میاں کے دوست

راجہ مہدی علی خاں

میاں کے دوست

راجہ مہدی علی خاں

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    آئے میاں کے دوست تو آتے چلے گئے

    چھوٹے سے ایک گھر میں سماتے چلے گئے

    وہ قہقہے لگے کہ چھتیں گھر کی اڑ گئیں

    بنیاد سارے گھر کی ہلاتے چلے گئے

    بکواس ان کی سن کے شیاطین رو پڑے

    رویا جو ایک سب کو رلاتے چلے گئے

    نوکر نے آج چائے کے دریا بہا دئیے

    دریا سمندروں میں سماتے چلے گئے

    الماریوں میں سہم گئے بسکٹوں کے ٹن

    چن چن کے ایک ایک کو کھاتے چلے گئے

    کھانے کی چیزیں نادر و نایاب ہو گئیں

    دلی کا قتل عام مچاتے چلے گئے

    شیروں کی طرح ٹوٹ پڑے آ کے میز پر

    جو چیز بھی ملی وہ چباتے چلے گئے

    جیسے پولس مین پکڑتا ہے چور کو

    ہر شے پکڑ کے پیٹ میں لاتے چلے گئے

    انجن کی طرح منہ سے اگلتے رہے دھواں

    اور سگریٹوں کی راکھ گراتے چلے گئے

    ہر سمت پھینک پھینک کے ماچس کی تیلیاں

    کوڑے کا فرش گھر میں بچھاتے چلے گئے

    کمرے میں گھومتے ہوئے کیچڑ بھرے وہ بوٹ

    قالین کے نصیب جگاتے چلے گئے

    دیواروں سے ٹکے رہے چپڑے ہوئے وہ سر

    ہر نقش ماسوا کو مٹاتے چلے گئے

    آوازیں ''آخ تھوخ'' کی ہوتی رہیں بلند

    سوئے ہوئے گلوں کو جگاتے چلے گئے

    کوئی کتاب اپنے ٹھکانے نہ رہ سکی

    ہندی کو فارسی میں ملاتے چلے گئے

    اخباروں کی وہ دھجیاں بکھریں کہ کیا کہوں

    اب ان سے وہ نگاہ کے ناطے چلے گئے

    دیواریں وہ نہیں رہیں وہ در نہیں رہا

    جس گھر پہ مجھ کو ناز تھا وہ گھر نہیں رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے