امتحاں ہم نے دیے ہیں نوجوانی میں بہت

محمد یوسف پاپا

امتحاں ہم نے دیے ہیں نوجوانی میں بہت

محمد یوسف پاپا

MORE BYمحمد یوسف پاپا

    امتحاں ہم نے دیے ہیں نوجوانی میں بہت

    اور نمبر لے چکے ہیں لن ترانی میں بہت

    دشمنوں کی دشمنی میرے لیے آسان تھی

    خرچ آیا دوستوں کی میزبانی میں بہت

    ان کے رخ کی جاذبیت کا سبب پوشیدہ ہے

    آنکھ میں کم اور چشمے کی کمانی میں بہت

    مہربانی کر مجھے اپنی کہانی میں نہ رکھ

    بے تکے کردار ہیں تیری کہانی میں بہت

    دار فانی اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ دوں

    دوستو دلچسپیاں ہیں دار فانی میں بہت

    ہم کہ ہیں بے گھر کوئی وارنٹ لائے گا کہاں

    جرم کی آسانیاں ہیں لا مکانی میں بہت

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY