اکیسویں صدی کا آدمی

ساغر خیامی

اکیسویں صدی کا آدمی

ساغر خیامی

MORE BY ساغر خیامی

    دنیا ترقیوں پہ ہے معبود کی قسم

    انسان کر رہا ہے ترقی قدم قدم

    رکھیں گے اس طرح قد بالا کو میڈیم

    لمبے منش سے باندھ کے ناٹے کی اب قلم

    ڈھل جائیں گے شباب سے پہلے جو اپنے سن

    گملوں میں بوئے جائیں گے بچے بھی ایک دن

    انساں نے آسمان پہ قبضہ دکھا دیا

    اس آدمی کے خون کو اس میں چڑھا دیا

    عورت کا مغز مرد کے سر پر لگا دیا

    اس تجربے نے قیس کو لیلیٰ بنا دیا

    بیمار دل کے آپ جو موٹر لگائیں گے

    عاشق فراق یار میں بھونپو بجائیں گے

    کچھ دن کے بعد اور کریں گے ترقیاں

    لڑکے بنیں گے ٹین کے شیشے کی لڑکیاں

    سر پر لگائی جائیں گی ڈیزل کی ٹنکیاں

    اسٹارٹر کا کام کریں گی دولتیاں

    کچھ دن کے بعد دیکھنا اسمارٹ ہو گیا

    کک مارنے سے آدمی اسٹارٹ ہو گیا

    سائنسی معجزات، اداؤں میں دیکھنا

    کمپیوٹروں کا کام وفاؤں میں دیکھنا

    پہیے لگائے جائیں گے پاؤں میں دیکھنا

    آباد ہوں گے شہر خلاؤں میں دیکھنا

    استاد اپنا مان کے شاعر مشین کو

    گوڑیں گے ٹریکٹر سے غزل کی زمین کو

    انسان کارٹون ہے پتلا ہنسی کا ہے

    گردے ہمارے، جسم ترا، سر کسی کا ہے

    افسوس کا مقام نہیں ہے خوشی کا ہے

    پنڈت کے سر میں مغز کسی مولوی کا ہے

    کوشش بھی کر رہے ہیں ہمیں اتحاد کی

    انساں جڑوں کو کاٹ رہا ہے فساد کی

    فولاد کی مشین حقیقت بتائے گی

    کتنی ہے تیرے دل میں محبت بتائے گی

    کیسے کٹے گی یہ شب فرقت بتائے گی

    جو حال ہے شباب کا حالت بتائے گی

    اب اپنی آرزو سے نہ ہم کو دبائیں گے

    اب لڑکیوں کے نخرے کرینیں اٹھائیں گے

    ہیٹر سے شعلہ حسن کا بھڑکایا جائے گا

    اب عشق بھی مشین سے فرمایا جائے گا

    شوہر بھی اک مشین ہے سمجھایا جائے گا

    عاشق کو بھی مشین سے تڑپایا جائے گا

    کچھ دن کے بعد دیکھنا سائنسی دین سے

    جنت کو بھیجے جائیں گے مردے پلین سے

    پوچھیں گے ہم سے لوگ تو ہم کیا بتائیں گے

    کس شکل کا تھا آدمی فوٹو دکھائیں گے

    بچوں کو مدرسوں میں نہ مرغا بنائیں گے

    راکٹ بنا کے ان کو مدرس اڑائیں گے

    دیں گے دعا بزرگ یہ طفل ذہین کو

    بیٹا نظر لگے نہ تمہاری مشین کو

    انسان کیا تھا، بھول نہ جائیں عزیز لوگ

    انسان اور مشین میں رکھیں تمیز لوگ

    بن کر مشین ہو گئے بے حد لذیذ لوگ

    ممکن ہے پیٹھ پر لکھیں ہارن پلیز لوگ

    ساغرؔ اگر مشین سے یوں ہی جڑیں گے لوگ

    دائیں سے بائیں ہاتھ دکھا کر مڑیں گے لوگ

    کمپیوٹروں سے جا کے مہورت لے آئیں گے

    بھگوان کے بھجن بھی ریکارڈر سنائیں گے

    پنڈت بیچارے روٹیاں کس شے کی کھائیں گے

    مندر میں خالی بیٹھ کے گھنٹہ بجائیں گے

    مطلب رہے گا کوئی نہ ملا کے دین سے

    پڑھ لیں گے لوگ گھر پہ نمازیں مشین سے

    جب سے حضور یہ کلیں ایجاد ہو گئیں

    کتنی کلائیں ہاتھ کی برباد ہو گئیں

    غنڈوں کے گھر چلی گئیں آباد ہو گئیں

    کتنی ہی لڑکیاں یہاں ناشاد ہو گئیں

    خط عاشقی کے لکھتی نہیں دل کے خون سے

    ملنے کا وعدہ کرتی ہیں اب ٹیلیفون سے

    تعلیم دے رہے ہیں تو وہ بھی مشین سے

    پاتے ہیں اب سزائیں بھی قیدی مشین سے

    مانا کہ کام ہوتا ہے جلدی مشین سے

    مزدور کی خراب ہے مٹی مشین سے

    موٹر ہے جن کے پاس وہ اہل یقین ہیں

    پیدل ہیں جتنے لوگ وہ کوڑی کے تین ہیں

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e-Saghar Khayyami (Pg. 223)
    • Author : Saghar Khayyami
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd. (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY