نہ ہوں پیسے تو استقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

خالد عرفان

نہ ہوں پیسے تو استقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

خالد عرفان

MORE BYخالد عرفان

    نہ ہوں پیسے تو استقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    کسی شاعر کو خالی تالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    نکل آئی ہے ان کے پیٹ سے پتھری شکر کوٹیڈ

    جو کہتی تھی کہ میٹھی چھالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    ''خودی'' کو بیچ کر ''شاہین'' کو بھی ذبح کر ڈالا

    ہم ایسے زود ہضم اقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    وہی حضرات تقسیم وطن کے اصل مجرم ہیں

    جو کہتے ہیں یہاں بنگالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    عبث ہے ان سے اک چڑیا کے بچے کی ولادت بھی

    کہ ان فیشن زدہ گھر والیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    مزا جب ہے کہ زندوں کو سناؤ نغمۂ الفت

    کسی کی قبر پر قوالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    یہ بچوں میں اضافہ کر رہے ہیں رات دن خالدؔ

    اپوزیشن کے ان ہڑتالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY