محبت کی جس کو خماری لگے

ظفر کمالی

محبت کی جس کو خماری لگے

ظفر کمالی

MORE BYظفر کمالی

    محبت کی جس کو خماری لگے

    بیاہی بھی اس کو کنواری لگے

    ہوئی عمر ستر بہتر مگر

    غرارے میں گوٹا کناری لگے

    حقیقت تو یہ ہے کہ باد سموم

    جوانی میں باد بہاری لگے

    جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح

    وہی ہم کو اصلی شکاری لگے

    جو کھیلا ہلاکو نے چنگیز نے

    وہ کھیل اب بھی دنیا میں جاری لگے

    ادب میں بھی جاری خرید و فروخت

    جسے دیکھو وہ بیوپاری لگے

    سیاست میں ایسی اچھل کود ہے

    کہ ہر ایک نیتا مداری لگے

    یہ غربت یہ فاقوں کا اک سلسلہ

    ہمیں تو یہ روزہ ہزاری لگے

    ہماری رعونت بھی کیا چیز ہے

    کہ یاروں کو وہ خاکساری لگے

    جو سمجھے محبت کو اک چاکلیٹ

    یقیناً ہوس کا چساری لگے

    نبھاؤں گا پکڑا ہے جب اس کا ہاتھ

    کھٹارا لگے یا کھٹاری لگے

    لگیں زہر ہم کو ظفرؔ والدین

    مگر اپنی دلہن دلاری لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY