جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے (ردیف .. ')
جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے
رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے
''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''
مار لاتا ہے جوتیاں دو چار
''جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے''
ہم ڈنر کھا کے اس طرح اٹھے
''جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے''
جل گیا کون میرے ہنسنے پر
''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''
میرا محبوب پانچ من کا ہے
''اور مجھ ناتواں سے اٹھتا ہے''
- Deewar-e-Qehqaha
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.