شاعر کی بیوی

خالد عرفان

شاعر کی بیوی

خالد عرفان

MORE BYخالد عرفان

    بہت مظلوم ہے اس شہر میں شاعر کی گھر والی

    محبت کی غذا سے اب تک اس کا پیٹ ہے خالی

    یہ گوری رات کی تنہائیوں میں ہو گئی کالی

    کراچی میں جو رہتی ہے یہ ایسی ہے میاں والی

    ندیمؔ و فیضؔ کے نقش قدم پر تاج ہے اس کا

    ادب کی خاک پر بیٹھا ہوا سرتاج ہے اس کا

    یہ اس شاعر کی بیوی ہے جو شاعر خاندانی ہے

    غزل جس کی زمین تنگ میں بھی آسمانی ہے

    اس انٹرنیشنل شاعر میں دریا کی روانی ہے

    دبئی جدہ، ابو ظہبی تک اس نے خاک چھانی ہے

    غزل پڑھنے سے بالکل ایکٹر معلوم ہوتا ہے

    بڑھی ہیں اس قدر زلفیں جگرؔ معلوم ہوتا ہے

    گزرتی ہے ہمیشہ گھر سے باہر زندگی اس کی

    بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے فیملی اس کی

    سدا کٹتی ہے بزم شاعری میں رات بھی اس کی

    سحر کے چھ بجے ہوتی ہے اکثر واپسی اس کی

    مگر شاعر کی بیوی پھر بھی اس کی نام لیوا ہے

    جو دن میں تو سہاگن ہے مگر راتوں کو بیوہ ہے

    گزرتی ہے بڑی مشکل سے بیچاری کی رات آخر

    کلام جوشؔ پڑھ کے غم سے پاتی ہے نجات آخر

    رہے گی گھر میں تنہا کب تلک عورت کی ذات آخر

    نہ ہو شوہر تو پڑھ لیتی ہے ''یادوں کی برات'' آخر

    کلام جوشؔ تنہائی میں یہ روزانہ پڑھتی ہے

    کہ جو رضوان پڑھتا ہے وہی رضوانہ پڑھتی ہے

    ابھی گڈو ہوا ہے اور ابھی امید سیما ہے

    جو قبل از وقت آ پہنچے یہ اک ایسا ضمیمہ ہے

    بنا دے گھر کو تاریخی یہی شاعر کا ایما ہے

    اگر شاعر کا گھر دیکھو تو آثار قدیمہ ہے

    نمائش اس طرح شاعر نے بچوں کی لگائی ہے

    کہ جیسے اس کے مجموعے کی رسم رونمائی ہے

    کہا شاعر نے بیوی سے کہ تم میری قیافہ ہو

    مرے بچے مرا مضموں ہیں تم خالی لفافہ ہو

    حدود زندگی میں غیر معمولی اضافہ ہو

    مرے دل کی حکومت کا تمہیں دارالخلافہ ہو

    نہ جس سے پیاس بجھ پائے وہ ''کے ایم سی'' کا نل تم ہو

    حقیقت یہ ہے میری غیر مطبوعہ غزل تم ہو

    مأخذ :
    • کتاب : No Problem (Pg. 85)

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے