کچھ نئے نقش محبت میں ابھارو یارو

محمد یوسف پاپا

کچھ نئے نقش محبت میں ابھارو یارو

محمد یوسف پاپا

MORE BYمحمد یوسف پاپا

    کچھ نئے نقش محبت میں ابھارو یارو

    سر کسی شوخ کی بلڈنگ سے مارو یارو

    زلف کے پیچ میں لٹکے ہوئے شاعر کا وجود

    تھک چکا ہوگا اسے مل کے اتارو یارو

    وہ بھرے گھر سے گھسیٹے لیے جاتی ہے مجھے

    کوئی بڑھ کر مری بیوی کو پکارو یارو

    دل کے فٹ پاتھ کو ہموار بنانے کے لیے

    اس سے دس بیس حسینوں کو گزارو یارو

    درد تو اپنی کمائی کا ہوا کرتا ہے

    باپ کا مال ہے کھا کھا کے ڈکارو یارو

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY