''دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی''

امجد علی راجا

''دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی''

امجد علی راجا

MORE BYامجد علی راجا

    ''دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی''

    اک غزل میں نے بھی کہی ہے ابھی

    چھوڑ دوں میں ابھی وزارت کیوں

    اک تجوری فقط بھری ہے ابھی

    چور ڈاکو پہنچ گئے پہلے

    جبکہ بستی نہیں بسی ہے ابھی

    بینک سے لی تھی لیز پر گاڑی

    بیچ کر قسط اک بھری ہے ابھی

    چھوڑ سکتی نہیں ابھی وہ مجھے

    ایک کوٹھی مری بچی ہے ابھی

    جاگ جائے گی قوم بھی اک دن

    ''غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی''

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY