خودکشی

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    دلچسپ معلومات

    A satire on Partition violence

    رحیم اللہ ہوا اچھا تو اس نے

    یہ دیکھا ہو چکی ہے پارٹیشن

    گئے کچھ بھاگ اور کچھ مر چکے ہیں

    نہ نیتا سنگھ باقی ہے نہ بھیشن

    سنے اس داستاں کے جب فسانے

    تو غصے نے بنایا اس کو مجنوں

    تڑپ اٹھا کہ لے کیسے وہ بدلہ

    پیے ان کافروں کا کس طرح خوں

    نہ کیوں کہلا سکا وہ مرد غازی

    وہ اس غم میں کئی راتیں نہ سویا

    شہادت ہی کا رتبہ اس کو ملتا

    نہ جب یہ مل سکا وہ خوب رویا

    یکا یک اس کے سب پلٹے خیالات

    تو اس نے دامن اسلام چھوڑا

    کنارہ کش ہوا سب بھائیوں سے

    نئے مذہب سے رشتہ اپنا جوڑا

    کئی دن بعد جب نکلا وہ گھر سے

    تو اس کے منہ پہ داڑھی سر پہ تھے بال

    نہالا سنگھ اب تھا نام اس کا

    لیے کرپان وہ غصے سے تھا لال

    ہزاروں خوں فشاں ارمان لے کے

    کھڑا تھا آج وہ مسجد کے آگے

    پکڑنے کے لیے اس کو نمازی

    نمازیں چھوڑ کر مسجد سے بھاگے

    لگا کر ایک نعرہ وحشت آلود

    وہی کرپان جھٹ اس نے نکالی

    لگا کر قہقہہ اس نے یہ کرپان

    معاً سینے میں اپنے گھونپ ڈالی

    نکالا پھر اسے سینے سے باہر

    گلے پر زور سے اس کو پھرایا

    اور اپنے جاں بحق ہونے سے پہلے

    بیاں اپنا یہ رک رک کر سنایا

    تمنا تھی کہ اک سکھ میں بھی ماروں

    یہ پوری تو نے کی اللہ تعالی

    بہت خوش ہوں رحیم اللہ خاں نے

    نہالا سنگھ جی کو مار ڈالا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے