں

    مری نظر میں تو غالبؔ سے ذوق اونچا ہے

    مجھے تو میرتقی میرؔ سے ہے ایک لگاؤ

    کہ میرؔ کچھ بھی سہی شاعری تو کرتا ہے

    یہ رنگ لائی ہے غالبؔ کی پارٹی بندی

    کہ آج سارے جہاں میں اسی کا چرچا ہے

    یہ روس والے جو غالبؔ پہ جان دیتے ہیں

    مرے خیال میں اس میں بھی کوئی گھپلا ہے

    کہاں کے ایسے بڑے آرٹسٹ تھے غالبؔ

    یہ چند اہل ادب کا پروپیگنڈہ ہے

    انا نے مار دیا ورنہ شاعر اچھا تھا

    نتیجہ یہ کہ جو ہونا تھا اس کا آدھا ہے

    لکھی ہے ایک غزل کی ردیف ''ہونے تک''

    کوئی بتائے کہ کیا یہ بھی سہو املا ہے

    کبھی ہے محو حسینوں سے دھول دھپا میں

    کبھی کسی کا وہ سوتے میں بوسہ لیتا ہے

    جو کہہ رہے ہیں کہ غالبؔ ہے فلسفی شاعر

    مجھے بتائیں کہ بوسہ میں فلسفہ کیا ہے

    جہاں رقم کی توقع ہوئی قصیدہ کہا

    تمہیں کہو کہ یہ معیار شاعری کیا ہے

    شراب جام میں ہے اور جام ہاتھوں میں

    مگر یہ رند بلا نوش پھر بھی پیاسا ہے

    جو شاعری ہو تجمل حسین خاں کے لیے

    وہ اک طرح کی خوشامد ہے شاعری کیا ہے

    خطاب و خلعت و دربار کے لیے اس نے

    نہ جانے کتنے امیروں پہ جال ڈالا ہے

    سنا یہ ہے کہ وہ صوفی بھی تھا ولی بھی تھا

    اب اس کے بعد تو پیغمبری کا درجہ ہے

    کہا جو میں نے کہ پڑھیے تو پہلے غالبؔ کو

    تو بولے خاک پڑھوں مدعا تو عنقا ہے

    مجھے خبر ہے کہ غالبؔ کی زندگی کیا تھی

    کہ میں نے حضرت غالبؔ کا فلم دیکھا ہے

    سنی جو میں نے یہ تنقید تو سمجھ نہ سکا

    کہ اس غریب کو غالبؔ سے دشمنی کیا ہے

    سمجھ گیا کہ یہ بکواس بے سبب تو نہیں

    دماغ کا کوئی پرزہ ضرور ڈھیلا ہے

    بڑھی جو بات تو پھر میں نے اس کو سمجھایا

    ادب میں حضرت غالبؔ کا مرتبہ کیا ہے

    بتایا اس کو کہ وہ زندگی کا ہے شاعر

    بہت قریب سے دنیا کو اس نے دیکھا ہے

    عجب تضاد کی حامل ہے اس کی شخصیت

    عجیب شخص ہے برباد ہو کے ہنستا ہے

    چراغ صبح کی مانند زندگی اس کی

    اک آسرا ہے اک ارماں ہے اک تمنا ہے

    جو اس کو روکنا چاہو تو اور تیز بہے

    عجیب موج رواں ہے عجیب دریا ہے

    چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن

    رفو کی اس کو ضرورت ہے اور نہ پروا ہے

    وہ لکھ رہا ہے حکایات خوں چکان جنون

    جبھی تو اس کے قلم سے لہو ٹپکتا ہے

    بس ایک لفظ کے پردہ میں داستاں کہنا

    یہ فکر و فن کی بلندی اسی کا حصہ ہے

    نہ کیوں ہوں آج وہ مشہور پوری دنیا میں

    کہ اس کی فکر کا موضوع پوری دنیا ہے

    پہنچ گیا ہے وہ اس منزل تفکر پر

    جہاں دماغ بھی دل کی طرح دھڑکتا ہے

    کبھی تو اس کا کوئی شعر سادہ و رنگیں

    رخ بشر کی طرح کیفیت بدلتا ہے

    یہ ہم نے مانا کہ کچھ خامیاں بھی تھیں اس میں

    وہ خامیاں نہیں رکھتا یہ کس کا دعویٰ ہے

    وہ آدمی تھا خطا آدمی کی ہے فطرت

    یہ کیوں کہیں کہ وہ انساں نہیں فرشتہ ہے

    جو چاہتے ہیں کہ فوق البشر بنا دیں اسے

    ہمیں تو اس کے ان احباب سے بھی شکوہ ہے

    ہزار لوگوں نے چاہا کہ اس کے ساتھ چلیں

    مگر وہ پہلے بھی تنہا تھا اب بھی تنہا ہے

    کبھی ولی کبھی واعظ کبھی خراباتی

    سمجھ سکو تو سمجھ لو وہ اک معما ہے

    اگر یہ سچ ہے کہ الفاظ روح رکھتے ہیں

    تو یہ بھی سچ ہے وہ الفاظ کا مسیحا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Dilavar Figar (Pg. 276)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY