پہلے ہوتا تھا نظر کے تیر سے

محمد یوسف پاپا

پہلے ہوتا تھا نظر کے تیر سے

محمد یوسف پاپا

MORE BYمحمد یوسف پاپا

    پہلے ہوتا تھا نظر کے تیر سے

    کام اب ہوتا ہے وہ کف گیر سے

    مل گئے تھے ایک دن تقدیر سے

    بھاگتے ہیں اب نظر کے تیر سے

    عشق اور پھر ہوٹلوں کی روٹیاں

    بھاگتا پھرتا ہے رانجھا ہیر سے

    شوخ تھا لپٹا ہماری پیٹھ سے

    ہم چغد لپٹے رہے تصویر سے

    وقت تھا دو چار بچے ہو گئے

    اب نہ کچھ ہوگا کسی تدبیر سے

    کون سی لائن کریں ہم اختیار

    پوچھ آؤ اپنے اپنے پیر سے

    جب ہوا کالے کا گورے سے ملاپ

    مل گئیں تاریکیاں تنویر سے

    آخرش بیوی نے شوہر سے کہا

    آئیے کیا فائدہ تقریر سے

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY