قصر ویراں

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    ڈوبا شفق کی جھیل میں خورشید خاوری

    انگڑائی لے کے غرب سے لیلئ شب اٹھی

    مہکے ہوئے چمن کی ہوائیں اداس ہیں

    کیا کھو چکی ہیں آج فضائیں اداس ہیں

    کھڑکی میں آسمان کی حیراں ہے چاند بھی

    شاید مری طرح سے پریشاں ہے چاند بھی

    سوئی ہوئی بہار کے چہرے پہ یاس ہے

    غمگین دل کی طرح گلستاں اداس ہے

    آتی نہیں ہے دور سے کوئل کی اب صدا

    گاتی نہیں ہے گیت مسرت کے اب ہوا

    یہ گھر اور اس کے گرد جو شے ہے اداس ہے

    جو مردنی ہے دل میں وہی آس پاس ہے

    ہر سال آ کے دیکھتا ہوں تیرے گھر کو میں

    اب تک عزیز ہوں ترے دیوار و در کو میں

    سنتا ہوں اب بھی یاں ترے قدموں کی میں صدا

    آ آ کے ڈھونڈھتی ہے تجھے یاں مری نگہ

    جس گھر پر حکمراں ترے جلووں کی تھی بہار

    وہ گھر بنا ہے میری محبت کا اب مزار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے