کسی شعبے میں ہے بیوی کہیں سالے ہوں گے

محمد یوسف پاپا

کسی شعبے میں ہے بیوی کہیں سالے ہوں گے

محمد یوسف پاپا

MORE BYمحمد یوسف پاپا

    کسی شعبے میں ہے بیوی کہیں سالے ہوں گے

    جانے کتنوں کے یہاں دال میں کالے ہوں گے

    جو سر عام تری گالیاں سن کر خوش ہوں

    وہ کوئی اور ترے چاہنے والے ہوں گے

    جن کے باطن میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا

    ان کے چہروں کے لیے نور کے ہالے ہوں گے

    اپنے دم سے ہے زمانے میں گھٹالوں کا وجود

    ہم جہاں ہوں گے گھٹالے ہی گھٹالے ہوں گے

    خیر سے جب ترے عشاق کو دعوت ہوگی

    ہاتھ میں ایک تو دو منہ میں نوالے ہوں گے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY