شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے

دلاور فگار

شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے

دلاور فگار

MORE BYدلاور فگار

    شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے

    اک بار اگر نہ اٹھے دوبارہ اٹھائیے

    کوئی کسی کی لاش اٹھاتا نہیں یہاں

    اب خود ہی اپنا اپنا جنازہ اٹھائیے

    اغوا ہی کرنا تھا تو کوئی کم تھے لکھ پتی

    کس نے کہا تھا روڈ سے کنگلا اٹھائیے

    کوئی قدم اٹھانا تو ہے راہ شوق میں

    اگلا قدم نہ اٹھے تو پچھلا اٹھائیے

    اسٹیج پر پڑا تھا جو پردہ وہ اٹھ چکا

    جو عقل پر پڑا ہے وہ پردہ اٹھائیے

    پوشیدہ بم بھی ہوتے ہیں کچرے کے ڈھیر میں

    ہشیار ہو کے روڈ سے کچرا اٹھائیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY