رہتا ہے آس پاس سویرے سے شام تک

ساجد سجنی

رہتا ہے آس پاس سویرے سے شام تک

ساجد سجنی

MORE BYساجد سجنی

    رہتا ہے آس پاس سویرے سے شام تک

    دفتر میں میرا باس سویرے سے شام تک

    لگتی رہی کلاس سویرے سے شام تک

    ہوتی رہی میں پاس سویرے سے شام تک

    مجھ کو تو عید میں بھی فراغت کہاں ملی

    لڑتی رہی ہے ساس سویرے سے شام تک

    بچوں کی دیکھ بھال بھرے گھر کا کام کاج

    رہتی ہوں بد حواس سویرے سے شام تک

    سجنیؔ کی بات کا اسے آیا نہیں یقین

    کرتا رہا کراس سویرے سے شام تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY