میں ٹیوٹر تھا

عنایت علی خاں

میں ٹیوٹر تھا

عنایت علی خاں

MORE BYعنایت علی خاں

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    کہیں میں صوفے پہ بیٹھا کہیں چٹائی پر

    کہیں ٹکایا گیا کھری چارپائی پر

    کہیں سے نکلا کسی لعل کی پٹائی پر

    کسی عزیز نے ٹرخا دیا مٹھائی پر

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    نہ کوئی شام مری اپنی شام ہوتی تھی

    کہ میری شام تو بچوں کے نام ہوتی تھی

    پہ جب کسی کی ممی ہم کلام ہوتی تھی

    تو میرے علم کی ترکی تمام ہوتی تھی

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    جو چھوٹا بھائی بھی شاگرد کا کوئی ہوتا

    تو وہ بھی آن کے میری ہی گود میں سوتا

    بڑے کے پٹنے پہ چھوٹا جو پھوٹ کر روتا

    میں شیروانی کے دھبوں کو دیر تک دھوتا

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    ہر اک قماش کے بچے پڑھا دیے میں نے

    متاع علم کے نلکے لگا دیے میں نے

    جو کھوٹے سکے تھے وہ بھی چلا دیے میں نے

    جو اے ایس ایس تھے سی ایس ایس بنا دیے میں نے

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    نہ قدر داں نہ کوئی صاحب نظر پایا

    نہ گھاٹ ہی کا رہا میں نہ کوئی گھر پایا

    خطاب پایا تو سوکھا سڑا سا ''سر'' پایا

    میں اپنی قوم کے بچے پڑھا کے بھر پایا

    میں ٹیوٹر تھا میں گھر گھر پڑھاتا پھرتا تھا

    مدرسی کی بندریا نچاتا پھرتا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Anwar Masood Se Khalid Masood Tak (Pg. 63)
    • Author : Hassan Abbasi
    • مطبع : Nastaleeq Matbuaat (2004)
    • اشاعت : 2004

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY