شکوۂ کلرک

نظر برنی

شکوۂ کلرک

نظر برنی

MORE BYنظر برنی

    کیوں میں گھاٹے میں رہوں سود فراموش رہوں

    موقع مل جائے تو دفتر میں ہی مدہوش رہوں

    ڈانٹ افسر کی سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

    ''ہمنوا'' میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

    ''مسکہ بازی'' کے سبب تاب سخن ہے مجھ کو

    در حقیقت بہت عرصہ سے گھٹن ہے مجھ کو

    ہے بجا کام کی چوری میں تو مشہور ہیں ہم

    پیٹ رشوت سے جو بھرتے ہیں تو مجبور ہیں ہم

    آنکھ کے اندھے ہیں کانوں سے بھی معذور ہیں ہم

    ''باس'' کی نت نئی دھمکی سے بھی رنجور ہیں ہم

    مرے افسر مرے آقا تو یہ دعویٰ سن لے

    اپنی عادت کو نہ چھوڑیں گے تو اتنا سن لے

    تھی تو موجود ازل ہی سے یہ رشوت کی پھبن

    یہ بزرگوں کی روایت یہ بزرگوں کا چلن

    کیسے کہہ دوں کہ مجھے ہوتی ہے اس سے الجھن

    یہ مزہ وہ ہے کہ عادی ہیں مرے کام و دہن

    ہم پہ غفلت ہوئی طاری تو ''کرپشن'' بھی سوار

    لاکھ روتی رہی پبلک نہ سنی اس کی ''پکار''

    کھایا عہدے کی بدولت جو ہزاروں کا ادھار

    ایک ہی کیس میں کرنے لگے ہم بیڑا پار

    ہائے افسوس وہی ''لینس'' نے ہم کو پکڑا

    زندگی بھر کے لیے ہو گیا قائم جھگڑا

    ہم تو الو ہیں تری دھونس میں رہتے ہی رہے

    جس طرف تو نے کہا جوش میں بہتے ہی رہے

    پھر بھی کیوں آنکھ دکھاتا ہے تو ڈنڈا لے کر

    کیا نہیں خوش ترا جی روپیوں کا بٹوا لے کر

    اپنی ''تڑ'' اپنی انا کو بھی مٹایا ہم نے

    خول چہرے پہ غلامی کا چڑھایا ہم نے

    حکم افسر کا بہرحال بجایا ہم نے

    اس کے چمچوں کو بہت مال چٹایا ہم نے

    پھر بھی افسر کو گلہ ہے کہ وفادار نہیں

    ہم وفادار نہیں وہ بھی تو دل دار نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY